متاثرین کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے!!

احسن کامرے  پير 2 نومبر 2015
مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات  کی ’’ایکسپریس فورم پشاور‘‘ میں گفتگو۔ فوٹو: عبدالغفار بیگ/ایکسپریس

مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات  کی ’’ایکسپریس فورم پشاور‘‘ میں گفتگو۔ فوٹو: عبدالغفار بیگ/ایکسپریس

26 اکتوبر کی سہ پہر8.1شدت کے زلزلے کی وجہ سے پورا ملک جھول گیا، درودیوار ہل گئے اور متعدد عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔

اس زلزلے کی وجہ سے سینکڑوں افراد جاں بحق جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے۔ عمارتوں میں دڑاریں پڑنے کی وجہ سے عوام خیموں میں رہنے پر مجبور ہوگئے جبکہ سردی کی شدت کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ ’’26اکتوبر کا زلزلہ، امدادی کارروائیاں اور مستقبل کے اقدامات‘‘ کے حوالے سے ’’ایکسپریس فورم پشاور‘‘ میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہیں۔

مشتاق احمد غنی (معاون خصوصی برائے اطلاعات حکومت خیبرپختونخوا)

26 اکتوبر کو 8.1 شدت کے زلزلہ کی وجہ سے پورے ملک میں نقصان ہوا لیکن خیبرپختون خوا سب سے زیادہ متاثر ہوا جبکہ ملاکنڈ ڈویژن اورہزارہ ڈویژن کے اضلاع تورغر اور کوہستان میں بڑے پیمانے پر جانی ومالی تباہی ہوئی۔ اس زلزلہ کی وجہ سے خیبرپختون خوا میں 225 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ دوہزار افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ زلزلہ کے فوراً بعد وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے جائزہ اجلاس بلایا اور پی ڈی ایم اے کو ہدایات جاری کی گئیں کہ متاثرین کو ریلیف کا سامان ارسال کیاجائے جس کے تحت ملاکنڈ ڈویژن کوتیس ٹرک سامان ارسال کیا گیا جس کے حوالے سے ڈپٹی کمشنرزکو بھی ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کے لیے کہا گیا جب کہ ریسکیو ٹیمیں ،ایمبولینس اوردیگر ضروری سامان بھی متاثرہ اضلاع کو بھجوایا گیا۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور وزیراعلیٰ خود تمام امور کی مانیٹرنگ کررہے ہیں۔

پنجاب حکومت کی جانب سے بھی زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے امدادی سامان پر مشتمل 50 ٹرک بھجوائے گئے جب کہ ریسکیورزاور60 رکنی میڈیکل ٹیم بھی بھجوائی گئی۔ اسی طرح این جی اوز بھی ہمارے ساتھ اس سلسلے میں تعاون کررہی ہیں۔ صوبائی حکومت اب تک کمشنر ملاکنڈ کو گیارہ ہزار خیمے، سات ہزار پانچ سوفوڈپیکٹس، بارہ ہزار کمبل اوردو ہزار چٹائیاں بھجوا چکی ہے جب کہ چترال کے لیے دس جنریٹرز بھی بھجوائے گئے ہیں تاکہ متاثرین کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ صوبائی حکومت نے پالیسی کے مطابق جاں بحق‘زخمیوں اور تباہ شدہ مکانات کے حوالے سے معاوضوں کا اعلان کیا تاہم مرکزی حکومت کی جانب سے تعاون ملنے پر یہ معاوضہ دگنا کردیاگیاہے جس کے لیے مرکزی حکومت ڈیڑھ ارب روپے جاری کررہی ہے۔

مذکورہ فنڈز کی بدولت اب جاں بحق افراد کو فی کس چھ لاکھ روپے، زخمیوں کو فی کس ایک لاکھ اور مستقل طور پر معذور ہونے والے افراد کو دو لاکھ روپے جبکہ مکانات کے تباہ ہونے کی صورت میں دو لاکھ روپے معاوضہ دیاجائے گا۔ مرکزی حکومت نے ایک ہیلی کاپٹر بھی ہمیں فراہم کیا ہے جس کے ذریعے پھنسے ہوئے افراد کو ریسکیو کیاجارہاہے اور اسی ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہم نے ناران میں پھنسے ہوئے افراد کو ریسکیو کیا جن کے ہمراہ دو لاشیں بھی وہاں سے نکالی گئیں۔ ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں کنٹرول روم قائم کردیاگیاہے جو تمام پی ڈی ایم اے کے مرکزی کنٹرول روم کے ساتھ منسلک ہے ۔ صوبائی حکومت زلزلہ متاثرین کی امداد اور مدد کے حوالے سے کسی بھی جگہ پر کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ فی الحال ہم نے عالمی برادری یا دیگر ممالک سے مدد لینے کی کوئی اپیل نہیں کی اور جو این جی اوز اپنے طور پر کام کررہی ہیں انھیں کام سے روکا بھی نہیں البتہ جہاں تک دیگر ممالک سے باقاعدہ طور پر مدد مانگنے کا تعلق ہے تو یہ فیصلہ بھی نقصانات کے حوالے سے تخمینہ جات کی تیاری کے بعد ہی کیا جائے گا۔

زلزلہ متاثرین کے حوالے سے جو بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان خود بھی ان کی مکمل طور پر نگرانی کررہے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک ہر جگہ پہنچتے ہوئے خود تمام معاملات کی مانیٹرنگ کررہے ہیں۔ صوبائی حکومت نے ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ریسکیو سروس 1122 جو اس وقت صرف پشاور اور مردان میں کام کررہی ہے اس کا دائرہ کا رڈویژنل ہیڈ کوارٹرز تک بڑھایا جائے جس پر عمل درآمد ہورہاہے اور اس فیصلہ کے تحت یہ سروس ایبٹ آباد ،سوات،ڈی آئی خان اور کوہاٹ تک جانی تھی تاہم بعد میں اس میں مزید اضلاع کو شامل کرتے ہوئے ان کی تعداد13 کردی گئی اور ہماری خواہش ہے کہ اپنے ہی دور میں ریسکیو 1122 ایمرجنسی سروس ہر ضلع میں قائم کریںجس کے ساتھ ساتھ ہم پی ڈی ایم اے کے تحت ہر ضلع میں رضاکارفورس بھی بنانا چاہتے ہیں تاکہ کسی بھی قدرتی آفت یا ہنگامی صورت حال میں ان سے استفادہ کرسکیں۔

عمارتوں کی تعمیر کے حوالے سے بھی حکومتی سطح پر یہ فیصلہ کرلیاگیاہے کہ بلڈنگز کوڈ لاگو کیاجائے تاکہ ایسی صورت میں نقصانات کم سے کم ہوسکیں اور مستقبل میں تعمیر ہونے والی تمام سرکاری عمارتوں کو باقاعد ہ طور پر بلڈنگز کوڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی تعمیر کیاجائے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ کسی بھی حادثے یا سانحہ کی صورت میں ہسپتالوں میں وی آئی پیز کی آمد نہ ہو کیونکہ اس کی وجہ سے مریضوں اور زخمیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم اصل مسلہ تب ہوتاہے کہ جب کوئی بڑا لیڈر ہسپتال آتاہے تو ان کی پارٹی کے ورکرز خود بخود اس جگہ پہنچ جاتے ہیں جن کو روکنا مشکل ہوجاتاہے ۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ بالاکوٹ شہر مسلسل خطرات میں گھرا ہواہے اور یہ دوبارہ آباد نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ فالٹ لائن پر واقع ہے اور اس کے متبادل کے طور پر بکریال شہر کو آبا د کرنا ضروری ہے جس کے لیے کام جاری ہے اور یہ شہر ضرور آباد کیاجائے گا۔ جہاں تک 2005 ء کے زلزلہ کے دوران ہزارہ میں تباہ ہونے والے سکولوں کی تعمیر نو کا تعلق ہے تو اس کے لیے مرکزی حکومت نے 4 ارب روپے جاری کرنے کا اعلان کررکھا ہے یہ رقم فوری طور پر ملنی چاہیے تاکہ ان کی تعمیر شروع کی جاسکے۔

رحمت سلام خٹک (جنرل سیکرٹری مسلم لیگ(ن)خیبرپختون خوا)

وزیراعظم میاں نواز شریف نے زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی پیکج کا اعلان، وزیراعلیٰ خیبرپختون خوا کی مشاورت سے کیا ہے اور وزیراعظم کی خواہش تھی کہ مکانات کے لیے معاوضہ دو لاکھ سے بھی زیادہ ہونا چاہیے تاہم صوبائی حکومت اس کے لیے تیا رنہیں تھی کیونکہ یہ ایک مثال قائم ہوجاتی اور مستقبل میںجو بھی سانحہ ہوتا اس کے حوالے سے صوبائی حکومت کو اسی شرح سے معاوضوں کی ادائیگی کرنی پڑتی۔ اس لیے معاوضہ ایک لاکھ سے بڑھا کر دو لاکھ کیا گیا جس میں مرکزی اور صوبائی حکومتیں نصف حصہ ڈالیں گی۔ جب بھی کوئی قدرتی آفت آتی ہے یا کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے تو اس میں متاثرین کو ادائیگی اور نقصانات کا تخمینہ لگانے میں غیر ضروری تاخیر کی جاتی ہے جس کی وجہ سے عوام مشکلات کا شکار ہوکر رہ جاتے ہیں لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہے کیونکہ وزیراعظم نے امدادی پیکج کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی متاثرین اور نقصانات کی تصدیق کے لیے ڈیڈ لائن دی ہے، چیکوں کی ادائیگی شروع کرنے کی تاریخ کے اعلان کے ساتھ ساتھ ان ادائیگیوں کا سلسلہ مکمل کرنے کے لیے ڈیڈ لائن بھی دی ہے جس کے تحت 2 سے5 نومبر تک یہ ادائیگیاں کی جانی ہیں۔

برفباری کا موسم شروع ہونے والا ہے اور وزیراعظم کی خواہش ہے کہ برفباری شروع ہونے سے قبل لوگوں کے گھروں کی تعمیر مکمل ہوجائے تاکہ انھیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے مرکزی وصوبائی حکومتیں ،پاک فوج اور دیگر تمام ادارے ایک ہی صف میں کھڑے ہیں اور اس مسئلے پر سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہے البتہ اگر کہیں کوئی خامی یا کوتاہی ہو تو اس کی نشاندہی ضرور کی جانی چاہیے تاکہ اس کی اصلاح کی جاسکے ۔

ہارون بلور (سیکرٹری اطلاعات عوامی نیشنل پارٹی ،خیبرپختونخوا)

زلزلہ کی وجہ سے تباہ ہونے والے مکانات کی تعمیر نو کے لیے 2 لاکھ روپے کی رقم قلیل ہے۔ میرے نزدیک اس رقم کو بڑھانا چاہیے کیونکہ پالیسی کے مطابق اگر کوئی گھر مکمل طور پر تباہ ہوجائے تو اس کے لیے پونے چار لاکھ روپے اور جزوی طور پر تباہ شدہ مکانات کے لیے ایک لاکھ 60 ہزار روپے دیئے جاتے ہیں اس لیے اب دو لاکھ روپے کی ادائیگی مناسب نہیں ہوگی ۔ یہ بات بالکل واضح ہوچکی ہے کہ حکومتوں اور سرکاری اداروں کی قدرتی آفات اور سانحات کے حوالے سے کوئی تیاری نہیں ہوتی جس کی وجہ سے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔ ضرورت اس چیز کی ہے کہ حکومت اپنے اداروں کو فعال کرے ،پی ڈی ایم اے اور ریسکیو 1122 ایمرجنسی سروس جیسے اداروں کی استعداد کو بڑھایاجائے لیکن ایسا نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں ایسے ہر موقع پر فوج کی جانب ہی دیکھنا پڑتا ہے۔ اس لیے اب حکومت کو چاہیے کہ ہر ضلع میں بھاری مشینری فراہم کرے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت میں فوری طور پر کارروائی کی جاسکے اورحکومت کو ایسا طریقہ کار بھی وضع کرنا چاہیے کہ کسی بھی سانحہ کی صورت میں تمام این جی اوز اور فلاحی ادارے حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر حکومتی ادارے پوری طرح فعال ہوتے اور اضلاع کی سطح پر مشینری کام کررہی ہوتی تو ناران میں برفباری کی وجہ سے جو نقصان ہوا وہ نہ ہوتا اور نہ ہی لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔ زلزلہ کی وجہ سے صرف پشاور میں 103 سکولوں کی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ آفٹر شاکس سے ان کو مزید نقصان ہوسکتاہے لہٰذا جو عمارتیں مخدوش ہوچکی ہیں ان سے طلباء وطالبات کو فوری طور پر متبادل مقامات پر منتقل کیاجائے ۔ یہ باعث افسوس ہے کہ ہمارے ہاں تعمیرات میں بلڈنگ کوڈز کا خیال نہیں رکھاجاتا جس کی وجہ سے بہت زیادہ نقصانات ہوتے ہیں۔ نئی تعمیرات میں چھتوں کی اونچائی کم رکھی جائے اور ساتھ ہی ہر عمارت میں باہر نکلنے کے لیے ایمرجنسی کے راستے ہونے چاہیں تاکہ کسی بھی سانحہ یا آفت کی صورت میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وزیراعظم نے پشاور کا دورہ کیا اور وہ شانگلہ ،چترال اور کوہستان بھی گئے ۔ میرے نزدیک انھیں قبائلی علاقوںکا بھی دورہ کرنا چاہیے تاکہ وہاں بسنے والوں میں پایا جانے والا احساس محرومی ختم ہوسکے۔

بحر اللہ خان ایڈووکیٹ (پولیٹیکل سیکرٹری جماعت اسلامی خیبرپختونخوا)

26 اکتوبر کے زلزلہ کے بعد جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن پورے طریقہ سے متحرک ہے جس کے 800 رضاکار متاثرہ علاقوں میں کام کررہے ہیں ۔ ہماری معلومات کے مطابق زلزلہ کی وجہ سے صوبہ میں 291 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد 2 ہزار 686ہے۔ زلزلہ کی وجہ سے 11 ہزار 511مکانات مکمل جبکہ 20 ہزار 315جزوی طور پر تباہ ہوئے۔ اس صورت حال کے تناظر میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے تمام سیاسی مصروفیات ترک کردیں اور انہوںنے اپنی پارٹی سے تعلق رکھنے والے تینوں صوبائی وزراء ،چاروں ضلعی ناظمین اور اراکین قومی وصوبائی اسمبلی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی تمام مصروفیات ترک کرتے ہوئے صرف زلزلہ زدگان کی مدد کریں کیونکہ متاثرہ اضلاع میں بہت سے لوگوں کو مددکی ضرورت ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن اب تک متاثرہ اضلاع میں 3 ہزار چار سوخیمے پہنچانے کے علاوہ 18 سوخاندانوں کو راشن فراہم کرچکی ہے ۔ 35 سو بستر اورچار سوپانی کی ٹینکیاں بھی فراہم کی گئی ہیں جبکہ جماعت اسلامی کے امیر نے 20 کروڑ روپے کے فنڈز اکھٹے کرنے کی ہدایت کی ہے جس کے لیے جماعت کے تمام ارکان اپنی تنخواہیں اور ماہانہ فیس اس مد میں دیں گے۔

الخدمت فاؤنڈیشن کو اس ضمن میں 4 کروڑ روپے موصول ہوئے ہیں جن میں سے سوادوکروڑ روپے بالائی علاقوں کو بھجوادیئے گئے ہیں ۔ ہمارے ساتھ دیگر ممالک کی تنظیموں کا بھی رابطہ ہے جن میں ترکی ،مصر کی اخوان المسلمین ،سری لنکا، جاپان اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔ جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن نے فیصلہ کیاہے کہ نومبر کا پورا مہینہ زلزلہ متاثرین کے حوالے سے امدادی کام جاری رکھے جائیں گے تاکہ یہ لوگ اپنے گھروں میں واپس جاسکیں ۔ جب 2005 ء کا زلزلہ آیا تھا اس وقت الخدمت فاؤنڈیشن نے نعمت اللہ خان کی قیادت میں متاثرین کی امداد پر 7 ارب روپے خرچ کیے تھے جس کا مکمل طور پر آڈٹ بھی کرایا گیا ۔ 26 اکتوبر کے زلزلہ کی شدت 8.1 ہی تھی تاہم اس کی گہرائی زیادہ ہونے کی وجہ سے زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ مرکز اور صوبوں میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیاں فعال نہیں ہیںحالانکہ انھیں بھی سی ڈی اے اور دیگر اداروں کی طرح فعال کرنا چاہیے جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جتنی بھی تعمیرات ہونگی وہ سب بلڈنگ کوڈکے مطابق ہی ہونگی اور کسی بھی قدرتی آفت کی صورت میں نقصانات کم سے کم ہوں گے۔

پروفیسر ڈاکٹر امجد نصیر (ڈائریکٹر زلزلہ سنٹر یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی پشاور)

حالیہ زلزلہ انتہائی شدید تھا۔ پوری دنیا میں ہر سال 7.0 یا اس سے زیادہ شدت کے صرف 20 زلزلے آتے ہیں لیکن رواں سال نیپال میں اپریل میں آنے والے 7.8 شدت کے تباہ کن زلزلے کے مقابلے میں یہ زلزلہ200 کلو میٹر سے بھی زیادہ گہرائی میں وقوع پذیر ہوا تھا۔ نیپال والا زلزلہ صرف 8 کلو میٹر گہرائی میں واقع ہوا تھا اور اس کے بہت سے آفٹر شاکس آتے رہے۔ اسی طرح 10 سال اور 18 دن قبل کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں آنے والا زلزلہ 7.6 شدت کا تھا اور یہ زمین کے 26 کلو میٹر اندر واقع تھا لیکن 26 اکتوبر 2015ء کو آنے والے زلزلے کی گہرائی زیادہ ہونے کی وجہ سے زمین نسبتاً کم ہلی لیکن اس کے اثرات وسیع علاقے تک محسوس کئے گئے۔ زلزلے کا مرکز وہ علاقہ ہے جہاں بھارت اور افغانستان کے کونے آپس میں ملتے ہیں اور ہمالیہ کی ’’فالٹ لائن‘‘ ہے۔  یہاں بہت چھوٹی چھوٹی ایک دوسرے سے ٹکرائی ہوئی فالٹ لائنز ہیں جو مختلف سمت میں ایک دوسرے کو دھکا دیتی رہتی ہیں یہ وہ جگہ ہے جہاں لاکھوں سال کے دوران بہت سی ٹکٹونک پلیٹیں ٹکرائی ہیں اور یہ پیچیدہ خطہ اسی طرح بنا ہے۔

پاکستان انڈین اور یورو ایشیئن پلیٹوں پر واقع ہے جس کے باعث زلزلوں کی زد میں ہے۔ ایک قسم سے اسے ریڈ زون سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے تاہم یہ پیشن گوئی نہیں کی جا سکتی کہ زلزلہ کب آئے گا اور اس کی شدت کتنی ہو گی۔ موسمیاتی تغیرات ہوتے رہتے ہیں لیکن انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کرنا مناسب نہیں، یہ عمل تو صدیوں سے ہوتا آرہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ ان زلزلوں کے تناظر میں بلڈنگ گوڈز بننے چاہیں، عمارتوں کے ڈیزائن اور تعمیر میں انہیں مدنظر رکھنا چاہئے جب کہ عملی طور پر حفاظتی اقدامات سے ہی اس کی تباہی کی شدت کو کم کیا جا سکتا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 8 اکتوبر 2005ء کے تباہ کن زلزلہ کے بعد بلڈنگ کوڈز بنانے کی ضرورت پیش آئی کیوں کہ 8 اکتوبر 2005ء کو شمالی علاقوں اور کشمیر میں پاکستان کی تاریخ کا بدترین زلزلہ آیا جس کی شدت ریکٹر سکیل پر 7.6 تھی جس کے نتیجے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 80 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے، ہزاروں افراد زخمی ہوئے اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے۔

اسی تناطر میں خیبر پختونخوا کی حکومت نے ان بے گھر لوگوں کی دوبارہ آباد کاری کے لیے ایک جامع منصوبہ بنایا جس کے تحت پشاور کی انجینئرنگ یونیورسٹی میں ارتھ کوئیک انجینئرنگ سنٹر کو ایسے تعمیراتی قوانین بنانے کا کام سونپا گیا جس کا مقصد زلزلے سے محفوظ مکانات کی تعمیر تھی جس کے بعد اس پر کام کا آغاز ہو گیا اور سب سے پہلے ’’معیاری تعمیر کے اہم اصول‘‘ پر مشتمل ایک کتابچہ شائع کیا گیا جس کے بعد اسی سنٹر کی عمارت کو ایک نمونے کی شکل میں تعمیر کیا گیا۔ اس اہم کام کے بعد صوبائی حکومت کے متعلقہ اداروں کو ہدایات اور بلڈنگ کوڈ پر مبنی قوانین حوالے کئے گئے جس کے باعث حکومت نے اس پر کام کا آغاز بھی کر دیا ہے یعنی سرکاری تعمیرات اب اس کے تحت ہونے لگی ہے لیکن بدقسمتی سے نجی تعمیرات اس سے ابھی تک مستفید نہیں ہو رہی ہیں۔

ڈاکٹر محمد فہیم احمد (میٹرولوجسٹ، محکمہ موسمیات پشاور)

26 اکتوبر کے زلزلہ کے بعد آفٹر شاکس کاآنا قدرتی عمل ہے اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں موسمیاتی تغیرات رونما ہو رہے ہیں جس میں آلودگی کا بڑا عمل دخل ہے جس کے باعث زمین کے اوپر قدرتی عمل شدید متاثر ہو رہا ہے اوراس کے اثرات زیر زمین حالات پر پڑ رہے ہیں۔ 26 اکتوبر کے زلزلہ کی شدت 8.1 تھی تاہم اس کی گہرائی زیادہ ہونے کی وجہ سے نقصانات کم ہوئے جب کہ 2005ء میں زلزلہ کی شدت اس سے کم تھی تاہم گہرائی کم ہونے کی وجہ سے نقصان زیادہ ہوا۔ اگر دیکھا جائے تو پاکستان کے شمال میں واقع پہاڑی سلسلوں میں بعض بہت بڑے گلیشئرز پائے جاتے ہیں جو ملک کے لیے پانی کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان گلیشئرز کے پگھلنے اور ٹوٹ کر بہنے والے پانی سے بعض اوقات ان گلیشئرز کے نیچے سیلابی کیفیت پیدا ہوتی رہتی ہے۔ یہاں بھی بعض چھوٹے گلیشئرز میں اس زلزلے کے بعد دراڑیں دیکھی گئی ہیں لیکن ان کا کوئی حصہ نہ ٹوٹ کر گرا ہے اور نہ ہی ان سے بڑی مقدار میں پانی رسا ہے۔

محکمہ موسمیات کے پاس ایسے آلات اور نظام ہے کہ اسے ان گلیشئرز میں ہونے والی تبدیلیوں کی اطلاع بروقت مل جاتی ہے۔ محکمہ موسمیات نے ان گلیشئرز کے قریب پیشگی وارننگ جاری کرنے والے خود کار نظام نصب کر رکھے ہیں جو انہیں گلیشئرز میں آنے والی تبدیلوں سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ زلزلے کے دوران گلیشئرز کا اپنی جگہ سے سرکنا یا ان میں دراڑیں پڑنا معمول کی بات ہے لیکن اس زلزلے کے بعد اس نوعیت کے کسی بڑے واقعے کی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ۔  اگر دیکھا جائے تو ہندوکش، ہمالیہ سلسلہ مغرب میں برما اور مشرق میں افغانستان تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ خطے برف سے ڈھکے ہوئے ہیں جس میں دنیا کے چند بلند ترین پہاڑ شامل ہیں۔ ہمالیہ میں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے تقریباً 22 سال پہلے کچھ سروے کئے گئے تھے جب کہ زیادہ سروے مصنوعی سیاروں کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات اور تصاویر سے ڈیسک پر کمپیوٹر کے ذریعے کئے جاتے ہیں گلیشئرز سے بننے والی جھیلوں کا پھیلاؤ سیلاب کا سبب بنتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔