پاک بھارت فلیگ میٹنگ، سیزفائر برقرار

ایڈیٹوریل  جمعرات 24 دسمبر 2015
پاکستان نے ہمیشہ بھارت کو امن مذاکرات کی دعوت دی اور تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، فوٹو : فائل

پاکستان نے ہمیشہ بھارت کو امن مذاکرات کی دعوت دی اور تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، فوٹو : فائل

پاکستان اور بھارت کے فوجی حکام نے کنٹرول لائن پر سیزفائر برقرار اور مواصلاتی رابطے بحال رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ فیصلہ منگل کو پونچھ سیکٹر میں دونوں ملکوں کے اعلیٰ فوجی افسران کی فلیگ میٹنگ میں کیا گیا جس میں بٹالین کمانڈر کی سطح پر افسران شریک ہوئے۔

پاک بھارت تعلقات ہر دور میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں لیکن بھارت کی جانب سے سرحدی علاقوں میں ہمیشہ چھیڑچھاڑ کی گئی اور بلااشتعال فائرنگ کے واقعات ہونے کے بعد دونوں ملکوں کے مابین نہ صرف تعلقات خراب ہوئے بلکہ مذاکرات بھی ڈیڈ لاک کا شکار ہوگئے۔

دونوں جانب سے فہمیدہ حلقے ان واقعات کی مذمت اور بہتر تعلقات کے خواہاں رہے، خاص کر پاکستان کی جانب سے ہمیشہ ان واقعات کی مذمت کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی جاتی رہی۔ گزشتہ ماہ تک جو بھارتی رویے میں سرد مہری محسوس کی جا رہی تھی اب اس سے برف پگھلتی محسوس ہو رہی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دفاعی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل منیش مہتا نے صحافیوں کو بتایا کہ ستمبر میں بریگیڈیئرز کی سطح پر ہونے والے اجلاس میں طے کیے گئے اعتمادسازی کے اقدامات میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔

فلیگ میٹنگ انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ دونوں ملکوں کے نمایندوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں، غلطی سے کنٹرول لائن پار کرجانے والے شہریوں کی واپسی، فضائی حدود کی خلاف ورزیوں اور لائن آف کنٹرول پر تعمیراتی سرگرمیوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہنے والی ملاقات میں کنٹرول لائن پر امن اور مفاہمت برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا۔ فریقین نے فیصلہ کیا کہ کنٹرول لائن پر تحمل کا مظاہرہ کیا جائے گا اور مفاہمت کے فروغ کے لیے مواصلاتی رابطے برقرار رکھے جائیں گے۔

بلاشبہ اس ملاقات کو مثبت قرار دیا جاسکتا ہے، پاک و بھارت کے باہمی بہتر تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی ناگزیر ہیں، جس طرح فلیگ میٹنگ ایک اچھے ماحول میں ہوئی ہے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے مذاکرات کا دوبارہ انعقاد ہونا بھی ازحد ضروری ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ بھارت کو امن مذاکرات کی دعوت دی اور تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ پڑوسی ملک کو بھی اپنی روایتی ہٹ دھرمی سے ہٹتے ہوئے مذاکرات کا پھر سے آغاز کرنا چاہیے، عالمی طاقتیں بھی پاک بھارت بہتر تعلقات کی خواہاں ہیں۔ دونوں ممالک کی مقتدر شخصیات عوامی امنگوں کے مطابق فیصلہ سازی کی جانب پیش رفت کریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔