لوگوں کی مشکلات کم کیوں نہیں کرتے؟

عارف محمود کسانہ  جمعـء 13 نومبر 2015
عوام دور جدید میں  بھی بوسیدہ طریقہ کار کے باعث اپنے معمولی کام کروانے کے لئے دفتروں کے دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

عوام دور جدید میں بھی بوسیدہ طریقہ کار کے باعث اپنے معمولی کام کروانے کے لئے دفتروں کے دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

پاکستان میں سرکاری دفتروں کے طریقہ کار اور روٹین سے عام عوام ہی نہیں بلکہ خود سرکاری اہل کار بھی مشکلات اور پریشانیوں کا شکار نظر آتے ہیں، عام عوام کے مسائل کے حل کے لئے تو بہت کچھ لکھا اور کہا جاتا ہے لیکن کبھی کسی نے سرکاری ملازمین کے مسائل اور دفتری طریقہ کار کے اصلاح کے لئے آواز بلند نہیں کی۔

دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی لیکن ہمارے انداز وہی اٹھارویں صدی والے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ دفتری نظام سے عوام اور سرکاری اہلکار دونوں خجل وخوار ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں کئی حکومتیں آئیں اور کئی گئیں لیکن عوام کو روزمرہ کے معاملات میں سہولتیں اور آسانیاں دینے کی کسی نے نہ تو کوشش کی اور نہ ہی کسی نے کوئی اس بارے میں اپنا منصوبہ پیش کیا ہے۔ عوام آج بھی اپنے معمولی کام کروانے کے لئے دفتروں کے چکر لگاتے ہوئے دھکے کھا رہے ہیں۔ مروجہ دفتری نظام اور نوکر شاہی کی وجہ سے عوام اذیت میں مبتلا ہوتے ہیں، ان کا وقت اور پیسہ برباد ہوتا ہے جس کی وجہ سے سفارش اور رشوت کا بازار گرم ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نوکر شاہی جو عام عوام کو پیچیدہ اور غیر ضروری کوائف میں الجھائے رکھتی ہے، وقت پڑنے پر خود بھی اُس کا شکار ہوتی ہے، جب انہیں اپنے کسی کام کے لیے کسی دوسرے سرکاری دفتر سے پالا پڑتا ہے۔ خود سرکاری ملازموں کو جب اپنی تنخواہیں ٹی اے ڈی اے، میڈیکل اور دوسرے بل منظور کروانے ہوں تو انہیں بھی خواری اٹھانا پڑتی ہے یا پھر رشوت اور سفارش کی مدد لینا پڑتی ہے۔ پبلک سروس کمیشن پاس کرنے کے بعد پولیس اور میڈیکل رپورٹ محض رشوت ستانی کا ایک ذریعہ ہے، سرکاری ملازمت کے حصول کے بعد پہلی تنخواہ کے حصول کی جدوجہد ہو، ایک جگہ سے دوسری جگہ تبادلہ ہونے کے بعد تنخواہ کا حصول ہو یا اختتامِ ملازمت پر پینشن جاری کروانی ہو یا اسی طرح کے دوسرے کام ہوں، ان سب کو انجام دینے کیلئے بلاوجہ کی علتیں اور پریشانیاں اٹھانا لازم ہے۔

کسی حکومت نے اصلاحِ احوال کی کوشش یا منصوبہ پیش نہیں کیا تا کہ ایک طرف سرکاری ملازمین کی مشکلات کم ہوں اور دوسرا ان کا وقت ان امور میں ضائع ہونے کی بجائے عوامی مفاد میں صرف ہو، دورِغلامی کی یادگار سالانہ خفیہ کارکردگی رپورٹ یا ACR کے نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے، اس سے سرکاری ملازمین کی کارکردگی بہتر ہونے کی بجائے سفارش، خوشامد اور رشوت ستانی کو فروغ ملتا ہے۔ اگر اس طریقہ کار کو اپنانے کے بجائے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی طرح دفتر کے سربراہ کے ساتھ ترقی اور منصوبہ سازی کی نشست منعقد کی جائے، جس کی بنیاد پر مزید تعلیم و تربیت کا اہتمام ہونا چاہیئے۔ سرکاری اہلکاروں پر بے جا پابندیاں، اسٹیشن لیو، این او سی، غلامانہ ای این ڈی رولز اور دوسری فضولیات نو آبادیاتی دور کی ضرورت تو ہوسکتی ہیں لیکن دورِ حاضر میں انہیں جاری رکھنا نہ مناسب اور حقوق انسانی کے منافی ہے۔

پاکستان سے بہت سے اعلیٰ سرکاری افسر غیر ملکی مطالعاتی دوروں پر آتے ہیں اور بیرون ممالک میں پاکستان کے 90 سے زائد سفارت خانے بھی قائم ہیں لیکن ترقی یافتہ ممالک میں دفتری طریقہِ کار، ملازمت کے قوانین اور کارکردگی سے کچھ بھی نہیں سیکھا گیا اور آج بھی پاکستان کے سرکاری محکمے کوہلو کے بیل کی طرح چل رہے ہیں۔

پاکستان کے بڑے سیاستدانوں اور اعلیٰ سرکاری افسروں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ دنیا کی حکومتیں اپنے عوام کو ہر ممکن سہولتیں بہم پہنچاتی ہیں، لیکن پاکستان میں دفتری طریقہ کار آسان بنا کر لوگوں کی زندگیاں کیوں آسان نہیں بنائی جاتیں؟ کیا وہاں کی بیوروکریسی اور سیاستدانوں میں یہ صلاحیت نہیں؟ دفتری طریقہ کار میں اصلاحات کرنے کے لیے کوئی مالی وسائل درکار نہیں بلکہ ایک جذبہ کی ضرورت ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بہت سارے کام فون، ای میل یا خط کے ذریعہ ہوجاتے ہیں اور بہت کم ذاتی طور پر کسی دفتر میں جانا پڑتا ہے۔ تنخواہ، انکم ٹیکس، پولیس، کسٹم اور دوسرے محکموں کے کام بھی اسی انداز میں ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں بجلی، گیس اور فون کا اگر بل غلط آئے جائے تو درست کروانا ایک معرکہ سے کم نہیں علاوہ ازیں اگر کسی نے قومی شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، پاسپورٹ یا گاڑی کے کاغذات کی تجدید کروانا ہو تو دنیا کے اکثر ممالک میں کوئی مسئلہ نہیں اور عام فیس کی ادائیگی کے بعد تجدید ممکن ہے لیکن پاکستانی بیوروکریسی پیدائش کے سرٹیفکیٹ سے لیکر ایسے ایسے کاغذات طلب کرنا شروع کرتی ہے کہ آدمی پریشان ہوجاتا ہے۔

بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو نادرا سے قومی شناختی کارڈ بنوانا ہو یا پاسپورٹ کا حصول بہت مشکلات، غیر ضروری دستاویزات اور طویل انتظار کرنا پڑتا ہے، اگر کسی نے پاسپورٹ یا نادرا سے جاری کارڈ کی مدت ختم ہونے کے بعد نیا حاصل کرنا ہے تو ایک بار پھر کیوں کاغذات کا پلندہ مانگا جاتا ہے؟ حالانکہ یہ ریکارڈ پہلے سے محکمہ کے پاس ہوتا ہے، اس نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔

عوامی مشکلات کم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ایک تو سرکاری دفاتر میں طریقہ کار آسان بنایا جائے، غیر ضروری تقاضے اور دستاویزات کی فراہمی کو ختم کیا جائے، کسی بھی سرٹیفیکیٹ کی تجدید کے لئے نئے سرے سے کاروائی کے بجائے آسان طریقہ اپنایا جائے۔ پاکستان میں جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے تو وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کو نوٹس لینا پڑتا ہے جو کہ نظام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، کسی بھی واقعہ کے بعد وزیراعلیٰ یا وزیر کو وہاں جانے کی ضرورت ہی نہیں ہونی چاہیئے بلکہ سرکاری محکموں اور مروجہ نظام کو خود کام کرنا چاہیئے اور اگر یہ کام کرنے کے اہل نہیں تو انہیں اور اس نطام کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

کسی کے نوٹس لینے سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوسکتے اور اختیارات کو شخصیات سے نچلی سطح تک لانے کی ضرورت ہے۔ ملک سے رشوت اور سفارش کا کلچر بھی تب ہی ختم ہوگا جب سرکاری محکموں میں بنیادی تبدیلیاں لائی جائیں گیں۔

کیا آپ بھی سمجھتے ہیں کہ عوام کو سہولت دینے کے لیے نظام میں تبدیلی کی ضرورت ہے؟

Loading ... Loading ...

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500  الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس۔

عارف محمود کسانہ

عارف محمود کسانہ

بلاگر، کالم نگار ہیں اور سویڈن کی فارن پریس ایسوسی ایشن کے رکن بھی ہیں۔ سویڈن ایک یونیورسٹی کے شعبہ تحقیق سے وابستہ ہیں اور اسٹاک ہوم اسٹڈی سرکل کے بھی منتظم ہیں۔ فیس بُک پر ان سے Arifkisana کی آئی ڈی پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔