امریکا میں نوجوان نے کرسمس کے موقع پر اپنی بیمار منگیتر کو گردہ عطیہ کردیا

ویب ڈیسک  بدھ 23 دسمبر 2015
نوجوان کی منگیتر گردوں کے مرض میں مبتلا تھی جسے اس کے منگیتر نے گردہ عطیہ کیا، فوٹو: فائل

نوجوان کی منگیتر گردوں کے مرض میں مبتلا تھی جسے اس کے منگیتر نے گردہ عطیہ کیا، فوٹو: فائل

نیویارک: لیلیٰ مجنوں سے لے کر سسی پنوں تک محبت کی داستانوں میں جان و مال کی قربانی ہمیشہ سے غالب رہی ہے اور محبت کرنے والوں نے صرف ایک دوسرے کو دل ہی نہیں دیا بلکہ کسی نے اپنی پرآسائش زندگی چھوڑی اور کسی نے اپنا گھر بار لیکن امریکا میں ایک شخص نے محبت میں قربانی کی ایک نئی مثال قائم کی اور اپنی منگیتر کی زندگی بچانے کے لیے اپنا گردہ بھی اس کے نام کردیا۔

نیویارک علاقے کوئنز کے رہائشی بیرن گارزون نے اپنی 27 سالہ منگیتر رکیول گومز کی زندگی بچانے کے لیے اپنا گردہ دے کر محبت کو امر کردیا۔  رکیول گومز اپنی پیدائش سے ہی الپورٹ سینڈروم نامی بیماری کا شکار تھی جس سے گردے متاثر ہونے لگتے ہیں اور گومز کے گردے بھی اس بیماری کی وجہ سے شدید متاثر ہوئے اور اور دو سال قبل گردوں نے مکمل کام کرنا کرنا چھوڑ دیا جس کے بعد ڈاکٹروں نے گومز کا ڈائلاسز شروع کردیا جس سے وہ روزانہ 10 گھنٹے تک مشین سے منسلک رہتی ہے اور اس کی سماجی زندگی ختم ہوچکی ہے۔

گردوں کی اس سنگین بیماری کے باعث گومز کی زندگی غیر یقینی کا شکار ہوگئی لیکن اس کے باوجود اس کے منگیتر نے گومز کا ساتھ نہ چھوڑا اور اپنا گردہ اسے دینے کا فیصلہ کیا لیکن گردے عطیہ کرنے کا امریکی طریقہ کار اتنا پیچدہ تھا کہ اس کے لیے انہیں 5 سال کا انتظار کرنا پڑا تاہم  یہ انتظار اس کرسمس پر ختم ہوگیا ہے اور اسے گردہ عطیہ کرنے کی منظوری دے دی گئی جس کے بعد لڑکی کا گردہ کرسمس کی رات تبدیل کیا جائے جب کہ اس کے منگیتر نے اسے لڑکی کے لیے کرسمس کا تحفہ قرار دیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔