برطانیہ میں بیوی کو نظر انداز کرنے پر بھی 5 سال کی سزا کا قانون نافذ

ویب ڈیسک  منگل 29 دسمبر 2015
بیوی کو رشتے داروں سے ملنے سے روکنے، خرچہ نہ دینے اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس چیک کرنے پر بھی کارروائی ہوگی۔ فوٹو: فائل

بیوی کو رشتے داروں سے ملنے سے روکنے، خرچہ نہ دینے اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس چیک کرنے پر بھی کارروائی ہوگی۔ فوٹو: فائل

لندن: برطانیہ میں نیا قانون نافذ کردیا گیا ہے جس کے تحت بیگمات کو نفسیاتی اور جذباتی طور پر ستانے والے مردوں کو 5 سال کی سزا دی جاسکے گی۔

برطانیہ میں کیے گئے حالیہ سروے کے مطابق ملک  بھر میں 30 فیصد خواتین کو کسی نہ کسی مرحلے پر لفظی تشدد، طنز اور دھمکیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور 16 فیصد سے زائد مرد بھی اس کا شکار ہوتے ہیں جس کے پیش نظر برطانیہ میں نیا قانون نافذکردیا گیا ہے جس کے تحت مرد کو اپنی شریک حیات کو زبان سے جذباتی ٹھیس پہنچانے پر بھی سزا ہوسکتی ہے۔

برطانوی گھرانوں میں ایک فریق کو غیرمعمولی اختیارات حاصل ہوتے ہیں جس کی وجہ سے خواتین شدید ذہنی اور نفسیاتی دباؤ میں رہتی ہیں جو کئی امراض کی وجہ بنتا ہے اسی لیے نئے قانون میں ذہنی اور نفسیاتی تشدد کو بھی جسمانی تشدد کی طرح قرار دیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت شریکِ حیات کو اس کے والدین، رشتے داروں سے ملنے سے روکنا، گھر کا خرچہ نہ دینا، سوشل میڈیا اکاؤنٹس چیک کرنا، جاسوسی ، روزمرہ کاموں پر نظررکھنا، کھانے پینے یہاں تک کہ رفع حاجت کے لیے جانے سے روکنا بھی جرم کے زمرے میں آئے گا۔

برطانیہ میں ڈائریکٹر آف پبلک پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ یہ قانون خواتین کی آزادی، مرضی اور خودمختاری کو بحال رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا جب کہ برطانوی خواتین کی کئی تنظیموں نے اس نئے قانون کا خیرمقدم کیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔