سرمایہ، مارکس اور سوشلزم کی تنقید

رفیع اللہ میاں  جمعرات 10 دسمبر 2015

مارکسزم نے جس طر ح بورژوا جمہوریت پر تنقید کی ہے اور اس کے مہیب اور پر تشدد چہرے کو منکشف کیا ہے‘ نیز روشن خیالی پروجیکٹ کی خوں آشامی کو جس طرح اس نے طشت از بام کیا ہے، اس کو دیکھتے ہوئے یہ سوال نما سوچ ذہن میں ابھرتی ہے کہ عالمی سماج کو خود غرض‘ ظالمانہ خود پسندی رکھنے والی سرمایہ دارانہ سوچ نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے موجودہ منہاج تک پہنچا کر ایک سوشلسٹ کو بھی یہ سمجھا دیا ہے کہ مادہ اور شعور الگ الگ نہیں ہیں بلکہ یہ ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اعصابی نظام میں عصبی تحریکات کا عمل سوچ اور اس کے بعد عمل کو باہم مربوط کرتا ہے۔

ایک سوشلسٹ انسانی ارتقا کو ڈاروِن کے نقطہ نظر سے دیکھتا ہے اور ہاتھ کی کارفرمائی کو شعور کی بلندی کے سلسلے میں اہم ترین سنگ میل قرار دیتا ہے۔ ہاتھ کی اس محنت نے انسانی ذہن کو اتنا بلند کیا ہے کہ آج جدید ترین سائنس اور ٹیکنالوجی اس کی مرہونِ منت ہے۔ انسانی ارتقا کے مخصوص نظریے کو مد نظر رکھا جائے تو انسانی ہاتھ کی محنت کے تاریخی یعنی عمرانی تسلسل اور بورژوا اقلیت کے ان پر اور ان کی کمائی پر تسلط کے مابین ایک ایسا فکری خلا سامنے آتا ہے جسے سوشلزم زیر غور نہیں لاتا۔

اوزاروں کی ایجاد کے ساتھ ساتھ ذہن ترقی کر کے گروہی عوامل کو بھی سمجھتا گیا اور اس نے نہ صرف ماحول کو تبدیل کیا بلکہ خود کو بھی انقلاب آشنا کیا۔ انسانی ہاتھ کی کمائی ہی نے انسانی ذہن کو نت نئے تصورات سجھائے اور یہ اسی تربیت یافتہ ذہن کا کارنامہ ہے کہ اس نے معاشی سماجیات کو ایک خاص انداز میں منظم کیا اور طاقت کی نفسیات کے عین مطابق اس پر اپنا تسلط جمائے رکھا۔ جدید ٹیکنالوجی کی ایجاد انفرادی ذہن کا کارنامہ ہوتا ہے لیکن اسے اجتماعی مفاد کے لیے بروئے کار لانے کے لیے سرمایہ کار ذہن کی ضرورت ہوتی ہے۔

اب ٹھوس مسئلہ یہاں پر یہ ہے کہ سوشلزم کی منصوبہ بند سوسائٹی ایک متصورہ خواہش ہے جب کہ اس کے مقابلے میں سرمایہ داریت کے تحت تشکیل شدہ طبقاتی نظام ایک عمرانی و تجربی حقیقت ہے۔ بورژوا طبقے نے اپنے سرمائے کے زور پر انسانی ذہانت کو نہ صرف اکٹھا کیا بلکہ اس کے لیے ہر وہ سہولت میسر کی جس کی مدد سے وہ اپنی تجربی صلاحیتوں کو بڑھانے کی اہلیت حاصل کر سکی۔ سوشلزم کا فکری خلا یہی ہے کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے حیران کن انکشافات اور ایجادات کو‘ جو خالصتاً اسی بورژوا مختصر سماج کے تسلط کی وجہ سے ممکن ہوئیں‘ اپنے مادی تصور (بہ مقابلہ عینیت پرستی) کے اثبات کے لیے ضروری خیال کرتا ہے۔

عینیت پسندی اگر غیر تاریخی نظریہ ہے اور یہ انسانی ارتقا کے حقائق سے میل نہیں کھاتا تو سوشلزم نے جس سوسائٹی کا تصور تشکیل دیا ہے وہ کس حد تک عمرانی بنیادیں رکھتا ہے؟  انسان جیسے جیسے تہذیب یافتہ ہوتا گیا ویسے ویسے اس کا معاشی نظام پیچیدگی اختیار کرتا گیا، شعور کے ارتقا نے ضرورتوں اور سہولتوں کا راستہ دکھایا اور کام کا بوجھ بڑھتا گیا۔ معاشرے طبقاتی گروہوں میں بٹتے گئے لیکن سوشلزم انسان کے ارتقا کے پہیے کو واپس گھما کر اسے اس مقام پر لانے کا خواہشمند ہے جہاں وہ ہر قسم کی پابندیوں اور تفکرات سے آزاد کم سے کم معاشی جدوجہد کرے اور زیادہ سے زیادہ زندگی جیے۔ تعقلی سوچ تو یہ کہتی ہے کہ اگر آپ سائنس‘ ٹیکنالوجی اور مشینوں سے مستفید ہونا چاہتے ہیں تو انسانی تہذیب کے ارتقا کے دوسرے لازمی نتائج سے بچ کر زندگی نہیں جی سکتے۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ ذہن عام اذہان کی نفسیات سے کھیلتا ہے اور مارکسیت میں اسے اہمیت نہیں دی جاتی‘ چناں چہ سوشلزم بھی اسے نظر انداز کرتا ہے۔

فیورباخ پر تنقید کرتے ہوئے اپنے تیسرے تھیسس میں مارکس نے مادی فلسفے کی اس تعلیم پر کہ ’’لوگ محض ماحول اور اپنی تربیت یا اٹھان کی ہی پیداوار ہوتے ہیں‘ چناں چہ بدلے ہوئے لوگ دراصل مختلف ماحول اور مختلف تربیت کا نتیجہ ہوتے ہیں‘‘ پر نکتہ سنجی کی ہے کہ لوگ ہی تو ماحول یا حالات کو بدلتے ہیں اور تربیت دینے والوں کو بھی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مارکس کے نزدیک مادی فلسفے کی یہ تعلیم بورژوا طبقے کی اٹھان اور سماج کو دولخت کرنے کا سبب بنتی ہے، انسان اپنی عملی حسیاتی سرگرمی کے ذریعے ماحول کو بدلتا ہے اور اس بدلاؤ کے نتیجے میں خود اس کی اپنی زندگی میں انقلاب رونما ہوتا ہے۔

سوشلزم کی حرکیات کو مدنظر رکھا جائے تو مارکس کا یہ انقلابی نقطہ نظر اس کی منصوبہ بند سوسائٹی کے تصور میں دکھائی نہیں دیتا۔ یہ ایک ایسے اجتماعی جدوجہد کا تصور ہے جس میں تمام اکائیوں کا نقطہ ارتکاز کوئی انقلابی سرگرمی نہیں ہے حتیٰ کہ ارتقا کا تصور یہاں آکر ٹھہر جاتا ہے کہ محنت کش کام کم کرے اور تفریح زیادہ جس سے بڑھ کر زندگی کا غیر تعقُّلی تصور کوئی اور نہیں۔ بلاشبہ مارکس کا تصور انسان مفعولی نہیں فاعلی ہے۔ اس کے نزدیک انسان کو مفعولی متصور کیا جانا اس کی انقلابی حرکیات کی تذلیل سے کم نہیں۔ مارکس کے نزدیک جب انسان ماحول پر عمل کرتا ہے تو ماحول اس پر عمل کرتا ہے۔ یہ کہتے ہوئے وہ انسان کو انفرادی حیثیت میں نہیں لیتا بلکہ اس کے اجتماعی وجود کو مدنظر رکھتا ہے۔

تاریخی تناظر یہی ہے کہ ماحول انفرادی جدوجہد کی بجائے اجتماعی جدوجہد سے بدلتا ہے لیکن تاریخی تناظر یہ بھی ہے کہ بدلتے ماحول میں طبقات اور سرمایہ ہمیشہ اپنا متحرک کردار ادا کرتے آئے ہیں اور انسان اور ماحول کا جدلیاتی عمل کبھی بھی یکساں نہیں رہا۔ یہ ٹھیک ہے کہ سرمایہ داریت نے اپنے مکروہ عزائم کے لیے انفرادیت کے تصور کو استعمال کیا ہے لیکن انفرادیت کو ایک دھوکا سمجھنا بھی خود کو دھوکے میں ڈالنے سے کم نہیں۔ انسان جب ماحول پر اجتماعی عمل کرتا ہے تو انھیں آپس میں جوڑنے والی چیز عقیدہ یا سرمایہ ہوتی ہے سرمائے کی نفسیات میں تسلط اور کنٹرول کا عنصر نمایاں ہوتا ہے، مارکس نے اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بربریت کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔

اس لیے اب اس پر مزید بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس زمینی حقیقت کو تسلیم کرکے آگے کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔ یہ ایک غیر عقلی اور غیر عملی تصور ہے کہ انسان سرمائے کے گرد اکٹھے ہوں اور ان کی زندگیوں پر یا ان کے توسط سے دوسروں کی زندگیوں پر اس کے منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔ سرمائے کا عمرانی تصور یہی ہے کہ ایک طبقہ سماج سے بلند و برتر ہو جاتا ہے۔ طبقاتی سماج میں انسانی سرگرمی کا محرک سرمائے کا حصول ہوتا ہے اور سرمایہ ہی کسی طبقے پر اجتماعی صورت میں عمل کرتا ہے۔

اس جدلیاتی عمل سے خود غرضی اور خود پسندی کے رجحانات کا جنم عین فطری ہے۔ دراصل مارکس انسانی سرگرمی کو اس کے مثبت پہلو میں دیکھتا ہے اور اسے مثبت انقلابی سرگرمی جانتا ہے۔ انسانی سرگرمی کو سب سے پہلے اس کی انفرادی حیثیت میں دیکھا جانا ضروری ہے‘ جہاں مثبت کے ساتھ ساتھ منفی پہلو بھی وجود رکھتا ہے جو سرمائے کے حصول کی جدوجہد میں خود کو دوسرے لوگوں سے برتر اور آگے لے جانے کی تحریک سے لبریز ہوتا ہے جو آخر کار مزید سرمائے کے حصول کی للک میں انسانی المیے رونما کرنے کے لیے بھی تیار ہو جاتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔