ترقی پسند تحریک کے انگریزی داں وارثین

انتظار حسین  جمعـء 15 جنوری 2016
rmvsyndlcate@gmail.com

[email protected]

’سرخ سلام‘ نام کی کتاب جب اکسفورڈ یونیورسٹی پریس (کراچی) کی وساطت سے پاکستان میں نمودار ہوئی تو سمجھو کہ ترقی پسند مصنفین کے سوکھے دھانوں پر پانی پڑ گیا۔

فوراً ہی پہلے کراچی میں اور پھر لاہور میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے دفتر میں اس کی افتتاحی تقریب ہوئی۔ بائیں بازو کے دانشور جمع ہوئے۔ چونکہ پوری تقریب انگریزی میں جاری تھی اس لیے بڑے مہذب انداز میں اپنی بہار دکھا رہی تھی۔ مگر ہوا یہ کہ آخر میں عابد حسن منٹو خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ انھوں نے پوچھا کہ اردو میں بولنے کی اجازت ہے۔ وہ تو صدارت کر رہے تھے۔ انھیں کس سے اجازت لینی تھی۔ مگر ان کی طرف سے اردو میں اجازت کی مانگ گویا اس تقریب پر ایک طنز بھرا تبصرہ تھا۔

اصل میں معاملہ یہ ہے کہ اس تحریک کے سارے بادل تو گرج برس کر گزر گئے ۔ عابد حسن منٹو کے متعلق کہہ لیجیے کہ

آخری بادل ہیں اک گزرے ہوئے طوفان کے ہم

وہ تحریک کے آخری ایام میں نمودار ہوئے تھے۔ تو ان سے زیادہ اور کسے اس بات کا احساس ہو سکتا تھا کہ یہ گھٹا تو ارد و میں امنڈی تھی۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کا کمیونسٹ پارٹی میں جتنا عمل دخل تھا وہ تو اردو میں تھا۔ یہ مخلوق کیا نظم کیا نثر جتنا بھی گرجی برسی اور حق یہ ہے کہ بہت دھوم سے گرجی برسی وہ ساری برکھا اردو میں تھی۔

اگر آپ اس زبان کو فراموش کر کے انگریزی میں گٹ پٹ کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔ سو اس باب میں آئرنی (irony) اس طرح پیدا ہوئی کہ اس پر اب کام انگریزی میں ہو رہا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کی تاریخ (بمعہ انجمن ترقی پسند منصنفین) انگریزی میں نمودار ہوئی۔ یہ دلی کی رخشندہ جلیل کا تحقیقی کام ہے ’سرخ سلام‘ کامران سکندر علی کا تحقیقی کام ہے۔ یہ بھی انگریزی میں ہے۔

عابد حسن منٹو نے بدعت یہ کی کہ اردو میں رواں ہو گئے اور زور کی تقریر کی کہ بس یہ سمجھو کہ سامعین سوتے سے جاگ اٹھے۔ بس پھر گرما گرم بحث شروع ہو گئی۔

اب ہمیں یاد آ رہا ہے کہ ابھی تھوڑا عرصہ پہلے حمید اختر ہمارے درمیان موجود تھے اور ان کا قلم رواں تھا وہ سید سجاد ظہیر سے شروع ہوئے اور تحریک کے مختلف اکابرین کا احوال رقم کرتے چلے گئے۔ اس ذیل میں ان کے کئی مجموع شایع ہوئے۔ ہاں ایک چھوٹی سی کتاب ان کی جیل یاترا کے طور پر شایع ہوئی ۔ یہاں انھوں نے اپنی جیل یاترا کے تجربے کو بہت مؤثر انداز میں بیان کیا تھا۔

اب صورت احوال یہ تھی کہ ویسے تو اس تحریک کے اکابرین بھی تحریک سے فارغ ہو کر یعنی جلسوں جلوسوں اور قید و بند کے مراحل سے گزر کر تحریر کے میدان میں اتر آئے تھے۔ سجاد ظہیر‘ سید سبط حسن‘ علی سردار جعفری مخصوص طور پر اب اپنے قلم کے ساتھ رواں تھے۔ مگر یہ ان کی علمی مصروفیات تھیں۔

یعنی جس کام کو وہ تحریک کے دوران بھولے ہوئے تھے اور جس کے وہ پوری طرح اہل تھے وہ اب انجام دے رہے تھے۔ مگر تحریک کے بارے میں جس شخص کا قلم رواں تھا وہ اکیلے حمید اختر تھے۔ شخصیتوں پر لکھنے کے بعد وہ اپنے اخباری کالم میں رواں ہو گئے۔ کتنے کالم انھوں نے ایسے لکھے جہاں تحریک کے حالات و واقعات محفوظ کیے گئے تھے۔ ایک ایسے ہی مجموعے کی افتتاحی تقریب میں ہم نے صدارت کی تھی۔ اور بجا کی تھی۔ کیونکہ

گھایل کی گت گھائل جانے اور نہ جائے کوئی

اب وہ اس مرض میں مبتلا تھے جس کی تشخیص ترقی پسند حکما نے ہمارے یہاں کی تھی یعنی نوسٹلجیا کا موذی مرض۔ تب ہم نے حمید اختر سے کہا کہ اب ہماری تمہاری سنگت بہت بجا اور وقت کی آواز ہے۔

آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو ہائے گل پکار‘ میں چلاؤں ہائے دل

اور اے مرے عزیز‘ اپنے اس فرض کو صحیح طریقے سے انجام دو۔ یادوں سے لبریز کالم برحق ۔ مگر صحیح طور پر یہ فرض اس صورت ادا ہو گا کہ تم تحریک کے دوران خود جن تجربوں سے گزرے ہو اور پوری تحریک کو جن تجربوں سے گزرتے دیکھا ہے انھیں یکجا کر کے سلیقے سے مرتب کرو۔ اس تحریک کی تاریخ تو آگے آنے والے مورخین لکھتے رہیں گے۔ لیکن تمہاری کتاب خود تحریک کے ایک راوی کی طرف سے جس نے اس لمبی مدت میں اس کا سارا گرم و سرد دیکھا ہے، ایک مستند بیان ہو گا اور آگے آنے والے مورخوں کے لیے ایک قیمتی ماخذ کی حیثیت رکھے گا۔

مگر انصاف کی بات یہ ہے کہ کالم تو ان کا ذریعہ ٔ روزگار تھے۔ سو کالم نگاری کو کیسے طاق میں رکھتے۔ سو انھیں تو وقت نے اور ان کے اپنے حالات نے اتنی مہلت نہیں دی کہ وہ یہ کام خاطر خواہ طریقہ سے انجام دیتے۔

ہاں صفدر میر انگریزی میں یہ حق ادا کر سکتے تھے کہ وہ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں رواں تھے۔ مگر ان کے ساتھ دقت یہ تھی کہ وہ تھے گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ۔ خود تحریک کے اکابرین کے خلاف بھرے بیٹھے رہتے تھے۔

تو وہ دانشور اور اہل قلم تو اپنے پورے قافلے کے ساتھ گزر گئے ۔ کتنا کچھ لکھ کر چھوڑ گئے۔ اب دیکھئے آج ہی ہمیں پروفیسر سید احتشام حسین کے دو موٹے موٹے دفتر موصول ہوئے ہیں۔ احمد سلیم کے مرتب کردہ یہ دو دفتر جو سنگ میل نے شایع کیے ہیں انھیں لیفٹ کا نیا دانشور کیسے پڑھے گا۔ اردو اگر وہ جانتا بھی ہو گا تو یہ اس کے شایان شان نہیں کہ وہ کسی نقاد کسی دانشور کی اردو تحریروں میں سر کھپائے اور جاننے کی کوشش کرے کہ یہ لیفٹ سے وابستہ دانشور کس طرح سوچتا تھا اور کیا کہتا تھا۔

اور آج کے انگریزی داں دانشور کا کیا حال ہے۔ ہمارے دانشور خالد احمد کہتے تھے کہ یہ جو طالبان والی سوچ ہے وہ مدرسوں سے آئی ہے۔ مدرسوں کے طالب علم انگریزی زبان سے نا آشنا ہوتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نئی سوچ سے بے خبر ہیں۔ تو پھر:

کہاں سے کس سبو سے کاسۂ پیری میں لے آئے

مگر اب تو یونیورٹسیوں سے نکلے ہوئے دانشور اور یہاں کی یونیورسٹیوں سے نہیں لندن اور نیویارک واشنگٹن کی یونیورسٹیوں سے نکلے ہوئے دانشور اسی سوچ کو انگریزی کے سانچے میں ڈھال کر نمودار ہوتے ہیں۔ لیجیے اکبر الہ آبادی کاا یک شعر سن لیجیے۔

فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں
ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں

آج کا مسلمان دانشور کمال ہے۔ وہ آج کے فلسفوں اور سائنسی علوم میں خدا کو دریافت کرنے پر تلا بیٹھا ہے اسے شکایت یہ ہے کہ فلسفہ و سائنس میں اتنی شناوری کرنے کے بعد بھی مسلمان سائنسدانوں نے اپنی اسلامی سائنس کیوں مرتب نہیں کی۔ اب ہم کیا کہہ سکتے ہیں کہ نہ مسٹر ہیں نہ مولانا۔ یہ تو ہود بھائی کے پالے میں بات پہنچ گئی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔