فخرالدین ابراہیم کی بطور چیف الیکشن کمشنر تقرری چیلنج

 منگل 17 جولائی 2012
عمر زیادہ ہے، شہباز کا کیس لڑ ا، سیاسی وابستگی رکھتے ہیں، موقف،تقرری کانوٹیفکیشن جاری۔فوٹو/ایکسپریس

عمر زیادہ ہے، شہباز کا کیس لڑ ا، سیاسی وابستگی رکھتے ہیں، موقف،تقرری کانوٹیفکیشن جاری۔فوٹو/ایکسپریس

اسلام آباد: فخرالدین جی ابراہیم کا بطور چیف الیکشن کمشنر تقرر سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ درخواست گزار شا ہد اورکزئی نے آئینی پٹیشن میں الیکشن کمشنرکی تقرری کوآئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے عدالت سے تقرری کالعد م کرنے کی استدعا کی ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیارکیا گیا ہے کہ فخر الدین جی ابراہیم کی عمر80 برس سے تجاوزکر چکی ہے لہٰذا آئین کے مطابق ان کی تقرری درست نہیں۔ درخواست میںکہا گیا ہے کہ نئے چیف الیکشن کمشنر اس سے پہلے گورنرکے فرائض سر انجام دے چکے ہیں اور اس حیثیت میں وہ ایک صوبے کی سیاسی انتظامیہ کی ایڈوائس پر چلتے رہے لہٰذا اب وہ کسی ایسے آئینی منصب کے حقدار نہیں جو جج کیلیے مخصوص ہے۔ درخواست میں نئے چیف الیکشن کمشنر پر سیاسی وابستگی کا الزام بھی عائدکیا گیا اورکہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے بطور وکیل وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا مقدمہ لڑا اور مسلم لیگ (ن)کے ساتھ ان کے مراسم ہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ جب تک اس درخواست کا کوئی فیصلہ نہیں کیا جاتا چیف جسٹس چیف الیکشن کمشنرکے حلف اٹھانے کیخلاف حکم امتناع جاری کریں۔ این این آئی کے مطابق جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم کی بطور چیف الیکشن کمشنر تقرری کا نوٹیفکیشن جار ی کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق فخرالدین جی ابراہیم کو 5 سال کیلیے تعینات کیا گیا ہے۔ فخرالدین جی ابراہیم اپنے نئے عہدے کا حلف 20جولائی کو اٹھائیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔