بھارت میں امتیازی سلوک کا نشانہ بننے والے نچلی ذات کے اعلی افسر نے اسلام قبول کرلیا

ویب ڈیسک  جمعـء 1 جنوری 2016
چیف سیکریٹری راجھستان کے عہدے پر فائز ہونا میرا قانونی حق تھا لیکن نچلی ذات کے باعث مجھے اس سے محروم رکھا گیا،امراؤ خان فوٹو:فائل

چیف سیکریٹری راجھستان کے عہدے پر فائز ہونا میرا قانونی حق تھا لیکن نچلی ذات کے باعث مجھے اس سے محروم رکھا گیا،امراؤ خان فوٹو:فائل

جے پور: راجستھان روڈ وے ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے نچلی ذات کے چیئرمین امراؤ سلودیا نے حقوق تلفی اور امتیازی سلوک سے تنگ آکراسلام قبول کرلیا۔

اپنے آپ کو دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک کہلوانے والے بھارت میں نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ناانصافی اورحق تلفی کوئی نئی بات نہیں، بھارت میں جہاں دلت خاندان کو کمتر سمجھا جاتا ہے وہیں اس جیسی دیگر ذات کے افراد کو حقوق دینے کے بجائے ان کا بنیادی حق بھی ان سے چھین لیا جاتا ہے جس کی تازہ مثال نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے راجستھان روڈ ڈویلمپمنٹ کے چیئرمین کے حوالے سے سامنے آئی جو امتیازی سلوک سے تنگ آکر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔

معاملہ کچھ یہ ہے کہ راجستھان کے چیف سیکرٹری کو31 دسمبر 2015 کو ریٹائرڈ ہونا تھا جس کے بعد یہ عہدہ امراؤ سلودیا کو ملنا تھا تاہم راجستھان کے وزیراعلیٰ نے انہیں اس عہدے پر اس لئے فائز نہیں ہونے دیا کیوں کہ ان کا تعلق نچلی ذات سے تھا اور وزیراعلی نے ریٹائرڈ ہونے والے چیف سیکرٹری کی مدت ملازمت میں توسیع کردی۔

امراؤ سلودیا حکومت کے اس فیصلے پرسخت مایوسی کا شکار ہوئے جب کہ ان کا کہنا تھا کہ ان کی مدت ملازمت جون 2016 کو پوری ہورہی ہے اور اس عہدے پر فائز ہونا ان کا حق تھا اور اگر مجھے  یہ عہدہ مل جاتا ہے تو بھارت کے قیام کے بعد ریاست کے  وہ پہلے شخص ہوتے جس کا تعلق نچلی ذات سے ہوتا   تاہم انہیں صرف نچلی ذات کا ہونے کے باعث اس حق سے محروم کیا گیا۔

امراؤسلودیا نے قبول اسلام کے بعد اپنا نام تبدیل کرکے امراؤ خان رکھ لیا ہے اور یہی نہیں بلکہ امتیازی سلوک کے باعث انہوں نے قبل ازوقت  ریٹائرمنٹ بھی لے لی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔