ماحولیاتی تبدیلیاں اور کراچی

ایڈیٹوریل  منگل 5 جنوری 2016
ارباب اختیار کو نو ایشوز اور پوائنٹ اسکورنگ کی سیاست چھوڑ کر حقیقی مسائل پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، یہی وقت کا اہم تقاضا ہے۔ فوٹو : فائل

ارباب اختیار کو نو ایشوز اور پوائنٹ اسکورنگ کی سیاست چھوڑ کر حقیقی مسائل پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، یہی وقت کا اہم تقاضا ہے۔ فوٹو : فائل

دنیا میں گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث موسموں کے تغیر اور اثر پذیری میں شدت پیدا ہوگئی ہے، جس کے منفی اثرات کے باعث کئی ممالک کو سیلاب و زلزلہ اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان میں بھی سال 2015ء میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہزاروں اموات ہوئیں، سیلاب اور زلزلہ کی تباہ کاریاں، خشک سالی اور کراچی میں جون کے آخری ہفتے میں شدید گرمی سے ملک میں موسمیاتی تبدیلیوں کے واضح اشارے مل رہے ہیں۔

اور اب ایک تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں سمندر کی سطح سالانہ 6ملی میٹر بلند ہورہی ہے، ماحولیاتی تبدیلیوں سے کراچی کے ڈوبنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے، جزائر مالدیپ اور بنگلہ دیش کو بھی خطرہ ہے۔ واضح رہے عالمی تھنک ٹینک جرمن واچ نے گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس میں پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا کے 10 سب سے زیادہ غیرمحفوظ ممالک میں شمار کیا ہے۔

ماحولیاتی آلودگی کو بیشتر ممالک سنجیدگی سے لے رہے ہیں جب کہ ترقی پذیر ممالک میں آلودگی کو زیادہ اہمیت نہیں دی جارہی، اور افسوس ناک امر یہ ہے کہ پاکستان بھی ان ملکوں میں شامل ہے جہاں اس شدید خطرے کے حامل مسئلے سے پہلوتہی برتی جارہی ہے۔

پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ کونسل کے نام سے ادارہ موجود ہے لیکن دیگر اداروں کی طرح یہ بھی غیر فعال ہے، اپنے قیام کے 9 برسوں میں اس ادارے کا صرف ایک اجلاس ہی ہوسکا ہے، جس سے اداروں کی مجرمانہ غفلت کا ادراک ہوتا ہے۔ ماہرین ارضیات کے مطابق موسمی تغیر کے سبب سندھ کے ساحلی علاقوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ سمندر کی سطح میں سالانہ اضافے کے باعث ساحلی علاقوں کی زمین سمندر برد ہورہی ہے۔ ارباب اختیار کو نو ایشوز اور پوائنٹ اسکورنگ کی سیاست چھوڑ کر حقیقی مسائل پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، یہی وقت کا اہم تقاضا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔