پاک فوج کے سربراہ کا دورہ کابل

ایڈیٹوریل  منگل 29 دسمبر 2015
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک فوج کے سربراہ کے دورے کے دوران جن باتوں پر اتفاق ہوا ہے ان پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے ۔ فوٹو: فائل

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک فوج کے سربراہ کے دورے کے دوران جن باتوں پر اتفاق ہوا ہے ان پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے ۔ فوٹو: فائل

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ روز افغانستان کے دارالحکومت کابل میں فغان صدر اشرف غنی ،چیف ایگزیکٹو عبد اللہ عبداللہ اور عسکری قیادت سمیت اہم رہنماؤ ں سے ملاقاتیںکی ہیں۔ذرایع ابلاغ کے مطابق افغان حکومت نے طالبان سے دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کااعلان کیا ہے۔ سیکیورٹی ذرایع کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی افغان قیادت سے ملاقات میں اتفاق کیا گیاہے کہ ان طالبان گروہوں کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جائے جو امن کے لیے اس عمل میں شامل ہونا چاہتے ہوں ،ان گروہوں کے خلاف مشترکہ اقدامات کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا جائیگا جو تشدد کی راہ اپنائیں گے۔پاک فوج کے سربراہ کا دورہ افغانستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

اس دورے کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ بلاشبہ پاک افغان سرحد پر غیر قانونی طورپر افراد یا گروہوں کی آمدورفت روکنے کے لییفول پروف نظام کی ضرورت ہے تاکہ شرپسندوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔دونوں ملکوں کو دہشتگردی کے خلاف مؤثر میکنیزم قائم کر کے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن کرنے ہوں گے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ افغانستان میں ایسے عناصر موجود ہیں جو وہاں کی سرزمین کو استعمال کر کے پاکستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اسی طرح یقینی طور پر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھی کہیں نہ کہیں ایسے عناصر موجود ہوں گے جو افغانستان میں چلے جاتے ہیں۔

فساد کی اصل جڑ یہی عناصر یا گروہ ہیں ان کا خاتمہ کرنا دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب دونوں ملکوں کی سیکیورٹی فورسز کے درمیان ہم آہنگی ہو‘ معلومات کا تبادلہ ہو اور آپریشنز کی مکمل آگاہی ہو۔ یہ امر خوش آیند ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت اس بات پر متفق ہے کہ پاک افغان سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر نے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ دہشت گردوں  کے خلاف اپنے اپنے علاقوں میں بھرپور کارروائی پر اتفاق اچھی بات ہے لیکن اس حوالے سے افغانستان کی حکومت کو عملی کردار ادا کرنا ہو گا‘ افغانستان کی حکومت نے ابھی تک مولوی فضل اللہ اور اس کے ساتھیوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں کی حالانکہ یہ لوگ افغانستان میں ہی موجود ہیں۔

جہاں تک امن عمل کی بحالی کا تعلق ہے تو اس حوالے سے پاکستان کا کردار مثبت ہے ۔ پاکستان کی کوششوں سے ہی مری مذاکرات کا آغاز ہوا تھا جس میں طالبان کے نمایندے بھی شریک تھے لیکن اسی دوران ملا عمر کی موت کی خبر آ گئی جس کی وجہ سے یہ معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔ اب طالبان کی نئی قیادت آ چکی ہے‘ اس لیے امن عمل کو آگے بڑھانا بہتر آپشن ہے۔ اس معاملے میں پاکستان اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ پاک فوج کے سربراہ کا دورہ افغانستان اس حوالے سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ افغانستان میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے‘ اسے دیکھا جائے تو یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ طالبان اب بھی افغانستان میں ایک موثر قوت ہیں۔ انھیں میدان جنگ میں شکست دینا افغان سیکیورٹی فورسز کے بس سے باہر ہے۔ اس کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ طالبان کے ساتھ معنی خیز مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ افغانستان کی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ پاکستان کی پوزیشن اور اس کے مفادات کو سمجھے۔

اگر افغانستان کی قیادت پاکستانی مفادات کو سمجھ کر مذاکرات کا عمل آگے بڑھائے تو اس کے کامیابی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ افغانستان کی حکومت کو اپنے ملک میں پاکستان کے بارے میں منفی پروپیگنڈے کی روک تھام بھی کرنی چاہیے۔ بھارت کا افغانستان میں اثرورنفوذ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ افغان قیادت کو بھارت کا دم چھلا نہیں بننے چاہیے۔ ادھر امریکا بھی افغانستان میں بڑا سٹیک ہولڈر ہے۔ امریکا کے پالیسی سازوں کو بھی خطے کی صورت حال کو حقائق کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ افغانستان میں پاکستان کو باہر رکھ کر امن قائم کرنا ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک فوج کے سربراہ کے دورے کے دوران جن باتوں پر اتفاق ہوا ہے ان پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔