ٹویٹرکا اپنے صارفین کے اکاؤنٹس کی حفاظت یقینی بنانے کیلیے اہم اقدامات کا فیصلہ

ویب ڈیسک  اتوار 27 دسمبر 2015
صارفین کے اکاؤنٹ ہیک کرنے والوں اور قابل اعتراض مواد لگانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

صارفین کے اکاؤنٹ ہیک کرنے والوں اور قابل اعتراض مواد لگانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

لندن: ٹویٹراورفیس بک کے صارفین کو ہیکرز اورعجیب وغریب حرکات کرنے والے افراد کی جانب سے ہمیشہ سے خطرہ رہا ہے اوراکثر وبیشتر ایسے افراد ٹویٹراورفیس بک اکاؤنٹ ہیک کرکے یا تو قابل اعتراض مواد لگادیتے ہیں یا پھر انہیں بلیک میل کرتے ہیں لہٰذا ان حالات کی سنگینی کا اندازہ کرتے ہوئے ٹویٹر نے اپنی 10 ویں سالگرہ پر صارفین کو بہتر سیکیورٹی دینے کی غرض سے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر کے یورپین ممالک کے سربراہ بروس ڈیسلی کا ویب سائٹ کی 10 ویں سالگرہ پر تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ اس موقع پر اپنے صارفین سے وعدہ کرتے ہیں کہ ان کی سیکیورٹی کے لیے مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے اور شرمناک اور شرارتی تبصروں کو صاف کرنے کا جامع منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر ان چھپے ہوئے لوگوں کے عمل اس حقیقی دنیا میں موجود ہیں اور جو متاثرہ صارفین کو مجبور کرتے ہیں کہ ان کے نام شائع کیے جائیں لیکن اب ان لوگوں کے خلاف سخت اقدامات کر کے انہیں ویب سائٹ سے صاف کردیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کمپنی لوگوں کے اکاؤنٹ کی سیفٹی کو یقینی بنانے کے لیے بہت زیادہ وقت صرف کر رہی ہے  اور بھر پور کوشش ہے کہ جلد برا رویہ رکھنے والوں کا خاتمہ کیا جاسکے۔

ڈیسلی نے سخت اقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ برا رویہ رکھنے والے صارفین کو پہلے مرحلے میں فون کیا جاتا ہے جس سے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ صارف یہاں موجود ہے اور دوسرا اس سے یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ اس کے اس فون نمبر پر کچھ اور بھی اکاؤنٹس ہیں جنہیں معطل کیا جاچکا ہے یا نہیں۔ ایک اور اقدام کے مطابق صارف کو ایسا نیا ٹول دیا جائے گا جو شرارتی صارف کو بلاک کردے گا اور وہ اس کی مدد سے وہ دوسروں کو بھی اکسائے گا کہ وہ بلاک اکاؤنٹس کو شیئر کریں۔ ٹویٹر کے اقدامات کو برطانوی محفوظ انٹرنیٹ سینٹر کی حمایت حاصل ہے جس کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے بدمعاش صارفین کو ڈیل کرنے میں بہت بہتری آئی ہے۔

واضح رہے کہ صرف برطانیہ میں ایک کروڑ 50 لاکھ لوگ ٹویٹر استعمال ہیں لیکن مشہور شخصیات اور ہائی پروفائل افراد نے انہی شرارتی لوگوں کی وجہ سے اپنے اکاؤنٹس بند کردیئے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔