برطانوی سائنسدانوں نے دنیا کا مہنگا ترین مادہ ’’ایڈوہیڈرل فلرنس‘‘ تیار کرلیا

ویب ڈیسک  جمعرات 24 دسمبر 2015
مادے کی ایک گرام  قیمت 15 کروڑ ڈالر ہے جب کہ اس کوایٹمی گھڑیاں بنانے میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، ماہرین،
فوٹو: وکی میڈیا کامنز

مادے کی ایک گرام  قیمت 15 کروڑ ڈالر ہے جب کہ اس کوایٹمی گھڑیاں بنانے میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، ماہرین، فوٹو: وکی میڈیا کامنز

لندن: برطانوی سائنسدانوں نے دنیا کا مہنگا ترین مٹیریل (مادہ) تیار کرلیا ہے جس کے سامنے سونے، چاندی، ہیرے اور پلاٹینم کی بھی قدرے انتہائی کم ہے جب کہ اس میٹریل کی ایک گرام قیمت 15 کروڑ ڈالر ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے تیار کیے گئے اس مادے کا نام ’’ایڈوہیڈرل فلرنس‘‘  ہے جو کاربن ایٹموں کا ایک پنجرہ سا ہے جس کے اندر نائٹروجن کے ایٹم بند ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس میں کاربن کے 60 ایٹم ہیں جو آپس میں جڑ کر ایک گیند کی سی شکل بناتے ہیں جسے ’’بکی بال‘‘ کہتے ہیں جب کہ اس مادے کو چھوٹی ایٹمی گھڑیوں کی تیاری میں استعمال کیا جاسکتا ہے اور ایسے جی پی ایس آلات بنائے جاسکتے ہیں جو ایک ملی میٹر کی غلطی بھی نہ کریں تاکہ ان کی مدد سے خود چلنے والی گاڑیاں تیار کی جاسکیں۔

ماہرین کے مطابق اس سے ممکن ہوگا کہ آپ دنیا کی درست ترین ایٹمی گھڑی اپنے اسمارٹ فون میں شامل کرسکیں گے اور موبائل فون کی دنیا میں انقلاب آجائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مادے پر گزشتہ 14 برس سے کام جاری تھا، اس ٹیکنالوجی سے کئی شعبوں میں انقلاب آجائے گا۔ حال ہی میں اس لیبارٹری نے پہلی مرتبہ اپنا مٹیریل فروخت کیا جس کی 200 مائیکروگرام مقدار 30 ہزار ڈالر میں بیچی گئی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔