ملازمت پیشہ خواتین: حقوق اور مسائل

مہ ناز رحمن  جمعـء 25 دسمبر 2015

زمانہ طالب علمی میں ترقی پسند لوگوں نے ہمیں بتایا کہ عورت کی نجات اقتصادی خودمختاری میں پوشیدہ ہے، چنانچہ ہم نے تہیہ کرلیا کہ یونیورسٹی کی تعلیم مکمل ہوتے ہی ملازمت ضرور کرنی ہے۔ جب ہاتھ میں ڈگری لے کر ملازمت کی تلاش میں نکلے تو ہوش ٹھکانے آگئے۔ معلوم ہوا کہ ملازمت کے حصول کے لیے سفارش اور تعلقات کا ہونا ضروری ہے، پھر ڈومیسائل اور مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ جیسی رکاوٹیں بھی سامنے کھڑی تھیں اور ہمارے سر میں اپنی ذاتی قابلیت اور صلاحیتوں کی بدولت نوکری حاصل کرنے کا سودا سمایا ہوا تھا، چنانچہ دو تین سال تک بے روزگاری کا عذاب جھیلنے کے بعد بالآخر ایک اخبار میں نوکری مل ہی گئی۔

صحافت میں آنے کے بعد مجھے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی ملازمت پیشہ اور ذاتی کام کرنے والی خواتین کے مسائل جاننے کا موقع ملا۔سچ پوچھیے تو پاکستانی معاشرے نے ابھی تک ’’ملازمت پیشہ خاتون‘‘ کے تصور کو قبول نہیں کیا حالانکہ پاکستان کا قانونی نظام عورت کو مساوی مقام دیتا ہے۔

مرد کی طرح اسے بھی ووٹ دینے، آزادی اظہار، مذہبی آزادی کا حق اور دیگر حقوق حاصل ہیں، جن کی ضمانت 1958 اور 1973 کے آئین میں دی گئی ہے اور کسی بھی قسم کے صنفی امتیاز پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 26,25 اور 27 کے تحت حقوق اور روزگار کے مواقع کے حصول کے حوالے سے صنف کی بنیاد پر کسی قسم کا امتیاز روا نہیں رکھا جاسکتا۔ مگر آئین اور قانون کچھ بھی کہتا رہے، پاکستانی معاشرے میں آج بھی عمومی طور پر عورت کے حوالے سے فرسودہ تصورات ہی پائے جاتے ہیں۔

اکثر لوگ عورتوں کو ایک جنس یا Commodity سمجھتے ہیں اور گلی کوچوں، کام کی جگہ یہاں تک کہ گھر کی چار دیواری کے اندر رہنے والی عورت کو بھی مرد ستاتے اور تنگ کرتے ہیں۔یہاں میں کچھ عرصہ پہلے شایع ہونے والی ڈاکٹر فوزیہ سعید کی کتاب Working With Sharks کا حوالہ دینا چاہوں گی جس میں گیارہ عورتوں کی سچی کہانیاں شامل ہیں کہ کس طرح کام کے دوران مردوں نے انھیں تنگ کیا۔

فوزیہ سعید کے تجربے اور تحریروں کے نتیجے میں سول سوسائٹی کی تنظیموں نے کام کی جگہ پر عورتوں کو ہراساں کرنے کے خلاف قانون سازی کے لیے لابنگ شروع کی اور بالآخر یہ قانون بن گیا اور اب اس پر پوری طرح عمل درآمد کرانا حکومت اور سول سوسائٹی کی مشترکہ ذمے داری ہے۔قانون سازی عورتوں کے مسائل کے حل کا صرف ایک حصہ ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہمیں سماجی رویوں کی تبدیلی اور اقتصادی منصوبہ سازی اور میڈیا میں عورتوں کے کردار کو کس طرح پیش کیا جاتا ہے، پر بھی غور کرنا ہوگا۔ ہم ایک طبقاتی معاشرے میں رہ رہے ہیں اور عام لوگوں کو خواہ مرد ہو یا عورت بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔

سب سے بڑا مسئلہ تو غربت ہے جس کی وجہ سے وہ زندگی کی بہت سی سہولتوں سے محروم رہتے ہیں، صاف ستھرا ماحول انھیں میسر نہیں آتا، ان کی رہائشی بستیوں میں کچرے کے انبار لگے رہتے ہیں اور گٹر ابلتے رہتے ہیں، وہ تعلیم اور علاج کی سہولتوں سے محروم رہتے ہیں۔ اس لیے عورتوں کے حقوق کی بات کرنے کے ساتھ ہمیں معاشرے کی مجموعی ترقی کی بات کرنا ہوگی۔

لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ معاشرتی رویوں کی وجہ سے عورت کو مرد کے مقابلے میں زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، خواہ اس کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو۔ جب کوئی لڑکی ملازمت کرنے نکلتی ہے تو سب سے پہلا مسئلہ گھر والوں کو راضی کرنا ہوتا ہے، گھر والوں کی عام طور پر یہی خواہش ہوتی ہے کہ لڑکی کی جلد سے جلد شادی ہوجائے اور اگر اسے نوکری کرنا ہی ہے تو شادی کے بعد کرے، بعض صورتوں میں گھر والے تو نوکری کی اجازت دے دیتے ہیں لیکن جب رشتہ آتا ہے تو سسرال والے یہ شرط رکھ دیتے ہیں کہ شادی کے بعد لڑکی کو ملازمت چھوڑنا ہوگی۔

میں سمجھتی ہوں کہ ملازمت پیشہ خاتون کا سب سے بڑا مسئلہ ٹرانسپورٹ کا مسئلہ ہے۔ ہماری کوئی بھی حکومت ابھی تک عوام کے لیے ایک پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم نہیں بناسکی ہے۔ مرد بھی بسوں میں لٹک کر اور چھت پر بیٹھ کر سفر کرتے ہیں اور عورتوں کے لیے تو مشکل سے دو تین سیٹیں ہوتی ہیں۔ ڈرائیور گھٹیا گانے بلند آواز سے لگا دیتا ہے، کنڈیکٹر بھی کسی نہ کسی طرح ہراساں کرتا ہے۔ مرد مسافر بھی عورتوں والے حصے سے چڑھنے یا اترنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر پیچھے بیٹھے ہوئے ہی چھونے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس ساری صورتحال سے نمٹ کر جب وہ دفتر پہنچتی ہے تو مرد کولیگز ایکسرے مشین کی طرح اپنی آنکھوں سے کام لیتے ہیں۔ کوئی ذو معنی جملے بولتا ہے، کوئی فضول لطیفے سنانا چاہتا ہے بہرحال اب اچھی خبر یہ ہے کہ پاکستان میں Sexual Harassment at Work Place کے بارے میں قانون بن گیا ہے۔

اب ہر ادارے کو ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دینا ہوگی جو اس ایکٹ کے تحت شکایات کی انکوائری کرے گی، یہ کمیٹی تین اراکین پر مشتمل ہوگی جن میں سے کم ازکم ایک رکن عورت ہوگی۔ انکوائری کمیٹی شکایت ملنے کے تین دن کے اندر ملزم کو ان الزامات سے آگاہ کرے گی جو اس پر عائد کیے گئے ہیں، ملزم کو سات دن کے اندر اپنا دفاع پیش کرنے کے لیے کہا جائے گا اور اگر وہ بغیر کسی معقول وجہ کے ایسا نہیں کرتا تو کمیٹی یک طرفہ کارروائی کرے گی۔کمیٹی الزامات کی تحقیق کرے گی اور تین دن کے اندر اندر اپنے اخذ کردہ نتائج اور سفارشات حاکم مجاز کو پیش کرے گی کمیٹی مندرجہ ذیل سزاؤں کی سفارش کرسکتی ہے۔

(1) معمولی سزائیں۔(الف) ملامت کرنا۔ (ب) ایک مقررہ مدت کے لیے پروموشن اور انکریمنٹ کو روکنا۔ (ج) اہلیتی حد کو روکنا۔ (د) متاثرہ شخص کو تنخواہ یا دیگر ذرایع سے معاوضہ ادا کرنا۔

(2) بڑی سزائیں۔(الف) عہدے یا ٹائم اسکیل میں تخفیف۔ (ب) جبری ریٹائرمنٹ۔ (ج) ملازمت سے برطرفی/ موقوفی۔ (د) جرمانہ

مجاز اتھارٹی کے فیصلے سے متاثرہ شخص 30 دن کے اندر محتسب کو اپیل دائر کرسکے گا۔ محتسب کا تقرر حکومتیں وفاقی اور صوبائی سطح پر کریں گی۔ علاوہ ازیں مقام کار پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک ضابطہ اخلاق بھی بنایا گیا ہے اور ہر ادارے کے لیے لازم ہے کہ وہ اس ضابطہ اخلاق کو کسی نمایاں جگہ پر آویزاں کرے تاکہ ہر کوئی اسے پڑھ سکے۔متذکرہ بالا مسائل کے علاوہ شادی شدہ ملازمت پیشہ خواتین کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسکول جانے کی عمر کو پہنچنے سے پہلے وہ اپنے بچوں کو کہاں چھوڑیں۔

مشترکہ خاندانی نظام ہمارے ہاں ختم ہورہا ہے اور جہاں ہے بھی وہاں ساس بہو کے تعلقات اتنے کشیدہ ہوتے ہیں کہ بہو اپنے بچوں کو ساس کے پاس نہیں چھوڑ سکتی۔ ہر ملازمت پیشہ خاتون کی تنخواہ اتنی نہیں ہوتی کہ وہ آیا رکھ سکے اور جو رکھ بھی سکتی ہو اسے بھی آیا کی نگرانی کے لیے کسی بزرگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ ہر وہ ادارہ جہاں خواتین کام کرتی ہیں وہاں ان کے شیر خوار بچوں کے لیے ایک نرسری یا ڈے کیئر سینٹر قانونی طور پر قائم کیا جائے۔

ایک حل یہ بھی ہے کہ مشترکہ خاندانی نظام کو کامیاب بنایا جائے اور آخر میں بات پھر سماجی رویوں اور مائنڈ سیٹ کی آجاتی ہے۔ مردوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ زمانہ بہت آگے نکل گیا ہے۔ عورتوں نے ہر شعبے میں اپنی قابلیت کا سکہ جمایا ہے۔ اب انھیں گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں کیا جاسکتا، جب وہ باہر کی دنیا میں مرد کے شانہ بشانہ کھڑی ہے تو مرد کے لیے لازم ہے کہ وہ بھی گھر کے اندر اس کا ہاتھ بٹائے۔ جو کام عورت گھر میں کرتی ہے، وہ مرد بھی کرسکتا ہے، بالکل اسی طرح جو کام باہر کی دنیا میں مرد کرتا ہے، وہ عورت بھی کرسکتی ہے اور کر رہی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔