ذوق مطالعہ

رئیس فاطمہ  بدھ 31 اکتوبر 2012

سن 2004 سے میں نے اپنے کالموں کے ذریعے کچھ اچھی کتابوں اور ادبی رسائل کے تعارف کا سلسلہ شروع کیا تھا، جسے بہت پذیرائی ملی تھی۔ اس کا ایک ہی مقصد تھا کہ کتاب کلچر کا فروغ ہو۔

بعد میں بہت سے دوسرے کالم نگاروں نے بھی اس سلسلے کو جاری رکھا۔ جن میں جناب حمید اختر سرفہرست ہیں۔ جن کی وجہ سے لوگ اچھی کتابوں اور رسائل سے واقف ہوئے۔ لوگوں کی اکثریت نے اسے پسند کیا۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی تھے اور ہیں جن کا استدلال یہ ہے کہ ادارتی صفحے پر صرف سیاسی موضوعات پہ کالم چھپنے چاہئیں۔ میرا کہنا یہ ہے کہ اچھی کتب و رسائل کا تعارف اس لیے بھی ضروری ہے کہ چوبیس گھنٹے ماردھاڑ سے بھرپور ٹی وی ٹاک شوز سر میں درد اور ہائی بلڈ پریشر کا باعث بنتے ہیں۔ ایسے میں اچھی کتابوں کا مطالعہ ذہن کو آسودگی عطا کرتا ہے۔

لیکن مجھے حیرت ہوتی ہے ان قارئین پر جنھیں کتابوں کا ذکر پسند نہیں…! اور یہی سب سے بڑی وجہ ہے اس سوسائٹی کے زوال کی، جس میں علم و دانش سے بیگانگی ایک فیشن بن کر ابھر رہی ہے۔ نئی نسل نہ تو اخبار پڑھتی ہے نہ کتاب، کیوں کہ انھوں نے پیزا اور برگر کلچر کو آس پاس دیکھا ہے، کتابوں سے دوری کے باعث موجودہ نئی نسل کے پاس نہ حافظہ ہے نہ مطالعے کا شوق۔ پیزا کلچر نے انھیں ماضی سے بیگانہ اور مستقبل سے بے خبر رکھا ہے۔

لیکن اس مایوس کن صورت حال میں جب قارئین مجھ سے پوچھتے ہیں کہ بہت دنوں سے میں نے کسی نئی یا پرانی کتاب یا رسالے سے تعارف نہیں کرایا تو مجھے اور مجھ جیسے دوسرے قلم کاروں کو ایک حوصلہ ملتا ہے کہ اندھوں کے دیس میں آئینے بیچنے والے ابھی مکمل طور پر مایوس نہیں ہوئے ہیں۔ اسی لیے آج بہت سارے قارئین کا خیال کرتے ہوئے چند ادبی رسائل کا ذکر کروں گی۔ کیوں کہ نہایت ناگفتہ بہ حالات میں ادبی رسائل اپنا وجودکس طرح برقرار رکھے ہوئے ہیں اس کا ادراک ان سب کو ہے جو مطالعے کے شوقین ہیں اور مطالعہ جن کی زندگی ہے، کیوں کہ مطالعہ ہی انسانی ذہن کو جلا بخشتا ہے۔

سب سے پہلے سہ ماہی ’’اجراء‘‘ کا ذکر کروں گی۔ یہ اس پرچے کا گیارہواں شمارہ ہے۔ ابتداء سے لے کر آج تک ’’اجراء‘‘ نہایت پابندی سے وقت پر شایع ہورہا ہے۔ اس لحاظ سے یہ واقعی ’’سہ ماہی‘‘ کہلانے کا مستحق ہے۔ اس شمارے میں میری توجہ کا مرکز ڈاکٹر مرزا حامد بیگ کا مضمون ’’شہاب نامہ کی حقیقت‘‘ ہے، جو بہت سے نئے گوشے کھولتا ہے۔ اور بہت سے رازوں پر سے بھی پردہ اٹھاتا ہے۔ ہمارے بڑے بڑے ’’نامور ادیب‘‘ ذاتی مفاد کے لیے کس طرح ایک بیوروکریٹ کو صوفی اور برگزیدہ ہستی بنا دیتے ہیں۔ یہ سب آپ کو اس مضمون میں ملے گا جو بہت محنت اور توجہ سے لکھا گیا ہے۔ دوسرا بہت اچھا اور دل چسپ مضمون کمال احمد رضوی کا ’’شاگرد رشید عمر تھانوی‘‘ہے ، جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ان دو مضامین کے علاوہ استاد غلام علی خاں پر لکھا جانے والا مضمون بھی اپنی جگہ آپ نہایت عمدہ ہے۔ یہ مضمون دراصل مالیتی جیلانی اور قرۃ العین حیدر کے مضمون کی تلخیص ہے۔

دوسرا اہم پرچہ جو میرے سامنے ہے وہ ہے لاہور سے شایع ہونے والا ماہنامہ ’’الحمراء‘‘ جو ہر ماہ 10 تاریخ کو شایع ہونے کا ایک ریکارڈ رکھتا ہے۔ زیر نظر شمارہ یوں تو ’’افسانہ نمبر‘‘ ہے کہ اس شمارے میں کل دس افسانے ہیں۔ لیکن میں نہیں سمجھتی کہ صرف دس افسانوں کی بناء پر اسے افسانہ نمبر کہا جائے، کیوں کہ اس شمارے میں وہ تمام موضوعات ہیں جو ہر ماہ کے شمارے میں ہوتے ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ اس دفعہ افسانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ افسانہ نمبر میں صرف افسانے اور افسانوی ادب سے متعلق مضامین و مقالات ہونے چاہئیں تب ہی اس کو افسانہ نمبر کہا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود افسانوں کے علاوہ دیگر مستقل موضوعات پر بھرپور مقالے اور مضامین، آپ بیتیاں، خاکے، یادرفتگاں، سفرنامہ وغیرہ بہت کچھ ہے۔

الحمراء ایک ایسا معیاری پرچہ ہے جس میں قارئین کو اپنے اپنے ذوق کے مطابق پڑھنے کو بہت کچھ ملتا ہے۔ اچھی اور معیاری تحریر الحمراء کی خاص پہچان ہے۔ پورے پاکستان میں ’’الحمراء‘‘ واحد پرچہ ہے جو وقت پہ اور مسلسل ہر ماہ شایع ہونے کا ایک ریکارڈ رکھتا ہے۔ تیسرا پرچہ ہے لاہور کا ’’فنون‘‘ جو پوری آب و تاب سے شایع ہوا ہے۔ البتہ یہ شمارہ کچھ تاخیر سے شایع ہوا ہے، وجہ وہی لوڈشیڈنگ کا عذاب، جس کے بارے میں ناہید قاسمی مجھے فون پر کئی بار بتا چکی تھیں لیکن تاخیر کے باوجود جس شان سے ’’فنون‘‘ کا یہ شمارہ سامنے آیا ہے تو ساری خطائیں معاف کر دینے کو جی چاہتا ہے۔

611 صفحات پر یہ ضخیم شمارہ اپنے اندر بے حد اچھے افسانے، مقالات اور مضامین اور غزلیات سمیٹے ہوئے ہے۔ وہی معیار جو قاسمی صاحب کے زمانے میں تھا۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اس میں اضافہ ہی ہوا ہے کمی نہیں۔ خدا کرے فنون یونہی پھلتا پھولتا رہے۔اور اب ذکر ہے ایک ایسے پرچے کا جس کا نام ہے ’’تناظر‘‘ اور یہ گجرات سے شایع ہوا ہے۔ میرے سامنے اس کا پہلا شمارہ ہے جو اس کے مدیر جناب خالد فیاض نے بھیجا ہے۔ میں نے اپنے کالموں میں ہمیشہ ان ادبی پرچوں کا بھرپور تعارف کرایا ہے۔ جو چھوٹے شہروں سے نکلتے ہیں اور اپنی اہمیت کے حوالے سے دل جیت لیتے ہیں۔

کیوں کہ ادبی پرچہ نکالنا سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔ یہ سودا جس کے سر میں سما جائے وہ نفع نقصان نہیں دیکھتا۔ منافع مدنظر ہو تو لوگ ایسے رسالے نکالتے ہیں، جن میں چٹخارے اور مسالے دار تحریریں اس کی فروخت کا باعث بنتی ہیں۔ لیکن ادبی پرچے نکالنے والے مسائل سود و زیاں سے آزاد ہوتے ہیں۔ ’’تناظر‘‘ پہلی ہی نظر میں متاثر کرتا ہے۔ کتابی سائز میں شایع ہونے والا پہلا شمارہ کہہ رہا ہے کہ ’’پوت کے پاؤں پالنے میں نظر آرہے ہیں۔‘‘ خدا کرے یہ اپنا قد کاٹھ نکالے اور جلد اپنی جگہ بنائے۔

اس حقیقت کا اعتراف کرنا ضروری ہے کہ تناظر کے مضامین کے انتخاب میں خاصی محنت سے کام لیا گیا ہے۔ خدا کرے یہ معیار اور حوصلہ برقرار رہے ’’انجمن ستایش باہمی‘‘ کا زہر اس محنت کو رائیگاں نہ کردے کہ ادب کو سب سے زیادہ نقصان اسی اقربا پروری نے پہنچایا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔