سقوطِ ڈھاکہ، دستاویزی ثبوت ریکارڈ پر لانا ضروری ہیں!

محمد حسان  بدھ 16 دسمبر 2015
یہ دن ہم پاکستانیوں کے خِرمن پر دو مرتبہ بجلیاں گِرا چکا ہے۔ پہلے 1971 میں سقوط ِ ڈھاکہ اور دوسرا 2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور کے معصوم شہیدوں کی صورت میں۔ فوٹو:فائل

یہ دن ہم پاکستانیوں کے خِرمن پر دو مرتبہ بجلیاں گِرا چکا ہے۔ پہلے 1971 میں سقوط ِ ڈھاکہ اور دوسرا 2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور کے معصوم شہیدوں کی صورت میں۔ فوٹو:فائل

16 دسمبر ایک ایسا دن ہے جو اپنے دامن میں ظلم و ستم، سازش اور درندگی و سفاکی کی ایسی تاریخ لئے ہوئے ہے جس کی نظیر دنیا میں ملنا شاید ممکن نہیں، یہ دن ہم پاکستانیوں کے خِرمن پر دو مرتبہ بجلیاں گِرا چکا ہے۔ پہلی دفعہ 1971 میں سقوط ِ ڈھاکہ کی صورت میں اور دوسری مرتبہ 2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور کے معصوم شہیدوں کی صورت میں۔

سقوط ِ ڈھاکہ کو آج 44 سال گذر گئے لیکن افسوس کہ ابھی تک قوم کے سامنے اصل حقائق نہیں لائے جاسکے یا شاید دانستہ نہیں لائے جا رہے۔ حکومتی سطح پر اس دن کے حوالے سے عموماً خاموشی پائی جاتی ہے البتہ کچھ ’’عناصر‘‘ اس دن بہت متحرک ہوتے ہیں اور سرِعام بڑھ چڑھ کر پاکستان اور افواجِ پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ میں آج آپ کے سامنے کچھ حقائق رکھنا چاہ رہا ہوں جو کہ سیاست سے دانستہ صرفِ نظر کرتے ہوئے دلائل اور دستاویزی ثبوتوں کی روشنی میں پیش آنے والے واقعات پر مبنی ہیں پھر فیصلہ آپ نے کرنا ہوگا۔

 سازش کا آغاز بھارت نے کیا

1968 میں ایک بنگالی آئی ایس آئی افسر نے ایک سازش بے نقاب کی جس میں شیخ مجیب الرحمن بھارت کے سرحدی شہر اگرتلا جو کہ ڈھاکہ سے چند گھنٹوں کے فاصلے پر ہے، میں کچھ بھارتی انٹیلی جنس آفیسرز سے ملتا ہوا پایا گیا۔ مجیب الرحمن کی گرفتاری پر سازش پوری طرح بے نقاب ہوئی کہ بھارت میں سرکاری سرپرستی میں مشرقی پاکستان کو متحدہ پاکستان سے توڑ کر الگ کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی۔

 ذیل میں دی گئی کتاب ’’مشن را‘‘ کے مصنف بھارتی انٹیلی جنس را کے سابق آفیسر آر کے یادَو کے مشرقی پاکستان میں بغاوت کروانے کے فخریہ اعترافات سے چند اقتباسات،

1971ء کی جنگ سے پہلے بھارتی انٹیلی جنس نے مکتی باہنی کو تشکیل دیا۔ اُسے بھارتی سرزمین پر پاکستان کے خلاف لڑنے کی تربیت دی اور اسے اسلحہ اور سرمایہ فراہم کیا تاکہ مشرقی پاکستان میں افراتفری پیدا کی جا سکے۔ را چیف آر این کاؤ نے اپنے ذرائع سے پاکستان سے معلومات اکٹھی کیں اور باقاعدہ بھارتی وزیرِاعظم اندرا گاندھی کوایک الگ میٹنگ میں مشرقی و مغربی پاکستان کی اندرونی سیاسی و عسکری صورتحال پر ایک بریفنگ دی اور اسی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ را چیف ایک بِلو پرنٹ تیار کرے گا۔ جس کے تحت مکتی باہنی کے ذریعے مشرقی پاکستان میں متحدہ پاکستان کے خلاف بغاوت کروائی جائے گی اوراندرا گاندھی نے باقاعدہ ایک منصوبہ ترتیب دیا کہ کس طرح مشرقی پاکستان کو متحدہ پاکستان سے الگ کروایا جائے گا۔

 ذیل میں دی گئی ویڈیو میں موجود دستاویزی ثبوتوں کی روشنی میں بھارت نے اپنے تیار کردہ مکتی باہنی کے دہشتگردوں کے ذریعے بنگالیوں کا قتلِ عام کروایا اور اس کا الزام افواجِ پاکستان پر ڈال دیا۔ بنگالیوں اورانٹرنیشنل میڈیا کے چشم کشا اعترافات،

13 سالہ عبداللہ ولد محمد قاسم مشرقی پاکستان کے ضلع میڈا ریپور سے تعلق رکھتے تھے اور 71ء کی جنگ میں پاک فوج کا نظریۂ پاکستان کے سبب ساتھ دیا۔ اُس موقع پر پاکستان کے حامیوں بالخصوص رضا کاروں کو بمعہ اُن کے اہل خانہ بشمول خواتین کے 20،25 افراد کی قطاروں میں کھڑا کرکے گولیوں سے چھلنی کر کے مار دیا گیا۔

خورشید عالم ولد خلیل الرحمن، مشرقی پاکستان کے ضلع برہمن باریا سے تعلق رکھتے ہیں۔ جنگِ 71 میں نویں جماعت میں تھے۔ کہتے ہیں کہ پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈال دینے کے بعد بنگالیوں کو مکتی باہنی نے قتل نہیں کیا تو اور کس نے کیا؟ میرے سامنے مکتی باہنیوں، بھارتی فوجیوں اور مقامی ہندؤں نے پاکستان پرستوں کو مارا، اور مولانا عبدالقیوم خان کو تشدد کا نشانا بنایا گیا۔ پھر اُن کے زخمی جسم پر مصالحے لگا کر انہیں تڑپایا اور قتل کیا۔ حتیٰ کہ یہی تشدد دیگر بنگالیوں کے ساتھ بھی کیا گیا۔ کلکتہ سے مکتی باہنی کی پشت پناہی کی جاتی تھی۔

Voice of BERT QUINT in CALCUTTA–، اناؤنسر بتارہا ہے کہ پاک افواج کے ہتھیار پھینکنے کے بعد دریا پر سیر کو گئے تو ہم نے دریا میں بہتی لاشیں دیکھیں جنہیں 16 دسمبر کے بعد قتل کیا گیا تھا تاکہ علاقہ خالی کروایا جاسکے۔

ڈاکٹر محمد رضا الکریم مشرقی پاکستان میں پیدا ہوئے۔ جنگِ 71 کے وقت 12 سال کے تھے۔ مکتی باہنی کے مسلح جتھوں نے بھارتی فوجیوں کے ہمراہ پاکستان پرست بنگالیوں کا قتل عام کیا۔

نیوزبلیٹن

سابقہ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے بعد ایک دن بھی ایسا نہیں گذرا جب پاکستان کے حامیوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر تشدد اور قتال کا نشانہ نہ بنایا گیا ہو۔ اسی سلسلہ میں گزشتہ جمعہ ایک ریلی کی ویڈیو دکھائی گئی جس میں پاکستان کے حامیوں کو پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا پھر قتل کردیا گیا۔ 16 دسمبر کو جنگ کے ختم ہونے کے کچھ ہی دیر بعد گوریلا بلوائیوں نے 12 بہاریوں کو بس سے اتار کرموقع پر ہی قتل کردیا۔ 16 دسمبر کے بعد پاکستان کے حامی قیدیوں کو میدانوں میں گٹھنوں کے بل گھسیٹتے ہوئے لایا گیا۔ ان پر آخری دم تک تشدد کیا گیا یہاں تک کہ وہ تشدد کی تاب نہ لا کر مارے گئے۔

ڈھاکہ کے میدان میں پاکستان پرست نوجوانوں کو تشدد سے ماردیا گیا۔ جنگِ 71 کی تاریخ نویسی پر جانبداری کی وجہ بھارت کی مداخلت پر پردہ ڈالنا ہے۔ کلکتہ میں بھارت کی جانب سے بنگالی گوریلا بلوائیوں کو پاکستان کے خلاف لڑنے کے لئے مالی، مسلح اورہدایتی تعاون دیا جاتا رہا۔

شرمیلا بوس، یونیورسٹی آف آکسفورڈ

نے جنگِ 71 پر بھارتی بنگلہ دیشی وضاحتی غلبے میں تحقیق کرنے کے باوجود یہ حقیقت پائی کہ ہمیں جنگِ 71 پر حقیقت کے برخلاف کہانی سنائی جاتی ہے۔ جنگ پر جو کہانی سنائی جاتی ہے وہ زمینی حقیقت سے کافی مختلف ہے۔ جنگ پر جو کچھ بھی لکھا گیا ہے وہ بہت جانبداری اور منفی طور پر رقم کیا گیا ہے۔ میں نے جنگ ِ71 کی تاریخ پر وہی لکھا جو مجھے سچ لگا تھا اور جو میری قوتِ استدلال نے قبول کیا۔

جنرل شنکر، سابق بھارتی آرمی چیف

مجھے مکتی باہنی کی ٹریننگ، نقل و حمل، امداد اور سامانِ حرب کی فراہمی سے متعلق بھارتی فوج کے مکتی باہنی کے ساتھ تعاون پر تحفظات لاحق تھے۔ ہم نے مکتی باہنی کی پشت پناہی کرنے کا نہ تو بھارتی عوام کو بتایا اور نہ ہی کبھی اس کا اعتراف کیا تھا۔ لیکن پاکستان یہ حق بجانب دعویٰ کرتا تھا کہ ہم (بھارت) بنگلہ دیش (مشرقی پاکستان) میں دراندازی کررہے ہیں۔

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا فخریہ اعتراف،

ہم ہی وہ لوگ تھے جنہوں نے مکتیوں کے شانہ بشانہ بھارتی فوجیوں کی صورت میں اپنا خون بنگلہ دیش کے لئے بہایا۔

 بنگالیوں نے پاکستان کے خلاف بغاوت نہیں کی بلکہ وہ اب تک پاکستان کے حامی ہیں

غلام اعظم، عبدالقادر ملّا، قمر الزمان، اظہر الاسلام، عبدالسبحان، مطیع الرحمن نظامی، علی احسن محمد اور صلاح الدین قادر جیسےعظیم لوگ جو بنگالی ہونے کے باوجود بھی پاکستانی تھے، ہیں اور رہیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مکتی باہنی کے دہشتگردوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے اور پاکستان کی حمایت میں ڈٹے رہے اور گرفتار کر لئے گئے۔ بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے ان لوگوں کو بارہا کہا گیا کہ آپ لوگ پاکستان کی حمایت کرنے پر اگر آج بھی معافی مانگ لیں تو آپ کی جان بخش دی جائے گی۔ لیکن عبدالقادر ملّا، قمر الزمان، علی احسن محمد اور صلاح الدین قادر 44 سالوں بعد بھی پاکستان کی حمایت کرنے پر بھارت نواز بنگلہ دیشی حکومت کے آگے نہیں جھکے بلکہ تختۂ دار پر جھول جانے کو فوقیت دی اور اَمر ہوگئے۔

بھارت نے پاکستان کے اندرونی سیاسی خلفشار کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے بین الاقوامی سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل کیں اور اپنی دہشتگرد تنظیم مکتی باہنی کی مدد سے مشرقی پاکستان پر قبضہ کرلیا۔

سقوطِ ڈھاکہ کے بعد شیخ مجیب کو قتل کرنے والے بھی بنگالی تھے جنہیں احساس ہوگیا تھا کہ ان سے کتنی بڑی غلطی ہوگئی ہے۔

پاکستان دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم حسینہ واجد نے پاکستان کے خلاف بنگلہ دیش لیبریشن وار آنر ایوارڈ تشکیل دیا۔ 2 سال پہلے کچھ نام نہاد پاکستانیوں کو اسی ایوارڈ سے نوازا گیا اور اب مودی کو بھی یہ ایوارڈ دیا گیا ہے جو انہوں نے سابق ہندوستانی وزیر اعظم واجپائی کی جگہ وصول کیا۔ ایوارڈ ملتے ہی مودی نے ان تمام باتوں کا سرِعام اعتراف کرلیا جس کا آج تک ہندوستان انکار کرتا چلا آیا تھا۔

پہلا اعتراف

بنگلہ دیش کا قیام ہر ہندوستانی کی خواہش تھی اور اس میں ہندوستانی شہریوں نے بھی کردار ادا کیا ہے۔

دوسرا اعتراف

1971ء میں ہندوستانیوں نے بھی کندھے سے کندھا ملا کر بنگلہ دیش کی آزادی کیلئے جدوجہد کی تھی۔

تیسرا اعتراف

1971 میں جب ہندوستان نے بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک چلائی تو مودی خود بھی ایک رضا کار کی حیثیت سے اس میں شامل ہوئے تھے اور ہندوستانی دہشتگرد تنظیم مکتی باہنی کا ساتھ دیا تھا۔

ان تمام دستاویزی ثبوتوں کی روشنی میں پاکستان کو چاہیئے کہ سب سے پہلے اپنا تعلیمی نصاب درست کرے اور حکومتی سطح پر کھل کر ان تمام حقائق کو عام کرے تا کہ پاکستان اور افواجِ پاکستان کے خلاف ملک کے اندر سے آنے والی چند پھُسپھُسی آوازیں بند ہوں اور ساتھ ساتھ عالمی عدالتِ انصاف اور اقوامِ متحدہ سے ان تمام ثبوتوں کے ساتھ رجوع کرے تاکہ عالمی سطح پر بھی ریکارڈ درست کیا جا سکے اور ساری دنیا کے سامنے پاکستان کے خلاف بھارتی سازش و دہشتگردی بے نقاب ہو سکے۔

 

کیا آپ بھی اِس تحریر کو پڑھنے سے قبل غلط فہمی کا شکار تھے؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500  الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس۔

محمد حسان

محمد حسان

بلاگر گزشتہ 12 سال سے میڈیا اور پبلک ریلیشنز کنسلٹنٹ کے طور پر ملکی اور بین الاقوامی اداروں سے منسلک ہیں۔ انسانی حقوق، سیاسی، معاشی اور معاشرتی موضوعات پر لکھنے کا شغف رکھتے ہیں۔ آپ انہیں ٹوئٹر اور فیس بُک پر BlackZeroPK سے سرچ کر سکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔