نیا اسلامی اتحاد: پاکستان ہوشیار باش!

عثمان دموہی  جمعرات 24 دسمبر 2015
usmandamohi@yahoo.com

[email protected]

چونتیس اسلامی ممالک کے اتحاد کی تشکیل ایک بڑی خبر ہے۔ یہ خبر بھی بہت ہمت افزا ہے کہ یہ اتحاد اسلامی ممالک میں پھیلی ہوئی دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

اس اتحاد کو جنم دینے کا خیال یقیناً داعش کی دہشت گردی نے پروان چڑھایا ہو گا۔ بدقسمتی سے داعش نے اسلام کے نام پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو کھلم کھلا دہشت گردی پھیلا رکھی ہے اس کا لازمی تدارک ہونا چاہیے۔

اس کی دہشت گردی کی لپیٹ میں خاص طور پر عراق اور شام ہیں جہاں ان درندوں نے ہزاروں معصوم شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ صدیوں سے آباد بستیوں کو کھنڈر بنا دیا ہے، قدیم تاریخی عمارات اور یادگاروں کو تباہ کر دیا ہے۔ پھر غضب یہ کہ مسلمانوں کے مقدس مزارات کو بھی تہہ و بالا کر ڈالا ہے۔

سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیسے مسلمان ہیں کہ کلمے والے جھنڈے کو ہاتھ میں لے کر قتل و غارت گری اور لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ مگر قابل غور بات یہ ہے کہ انھوں نے پیرس حملے کے سوا اب تک مغربی ممالک کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا ہے۔ حالانکہ جہاں انھوں نے اپنا ہیڈ کوارٹر بنا رکھا ہے وہاں سے اسرائیل کے خلاف کارروائی کرنا کوئی مشکل نہیں ہے، مگر انھوں نے خاص طور پر صرف اسلامی ملکوں کو اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنا رکھا ہے۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ داعش میں مغربی ممالک کے جنگجوؤں کی خاصی تعداد موجود ہے، پھر مغربی ممالک قابل قدر فوجی طاقت رکھنے کے باوجود انھیں پسپا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس سے شک گزرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں افراتفری پھیلانے اور مسلمانوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں تباہ کرنے کا یہ خونی کھیل کہیں مغربی اشارے پر تو نہیں ہو رہا ہے؟

دہشت گردی کے خلاف اس نئے اتحاد کے قیام کا مقصد بتاتے ہوئے سعودی وزیر دفاع محمد بن سلمان نے واضح کیا ہے کہ ایسے صرف داعش کے خلاف ہی نہیں بلکہ کسی بھی اسلامی ملک کو نشانہ بنانے والے دہشت گردوں سے نمٹنے اور ان کا قلع قمع کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس اتحاد کو القاعدہ سے بھی نمٹنا ہو گا اور طالبان، حوثی باغیوں کے ساتھ ساتھ بوکوحرام والوں سے بھی نبرد آزما ہونا پڑے گا۔

جہاں تک القاعدہ کا تعلق ہے اس نے سعودی عرب، افغانستان اور پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ اسامہ بن لادن کے مارے جانے تک اس تنظیم کی دہشت گردانہ کارروائیاں عروج پر تھیں مگر اب یہ سست پڑ گئی ہیں۔ اب بوکوحرام اور داعش نے اس کی جگہ لے لی ہے۔

داعش نے اب مشرق وسطیٰ سے نکل کر افغانستان تک اپنی کارروائیوں کا دائرہ دراز کر دیا ہے مگر ہمت افزا خبر یہ ہے کہ داعش کے افغانستان میں قدم جمانے کے خلاف طالبان اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ افغانستان کے کئی شہروں میں طالبان اور داعش کے جنگجوؤں میں گھمسان کی لڑائیاں ہوئی ہیں۔

اس جنگ و جدال کے ذریعے دراصل طالبان اور داعش اپنی اپنی طاقت کا مظاہرہ کر کے اپنی حاکمیت کو افغانستان میں مسلط کرنا چاہتے ہیں تاہم ابھی تک اس جنگ میں طالبان ہی غالب رہے ہیں کیونکہ ان کی افغانستان میں جڑیں مضبوطی سے قائم ہیں جب کہ داعش ابھی وہاں نئی نئی آئی ہے تاہم وہ طالبان سے زیادہ اجرت پیش کر کے وہاں کے نوجوانوں کو اپنی جانب مائل کر رہی ہے۔ حال ہی میں اسلام آباد میں منعقدہ ’’ہارٹ آف ایشیا کانفرنس‘‘ میں افغان صدر اشرف غنی نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ افغانستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں ہے۔

ان کا یہ کہنا سراسر غلط بیانی پر مبنی تھا۔ وہ دراصل حقائق کو چھپا کر اپنی نااہلی کو چھپانا اور پاکستان کو اندھیرے میں رکھنا چاہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ داعش افغانستان کو اپنا مسکن بنا چکی ہے اور وہاں روز بروز اپنی طاقت اور نفری بڑھا رہی ہے۔ افغانستان میں داعش کے پھلنے پھولنے کی سب سے بڑی وجہ ملا عمر کے انتقال کے بعد طالبان کے نئے سربراہ ملا اختر منصور پر طالبان کے کئی دھڑوں کی جانب سے عدم اعتماد کا اظہار اور باہمی لڑائیاں ہیں۔ چنانچہ طالبان کے انتشار سے نہ صرف عام افغان بلکہ خود طالبان داعش کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔

ابھی تک تو افغانستان میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے طالبان درد سر بنے ہوئے تھے مگر اب انھیں وہاں داعش سے بھی نمٹنا ہو گا اور یہ کام اب ان کے بس کا نہیں لگتا کیونکہ وہ مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی داعش کو شکست دینے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ چنانچہ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ چونتیس ملکی اسلامی اتحاد کے قیام کے پیچھے ہو سکتا ہے امریکا اور یورپی ممالک ہوں کیونکہ ایک زمانے سے وہ شکایت کرتے چلے آ رہے ہیں کہ مسلمان ممالک عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عملی حصہ نہیں لے رہے ہیں۔

وہ دہشت گردی کے خاتمے کے سلسلے میں صرف ان پر ہی انحصار کر بیٹھے ہیں نئے اتحاد کے اچانک نمودار ہونے سے اور اس کا محرک سعود عرب کے ہونے سے یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ سعودی حکومت نے اب امریکا اور یورپی ممالک کی دیرینہ فرمائش کو پورا کرنے کے لیے اپنے ساتھ تمام اسلامی ممالک کو ملا لیا ہے۔ تاہم یہ بات عجیب ہے کہ اس میں صرف سنی ممالک کو شامل کیا گیا ہے اور شیعہ ممالک کو اس سے دور رکھا گیا ہے۔

اس تفریق کی وجہ سے یقیناً منفی اثرات پیدا ہوں گے اور اسلامی ممالک سے دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکے گا۔ یہ بات بھی نہایت قابل غور ہے کہ نئے اتحاد کے قیام پر سب سے زیادہ خوشی کا اظہار امریکا نے کیا ہے۔ دراصل مغرب برسوں سے مسلمانوں کو شیعہ سنی دو بلاکوں میں بانٹنے کی کوشش کرتا رہا ہے مگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا تاہم اب نیا اتحاد مغربی ممالک کی خواہش کا واضح آئینہ دار ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کو ہمیشہ دشمنوں نے تقسیم کر کے ہی اپنے مذموم عزائم حاصل کیے ہیں۔ ایران سعودی عرب کی باہمی چپقلش کے پیچھے بھی یہی مغربی ممالک معلوم ہوتے ہیں۔ گو کہ سعودی عرب عالم اسلام کا ایک بزرگ اور رہنما ملک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے مگر افسوس کہ حقیت میں وہ خود کو اس معیار کا ثابت نہیں کر سکا ہے۔ شام کے مسئلے میں سعودی عرب اور خلیجی ممالک نے مغرب کا ساتھ دے کر نہ صرف اسرائیل کو تقویت پہنچائی ہے بلکہ مشرق وسطیٰ کے ایک فلسطینیوں کے حقوق کے لیے لڑنے والے مسلم ملک کو تباہی و بربادی کے دہانے پر پہنچا کر دراصل خود اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی ماری ہے۔

دشمنوں نے دراصل شام عراق اور لیبیا کو ان کے اسرائیل کش رویے کی وجہ سے ہی تباہ و برباد کرا دیا ہے مگر وہ رفتہ رفتہ تمام ہی عرب ممالک کے ساتھ ایسا کرنے کا ایجنڈا رکھتے ہیں۔ افسوس کہ سعودی حکمراں کب حقیقت کا ادراک کریں گے۔ جہاں تک اس نئے اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کا معاملہ ہے کہ یہ درست اقدام ہے یا نہیں اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا۔

تاہم پاکستان کے عالم اسلام کے ایک ممتاز ملک ہونے کے ناطے یہ فیصلہ کرنا ناگزیر تھا۔ تاہم افسوس اس امر پر ہے کہ پاکستان ایک عرصے سے طالبان القاعدہ اور بھارت کی دہشت گردی سے نبرد آزما ہے مگر کسی بھی اسلامی ملک نے پاکستان کی کوئی مدد نہیں کی۔ پاکستان خود تن تنہا اس دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے۔ اب اگر چونتیس ممالک کا اتحاد دہشت گردی کے گڑھ افغانستان میں کارروائی کرتا ہے تو وہاں کے دہشت گرد پاکستان کا رخ کریں گے جس سے پاکستان میں اس وقت ضرب عضب آپریشن کی وجہ سے جو تھوڑا بہت امن قائم ہو گیا ہے وہ تہہ و بالا ہو سکتا ہے۔

امریکا چونکہ افغانستان میں طالبان اور ادھر مشرق وسطیٰ میں داعش کو شکست دینے میں ناکام ہو چکا ہے اور اب اسے افغانستان میں داعش کے مستحکم ہونے کی خبریں بھی مل چکی ہیں چنانچہ لگتا ہے کہ وہ اس نئے اتحاد کو افغانستان میں جھونک کر خود تماشا دیکھنا چاہتا ہے۔ ہو سکتا ہے اس کارروائی میں پاکستان کو پھر اہم رول دے دیا جائے اور پھر شدت سے ڈو مور کا مطالبہ کیا جائے، چنانچہ نئے اتحاد میں شمولیت کے بعد اب خود کو پھر نئی مصیبت میں پھنسنے سے بچانے کے لیے غور و فکر کے ساتھ قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔