عالمی خوشحالی انڈیکس میں پاکستان مزید25 درجے نیچے چلا گیا

نمائندہ ایکسپریس  جمعرات 1 نومبر 2012
غربت کی شرح بڑھنے سے معیار زندگی مزید گر گیا ، 142ممالک میں پاکستان کا132واں نمبر فوٹو: فائل

غربت کی شرح بڑھنے سے معیار زندگی مزید گر گیا ، 142ممالک میں پاکستان کا132واں نمبر فوٹو: فائل

اسلام آباد: پاکستان میں غربت کی شرح بڑھنے سے معیار زندگی مزید گر گیا جبکہ عالمی خوشحالی انڈیکس میں پاکستان کی پوزیشن میں مزید 25درجے تنزلی ہوئی ہے ۔

لیگاٹم انسٹی ٹیوٹ لندن کے عالمی خوشحالی انڈیکس2012ء میں پاکستان دنیا کے142ممالک میں سے 132ویں نمبر پر ہے ۔2011ء میں پاکستان کا نمبر107تھا ، اس طرح ایک سال کے دوران خوشحالی انڈیکس میں پاکستان کی پوزیشن میں25 درجے تنزلی ہوئی ہے ۔ انڈیکس میں بھارت کا 101 اور بنگلہ دیش کا103نمبر ہے ۔ خوشحالی انڈیکس میں مسلسل چار سال سے ناروے پہلے اور ڈنمارک دوسرے نمبر پر ہے۔ اس دوران امریکا میں بھی مجموعی خوشحالی میں دو درجے تنزلی ہوئی ہے اور اس کی پوزیشن10سے 12پر آ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق چار سال کے دوران اندیکس پر سویڈن، نیدرلینڈ، جرمنی، ہانگ کانگ ، ملایشیا، سعودی عرب، چین، سری لنکا اور انڈونیشیا میں مجموعی طور پر خوشحالی کی صورتحال میں بہتری دیکھی گی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے چھ سال سے انڈیکس جاری کیا جا رہا ہے جو ملکوں کی معیشت، تعلیم، تجارت، گورنس، صحت ، شخصی آزادی، تحفظ اور سکیورٹی صورتحال کی بنیاد پر ترتیب دیا جاتا ہے ۔

دریں اثناء عالممی اقتصادی فورم ( ڈبلیو ای ایف) کے فنانشل ڈویلپمنٹ انڈیکس میں پاکستان تین درجے کمی کے بعد 58ویں نمبر پر آ گیا ۔ مشعال پاکستان کی طرف سے گذشتہ روز جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا کہ ورلڈ اکنامک فورم کے فنانشل ڈویلپمنٹ انڈیکس میں پاکستان تین درجے کم ہو کر مجموعی طور پر باسٹھ ممالک میں 58ویں نمبر پر آگیا ہے جبکہ گذشتہ سال پاکستان55ویں نمبر پر تھا ۔ مشعال پاکستان کے سی ای او عامر جہانگیر نے کہا ہے کہ مجموعی طور پر جہاں پاکستان کے درجے میں کمی آئی وہیں چند شعبوں میں بہتر ی بھی ریکارڈ کی گئی ہے ۔

بینکوں کی سرکاری تحویل کے حوالے سے انڈیکس میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے ، چھوٹے قرضوں کے حصول کے حوالے سے پاکستان کا درجہ 12 نمبر سے بہتر ہو کر9 ہو گیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق آڈٹ اینڈ رپورٹنگ میں پاکستان کا درجہ52سے بہتر ہو کر 48 ہو گیا ہے ، لیگل اور ریگولیٹری ا فئیرز میں بھی پاکستان کے درجے میں بہتری آئی ہے ۔ لیگل اور ریگولیٹری افئیرز میں بھی پاکستان کا درجہ 32سے بہتر ہو کر 21 ہو گیا ہے، جاری کھاتے اور مجموعی قومی پیداوار کے تناسب میں پاکستان کا درجہ 13سے بہتر ہو کر 40 ہو گیا ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔