فرقہ وارانہ فساد کا اب کوئی خطرہ نہیں ہے!!

احسن کامرے  پير 12 اکتوبر 2015
محرم الحرام میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں منعقدہ مذاکرہ کی رپورٹ۔ فوٹو: شہباز ملک/ایکسپریس

محرم الحرام میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں منعقدہ مذاکرہ کی رپورٹ۔ فوٹو: شہباز ملک/ایکسپریس

محرم الحرام کی آمد آمد ہے۔ اس ماہ میں امن و امان قائم کرنے کیلئے حکومت اور تمام فقہ سے تعلق رکھنے والے علماء اپنا اپنا کردار بخوبی ادا کر رہے ہیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقع سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

’’محرم الحرام میں امن و امان کی صورتحال‘‘ کے حوالے سے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں صوبائی وزیرقانون پنجاب اور تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

رانا ثناء اللہ (صوبائی وزیرقانون پنجاب)

جمہوریت کا تصور اللہ کے نبی حضرت محمدﷺ نے دیا ۔ جمہوریت ہماری میراث ہے اور یہ نظام مغرب سے نہیں بلکہ مسلمانوں سے مغرب میں گیا ۔ اب دوبارہ ہم نے یہ نظام اپنایا ہے اور یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اسے چھوڑ کے دوسری طرف چلے گئے اور ان حالات کو پہنچے جو اس وقت پوری دنیا کے مسلمانوں کے ہیں۔ وہ معاشرے جہاں اختلاف رائے کا احترام نہیں ہے دنیا میں آگے نہیں بڑھ سکے۔ پاکستان میں جمہوریت ہے اور یہاں سب کو آزادی رائے کا حق حاصل ہے۔علماء کرام نے متفقہ طور پرفرقہ واریت اور دہشت گردی کے خاتمے اور خاص طور پر محرم کے ایام میں امن قائم کرنے کے لیے ایک دوسرے کے لیے جس وسعت کا اظہار کیا ہے اور جو تجاویز دی ہیںمیںاس کے لیے ان کا مشکور ہوں۔ ہم ان کی رائے سے ضرور مستفید ہوں گے اور ان کی روشنی میں بہتری بھی لائیں گے۔ فرقہ واریت کو کم کرنے، بھائی چارے کے فروغ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے جو قوانین نافذ کیے گئے ہیں وہ انسانی قوانین ہیں اور ان میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ہم قوانین کے ذریعے لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال، نفرت انگیز لٹریچر کی اشاعت اور اشتعال انگیز تقاریر کا قلع قمع کرنا چاہتے ہیں اورہماری علماء کرام سے بھی گزارش ہے کہ وہ ہمارے ساتھ تعاون جاری رکھیں۔

http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/10/q30.jpg

20سال قبل تک ہمارا معاشرہ ایسا نہیں تھا، مختلف فرقوں میں اختلافات پہلے بھی تھے اور ان میں مناظرے بھی ہوا کرتے تھے مگر قتل و غارت اور دہشت گردی نہیں تھی۔ اگر نفرت انگیز شعلہ بیان تقاریر نہ ہوں، نفرت انگیز لٹریچر نہ لکھا جائے اور لاؤڈ سپیکر کا غلط استعمال نہ کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں ہے تفرقہ جنم لے اور لوگوں میں نفرت بڑھے۔ ہماری تحقیق کے مطابق وہ تمام تقاریر جن کی وجہ سے معاشرے میں شر پھیلا ایسی تقاریر کرنے والوں کا تعلق اس علاقے سے نہیں تھا جہاں یہ تقاریر کی گئیں۔ اس لیے ہم نے علماء کرام سے یہ درخواست کی ہے کہ جب وہ سارا سال اپنے علاقے کے لوگوں کی تعلیم وتربیت کرتے ہیں تو اس موقع پر بھی وہ خود اپنے اپنے علاقے کے لوگوں کی رہنمائی کریںنہ کہ باہر سے دوسرے علماء کو بلایا جائے۔ اس مرتبہ صوبے کے اندر تو علماء پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی لیکن صوبے کے باہر سے کسی عالم کو آنے کی اجازت نہیں ہوگی تاہم جو بڑے علماء ہیں جن کا ایک مقام اور عزت ہے اور جن کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ انتشار کی بات کریں گے انہیں رعایت دی جاسکتی ہے۔ نفرت انگیز لٹریچر تحریر کرنا جو کسی دوسرے فرقے کے لیے قابلِ برداشت نہ ہو، جس سے لوگوں میں اشتعال پھیلے اسے دہشت گردی تصور کیا جائے گا اورایسا کرنے والے شخص کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

ہم نے اس حوالے سے کچھ کارروائیاں کی ہیں جن کے خاطر خواہ نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ علماء نے ہمیں یہ تجویز بھی دی ہے کہ ایک مرتبہ جس شخص پر نفرت انگیز تقریر کرنے کا الزام ثابت ہوجائے اس پر تاحیات پابندی لگادی جائے۔ ہم نے اپنے معاشرے کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے۔ ہمارے ملک میں دہشت گردی کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے اس لیے ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ سب کو متحد ہوکر اس کا خاتمہ کرنا چاہیے ۔محرم الحرام میں امن قائم کرنے کے لیے علماء نے عزم کا اظہار کیا ہے، میں نے 9ڈویژنوں میں امن کمیٹی کے ممبران اور علماء کرام سے ملاقاتیں کی ہیں جن میں ہر مسلک کے علماء موجود تھے اور اب پہلی مرتبہ ایسا ہوگا کہ محرم الحرام کے بڑے جلسوں کی حفاظت تمام بڑے مکاتب فکر اور مسالک کے جید علماء ہر اول دستے کے طور پر کریں گے۔ محرم الحرم کی سکیورٹی کے لیے تمام بڑے شہروں میں فوج اور رینجرز کو سٹینڈ بائی انتظام کے طور پر رکھا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر وہ پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی مدد کریں گے جبکہ بنیادی طور پر پولیس اور انتظامیہ حفاظتی انتظامات کرے گی۔ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے تمام بڑے شہروں اور عزاداری کے بڑے جلوسوں کو حساس ترین قرار دے کر ان کی 100 فیصد سی سی ٹی وی مانیٹرنگ کی جائے گی اور جلوس کے داخلی مقام سے پہلے بھی تین مقام پر واک تھرو گیٹس کے ذریعے لوگوں کی چیکنگ کی جائے گی۔

محرم الحرام میںفرقہ وارانہ تصادم کا کوئی خطرہ نہیں ہے تاہم ایجنسیوں کی جانب سے دہشت گردی کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے یکم محرم سے دس محرم تک وسیع پیمانے پر رہائشی آبادیوں میںسرچ آپریشن کیے جائیں گے جبکہ پولیس اہلکاروں کو جدید آپریٹس بھی فراہم کردیا گیا ہے جس سے شہریوں کے شناختی کارڈ کی تصدیق کی جاسکے گی۔ایک بات یہاں قابل قابل ذکر ہے کہ فورتھ شیڈول میں بہت سی خامیاں ہیں، بہت سے ایسے علماء ہیں جن کے نام واچ لسٹ میں ہیں اور وہ امن کمیٹی کے ممبر بھی ہیں۔ہم اس پر نظر ثانی کررہے ہیں۔ بعض ایسے نام ہیں جو اس فہرست میں شامل ہونے چاہیے تھے مگر وہ نہیں ہیں جبکہ بعض لوگوں کے نام ناجائز طور پر اس میں ڈالے گئے ہیں لہٰذاحکومت ان سے معافی مانگتی ہے۔ میں این جی اوز اور تجزیہ نگاروں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ مدارس کے حوالے سے ثبوت کے ساتھ بات کریں اور اس تاثر کو فروغ نہ دیں کہ ہمارے مدارس میں دہشت گردی کی تربیت ہورہی ہے۔ہم نے تمام مدارس کی چھان بین کی ہے اور ہمارے پاس ان کا تمام ریکارڈ موجود ہیں۔

ہمارے مدارس 10 لاکھ سے زائد بچوں کو تعلیم، تربیت، رہائش اور کھانا دے رہے ہیں۔ ان مدارس میں 3 لاکھ بچے ہاسٹل میں رہتے ہیں، 25 ہزار بچوں کا تعلق دوسرے صوبوں سے ہے جبکہ 970 بچوں کا تعلق دوسرے ممالک سے ہے۔ہمارے پاس مدارس میں پڑھانے والے ہر استاد کا ریکارڈ موجود ہے اور ہم نے ایسے تمام لوگوں جن پر کسی قسم کا الزام تھا فارغ بھی کروایا ہے۔ اب تک ہم نے 532 مدارس میں سرچ آپریشن کیے ہیں ، جن مدارس میں خرابی تھی انہوں نے خود کو ٹھیک کرلیا ہے اور اب ہم پورے یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں مدارس میں کوئی خرابی نہیں ہے بلکہ ان میں دینی اور دنیاوی دونوں قسم کی تعلیم دی جارہی ہے لہٰذا اب مدارس کے خلاف منفی پراپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔

قاری زوار بہادر (رہنما جمعیت علماء پاکستان)

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کی جانب سے اب جو اقدامات شروع کیے گئے ہیں ان سے امید ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہوجائے گا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے سب کیخلاف بلاامتیاز کارروائی ہولیکن اگر ایسا نہ کیا گیا اورامتیازی کارروائی کی گئی تو پھر یہ وقت بھی ہاتھ سے نکل جائے گا اور آنے والا وقت بہت مشکل نظر آرہا ہے۔ حکومت جس طرح محرم سے پہلے سرگرم ہوتی ہے اگر اسی طرح پورا سال سرگرم رہے تو بہت سارے حادثات اور واقعات سے بچا جاسکتاہے۔ انتظامیہ سارا سال کسی سے تعاون نہیں کرتی مگرایسے حساس مواقع پر انہیں اتحاد امت کی فکر لگ جاتی ہے لہٰذا جب تک انتظامیہ عوام کے ساتھ تعاون نہیں کرے گی تب تک اتحاد نہیں ہوسکتا۔ مسلکی اختلافات صدیوں سے چلے آرہے ہیں مگر پاکستان میں دہشت گردی اور قتل و غارت نہیں تھی، سب اپنا اپنا موقف بیان کرتے تھے اور مناظرے بھی ہوتے تھے لیکن جب سے یہاں اسلحہ آیا ہے تب سے مسائل شروع ہوئے ہیں۔

http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/10/q114.jpg

حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان کو اسلحے سے پاک کرو لیکن کسی نے اس طرف توجہ نہیں دی۔ میرے نزدیک ملک میں اسلحے کا موجود ہونا دہشت گردی کی بڑی وجہ ہے۔ مغربی ممالک میں دہشت گردی اس لیے نہیں ہے کہ وہاں لوگوں کے پاس اسلحہ نہیں ہے ۔ لیکن اگر وہاں بھی لوگوں کے پاس اسلحہ آجائے تو ہمارے ملک سے زیادہ دہشت گردی ہوگی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ معاشرتی ناہمواریوں اور ناانصافیوں کی وجہ سے بھی دہشت گردی ہوتی ہے لہٰذا حکومت کو اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔فرقہ واریت مکمل ختم تو نہیں ہوسکتی تاہم اس کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے حکومت کو کمیٹیاں بنانی چاہئیںتاکہ فرقہ وایت کو کم کرنے کی کوشش کی جائے اور مل بیٹھنے کی راہ ہموار کی جاسکے۔

حافظ زبیر احمد ظہیر (رہنما جمعیت اہلحدیث)

پاکستان کے بیرونی اور اندرونی حالات کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان کو بچانے ، مستحکم کرنے اور اس کی سالمیت کے لیے ہمیں اپنی اپنی انا اور ضد کو ختم کرنا ہوگا اور مسلکی مسائل کی قربانی دینا ہوگی ۔پاکستان ہے تو ہم ہیں اس لیے ملک کو بچانے اور اپنی آنے والی نسلوں کو مستحکم پاکستان دینے کے لیے وقت کی ضرورت یہ ہے کہ ہم متحد ہوجائیں اور فرقہ واریت کو جڑ سے اکھاڑ دیں۔ فرقہ واریت، بدامنی اور دہشت گردی کی ماں ہے لہٰذا جب تک یہ ختم نہیں ہوگی مسلمانوں میں اختلافات بڑھتے رہیں گے اور تباہیاں اور بربادیاں آتی رہیں گی۔ اسلام میں فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ ’’فرقے نہ بنو‘‘۔ اللہ نے قرآن اس لیے نازل نہیںکیا کہ فرقے بنائیں جائیں۔ حضورؐ فرقے بنانے نہیں بلکہ امت بنانے کے لیے اس دنیا میں تشریف لائے۔ ہر شخص سمجھتا ہے کہ فرقہ واریت کسی کے مفاد میں نہیں ہے بلکہ یہ سب کے لیے ذلت اور رسوائی کا سبب ہے مگر ہم پھر بھی فرقے بنے ہوئے ہیں۔

http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/10/q211.jpg

اگر آج ہم فرقوں میں بٹے نہ ہوتے تو کوئی بھی شخص قرآن پاک کو جلانے یا رسولؐ کی شان میں گستاخی نہیں کرسکتا تھا۔ ہمارے ملک میں بعض لوگ ایسے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم فرقے کو پروان چڑھائیں گے تو پھر اسلام غلاب آئے گا۔ میرے نزدیک اس سے بڑی خام خیالی کوئی اور نہیں ہوسکتی۔دہشت گردی کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور نہ ہی اسلام میں اس کی کوئی گنجائش ہے ۔ ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت سنجیدگی کے ساتھ فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے سوچ رہی ہے ۔ حکومت سمجھ چکی ہے کہ اب فرقہ واریت کو مزید برداشت کرنا ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کام تو بہت پہلے ہوناچاہیے تھا لیکن اب جب اس پر کام ہورہا ہے تو سب کو سنجیدگی اور حقیقت پسندی کے ساتھ ہر وہ قدم اٹھانا چاہیے جو ملک کے مفادا ور امت کے اتحاد کے لیے ضروری ہے۔ میرا حکومت سے مطالبہ ہے کہ تمام فرقہ وارانہ ناموں پر پابندی لگائی جائے ۔

مولانا عبدالخبیر آزاد (خطیب بادشاہی مسجد لاہور)

محرم الحرام کی آمد آمد ہے۔ محرم کے ایام سب کے لیے عقیدت کا محور ہیں اور ہر عالم دین، خطیب، واعظ اور ذاکر اپنے اپنے عقیدے کے مطابق اس حوالے سے بات کرتا ہے۔ کیونکہ یہ دن بہت اہم ہوتے ہیں اس لیے گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی حکومت کی جانب سے اچھے اقدامات کیے جارہے ہیں اور اس میں وزیراعلیٰ پنجاب اور رانا ثناء اللہ کا کردار بہت اہم ہے۔ رانا ثناء اللہ نے 9ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں علماء سے ملاقاتیں کی ہیں اور یہ کابینہ کمیٹی کی قیادت بھی کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ علماء کرام وزیراعلیٰ کی ہدایت پر مختلف ڈویژنوں میں جارہے ہیں تاکہ رواداری کو فروغ دے کر مسائل کو باہمی رضا مندی سے حل کیا جاسکے۔ دل آزاری کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ گزشتہ سالوں میں نفرت پھیلانے والوں کیخلاف حکومت پنجاب نے کارروائی کی ہے اور ایسے علماء پر پابندی بھی لگائی ہے۔ حکومت پنجاب کا یہ بڑا احسن اقدام ہے کہ کسی دوسرے ضلع سے کوئی ایسا واعظ یا خطیب نہ آئے جو ماحول کو خراب کرے کیونکہ ماضی میں ایسا ہوا ہے کہ دوسرے اضلاع کے لوگ آکر مسائل کھڑے کرتے ہیں اور پھر مقامی علماء کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/10/q310.jpg

اللہ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا کہ ’’اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقات میں مت پڑو‘‘ آج ملک جن حالات سے گزر رہا ہے ان حالات میں ہمیں بردباری ، برداشت اور صبرو تحمل کی ضرورت ہے۔اس وقت دہشت گردوں کیخلاف آپریشن ضرب عضب جاری ہے جبکہ نیشنل ایکشن پلان پر بھی عملدرآمد ہورہا ہے۔ ضرب عضب اپنے آخری مراحل میں ہے اور 80فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ فوج اور سول قیادت اسے کامیابی کے ساتھ آگے لے کرجا رہی ہے جبکہ پوری قوم ان کے پیچھے کھڑی ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ جو لوگ غلط راستہ چھوڑ کر اچھے راستے پر چلنا چاہتے ہیں ان کے لیے بھی راستہ کھلا ہے۔ فوج اور سول قیادت کا یہ موقف قابل تحسین ہے کہ پاکستان جب تک امن کا گہوارہ نہیں بن جاتا ہم اس وقت تک دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرتے رہیں گے اور انہیں صفحہ ہستی سے مٹا کر دم لیں گے۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ کہا کرتے تھے اپنے مسلک کو چھوڑو نہ، کسی کے مسلک کو چھیڑو نہ۔ کیونکہ جب بات چھڑتی ہے تو بہت دور نکل جاتی ہے۔ میرے نزدیک ہم سب کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور لاؤڈ سپیکر کی پابندی، جلسے جلوسوں کے لیے روٹ اور جگہ کی پابندی کرنی چاہیے اور ملک بچانے کے لیے سب کو مل کر اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

اللہ اور اس کے رسول ؐ کا ارشاد ہے کہ ’’ تم میں بہترین مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ سے، زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے‘‘۔ آپؐ نے فرمایا’’ تم میں بہترین انسان وہ ہے جو دوسرے انسانوں کو نفع پہنچائے‘‘ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم محراب و ممبر سے وہ بات کریں جو توڑنے کی نہیں بلکہ امت کو جوڑنے کیلئے ہو۔ دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے علماء بھی کام کررہے ہیں اور ملک میںجہاں بھی مسائل پیدا ہوئے ہیں علماء نے حکومت کے ساتھ مل کر ان کو حل کیا ہے۔ محرم کی سکیورٹی کے حوالے سے حکومت کے انتظامات اچھے ہیں لہٰذاہمیں امید ہے کہ محرم الحرام امن و مان کے ساتھ گزرے گا۔ میری حکومت سے یہ اپیل ہے کہ قانون سب کیلئے برابر ہونا چاہیے اور بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے تاکہ ملک امن کا گہوارہ بن سکے۔ یکم محرم کو ہم یوم فاروق اعظمؓ منائیں گے اور پھر ہم حضرات اہل بیت اطہارؓ کا یہ جو دس دن کا سلسلہ ہے اسے بھی بڑے عقیدت و احترام سے منائیں گے کیونکہ یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

حافظ کاظم رضا نقوی (رہنما تحریک اسلامی پاکستان)

مجھے خوشی ہے کہ حکومت کی جانب سے ایسے سلسلے شروع ہوچکے ہیں جس سے مستقبل میں مثبت اثرات برآمد ہوں گے۔ اگرچہ کچھ قوانین ہمارے لیے پریشان کن ہیں جو ہمارے لیے مشکلات پیدا کریں گے لیکن چونکہ ان کا مثبت پہلو زیادہ ہے اورمستقبل میں ان سے مسائل کابہتر حل ہوتا دکھائی دیتا ہے اس لیے ہم تعاون کررہے ہیں۔ لاؤڈ اسپیکر کا معاملہ کافی عرصے سے زیر بحث تھا، اب اس حوالے سے قانون سازی ہوئی اور اس پر عملدرآمد بھی ہورہا ہے۔ اذان کے لئے چار اسپیکربھی ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن لاؤڈ اسپیکر کا بے جا استعمال درست نہیں ہے ۔ تاہم جس حد تک اجتماع ہو اس حد تک آواز پہنچانے کے لیے ڈیک کے ذریعے جو اجازت دی گئی ہے یہ حکومت اچھا اقدام ہے۔یزید نے جس طرح کربلا میں ظلم ڈھائے، محرم کے اِن ایام میں ان واقعات کو دہرایا جاتا ہے، باطل کو بے نقاب کیا جاتا ہے، حق کا اعلان کیا جاتا ہے، اس کی وضاحت کی جاتی ہے اور جب ہم یہ کہتے ہیں ’’حسینیت زندہ باد، یزیدیت مردہ باد‘‘ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اچھائی زندہ باد ،برائی مردہ باد۔ ہمارے ذاکرین، واعظین، علماء اور اکابرین کو چاہیے کہ یزیدیت سے بے زاری اور حسینیت سے محبت کے مقصد کو سامنے رکھیں۔

http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/10/q410.jpg

آج دہشت گردی کی کارروائیاں مساجد، درباروں اور امام بارگاہوں میں ہورہی ہیں، دہشت گرد ہمارے سے جنازے اٹھوا رہے ہیں لہٰذا اگر اس کے خاتمے کے لیے حسینیوں کو بھی قربانی دینی پڑتی ہے توانہیں دینی چاہیے تاکہ دہشت گرد نیست و نابود ہوجائیں اور ملک میں امن قائم ہو۔ مسجد امن کا گہوارہ ہے لیکن آج مساجد میں بد امنی ہے اور اسلامی مملکت میں رہتے ہوئے بندوق کے پہرے میں نمازیں اور عزاداری ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو حقیقی معنوں میں نہیں اپنایا۔ دہشت گرد اسلام کا نام استعمال کررہے ہیں اور انہوں نے اپنا حلیہ بھی اسلامی بنایا ہوا ہے جبکہ اسلامی تعلیمات ایسی نہیں ہیں۔ اب دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے ہماری دعا ہے کہ اللہ ہمیں اس میں کامیاب کرے اور جس طرح شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی اور اہلحدیث نے مل کر پاکستان بنایا تھا اللہ کرے کہ ہم اسی طرح اس ملک کو امن کا گہوارہ بنانے میں کامیاب ہوجائیں۔ ہمیں چاہیے کہ امن و سلامتی کے لیے کسی دوسرے کے عقیدے پر تنقید کیے بغیر اپنے عقیدے پر عمل کریں اور پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی مملکت بنانا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔