تھوک کے ٹیسٹ سے پتا لگایا جاسکتا ہےکہ انسان موت کے کتنے قریب ہے، ماہرین

ویب ڈیسک  منگل 29 دسمبر 2015
اینٹی باڈیزکو تھوک میں باآسانی شناخت کرکے اسے موت کی نشانی کے طور پراستعمال کیا جاسکتا ہے، فوٹو: فائل

اینٹی باڈیزکو تھوک میں باآسانی شناخت کرکے اسے موت کی نشانی کے طور پراستعمال کیا جاسکتا ہے، فوٹو: فائل

برمنگھم: ماہرین نے دعویٰ کیا ہے انسان کا تھوک اس بات کا تعین کرسکتا ہے کہ وہ موت کے کتنا قریب پہنچ چکا ہے۔

ماہرین نے اس ٹیسٹ کے لیے 19 سال کے طویل عرصے تک سیکڑوں افراد کے تھوک پر تحقیق کی جس سے معلوم ہوا کہ جوں ہی کوئی شخص موت کے قریب پہنچتا ہے اس کے لعاب میں امیونوگلوبن اے کی سطح کم ہوجاتی ہے جو ایک خاص اینٹی باڈیز ہوتی ہیں جو خون کے سفید خلیات سے خارج ہوتی ہیں۔ محققین کے مطابق اینٹی باڈیزکو تھوک میں باآسانی شناخت کرکے اسے موت کی نشانی کے طور پراستعمال کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ امیونوگلوبن کی شرح پر نظر رکھ کر کسی شخص کے مکمل صحت مند یا بیمار ہونے کے متعلق بھی رائے دی جاسکتی ہے۔

یونیورسٹی آف برمنگھم کے ماہرین کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق بہت سی صحت دشمن سرگرمیوں سے امینوگلوبن کی شرح کم ہوتی ہے جن میں ذہنی تناؤ، ورزش، شراب اور سگریٹ نوشی وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کم ہوتی ہوئی مقدار سے یہ نوٹ کیا جاسکتا ہے کہ کوئی شخص کونسی مضرِ صحت عادات کا شکار ہے جب کہ اگر لعاب میں اس کی شرح بہت گرجاتی ہے تو ہم حفاظتی تدابیر بھی اختیار کرسکتے ہیں۔

دوسری جانب سائنس دانوں کی ٹیم نے حالیہ برسوں میں تھوک کے ٹیسٹ کے ذریعے دماغی امراض اور کئی طرح کے کینسر کا قبل ازوقت پتا لگانے کا کام بھی کیا ہے لیکن اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔