ہمارے ہر مسئلہ کا حل تعلیم ہی ہے!

عندیل علی  منگل 29 دسمبر 2015
ناخواندہ والدین ہی ہیں جو کم عمری کی شادی، وٹہ سٹہ اور ونی جیسے غیر انسانی مظالم کو روایات کے نام پر زندہ رکھتے ہیں۔ فوٹو :فائل

ناخواندہ والدین ہی ہیں جو کم عمری کی شادی، وٹہ سٹہ اور ونی جیسے غیر انسانی مظالم کو روایات کے نام پر زندہ رکھتے ہیں۔ فوٹو :فائل

کیا آپ جانتے ہیں ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟ ہوسکتا ہے آپ کہیں غربت، ہوسکتا ہے آپ کہیں ناخواندگی۔ افراطِ زر بھی اہم مسئلہ کہلایا جا سکتا ہے، صحتمند مقابلے کی فضا کا عدم دستیاب ہونا بھی، خواتین کو برابری کے حقوق نہ ملنا بھی، صحت و صفائی کا عنقا ہونا بھی۔ مزدوروں اور کنٹریکٹ ملازمین کا استحصال بھی، کرپشن یا بدعنوانیت بھی، منشیات کا عام ہونا بھی۔ شجر کاری کا نہ ہونا بھی، چوری چکاری بھی اور بجلی کا بحران بھی۔ لیکن میں ثابت کرسکتا ہوں کے ان سب مسائل کا حل تعلیم و تدریس ہے۔ تعلیم انسان کو شعور بخشتی، بہتر فیصلہ سازی سکھاتی، خود شناسی کی طرف راغب کرتی ہے۔ یہ تعلیم ہی ہے جو آدم کو انسان بناتی ہے۔

اگر آپ چاہیں تو میں مندرجہ بالا مسائل کے حل تعلیم میں ڈھونڈ کر دے سکتا ہوں۔ ایسا نہیں ہے کہ ان کے دیگر حل موجود نہیں ہیں، ہیں بالکل ہیں، لیکن فرق وقتی و دیرپا کا ہے۔ ہم ہر مسئلے کو فی الوقت دبا سکتے ہیں، لیکن وہ ایک موذی مرض کی طرح پھر لوٹ آئے گا۔ تعلیم ایک مضبوط اور جامع حل ہے۔ اس کی بیخ کنی کرنا شاید پچھلی صدی میں تو آسان تھا لیکن اس صدی میں نہیں ہے۔

ان پڑھ ہونے کو سلیس اردو میں ’’ناخواندہ‘‘ کہتے ہیں۔ اگر آپ اس مسئلے کو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں تو سلام ہے آپ کی عظمت کو! پاکستان کے ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ آپ کو پتہ ہے ڈھائی کروڑ نفوس کتنے ہوتے ہیں؟ کراچی کی آبادی کے برابر اور کراچی کتنا بڑا ہے؟ یہ آبادی کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ 2.5 کروڑ کئی ممالک کی آبادی سے بھی زیادہ ہیں۔ سری لنکا کی کل آبادی 2 کروڑ ہے، یمن اور آسٹریلیا کی آبادیاں تقریباً 2.3 کروڑ ہیں، ملائشیا اور ازبکستان کی آبادیاں 3 کروڑ کے لگ بھگ ہیں۔ غالباً اب آپ مسئلے کی پیچیدگی اور حجم کو سمجھ گئے ہوں گے۔

اور یہ ڈھائی کروڑ بچے کیا کر رہے ہیں؟ مزدوریاں، آوارہ گردی، یہ سڑکوں پر بھیک بھی مانگ رہے ہیں اور اسکولوں کے سامنے چھولے بھی بیچ رہے ہیں۔ یہ موٹر مکینک کی دکان پر ’چھوٹے‘ کے طور پر کام بھی کر رہے ہیں اور امیروں کے بچے گود میں اٹھائے پھر بھی رہے ہیں۔ کچرا یہ چنتے ہیں۔ اخبار یہ بیچتے ہیں۔ چائے کے ہوٹل پر میز یہ صاف کرتے ہیں اور سگنل پر آپ کی گاڑی کا شیشہ بھی۔

آپ کو پتہ ہے اسکول سے باہر یہ بچے کن حالات میں جی رہے ہیں؟ ان کو ہر وقت حادثات کا خطرہ لاحق ہوتا ہے، یہ شہوت کے مجسم حیوانوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ یہ ہر وقت جنسی طور پر ہراساں ہونے کے خطرے کا شکار ہوتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں یہ بڑے ہوکر کیا بنیں گے؟ ماہر کاریگر (اگر لگ کر کام سیکھ لیا تو) ورنہ ماہر چور، کامیاب ٹارگٹ کلر، ڈاکو، رہزن، دہشت گرد۔ اگر بیاہے گئے تو غیر ذمہ دار والدین، یہ ناخواندہ والدین ہی ہوتے ہیں جو کم عمری کی شادی، وٹہ سٹہ اور ونی جیسے غیر انسانی مظالم کو روایات کے نام پر زندہ رکھتے ہیں۔

اگلی دفعہ آپ کے علاقے کے نمائندہ برائے صوبائی و قومی اسمبلی جب آپ کے پاس ووٹ مانگنے کے لیئے تشریف لائیں تو ان سے نوکری دلوانے کا وعدہ مت لیجیئے گا! تعلیم دلوانے کا وعدہ لیجیئے گا! اچھا اسکول و کالج، سچے اساتذہ، ایک جامع کتب خانہ اور جامعہ مانگ لیجیئے گا! فرمائش کرنے میں کیا جاتا ہے۔ جامعہ مانگیں گے تو اسکول تو کم از کم مل ہی جائے گا۔

ویسے ایک بات اور بتاتا چلوں، بہت سے لوگ ڈگری یافتہ ہوتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ وہ خواندہ بھی ہوں۔ یونیسکو جو اقوامِ متحدہ کا تعلیم و تدریس سے متعلق ادارہ ہے اس ادارے کے یہاں، خواندگی کی تشریح بڑے جامع اور خوبصورت انداز میں کی گئی ہے۔ اور یہ تشریح بڑی فکر انگیز بھی ہے کیونکہ اس کے حساب سے تو میں بھی ناخواندہ ہوں۔ یونیسکو کے مطابق،

’’خواندگی لکھے ہوئے یا شائع شدہ مواد کو پہچاننے، سمجھنے، سمجھانے، ترجمہ کرنے، تخلیق کرنے، کی قابلیت کو کہا جاتا ہے۔ خواندگی، افراد میں بذریعہ تدریس وہ قابلیت پیدا کرتی ہے کہ وہ اپنے مقاصد و اہداف کے حصول کو ممکن بنا سکیں اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں حصہ لے سکیں‘‘۔

اچھا ہمارے آئین کے مطابق، خواندہ شخص کی نشانیاں کچھ یوں ہیں۔ چلئے سب چھوڑیئے، اسی کو میزان مان لیتے ہیں۔ پر کیا کریں کہ یہ ڈھائی کروڑ بچے واپس اسکول چلے جائیں؟ چند راستے ہیں میرے پاس باقی آپ سوچیں، اور مجھے بھی بتائیے گا۔

اول: سب سے پہلے تو اپنے علاقے کے سیاستدانوں کو پکڑ لیں، وہ بُرا نہیں مانیں گے، بلکہ خوش ہوں گے کہ چلو اچھا ہے عوام زندہ ہے، بلدیاتی الیکشن میں ووٹ دیں گے۔ وہ آپ کی بات سنیں گے ضرور مگر بس سننے سنانے پر مت رکیئے گا، ایک درخواست جمع کروا کر وصولی کی رسید لے لیجیئے گا۔ یہی رسید مستقبل میں میڈیا پر بریکنگ نیوز کی طرح چلے گی اور افسر شاہی کی گردن میں پڑے سریے کو بھی تھوڑا نرم کردے گی۔ ویسے اسی دستاویز کی بنیاد پر آپ عدالت کا دروازہ بھی کھٹکا سکتے ہیں۔

دوم: اسکول کی مینجمنٹ کمیٹی کو فعال کروائیں! آپ سوچ رہے ہوں گے یہ کیا چیز ہے؟ بھئی آپ ہی کے حمایت یافتہ سیاستدانوں نے آپ کی ہی سہولت کے لئے یہ نظام رائج کیا ہے۔ بس ذرا کاغذوں میں دب جانے کے باعث آپ کو خبر نہیں تھی۔ اس کمیٹی کو فعال کریں اس کا حصہ بنیں، بطور والدین یہ آپ کا فرض ہے کہ بچوں کی تعلیم کو بہتر بنائیں اور ساتھ ہی آپ کو حق بھی حاصل ہے کہ اس کمیٹی میں براجمان ہوں۔

سوم: اس کے علاوہ آپ اپنے علاقے کے اسکول کو گود بھی لے سکتے ہیں۔ ایڈاپشن پالیسی کے تحت اب ذمہ دار شہری اور غیر سرکاری تنظیمیں مفلوک الحال اسکولوں کے انتظامات اپنے ہاتھ میں لیکر ان اسکولوں کا کھویا ہوا وقار واپس  لوٹا رہے ہیں۔ آپ بھی ایسا کرسکتے ہیں۔

چہارم: نیز غیرمعیاری نجی اسکولوں سے اجتناب برتیں! سرکاری اسکولوں کی عمارتیں ہوں یا وہاں کے اساتذہ یہ دونوں اعلیٰ پائے کے ہوتے ہیں۔ لیکن صرف اعلیٰ سے اعلیٰ  کے غم نے ہمیں متنفر کردیا ہے۔ اکثر نجی اسکول بھی اتنے ہی مفلوک الحال ہوتے ہیں جتنے کہ سرکاری اسکول، اور نجی اسکولوں کے اساتذہ کا بھی کوئی معیار مقرر نہیں ہوتا ہے۔ انتہائی قلیل تنخواہوں پر ان سے شدید مشقت لی جاتی ہے اور معیارِ تعلیم صفر۔ ہوتا یہ ہے کہ ہم اچھے خاصے سرکاری اسکولوں کو چھوڑ کر جو دراصل ہمارے ہی پیسوں سے چلتے ہیں، نجی اسکولوں کی جانب رجوع کرتے ہیں جو ہم سے بھاری فیسیں وصول کرکے دیتے کچھ نہیں ہیں۔ ایسا ہونے کی صورت میں ایک اچھا خاصا سرکاری اسکول بھی گھوسٹ اسکول بن جاتا ہے، کیونکہ بچے اس میں آتے ہی نہیں، البتہ عملہ موجود رہتا ہے۔ اسی لئے ہمیں انہی اسکولوں کی بہتری پر کام کرنا چاہیئے اور ان کو فعال بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیئے۔

ناخواندگی سے مقابلے کے لیے جو تجاویز پیش کی گئی ہیں کیا آپ اُن سے اتفاق کرتے ہیں؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500  الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔