قدیم ترین روایات سے جڑے افریقی قبائل

فرحان فانی  اتوار 29 نومبر 2015
7برس تک افریقی جنگلوں کی خاک چھاننے والے جرمن فوٹوگرافر کے دلچسپ مشاہدات کی روداد ۔  فوٹو : فائل

7برس تک افریقی جنگلوں کی خاک چھاننے والے جرمن فوٹوگرافر کے دلچسپ مشاہدات کی روداد ۔ فوٹو : فائل

38سالہ پیشہ ور فوٹو گرافر ماریو گریتھ کا تعلق جرمنی کے شہر ارفرٹ سے ہے اور وہ اس لحاظ سے ممتازہیں کہ انہوں نے براعظم افریقہ کے قدیم قبائل کی عکسبندی کے لیے مسلسل 7 برس تک دشت وصحرا کی خاک چھانی ہے۔

ان قبائل کے علاقوں میں جو تصاویر ماریو نے کھینچی ہیں وہ تو اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہیں ہی اس کے ساتھ ساتھ ان کے مشاہدات بھی کچھ کم اہم نہیں۔ ماریو گریتھ جدید انسانی تہذیب سے کٹے ہوئے لوگوں کے بارے میں دلچسپ باتیں بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جدید سہولتوں سے محروم انتہائی سادہ زندگی گزارنے والے یہ لوگ ترقی یافتہ معاشروں میں بسنے والے انسانوں سے کہیں زیادہ خوش وخرم زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آج کے جدید دور میں بھی جانوروں کی کھال کو بطور لباس استعمال کرتے ہیں اور ان کے گھر گارے اور جانوروں کے گوبر سے بنے ہوتے ہیں۔

فوٹو گرافرماریو گریتھ کے الفاظ میں ’’یہ لوگ انتہائی سخت ماحول میں رہنے کے باوجود اپنی زندگیوں میں خوشیوں کے رنگ بھرنے کا ڈھنگ خوب جانتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ لوگ ترقی یافتہ دنیا کے باسیوں سے ابھی تک نہیں ملے ہیں بلکہ انہوں نے بہت سی چیزیں نئے لوگوں سے مل کر سیکھی ہیں تاہم اپنی زندگی کے سادہ انداز میں کسی قسم کی تبدیلی کو یہ لوگ ضروری خیال نہیں کرتے۔‘‘

ماریو گریتھ نے افریقہ کے ان پراسرار دیہاتوں کا ایک معتمد گائیڈ کی مدد سے دورہ کیا۔قبائل اس گائیڈ کو ایک دوست کی حیثیت سے جانتے تھے۔ ماریو کا کہنا ہے ’میں ان قبائل میں جا کر زندگی کی عکسبندی کرنے کو اپنی خوش قسمتی تصور کرتا ہوں۔ یہ لوگ نئے آنے والوں سے کتراتے ہیں لیکن جب یہ مہمان کو اچھی طرح جان لیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں یہ ان کے لئے کسی قسم کے خطرے کا باعث نہیں ہے تو اسے بہت کشادہ دلی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔‘

ماریو گریتھ کا کہنا ہے کہ ’بہت سے لوگ میری بنائی ہوئی تصاویر دیکھ کر سوال کرتے ہیں کہ’ ان لوگوں نے عجیب وغریب اور کافی حد تک اذیت ناک طریقوں میں سے خوشی کا پہلوکیسے تلاش کر لیا؟‘ماریو مختلف قبائل کے سینکڑوں افراد سے ملا جن میں ایسی خواتین بھی شامل ہیں جوہونٹوں میں مٹی کی بڑی سی گول پلیٹ ڈالے ہوئے ہوتی ہیں اور ایسے جنگجو مردوں اور بچوں کو بھی اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا جو اپنے رزق کے لیے شکار کو ذریعہ بناتے ہیں۔

اپنی اِسی مہم جوئی کے دوران فوٹو گرافر نے ایتھوپیا کی زیریں وادی اومو کے اربور قبیلے کے طرز زندگی کو بہت دلچسپی سے دیکھا۔ان لوگوں کی زندگی اور رہن سہن کے طریقوں میں حیرت کا کافی سامان موجود ہے۔ یہاں کے لوگ دریا کے کنارے پر آباد ہیں ۔شکار پر ان کی گزر بسر ہوتی ہے اور یہ مویشی بھی پالتے ہیں۔ اس قبیلے کی عورتیں سیاہ چادروں سے اپنا سر ڈھانپ کر رکھتی ہیں لیکن انہیں ان کے رنگ برنگ ہاروں اور کانوں کی بالیوں سے جانا جاتا ہے۔

اس قبیلے کے بچے اکثر خود کو سورج کی تمازت سے بچانے کے لیے سر پرایسے ہیٹ پہنتے ہیں جو بظاہر آہنی خود کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ان لوگوں کو سُر سنگیت کی طاقت پر یقین ہے ۔ یہ لوگ زندگی کی تلخیوں اور منفی رویوں سے چھٹکارہ پانے کے لیے موسیقی کا سہارا لیتے ہیں۔

ایتھوپیا کے سفر کے دوران ماریو سُرما اور مُورسی قبائل کی ان خواتین سے بھی ملا جو ایک بہت بڑی پلیٹ کو اپنے ہونٹوں میں حسن کی علامت کے طور پر ڈالے رکھتی ہیں۔ ان قبائل کی لڑکیاں جب بلوغت کی عمر کو پہنچتی ہیں تو ان کے منہ کے نچلے دو دا نت نکال دیے جاتے ہیںا ور ان کے زیریں ہونٹ کے اندر کی جانب ایک کٹ لگا کر چھوٹا سا سوراخ بنا دیا جاتا ہے۔ پھر مٹی کی بنی ایک پلیٹ اس سوراخ میں نصب کر دی جاتی ہے جس کا حجم وقت سے ساتھ ساتھ بڑھتا رہتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کے ہونٹ دیکھنے میں گوشت کی بنی ہوئی سرنگ کی طرح لگنے لگتے ہیں ۔

یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے آ ج کل برطانیہ اور یورپی ممالک کے ٹین ایجرز میں پیئر سنگز (لوہے کے چھلے ڈالنے کے لیے ہونٹ اور کان چھدوانے کا عمل) کافی مقبول ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس قبیلے کی جس لڑکی کے ہونٹوں میں جتنی بڑی ڈسک یا پلیٹ نصب ہوتی ہے اس کا باپ اس کی شادی کے موقعے پر جہیز میں اتنی ہی زیادہ تعداد میں گائیں طلب کرتا ہے۔ عام طور پر چھوٹی پلیٹ والی لڑکی کی شادی پر 40اوربڑی پلیٹ والی کی شادی پر 60گائیں طلب کی جاتی ہیں۔ دوسری جانب اس قبیلے کے مرد نسبتاً کم تکلیف دہ رسم اختیار کرتے ہیں۔ مرد جڑی بوٹیوں اور دیگر پودوں کو مٹی کے ساتھ ملا کر رنگ بناتے ہیں اور اسے جسم کے مختلف حصوں پر ملتے ہیں۔

گزشتہ کچھ سالوں سے یہ بات مشاہدے میں آئی کہ اس قبیلے کی کچھ نوجوان لڑکیوں نے ہونٹوں کو چھیدنے کی اس رسم کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے انکار کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ دانتوںکا نکالنا غلط عمل ہے جس سے انہیں سخت صدمہ پہنچتا ہے۔ اس قبیلے کے مردوں کے بارے میں مشہور ہے کہ جب ان میں سے کوئی دوسرے قبیلے کے کسی شخص کو قتل کرتا ہے تو پھر اپنے جسم کو بھی زخمی کر لیتا ہے۔

ماریو کا کہنا ہے کہ ’سُری قبیلے کے افرادجسم پر صحت شدہ زخموں کے زیادہ سے زیادہ نشانات کو باہم تفاخر کا باعث سمجھتے ہیں۔ ‘ایک ماہر بشریات کے بقول یہ ایک ایسی روش ہے جس کے تحت قبیلوں کے چھوٹی عمرکے افراد کو خون اور دردسے عبارت ماحول سے مانوس بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔  ایتھوپیا کے ایک اور قبیلے حمر میں اس سے بھی بڑھ کر ظالمانہ رسم جاری ہے۔

اس قبیلے کے مرد اپنی زندگی کے بیشتر اوقات گائیں پالنے میں گزار دیتے ہیں کیونکہ انہی گائیوں کے بدلے ان کی شادی ممکن ہو پاتی ہے۔ اس قبیلے میں جب ایک جوان آدمی کی شادی کا وقت آتا ہے تو اسے ایک ’کاؤ جمپنگ ‘ کی تقریب میں شرکت کرنا ہوتی ہے جہاں شادی کے امیدوار مردوں کو قطار میں کھڑی 15گائیوں کی پشت پر چلتے ہوئے دوسری طرف چھلانگ لگانا ہوتی ہے ۔ اس جگہ کو گائیوں کے گوبر کی بڑی مقدار سے پھسلن والی بنایا جاتا ہے۔

اگرشادی کا امیدوار مرد چھلانگ لگانے میں ناکام ہو جائے تو تو ناصرف یہ کہ وہ شادی سے محروم ہو جاتا ہے بلکہ تماشائی خواتین اس کی شدید پٹائی بھی کرتی ہیں۔مزید یہ کہ اس تقریب میں شریک اس مرد کی بہنوں اور دیگر خواتین رشتہ داروں کو بھی بری طرح پیٹا جاتا ہے۔ وہ شخص اس واقعے کو ایک خونی قرض کے طور پر یاد رکھتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس طرح یہ شخص مستقبل میں اپنے خاندان کی آڑھے وقت میں زیادہ بہتر انداز میں مدد کے قابل ہو جاتا ہے۔

ماریو نے شمالی کینیا میں واقع ترکانہ جھیل کے قریب بسنے والے سمبورو قبیلے سے بھی ملاقات کی۔ اس قبیلے میں جیرونوٹوکریسی (یعنی بوڑھوں اور ضعیفوں کی حکومت) رائج ہے۔ انہیں زندگی کے تمام معاملات میں ترجیح حاصل ہوتی ہے حتیٰ کہ مزید شادیو ں کے معاملے میں بھی انہیں پہلا حقدار سمجھا جاتا ہے۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ اس قبیلے میں 30برس سے اوپر کے مرد بھی دیر تک شادی کے بغیر زندگی گزارتے ہیں۔

شمالی اینگولا میں سفر کرتے ہوئے فوٹو گرافر ماریونے موموہیولیہ قبیلے کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں۔ یہ قبیلہ نمیبیا کی سرحد کے ساتھ ساتھ آباد ہے۔ اس قبیلے کی عورتیں ہر صبح کئی گھنٹے جسمانی آرائش اور بناؤ سنگھار میں صرف کرتی ہیں۔ ماریو کے بقول اس قبیلے کی خواتین ’مکھن،تیل ،گائیوں کے گوبر اور جڑی بوٹیوں کی مدد سے اپنے جسم کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں۔یہ منکوں سے بنے ہاروں، سیپیوں اور رنگوں سے اپنے شاہکار بناتی ہیں۔

ماریو کا کہنا ہے کہ مغربی دنیا اور ان قبائل میں سب بڑا فرق وقت کے بارے میں ان کا تصور ہے۔ ہم اکثر ٹائم کو بہت احتیاط سے حساب میں رکھتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ہماری میٹنگیں اور ملاقاتیں جڑی ہوتی ہیںجبکہ ان قبائل کی زندگی اکثر وقت کی قید سے آزاد دوڑ رہی ہوتی ہے۔ یہ لوگ وقت کو ماپنے کے قائل نہیں ہیں۔ یہ لوگ اپنے ایام زندگی اپنے خاندانوں کے ساتھ، شکار کرنے،پکانے اور چیزیں بنانے میں گزارتے ہیں۔ ماریو کہتا ہے کہ ’ان لوگوں کا شماران خوش وخرم ترین افراد میں ہوتا ہے جن سے آج تک میری ملاقات ہوئی ہے۔‘

سامبورو قبیلہ
یہ وسطی کینیا کے شمالی علاقے میں آباد قبیلہ ہے۔ یہ نیم خانہ بدوش قسم کے لوگ ہیں۔ان کی زیادہ دلچسپی گائیں پالنے میں ہے تاہم ان پاس بکریاں بھیڑیں اور اونٹ بھی ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے لیے ’’لوکوپ‘‘ یا ’’لوئیکوپ‘‘ کا نام استعمال کرتے ہیں جس معنی میں اس قدر تنوع ہے کہ اس قبیلے کے باشندے بھی اس حوالے سے متفق نہیں ہیں۔اکثر خیال یہ ہے کہ اس لفظ کا مطلب ’’زمینوں کے مالک‘‘ ہے۔ ان کی زبان بھی سامبورو کہلاتی ہے۔ ان کی کل آبادی قریب ایک لاکھ 60ہزار ہے اور یہ لوگ روایتی افریقی مذہب کے پیروکار ہیں۔

حمر قبیلہ
حمر قبیلے کے لوگ جنوب مغربی ایتھوپیا میں رہتے ہیں۔ یہ اومو وادی کے زرخیز ترین حصے ’حمر وریدہ‘ میں رہتے ہیں۔ یہ قبیلہ لگ بھگ 46ہزارپانچ سو32افرادپر مشتمل ہے جن میں سے 952افراد شہری علاقوں میں رہتے ہیں۔ ان کی آبادی کا زیادہ تر حصہ ’ساؤتھ نیشنز،نیشنلیٹیز اینڈ پیوپلز ریجن‘ یا (SNNPR)میں رہائش پذیر ہے۔ یہ قبیلہ اپنی رسم ’مِنگی‘ کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے جس میں’’مِنگی‘‘ قرار دیے گئے بچے کو قبیلے سے دور جنگل یا پھر دریا میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔

سُرما قبیلہ
یہ قبیلہ جنوبی سوڈان اور ایتھوپیا کے جنوب مغرب میں آباد ہے۔ ان ہاں سُری ،مورسی کے علاوہ مِین زبان رائج ہے۔ سُرما قبیلے کی کل آبادی ایک لاکھ 86ہزار آٹھ سو75 ہے۔ اس قبیلے کے اکثر لوگ علاقائی روایتی مذہب کے ماننے والے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگ مسیحیت کے پیروکار بھی ہیں تاہم وہ اقلیت میں ہیں۔ لفظ surma اس قبیلے کے تین بڑے گروہوں سُری،مُورسی اور مِین کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس قبیلے کے تینوں گروپس کا کلچر ملا جلا ہے اور ان کے درمیان معمولی باتوں پر خون ریز لڑائیاں بھی ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے علاقے میں جانے کے لیے سیاحوں کو باقاعدہ سرکاری محافظ ساتھ لے کر جانا ہوتا ہے۔

اربور قبیلہ
یہ لوگ شمالی ایتھوپیا میں ’چئیو باہر‘ جھیل کے نزدیک رہتے تھے۔ یہ خانہ بدوشوں کی سی زندگی گزارتے ہیں۔ان کی کل آبادی 6ہزار آٹھ سو پچاس ہے۔ اربور کے لوگ چار گاؤں میں تقسیم ہیں جن کے نام ’گنداریب،کولاما۔مورالے اور ایگیوڈ ہیں۔

موموہیولیہ قبیلہ
یہ لوگ بھی نیم خانہ بدوشی کی زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی بڑی تعداد اینگولا کے جنوبی علاقے ’ہوئلیا‘ میں آباد ہے۔ یہ لوگ آج کے دور میں بھی افریقہ کہ قدیم ثقافتی روایات کو اپنائے ہوئے ہیں۔ سیاحوں میں ان کی مقبولیت ان کے بالوں کے منفرد اسٹائل اور لباس کے مخصوص انداز کی وجہ سے ہے۔ یہ لوگ اپنے جسم کو مختلف قسم کے جواہرات اور پتھروں سے مزین کرتے ہیں۔ ان کی زبان ’مویلہ‘ ہے۔ سترھویں صدی میں اس علاقے میں شدید قحط آیا تھااور بعد ازاں یہ لوگ عرصہ دراز تک بیرونی حملہ آوروں کے رحم وکرم پر رہے۔

مورسی قبیلہ
یہ ایتھوپیا کے ایک علاقائی گروہ پر مشتمل قبیلہ ہے۔ یہ (SNNPR)میں شامل علاقے ’ڈیبب اومو زون‘ میں آباد ہیں۔ یہ علاقہ جنوبی سوڈان کی سرحد کے ساتھ لگتا ہے۔ ان کی آبادی آٹھ ہزار نفوس سے کچھ زائد ہے جن میں سے سات فی صد کے قریب لوگ شہری علاقوں میں رہتے ہیں۔ ان کی زبان کا نام بھی ’مورسی‘ ہے۔ عقیدے کے اعتبار سے یہ لوگ ’اینیمسٹ(جانوروں کے پجاری)، پیگانیسٹ(مظاہر پرستی)،ایتھوپین مسیحیوں میں تقسیم ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔