ڈونلڈ ٹرمپ کے نفرت انگیز بیانات تاریخ نہیں بدل سکتے

فرحان فانی  اتوار 20 دسمبر 2015
امریکا کو سائنس ، ٹیکنالوجی ، فنون لطیفہ اور کھیلوں میں ملنے والی رفعتوں میں مسلمان باشندوں کی کوششوں کی روداد ۔  فوٹو : فائل

امریکا کو سائنس ، ٹیکنالوجی ، فنون لطیفہ اور کھیلوں میں ملنے والی رفعتوں میں مسلمان باشندوں کی کوششوں کی روداد ۔ فوٹو : فائل

مسلمانوں نے امریکا کے لیے کیا کیا؟ یہ سوال اگر ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کے خواہشمند ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا جائے تو ان کا جواب ہو گا کہ ’’کچھ خاص نہیں بس انہوں نے یہاں کے شہریوں کا قتل اور اقدار کو تباہ کیا ہے‘‘ ڈونلڈ ٹر مپ مسلمانوں کے خلاف اپنے تلخ بیانات کے حوالے سے مشہور ہیں۔

کچھ دن قبل کیلیفورنیا کے علاقے سان برناڈینو میں فائرنگ کے نتیجے میںہونے والی 14ہلاکتوں کے افسوسناک واقعے کو ٹرمپ نے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ بنا کر مسلمانوں کے خلاف تند وتیز بیانات داغے ہیں۔ سستی سیاست کے عادی شخص ڈونلڈ ٹرمپ کو شاید یہ معلوم نہیں کہ امریکا کو آج اس مقام تک پہنچانے میں مسلمانوں کا کیا کردار ہے۔ مناسب ہے کچھ ذکر ان مسلمانوں کا ہو جائے جنہوں نے امریکا کو جدید امریکا بنایا ۔

امریکا کی بنیادوں میں
جب امریکا نے برطانوی نوآبادیاتی نظام کے خلاف جنگ لڑی تو اس وقت جنرل جارج واشنگٹن کی سربراہی میںکام کرنے والے دو شمال افریقی عربی مسلمان بمپٹ محمد اور یوسف بن علی تھے۔ بمپٹ محمد نے ورجینیا لائن کی طرف سے 1775ء سے 1783ء کے دوران برطانوی فوج کے خلاف جنگ لڑی جبکہ یوسف بن علی بھی امریکی فوج کے ایک سرگرم کردار تھے۔

مشہور پیٹر بک منسٹر جس کی گن سے بنکر ہل کی جنگ میں برطانوی میجر جنرل جان پٹکارن کی ہلاکت ہوئی تھی ۔اس کے بارے میں بھی عام خیال یہ ہے کہ وہ مسلمان تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بک منسٹر نے بعد میں اپنے نام کے ساتھ سالم یا سلام کاا ضافہ کر دیا تھا۔ واشنگٹن کے پہلے صدر کے نزدیک ’’کسی بھی مذہب اور نسل سے تعلق رکھنے والا امریکی ملک کا محب وطن ہو سکتا ہے‘‘ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ شاید اس روایت کو بدلنے کیلئے کمر کس چکے ہیں۔ یہ حقیقت بھی شاید کم لوگ جانتے ہیں کہ امریکا کو سب سے پہلے جس ملک نے تسلیم کیا وہ مسلم ملک مراکش تھا۔ اسی طرح 1786ء میں امریکا اور مراکش کے درمیان امن اور دوستی کا معاہدہ طے پایا تھا ۔

جدید امریکا کی بنیادیں
جدید امریکا کا ذکر تاریخ میں نامکمل ہو گا اگر بنگلہ دیشی نژاد امریکی مسلمان انجینئر فضل الرحمنٰ خان کا نام نہ لیا جائے۔ فضل الرحمٰن خان کو ’’آئن سٹائن آف اسٹرکچرل انجینئرنگ‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ وہ شخص ہے جس نے فریم ٹیوبز کا تصور پیش کر کے تعمیرات کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا تھا۔ فریم ٹیوب سسٹم کے ذریعے تیار کردہ تعمیراتی ڈھانچہ کسی بھی سمت غیر معمولی دباؤ اور جھکاؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ فضل الرحمٰن ہی کے تخلیقی ذہن کا نتیجہ تھا کہ امریکا دنیا کے بلند ترین جڑواں ٹاورز بنانے کے قابل ہوا۔ اسی طرح ہینکوک ٹاور اور سیرز ٹاور بھی خان کے آئیڈیے کے مطابق تعمیر ہوئے۔ خان تو 1982 میں اس دنیا سے چلا گیا مگر اس کے ذہن رسا نے دنیا کو مستقبل میں فلک بوس عمارتوں کی تعمیر کے قابل بنایا جس کی ماضی قریب کی مثالیں 2009ء میں بننے والاٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل اور شکاگو میں تعمیر کیا گیا ٹاور ہے۔

خان نے ملواکے میں یو ایس بینک سینٹر مینی پولِس مِن ہربٹ ایج ہمفری میٹروڈوم میں اسٹرکچرل انجینئر کے علاوہ یونائٹید اسٹیٹ ایئر فورس اکیڈمی کے لیے بھی کام کیا ۔ جہاں انہوں نے آفیسرز کو تربیت دی ۔ دوسری جانب امریکی فوج کامسلم دنیا کے خلاف کردار کسی سے ڈھکاچھپا نہیں ہے۔

امریکی خوابوں کا عکاس
شاہد خان نامی پاکستانی نژاد شخص 16برس کی عمر میں تعلیم کی غرض سے امریکا پہنچا۔ اس کے اپنے الفاظ میں’’ میں محض 24گھنٹوں میں امریکا میںاپنی منزل بھانپ چکا تھا‘‘۔ جس سے ان کی مراد اسے برتن دھونے کی ملازمت تھی جس میں انہیں ایک گھنٹے کے بدلے 1.20ڈالرز ملتے تھے۔ انہوں نے یونیورسٹی سے فراغت کے بعد کار کے پرزوں کا کاروبار شروع کر دیا۔ آج یہ 65سالہ شخص 4.9 بلین ڈالرزپر مشتمل کا روبار کی حامل کمپنی فل ہام ایف ۔سی اور فلیکس اینڈ فیٹس کا مالک اور دنیا کا 360 واںامیر ترین شخص ہے۔ تین برس قبل فوربز میگزین نے اس کی تصویر ان الفاظ کے ساتھ اپنے سرورق پر شائع کی’’امریکی خوابوں کا عکاس‘‘۔

وائٹ ہاؤس میں ہیلری کی مددگار
ہما عابدین امریکا کی طاقت ور ترین عورت شمار ہوتی ہے۔ کالامازو میں پیدا ہونے والی یہ 39سالہ پولیٹیکل سٹافر طویل عرصے سے ہیلری کلنٹن کی معاون ہے اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میںاس کی ڈپٹی چیف آف اسٹاف ہے۔ اس کے علاوہ ہما اس وقت کلنٹن کی 2016ء کے انتخابات کے لیے جاری مہم کی وائس چیئر وُومن کے عہدے پربھی کام کر رہی ہے ۔

2012ء میں ری پبلکن پارٹی کے پانچ ممبران نے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے انسپکٹر جنرل کو شکایت کرتے ہوئے لکھا کہ ہما کے خاندان کے انتہا پسندوں سے رابطے ہیں۔ ان الزامات کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے واشنگٹن پوسٹ نے ’’دماغی خلل کا شاخسانہ‘‘ ، ’’بے بنیاد‘‘ اور ’’داغ دار کرنے کی کوشش‘‘ قرار دیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ری پبلکن مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز حملے کرتے رہتے ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ آتش بیانی اسی ایجنڈے کا تسلسل ہے۔

امریکیوں کے مسیحا
ایوب اُمیّہ امریکی تاریخ کے وہ مسلمان مسیحا ہیں جن کی بدولت ہزاروں امریکی ناگہانی موت یا پھر ہولناک بیماریوں سے بچنے کے قابل ہوئے۔1963 ء میں پاکستان میں جنم لینے والے اس مسلمان نیوروسرجن نے ایک انٹرو وینٹی کولر کیتھر سسٹم ایجاد کیا جس کے ذریعے دماغ کے اندر موجود مائع کے اندر براہ راست دوا پہنچائی جا سکتی ہے۔۔ یہ نرم پلاسٹک کی ایک گنبد نما ڈیوائس ہے جسے کھوپڑی کے نیچے رکھا جاتا ہے ۔بعد میںاس ڈیوائس کو ’’اُمیّہ ریزروائیزر‘‘ بھی کہا گیا۔ اُمیّہ نے یو ایس نیشنل سنٹر فار انجری پریوینٹیشن اینڈ کنٹرول کی ترقی میں گراں قدر کام کیا ۔ اس ادارے کا کام ٹرامک برین انجری(درد ناک دماغی چوٹ) کے علاج کے سلسلے میں کام کرنا ہے۔

’’ہِپ ہوپ‘‘ کا شہرہ
80ء اور 90ء کی دہائی کے شائقینِ موسیقی جانتے ہیں کہ ہپ ہاپ اسلامی صوفی رنگ میں رنگی موسیقی کا پہلا تجربہ تھا۔ بریک ڈانسنگ(ریپ میوزک پر کیا جانے والا ڈانس) کے شہرے کے بعد ہپ ہاپ نے موسیقی میں روحانی اور مذہبی عنصر کے امکان کی راہ ہموار کی۔ اس وقت بعض مسلم ریپرز بہت مشہور ہوئے، جن میں یاسین بے(جسے موس ڈیف کے نام سے جانا جاتا تھا) قابل ذکر ہیں۔یہ وہ پہلی آواز تھی جس نے امریکا کی پانچ فی صد اقلیت کے مذہبی اعتقادات کی کسی درجے میں عکاسی کی تھی۔مشہور ریپر رکیم اللہ غالباً وہ پہلا امریکی مسلمان ریپر تھا جوموسیقی میں اپنے مذہبی عقائد کا کھلے بندوں اظہار کرتا تھا۔ امریکی شائقین موسیقی میں رکیم کو آج بھی عظیم ترین ریپر کے طور پر یاد کیا جاتا تھا۔

آئس کون ایجاد ہوتی ہے
ذرا منظر ملاحظہ کیجیے۔ یہ 1904ء کا ایس ۔ٹی لوئس ورلڈ فیئر ہے اور وہاں ایک آئس کریم بیچنے والا موجود ہے۔ اس کے پا س پلیٹیں ختم ہو جاتی ہیں اور ایک ہنگامہ بپا ہونے لگتا ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب میلے میں موجودلوگ آئس کریم کیسے کھائیں گے؟ اس وقت قریبی بوتھ پر ایک اور شخص زلابیہ نامی مٹھائی کی ٹکیہ جیسی شکل کی کوئی چیز بیچ رہا ہوتا ہے۔ یہ مصری نژاد ایرنیسٹ ہموی تھا وہ اپنی ایک ٹکیا کو کون کی شکل میں رول کرتا ہے تاکہ اس میں آئس کریم ڈالی جاسکے ۔ اس طرح دنیا کی پہلی کون آئس کریم وجود میں آ جاتی ہے۔

کھیل کے میدانوں میں
ڈونلد ٹرمپ نے دوہفتے قبل ایک طنزیہ ٹویٹ کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں ’’اوباما نے کہا ہے کہ مسلمان ہمارے اسپورٹس ہیروز ہیں۔ بتایا جائے یہ کس کھیل کی بات ہورہی ہے اور وہ ہیرو کون ہیں؟‘‘ٹرمپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ایک ایسا اسپورٹس مین جو تین مرتبہ عالمی ہیوی ویٹ باکسنگ کاچیمپیئن بن چکا ہے ۔ 1965ء میں اس شخص نے اپنا نام کیسیئس کلے سے بدل کر محمد علی رکھ لیا تھا اور اس کے بعد اپنے انٹرویوز میں اپنے مذہبی عقائدکا برملا اظہار بھی کرتا رہا۔

یہ وہی شخص ہے جس سے 2007ء میں ڈونلڈ ٹرمپ ملے تھے اور اس نے ٹرمپ کو محمد علی ایوارڈ بھی دیا تھا۔ اُسی سال مئی میں ٹرمپ نے فیس بک پر محمد علی کے ساتھ ایک تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا تھا ’’عظیم مسلمان اسپورٹنگ ہیرو‘‘ اور اسے اپنا دوست بھی قرار دیا تھا۔ حیرت کی بات ہے ٹرمپ کی یادداشت اس درجہ کمزور ہے ۔

اسی طرح کھیل کے میدانوں کے نامور لوگ ہیں۔ باسکٹ بال کا آئیکون شکویلے او نیئل اور کریم عبدالجبار ان میں شامل ہیں ۔ کریم عبدالجبار مائیکل جورڈن کے بعد عظیم ترین نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن(این بی اے) اسٹار سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح این بی اے کے حکیم اولاجوون بھی مسلمان ہیں۔ ایک اور نام مائیک ٹائیسن جس نے کم عمر ترین باکسر کی حیثیت سے ڈبلیو بی سی ،ڈبلیو بی اے اور آئی بی اے ہیوی ویٹ کے ٹائیٹلز جیت کر عالمی ریکارڈ قائم کیا ۔ یہ سب لوگ مسلمان ہیں۔

سفارت کے میدان میں
جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ میں نیشنل سیکیورٹی کونسل میں مشرق وسطیٰ کے امور کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فرح پنڈت نامی ایک مسلمان خاتون فائز رہیں اور بعد میں انہیں یورپی مسلمانوں کے امور کے لیے ڈیپارٹمنٹ آف اسٹیٹ میں مشیر مقرر کیا گیا۔ 2009ء میں وہ ہیلری کلنٹن کے ساتھ دنیا کی مسلم برادری کی سفیر مقرر ہوئیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا میں مسلمانوں پر سفارتکاری جیسے اہم معاملات میں بھی اعتماد کیے جانے کی مثالیں موجود ہیں۔

حصول انصاف کی جنگ
امریکا میں عہد غلامی کے اختتام کے بعد بڑی تعداد میں افریقی امریکی باشندوں نے شہروں کا رخ کیالیکن مکانات اور ملازمتوں کے حوالے سے سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے وہ کونے کھدروں میں رہنے پر مجبور رہے۔

انہی حالات میں ان افریقی امریکیوں نے اپنے آباؤ اجداد کے مذہب کی جانب رجوع کا سوچا۔ 50ء اور 60ء کی دہائی میں ان کی بڑی تعداد امریکا میں اسلامی نظریے کے زبردست ترجمان میلکولم لِٹل کی جانب کھنچنے لگی۔ 1925ء میں پیدا ہونے والا یہ شخص بعد میں میکولم ایکس کے نام سے مشہور ہوا۔ اس شخص نے اسلام قبول کرنے کے بعد غلامی کی تمام علامتو ں کو ختم کرنے کا عزم کیا اور اپنے نام میں بھی تبدیلی کی۔ اس نے دیگرامریکی افریقیوں کو بھی اس جانب راغب کیا کہ وہ اپنے نام اور شناخت کے ساتھ غلامی کے سارے حوالے ہٹا دیں ۔یہ انصاف کے حصول کیلئے جنگ کا استعارہ ثابت ہوا۔

سائنس کے میدان میں
احمد زیویل 1999ء میں کیمسٹری کا نوبل انعام جیتنے والے پہلے مصری نژاد سائنسدان تھے۔ انہیں ریپڈ مالیکیولر ٹرانفارمیشن میں اساسی نوعیت کا کام کرنے کی وجہ سے ’’فادر آف فیمٹو کیمسٹری‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

69 سالہ زیویل نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ امریکا میں گزارا ہے اور وہ آج کل کالٹک میں کیمسٹری اور فزکس کے پروفیسراور فزیکل بائیولوجی سنٹر کے ڈائریکٹر ہیں۔ اس کے علاوہ صدر اوباما کی صدارتی کونسل برائے سائنس اور ٹیکنالوجی کے مشاورتی گروپ میں بھی شامل ہیں۔ ان کی سائنس اور انسانیت کی خدمات کو سراہنے کے لیے ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیے گئے۔

مسکراہٹیں بکھیرنے والے
کیا مسلمان بھی مزاح کی حس رکھتے ہیں؟ ایک امریکی باشندے رپرٹ مرڈوچ نے جب رواں سال جنوری میں ٹویٹ کی کہ ’’ ممکن ہے اکثر مسلمان امن پسند ہو ں مگر جب تک وہ اپنے جہادی کینسر کو ڈھونڈ کر تباہ نہیں کر دیتے تو انہیں بے قصور نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔‘‘ اس کے جواب میں ایک امریکی مسلمان عزیز انصاری نے ٹویٹ کی اور لکھا ’’رپٹ! کیاآپ میری رہنمائی کریں گے کہ میرے 60 سالہ والدین دہشت گرد گروپوں کو کیسے تباہ کریں؟۔

جی یہ وہی انصاری ہیں جسے امریکا کے پارکو ں اور تفریحی مقامات میں لوگ ٹام ہیور فورڈ کے نام سے جانتے ہیں،جو ایک مزاحیہ کردار کے علاوہ صنفی ثقافت پر ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں۔ اسی طرح دیوچپلے بھی ایک مثال ہے ،جس کی جانب لوگ اس وقت متوجہ ہوئے جب وہ 1993ء میں میل بروکس کی فلم رابن ہوڈ میں ’’آچھو‘‘ کے نام سے متعارف ہوا۔ چست لباس میں نظر آنے والایہ شخص اس وقت امریکا کے نمایاں ترین کامیڈینز میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے 2005ء میں ٹائمز میگزین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’مجھے یقین ہے یہ(اسلام) خوبصورت ہے اگر اسے درست طریقے سے سیکھا جائے‘‘۔

یہ مثالیں اس بات کی دلیل ہیں کہ آپ کی کسی بھی مذہب سے وابستگی آپ کو اپنے ملک کی خدمات سے نہیں روک سکتی۔انتہاء پسندی انسان دشمن رویہ ہے۔ اس کا کسی بھی مذہب ،نسل یا علاقے سے کوئی تعلق نہیں۔ متوازن اور معتدل لوگ اس کی بلاتفریق مذمت کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کو کسی ایک مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ جوڑ دینا نامناسب رویہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک عرصے سے جاری مذہبی منافرت پر مبنی بیانات کو بالکل اسی طرح انتہا پسندی کا مظاہرہ کہا جائے گا جیسے دیگر مذاہب کے اعتدال سے ہٹے ہوئے لوگوں کے اقدامات کو کہا جاتا ہے۔

69سالہ ڈونلڈٹرمپ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے وابستہ امریکی ارب پتی تاجرہیں ۔وہ این بی سی کے ایک ریالٹی شو کے بارہ برس تک اینکر بھی رہ چکے ہیں۔ امریکی سیاست میں وہ پہلے ڈیموکریٹس اور ریفارمز پارٹی کے فورم سے متحرک رہے۔آج کل ریپبلکن پارٹی کے فورم سے آئندہ انتخابات میں صدارتی امیداوار کی نامزدگی کی دوڑ میں شامل ہیں۔ ٹرمپ مذہبی تعصب کی بنیاد پر سیاست کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔ انہوں نے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا کہ وہ اقتدار میں آکر امریکا سے مسلمانوں کی تمام مساجد ختم کر دیں گے۔

جس پر مسلمانوں نے شدید غصے کا اظہار کیا تھا۔ کچھ دن قبل کیلی فورنیا کے علاقے سان برناڈینومیں فائرنگ کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کے بعد ٹرمپ نے ایک بار پھر زہر اگلنا شروع کر دیاہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’وہ مسلمان سیاحوں،طالب علموں اور نقل مکانی کرنے والوں کا امریکا میں داخلہ بند کر دیں گے۔‘‘ٹرمپ کے بیانات کو عالمی میڈیا نے ’’نفرت انگیز‘‘ قرار دیتے ہوئے ان پر شدید تنقید کی ہے۔برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو غلط قرار دیا ہے اور امریکا کی سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اپنے پیغام میں کہا ’’یہ آپ کا بھی ملک ہے اور مجھے آپ کی ہم وطن ہونے پر فخر ہے‘‘۔

امریکا کے سابق نائب صدر ڈک چینی نے ٹرمپ کے بیان کو ’’امریکی عمومی رویے سے ہٹا ہوا‘‘ قرار دیا ہے۔ صدارتی نامزدگی کے ایک اورریپبلکن امیدوار جیب بش نے ڈونلڈ کو ’’ذہنی مریض‘‘ قرار دیا ہے۔ برطانیہ میں ٹرمپ کے داخلے پر پابندی کے لیے ایک دستخطی مہم چلائی گئی جس پر ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے دستخط کیے ہیں۔ برطانوی قوانین کی رو سے اگر ایک لاکھ سے زائد لوگ کسی درخواست پر دستخط کر دیں تو پارلیمنٹ کو اس پر غور کرنا پڑتا ہے۔انہی اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے رابرٹ گورڈن یونیورسٹی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو جاری کی گئی اعزازی ڈگری بھی منسوخ کر دی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی ایک بڑی ریٹیل چین’لائف اسٹائل‘‘ نے ٹرمپ ہوم کی تمام مصنوعات کو اپنے اسٹورز سے ہٹا دیا ہے۔سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے بھی پرتشدد ردعمل سے خوفزدہ مسلمانوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ڈونلڈ ٹر مپ کے مذہبی انتہا پسندی پر مبنی بیانات کی جس طرح امریکا اور یورپ کے عوام نے مخالفت کی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دنیا میں عقائد اور نظریات کے مختلف ہونے کے باوجود انسانوں کے مل جل کر رہنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔عام لوگ انتہا پسندی کی کسی بھی شکل کے حق میں نہیں ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔