نام وی آئی پی کلچر اور سرمایہ دار

نسیم انجم  اتوار 3 جنوری 2016
nasim.anjum27@gmail.com

[email protected]

ہر سال پوری دنیا میں یکم مئی منایا جاتا ہے اور محنت کشوں کے حقوق کے بارے میں آگہی دی جاتی ہے، اس سلسلے میں سیمینار منعقد ہوتے ہیں، مزدوروں کے حقوق کے لیے بذریعہ تحریر و تقریر آواز اٹھائی جاتی ہے، وقتی طور پر حکومت بھی مزدوروں کے حقوق کی ادائیگی کے لیے بیانات دیتی ہے، لیکن ان کاوشوں کے باوجود نتیجہ صفر رہتا ہے۔ مزدور کے حقوق دینا تو دور کی بات ان کی زندگی کی حفاظت کے لیے کسی قسم کے اقدامات آج تک نہیں کیے گئے۔ ان کا عالمی دن یکم مئی کو منانا دہرے معیار کا پیش خیمہ ہے۔

مزدور کل بھی ظلم کی چکی میں پس رہا تھا اور موجودہ دور میں بھی اس کی حالت زار دل گرفتہ ہے اس کی جان کو ہر لمحہ خطرہ لاحق ہے کہ کب وڈیرے اور جاگیردار اسے جان سے ماردیں یا اس کے اعضا کو تن سے جدا کردیں تشدد کا ایک ایسا ہی واقعہ حافظ آباد میں پیش آیا جہاں مزدوری سے انکار پر دونوں ہاتھ کاٹ دیے گئے،میڈیا کی اطلاع کیمطابق ایک سال قبل محنت کش صدیق اور اس کا بیٹے اکرم نے سابق یونین ناظم اور تحریک انصاف کے رہنما رانا اسرار الحق آف وچھو کیکے کے ساتھ ایک سال کا معاہدہ کیا۔

معاہدہ پورا ہونے کے بعد اکرم واپس گاؤں آگیا لیکن تھوڑے ہی عرصے کے بعد زمیندار اپنے ساتھیوں کے ہمراہ آیا اور اکرم کو اغوا کرلیا اور 15 ہزار  چوری کا الزام لگا کر اس سے زبردستی کھیتوں میں کام کرواتا رہا، ستم یہ کہ اس مجبور شخص کے پاؤں میں زنجیریں ڈال دی گئیں، تاکہ فرار نہ ہوسکے۔شکر ہے حکومت پنجاب نے اس کی فوری اشک شوئی کردی۔ مگر ظلم کے اس واقعہ کے ذمے داروں کا احتساب ضروری ہے۔یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔

اس قسم کے واقعات آئے دن جنم لیتے ہیں، لیکن جاگیرداروں کو ہر طرح کی چھوٹ دے دی جاتی ہے اور بے چارہ غریب و بے کس انسان اپنے آقا کا ظلم سہتے سہتے قبر کی آغوش میں پہنچ جاتا ہے۔ اگر بروقت ملزمان کو سزا دے دی جائے تو بربریت کی فضا پروان نہ چڑھ سکے۔ مزدوروں کے لیے نئے قوانین بھی بنانے ناگزیر ہوگئے ہیں۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ سرمائے داروں کو اس بات کا پابند، قواعد و ضوابط کے تحت کیا جاتا کہ وہ اپنے ملازمین کے رہنے کے لیے چھت کا انتظام کرتے اور ماہانہ اجرت اتنی ادا کی جاتی کہ مزدور کے اہل خانہ ضروریات زندگی سے محروم نہ رہتے۔

پاکستان کی سابقہ و موجودہ حکومتوں نے صرف اور صرف شاہی خزانوں کو جوکہ ان کے ذاتی خزانے ہیں، مال و زر سے بھرنے کی ذمے داری کو اپنے مضبوط شانوں پر اٹھانے کا فریضہ انجام دیا ہے۔

گاؤں ہو یا شہر ہو ہر جگہ شہری مشکلات میں مبتلا ہیں۔

ابھی حال ہی میں بسمہ کا واقعہ ایک بادشاہ زادے کی سیکیورٹی کے باعث پیش آیا۔ اس سانحے کے بعد بلاول بھٹو بحفاظت اپنے گھر روانہ ہوگئے اور چند دنوں یا گھنٹوں میں وہ بیرون ملک سدھار جائیں گے جب کہ معصوم شہزادیوں جیسی معصوم بچی بسمہ نے پریوں کے دیس کے لیے رخت سفر باندھا۔ ان حالات میں ہمارے حکمرانوں کو نہ شرمندگی ہوئی اور نہ ہی اپنے پروٹوکول کو کم کرنے کا اعلان کیا کہ وہ آیندہ سے بے شمار گاڑیوں اور گارڈوں کی بارات لے کر روانہ نہ ہوں گے تاکہ کسی دوسرے باپ کی نور نظر اور ماں کی لخت جگر بسمہ داغ مفارقت نہ دے۔

لیکن ایسا ہوگا نہیں کہ اگر ہوتا تو یہ اہم کام انجام دیا جاسکتا تھا، نہ معلوم کتنے بے قصور اور جاں بہ لب مریض وی آئی پی موومنٹ کی بدولت زندگی کی بازی ہار چکے ہیں، موت سے قبل ان کی ٹوٹتی سانسیں زندگی کی متلاشی ہی رہیں، نگاہیں منتظر کہ نہ جانے کب ان کی تکلیف کو دور کرنے کے لیے علاج اور مسیحا میسر آئے گا، ان مریضوں سے زیادہ اذیت ان کے لواحقین نے اٹھائی لیکن کسی کو ان ایمبولینسوں میں تڑپتے سسکتے اور ٹریفک جام کے ہجوم میں پھنسے مریضوں پر رحم نہ آیا، بسمہ کا باپ فیصل تو بے چارہ پیدل چلنے بھاگنے، دوڑنے پر مجبور ہوگیا کہ زندگی کا چراغ گل ہونے سے بچ جائے، بے چارہ مرتا، گرتا پہنچ بھی گیا لیکن اسپتال کے دروازے اس کی قسمت کے دروازوں کی طرح بند تھے۔

گاڑیوں کی ایک لمبی قطار تھی، کیا ہی اچھا ہوتا کہ کوئی ایک بااثر شخص پرانی گاڑی یا موٹرسائیکل پر پہنچانے کا حکم دے دیتا۔ لیکن افسوس کہ دل کی نرمی سے محرومی اس اور اس جیسے واقعے کا سبب بنتی ہے اور جو شخص نرم مزاج اور ہمدرد نہیں ہے وہ حدیث مبارکہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیمطابق سارے خیر سے محروم کردیا جاتا ہے، لیکن خیر کا کوئی طلبگار نہیں ہے، پس چمکتی دمکتی دنیا ہی چاہیے، باقی کسی شے کی خواہش نہیں ہے۔

کسی عالم نے کیا خوب کہا ہے کہ ظالم بادشاہ خدا کا قہر ہوتا ہے۔ اس لیے نعمت خداوندی پر شکر بجا لانا چاہیے اور بادشاہ وقت پر سکون اور خوشی کی نیند بھی حرام ہے کہ جب کمزور رعایا طاقت ور کے بوجھ تلے دبی ہو کسی بھی شخص کو رائی کے دانے کے برابر آزار نہ دے، کیونکہ بادشاہ تو نگہبان چرواہے کی مانند ہوتا ہے اور اگر وہ اپنے ملک کے لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کرے گا تو وہ نگہبان چرواہا نہیں بلکہ بھیڑیا ہوگا۔ بادشاہتوں اور سرمایہ داروں کا رویہ ہمیشہ ہی سے ایسا ہی رہا ہے کہ غریب کو انھوں نے بے جان مٹی کی مورتی سے کم نہیں جانا، جب جی چاہا پاش پاش کردیا، یہی نہیں آئے دن محنت و مزدوری اور گھروں کے کام کرنیوالے بچوں پر بے پناہ ستم ڈھایا جاتا ہے۔

کسی کے ہاتھ اور کسی کے پیر توڑ دیے جاتے ہیں، ان پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی جاتی ہے، غریب محنت کشوں کی جواں سالہ بیٹیوں کو دولت کے نشے میں مست ہوکر اٹھا لیا جاتا ہے، اور کاٹھ کی گڑیا سمجھ کر اس کی آبرو سے کھیلا جاتا ہے، باسی پھول کی طرح پیروں تلے مسل کر پھینک دیا جاتا ہے، نوجوان لڑکیاں اور لڑکے کاری کیے جاتے ہیں، ان کے لیے نہ کوئی قانون ہے اور نہ سزا۔ رشوت دی اور چھوٹ گئے، بس کھیل ہے تو پیسے کا، اکرم کے ہاتھوں کو مشین کے ذریعے کاٹنے والا بھی دولت کی بیڑیاں پولیس اور قانون کے رکھ والوں کے پیروں میں ڈال دے گا اور پھر دونوں ادارے طاقتیں رکھنے کے باوجود بے بس ہوجائیں گے، قاتل آزادی کی فضا میں سانس لے گا اور وہ شخص جس کے ہاتھ کاٹے گئے، معذوری کی زندگی گزارے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔