کوڑے والی قوم

ہادی فاروقی  جمعـء 6 نومبر 2015
وقت گذرتا جائے گا، کوڑے بڑھتے جائیں گے اور ہمیں اِس بات کی فکر لگی رہے گی کہ کوڑے مارنے والے افراد کم کیوں ہیں۔ فوٹو: فائل

وقت گذرتا جائے گا، کوڑے بڑھتے جائیں گے اور ہمیں اِس بات کی فکر لگی رہے گی کہ کوڑے مارنے والے افراد کم کیوں ہیں۔ فوٹو: فائل

یہ اُن دنوں کی بات ہے کہ جب ایک ریاست کی عوام ڈھٹائی کا پیالہ پی چکی تھی، اُس کا خمار اُتارے نہیں اُترتا تھا، بڑی کوشش کی گئی، اُس کا حق مارا گیا، بنیادی سہولتوں بھی چھین لی گئیں، اُسے حکمرانوں نے خوب لوٹا، دل و جان لگا کر لوٹا، سوچا شاید یہ خمار اُتر ہی جائے گا، مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔ یہ قصہ بھی تب کا ہے کہ جب جمہوریت کے بجائے لوگ بادشاہت کے زیرِ اثر تھے۔

جب بادشاہ نے اپنی عوام کا یہ حال دیکھا کہ وہ کسی بھی بات پر آواز بلند نہیں کرتے تو اُس نے اپنے وزیر کو بلایا اور اُس سے کہا کہ ’’اے وزیر! یہ عوام تو کسی صورت اپنے حق میں آواز نہیں اُٹھاتی اگر یہی حال رہا تو اگر دشمن نے اِن پر قبضہ کرکے ظلم بھی ڈھائے تو یہ اُس وقت بھی اپنی آواز نہیں اُٹھائے گی، کوئی ایسی تدبیر بتاو جس سے اِن لوگوں کو آواز اُٹھانا آجائے۔  وزیر نے کہا، عالم پناہ! آپ اتنی سی بات کیلئے کیوں پریشان ہوتے ہیں؟ یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے، بادشاہ نے مضطرب ہو کر پوچھا، وہ کیسے؟ ہمیں اِن مسائل کے حل سے فوراََ آگاہ کیا جائے، وزیر کی آواز آئی، جہاں پناہ! آپ اِس ریاست کے ہر مرد پر یہ لازم کردیں کہ وہ کام پر جانے سے پہلے ایک کوڑا کھا کر اپنے کام کو جائے، بس پھر دیکھئے کہ کس طرح اگلے دن ہی دن آپ کے محل کے باہر لوگوں کا ہجوم ہوگا۔

بادشاہ نے یہ سنا اور فوراً احکامات جاری کردئیے اور دو آدمی کوڑے مارنے کیلئے مختص کر دئیے، اگلے دن کوئی بھی محل کے باہر نظر نہ آیا۔ بادشاہ کو یہ دیکھ کر مزید حیرانی ہوئی کہ ہر کوئی کوڑے کھانے پر راضی ہوچکا ہے۔ بادشاہ نے فوراً وزیر کو بلا کر مشورہ کیا اور کوڑوں کی تعداد ایک سے بڑھا کر 3 کردی۔ اگلے دن جب بادشاہ اُٹھا تو اُسے اپنے محل کے باہر شور سنائی دیا، وہ خوش ہوا کہ چلو اِن کو کچھ تو خیال آیا، وہ خوش ہوا اور باہر جاکر اُس نے دیکھا تو باہر مردوں کا ہجوم ہے، جس پر بادشاہ نے وزیر کو حکم جاری کیا کہ معلوم کرو یہ شور کیوں کر رہے ہیں۔

وزیر جا کر واپس آیا اور اُس نے بتایا، عالم پناہ! یہ اِس بات پر احتجاج کرتے ہیں کہ کوڑے مارنے والے صرف دو افراد ہیں اور انہیں کوڑے کھاتے کھاتے کام کیلئے دیر ہوجاتی ہے، آپ سے گذارش کرنے آئے ہیں کہ دو افراد کو مزید اس کام پر لگائے جائیں۔

اِسی طرح جب اہرامِ مصر تعمیر ہورہے تھے تو اُس کے بڑے بڑے پتھر کو کھینچنے کیلئے انسانوں کو گدھوں کی طرح استعمال کیا جاتا تھا، آگے رسی سے باندھ کر پیچھے کوڑے برسائے جاتے تھے، وہ بھی کام کرتے تھے اور کوڑے کھاتے تھے۔ ذرا اپنے آس پاس نگاہ دوڑائیے اور بتائیے کہ انسان ارتقاء کے مراحل سے گذرنے کے بجائے جدت پسندی کی سیڑھیاں پھیلانگتا آگے بڑھا ہے تب ہی اِسے اپنے حق کے شعور کا احساس ہوا ہے۔

ہمارا حق مارا جاتا ہے ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی، ہمارے ملک پر 65 ارب 60 کروڑ ڈالر کا قرضہ چڑھ چکا ہے، ملک میں خانہ جنگی کا خطرہ ہے، پر ہمیں ایک مخصوص دائرہ میں رہتے ہوئے حکومت کو بُرا بھلا کہنا ہے، کوئی بم دھماکہ ہوجائے تو ہمیں سکون اِس بات کا ہوتا ہے کہ اِن مرنے والوں میں ہمارا اپنا کوئی نہیں تھا، ہمارا موبائل چھن جائے یا گھر میں ڈکیتی پڑجائے تو بجائے اِن سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ساتھ دینے کے بجائے، ہم ’’یہ تو جانے والی چیز تھی چلی گئی‘‘ کہہ کر چُپ سادھ لیتے ہیں۔

ہم اپنے حصے کے کوڑے خود منتخب کرتے ہیں، سیلاب آتا ہے تو اپنی 2 گز کی زمین کو بچانے کی خاطر اپنے ملک کی بیسیوں ایکڑ زمین اُس کی نظر کر دیتے ہیں۔ ایسی صورت کہ جس میں آپ کا سب کچھ پانی بہا کر لے جائے اور پینے کو پانی میسر نہ ہو تو دوسرے کی مدد کرنے کے بجائے ہم خود ہی اشیائے خورد و نوش مہنگی کردیتے ہیں، اور اِس کا جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ  ارے جناب کمانے کا سیزن ہے۔ لیکن یہ پل بھر کے لیے بھی نہیں سوچتے کہ وہ ٹھیک کررہے ہیں یا غلط؟ زیادہ دور کیوں جائیں، ابھی کی بات کرلیتے ہیں، 28 اکتوبر کو جو زلزلہ آیا، جس نے ہم سب کو ڈیڑھ منٹ کیلئے مسلمان بنا دیا، پھر اگلے ڈیڑھ گھنٹے کیلئے فیس بُک اور ٹوئیٹر کیلئے ہم دانشور بن گئے اور ٹھیک ڈھائی گھنٹے بعد ہم اپنے آپ کو صاف اور دوسروں کے اعمال کو زلزلہ آنے کی وجہ قرار دے چکے تھے۔

ٹھیک دو دن بعد ہم یہ بھول چکے تھے کہ کوئی زلزلہ بھی آیا ہے، ہمیں زیادہ فکر اِس بات کی تھی کہ عمران خان کی طلاق کیوں ہوگئی، وہ میڈیا جو دن رات ریحام خان اور عمران خان کی ذاتی زندگی میں مسلسل مداخلت کئے جا رہا تھا اُس نے کہیں یہ نہیں بتایا کہ اِس زلزلے سے قریباً 1733 اسکولوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ظاہر سی بات ہے، ہمیں تعلیم کے بجائے طلاق میں زیادہ دلچسپی ہے، وقت گذرتا جائے گا، کوڑے بڑھتے جائیں گے اور ہمیں اِس بات کی فکر لگی رہے گی کہ کوڑے مارنے والے افراد کم کیوں ہیں۔

تو آپ بھی کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم واقعی ’’کوڑے والی قوم‘‘ بن چکے ہیں؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،  مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔