بچوں کا عالمی دن اور ہمارا معاشرہ

محمد ارشد قریشی  جمعـء 20 نومبر 2015
پاکستان میں  بچوں کا عالمی دن تو منایا جاتا ہے، تقریبات کا انعقاد بھی ہوتا ہے لیکن بچوں کی فلاح و بہبود اور صحت کے حوالے سے کام بہت ہی کم دیکھنے میں آتے ہیں۔ فوٹو :فائل

پاکستان میں بچوں کا عالمی دن تو منایا جاتا ہے، تقریبات کا انعقاد بھی ہوتا ہے لیکن بچوں کی فلاح و بہبود اور صحت کے حوالے سے کام بہت ہی کم دیکھنے میں آتے ہیں۔ فوٹو :فائل

بچوں کے عالمی دن منانے کی قرارداد 14 دسمبر 1954 کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کی گئی جس کا مقصد بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے ایک دن مخصوص کرنا تھا۔ اس دن کو منانے کا باقاعدہ اعلان 20 نومبر 1989 کو کیا گیا اور بچوں کے منظور شدہ حقوق کا اعلان کیا، جس کا 186 ممالک نے حمایت کا اعلان کیا، جس کے تحت بچوں کا عالمی دن منانے کا مقصد ان کی تعلیم، صحت، سیر و تفریح اور ذہنی اور جسمانی تربیت کے حوالے سے شعور اُجاگر کرنا ہے تاکہ بچے مستقبل میں معاشرے کے بہترین شہری بن سکیں۔

یونیسیف کے مطابق دنیا میں روزانہ 3 لاکھ 60 ہزار بچے پیدا ہوتے ہیں، جبکہ روزانہ 24 ہزار بچے موت کی منہ میں چلے جاتے ہیں، بچوں کے حقوق اور صحت کے لئے کام کرنے والے اداروں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں ایک گھنٹے میں 5 سال سے کم عمر کے ایک ہزار بچے موت کا شکار ہوجاتے ہیں جس میں زیادہ تر اموات نمونیا کے سبب ہوتی ہیں، اور نمونیے کے ذریعے بچوں کی اموات کے حوالے سے پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جہاں نمونیے کے سبب ہر سال تقریباً ایک لاکھ بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، جس کی بڑی وجہ غربت، سرکاری سطح پر طبی سہولیات کا نہ ہونا اور لاعلمی ہے اس طرح نمونیا کے پیچیدہ ہونے کے بعد  ہزاروں کی تعداد میں بچے ہلاک ہوجاتے ہیں ۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے 20 نومبر 1999 میں منظور کردہ چارٹر پر حکومت پاکستان عالمی امداد کے باوجود سست روی کا شکار ہے۔ ہمارے وطن عزیز میں ہر سال 20 نومبر کو بچوں کا عالمی دن بھی منایا جاتا ہے اور تقریبات کا انعقاد بھی ہوتا ہے لیکن بچوں کی فلاح و بہبود اور صحت کے حوالے سے کام بہت ہی کم دیکھنے میں آتے ہیں۔ یہاں تو المیہ یہ بھی ہے کہ بچوں کی اموات میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا آرہا ہے۔ ایک زمانے سے پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے باوجود آج تک پولیو کو ختم نہیں کیا جاسکا، سندہ کے قحط زدہ علاقے  صحرائے تھر میں اب تک سینکڑوں بچے موت کا شکار ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ تا حال تھم نہیں سکا اور نہ ہی اب تک کوئی خاطر خواہ انتظامات کئے گئے ہیں۔

پاکستان میں نومولود بچوں کی موت ایک بڑی وجہ قبل از وقت پیدائش بھی ہے، جسے برتھ اے سفکیزیا بھی کہا جاتا ہے، جس میں نو مولود بچوں کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور دیہی علاقوں میں دائی بچے کی پیدائش کے وقت صفائی ستھرائی کا خیال نہیں رکھتیں جس کی وجہ سے بھی بچے جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اکثر حکومتی سطح پر ان اموات کو ہی مصدقہ سمجھا جاتا ہے جو سرکاری اسپتالوں میں رپورٹ ہوئی ہوں جبکہ جو سیکنڑوں کی تعداد میں جو گھروں میں ہلاکتیں ہوتی ہیں اُن کو کسی خاطر میں ہی نہیں لایا جاتا۔

ہمارے اس معاشرے میں بچوں کے حوالے سے ایک اور بڑا المیہ یہ ہے کہ جس کی روز ہی کوئی نہ کوئی مثال ہمیں نظر آتی ہے اور وہ ہے کچرا کنڈیوں سے نومولود بچوں کا ملنا، جنہیں بے رحم لوگ ایک کچرا سمجھ کر پھینک جاتے ہیں جن میں بہت کم تعداد ہی ایسی ہوتی ہے جو زندہ بچ پاتے ہیں کیونکہ ان کچرا کنڈیوں میں جانوروں اور پرندوں کی یلغار رہتی ہے جو ان معصوم بچوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، لیکن افسوس ان کچرا کنڈیوں میں زندہ بچ جانے والے بچوں کو انسانیت کی خدمت کرنے والے ادارے اطلاع ملنے پر لے تو جاتے ہیں لیکن کبھی بھی اس پر تحقیقات نہیں کی گئی، کسی بھی بچہ پھینکنے والوں کو گرفتار نہیں کیا گیا کسی کو عدالت نے سزا نہیں دی۔

یوں تو پاکستان میں بہت سے سماجی ادارے ان بچوں کو تحفظ دیتے ہیں، لیکن صرف ایدھی فاؤنڈیشن کے تحت ہی اب تک 26 ہزار بچوں کو گود دیا گیا، یہ الگ بات ہے کہ بچہ گود لینا کا کیا طریقہ کار ہے؟ یہ قانونی ہے یا غیر قانونی؟ نہ ہی ایسا کوئی قانون موجود ہے نہ کسی قسم کی دستاویزی کارروائی، آج بھی پاکستان کے تمام شہروں کی فٹ پاتھوں پر رات کو سوتے ہوئے بچے، بھیک مانگتے بچے، کچرا چنتے بچے، سڑکوں پر پھول بیچتے بچے، کاروں کو صاف کرتے بچے، گلیوں میں غبارے بیچتے بچے، جوتوں پر پالش کرتے اور گیراجوں میں کام کرتے بچے، اس معاشرے پر سوالیہ نشان ہیں کہ ان کے حقوق، تعلیم و تربیت، صحت اور سیر و تفریح کے لئے کیا اقدام کئے گئے۔

حکومت پاکستان بچوں کی صحت کے حوالے سے کئی عالمی اداروں کے تعاون سے کثیر امداد ملنے پر کئی منصوبوں پر کام کررہی ہے، لیکن قابلِ عمل یہ امر ہے کہ اس امداد کو نئی عمارتوں یا ادارے بنانے سے کہیں بہتر ہے کہ جو منصوبے جاری ہیں، ان پر تیزی سے کام کیا جائے تاکہ وہ اپنی تکمیل کو پہنچ کر پوری طرح بچوں کی صحت کے حوالے سے کام کرنا شروع کردیں، ساتھ ہی بچوں کو گود لینے کا قانونی طریقہ کار بنایا جائے اور بچوں کو کچرا کنڈیوں میں پھینکنے والوں کے خلاف بھی موثر قانون سازی کی جائے۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں بھی کبھی بچوں کے حقوق کے حوالے سے کبھی کوئی اقدامات ہوسکیں گے؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500  الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500  الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس۔

محمد ارشد قریشی

محمد ارشد قریشی

ریڈیو لسننگ سے وابسطہ ہیں، اکثر ریڈیو میں لکھتے ہیں۔ شعر و شاعری اور سماجی کاموں سے دلچسپی رکھتے ہیں

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔