مچھروں کی حکومت

میرشاہد حسین  بدھ 23 دسمبر 2015
پہلے کے مچھروں میں اور موجودہ مچھروں کی جنریشن میں یہ فرق ہے کہ پہلے کے مچھر صرف رات میں کاٹتے تھے لیکن ینگ جنریشن دن دیکھتی ہے نہ رات۔ فوٹو: اے ایف پی

پہلے کے مچھروں میں اور موجودہ مچھروں کی جنریشن میں یہ فرق ہے کہ پہلے کے مچھر صرف رات میں کاٹتے تھے لیکن ینگ جنریشن دن دیکھتی ہے نہ رات۔ فوٹو: اے ایف پی

باوثوق ذرائع سے خبر ملی ہے کہ مچھروں کی تعداد میں بے حساب اضافہ ہوگیا ہے اور اب شہر میں مچھروں نے بھاری اکثریت حاصل کرلی ہے۔ ان کے ناپاک ارادوں سے ہر خاص و عام واقف ہے لیکن پھر بھی کسی کو جرات نہیں ہورہی کہ ان کے خلاف آپریشن کلین اپ کرکے ان کا قلع قمع کرسکے۔ شہر میں موجود گندگی کے ڈھیر، گٹروں سے ابلتے چشمے ان کی بہترین پناہ گاہیں ثابت ہورہے ہیں جہاں یہ اپنی افزائش کرکے روز بروز اپنی قوت میں اضافہ کررہے ہیں۔ اگر ان کی بڑھتی ہوئی تعداد کو آج روکنے کی تدبیر نہیں کی گئی تو وہ دن دور نہیں جب شہر میں مچھروں کا ہی راج ہوگا اور انسان ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں گے۔

مچھروں سے آئے روز مذاکرات کئے جاتے ہیں لیکن بات شوں شوں سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ چینی زبان بولتے ہیں اس لئے ان سے مذاکرات کیلئے چینیوں کی خدمات حاصل کی جائیں۔ لیکن کچھ بزرگوں کا خیال ہے کہ مچھروں پر برطانیہ میں اچھی تحقیق ہورہی ہے۔ اس لئے ان سے مدد حاصل کی جائے۔ لیکن باجود کوششوں کے بات آگے نہیں بڑھ سکی۔ اب سمجھ میں نہیں آتا کہ مچھر ہماری بات نہیں سنتے یا ہم مچھروں کی نہیں سنتے۔

پہلے کے مچھروں میں اور موجودہ مچھروں کی جنریشن میں یہ فرق ہے کہ پہلے کے مچھر صرف رات میں کاٹتے تھے لیکن ینگ جنریشن دن دیکھتی ہے نہ رات۔ انسانوں کو دیکھ کر انہوں نے بھی 24 گھنٹے سروس شروع کر رکھی ہے۔ کاش یہ مچھر انسانوں کو دیکھ کر ہڑتال بھی شروع کردیتے تو دن اور رات کس قدر اچھی گزرتی کہ آج ناغہ ہے۔ مچھروں کے کاٹنے پر شاید کسی کو بھی کوئی اعتراض نہ ہو اگر یہ مچھر کاٹنے کا کام علی الاعلان نہ کریں اور ہمارے کانوں میں بیں بیں نہ کریں۔ اب انہیں کیا پتہ کہ بھینس کے آگے بین بجائیں تو شاید وہ سن بھی لے لیکن انسانوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

مچھروں کی آئے روز نئی نئی قسمیں دریافت ہورہی ہیں۔ کوئی بھینگی ہے تو کوئی ڈینگی ہے۔ کوئی صاف پانی کا ہے تو کوئی گندے پانی کا۔ اگر ان کی قسمیں اسی طرح روز روز دریافت ہوتی رہیں تو وہ دن دور نہیں جب ہم ہر مچھر کا الگ الگ نام رکھ دیں گے۔ مثلاً ڈینگی مچھر، کن کٹا مچھر، پر کٹا مچھر، دیسی مچھر، ولایتی مچھر، کالا مچھر وغیرہ وغیرہ۔ ان کو کوئی بھی نام دے دیں بہرحال ان کی ذات پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جن کی فطرت میں کاٹنا ہو وہ تو کاٹے بنا نہیں رہتے۔ مچھروں کی یہی بات ہمیں اچھی لگتی ہے کہ یہ اپنا کام بڑی ایمانداری سے بلا تفریق کرتے ہیں۔

مچھروں پر جس قدر تحقیق ہو رہی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والا مستقبل مچھروں کا ہی ہوگا۔ اسی لئے ان کے نام پر کراچی میں ایک کالونی کا نام ’’مچھر کالونی‘‘ رکھ گیا۔ کراچی کی کالونی ملیر کو بھی مچھر نے خوب عزت بخشی ہے۔ اب پتہ نہیں ملیر میں رہنے والے مچھر نے ملیریا پیدا کیا تھا کہ ملیریا نے ملیر کو جنم دیا ہے۔ یہ تو تحقیق طلب بات ہے جس پر انسانوں نے تو شاید تحقیق نہیں کی لیکن مجھے یقین ہے مچھروں میں اس پر تحقیق ضرور ہو رہی ہوگی۔

ہمیں یہ بات سمجھ میں آئے یا نہ آئے لیکن امریکی سائنسدانوں نے یہ بات سمجھ لی ہے کہ مستقبل مچھروں کا ہے اسی لئے انہوں نے مچھروں جیسے ڈرونز بنانا شروع کردیئے ہیں۔ امریکی سنڈی اور کتوں کے بعد اب امریکی مچھر بھی مارکیٹ میں آنے والے ہیں۔ اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی انسانوں پر کم ہی بھروسہ کرتے ہیں اسی لئے وہ سنڈی، کتے اور مچھروں کو استعمال کرتے ہیں کیونکہ انسان دھوکہ دے جاتے ہیں وہ کہتے تو یہ ہیں کہ وہ ڈرتے ورتے کسی سے نہیں لیکن ایک معمولی مچھر سے بھی ڈر کر مچھر دانیوں میں پناہ لے لیتے ہیں۔

آج کل ڈینگی مچھر کے بڑے چرچے ہیں اور اس نے بڑی دہشت پھیلا رکھی ہے۔ یقیناً اس کا تعلق گوجرانوالہ کے ڈینگا سے ہوگا یا اس کی ڈینگوں نے اس کو مشہور کیا ہوگا۔ پتہ نہیں یہ مچھر ہمارے خون کے اتنے پیاسے کیوں ہوگئے ہیں جبکہ ہم ان نے ان کے آرام و سکون میں کبھی کوئی خلل نہیں ڈالا۔ بلکہ ہمیشہ ان کے لئے اچھا ماحول رکھا ہے۔ لیکن لگتا ہے انہوں نے سیاستدانوں کا خون چوس لیا ہے تبھی اب ان کا کسی طرح پیٹ نہیں بھرتا۔ اب انہیں کیا پتہ کہ سیاستدان اور مچھر میں بہت فرق ہوتا ہے۔ سیاستدان کا خون چوس کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اب اس کی رگوں میں بھی سیاستدان کا خون دوڑ رہا ہے یا یوں کہہ لیں کہ سیاستدان کا خون پی کر کوئی سیاستدان نہیں بن سکتا۔

آج کل مچھروں کا یہ نعرے بڑے مقبول عام ہو رہا ہے اور ہر مچھر کی زبان زد عام پر سنا جا سکتا ہے۔

تم کتنے مچھر مارو گے ۔۔۔ ہر گھر سے مچھر نکلے گا!!
کل بھی مچھر زندہ تھا ۔۔۔ آج بھی مچھر زندہ ہے!!
مچھر تیرے جانثار ۔۔۔ بے شمار بے شمار!!
انسانوں کا جو یار ہے ۔۔۔ غدار ہے غدار ہے!!
گو انسان گو، یا پھر رو انسان رو!!

اسی تناظر میں میری آپ سے بھی یہ درخواست ہے کہ مچھروں سے دشمنی کرنا چھوڑ دیں۔ مچھروں کے مینڈیٹ کو دل سے تسلیم کرلیں کیونکہ آئندہ حکومت مچھروں کی ہی ہوگی۔ جس میں انصاف سب کے ساتھ ہوگا۔ کوئی بڑا چھوٹا نہیں ہوگا۔ کسی مچھر کے آنے پر سائرن نہیں بجایا جائے گا۔ سستا خون سب کو دستیاب ہوگا۔ جب چاہیں ایزی مچھر سرنج کے ذریعے ڈرپ لگوائیں بغیر کسی اضافی چارجز کے اور اس کے لئے کسی بھی مچھر فرنچائز پر بھی جانے کی ضرورت نہیں۔

کسی کو مچھروں کے بارے میں خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ جب مچھروں نے نمرود جیسوں کو نہیں چھوڑا اور اس کے ناک میں دم کرکے جان لے لی تھی تو وہ آج بھی یہ کام با آسانی کرسکتے ہیں۔ اس لئے میں تو کہتا ہوں مچھروں کو مارنے کے بجائے مچھروں سے دوستی کرلیں اور ان کے ساتھ امن و آشتی سے رہنا سیکھ لیں ورنہ پھر نہ کہنا کہ خبر نہ ہوئی۔

کیا آپ بھی مچھروں کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے حوالے سے بلاگر کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500  الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس۔

میرشاہد حسین

میرشاہد حسین

میر شاہد حسین نے اپنے قلمی سفر کا آغاز بچوں کے معروف رسالہ سے 1995ء میں کیا۔ بعد ازاں آپ اسی رسالے کے مدیر بھی رہے۔ آپ کو بچوں کے ادب میں بہترین ادیب کا ایوارڈ نیشنل بک فاؤنڈیشن کی طرف سے دیا گیا۔ آج کل بچوں کے بڑوں پر بھی اپنے قلم کے جوہر دکھانے کی کوشش کررہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔