ڈاکٹرقدیرنے ’’تحریک تحفظ پاکستان‘‘کے نام سے نئی جماعت بنالی

ایکسپریس اردو  بدھ 18 جولائ 2012
ایٹمی سائنسدان پارٹی کے سرپرست اعلیٰ ہونگے،اسلم بیگ،سردارعتیق اوردیگرکی موجودگی میں اعلان. فوٹو فائل

ایٹمی سائنسدان پارٹی کے سرپرست اعلیٰ ہونگے،اسلم بیگ،سردارعتیق اوردیگرکی موجودگی میں اعلان. فوٹو فائل

اسلام آباد: ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے ملک کو درپیش سیاسی، معاشی اور سماجی چیلنجوںسے نکالنے کیلیے ’’تحریک تحفظ پاکستان‘‘ کے نام سے ایک نئی جماعت بنانے کا اعلان کردیا ہے۔یہ اعلان انھوںنے سابق رکن قومی اسمبلی چوہدری خورشید زمان کی رہائش گاہ پر منعقدہ مشاورتی میٹنگ کے دوران کیا۔

جس میںسابق آرمی چیف جنرل(ر)مرزااسلم بیگ، سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردار عتیق احمد خان،سابق وزیردفاع کرنل (ر)غلام سرورچیمہ،سابق وفاقی وزیر ملک امین اسلم، سابق ارکان قومی اسمبلی سردارمنصورحیات ٹمن،عدنان اورنگزیب خان،رکن قومی اسمبلی حنیف عباسیاوردیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔ڈاکٹراے کیوخان نئی جماعت ’’تحریک تحفظ پاکستان‘‘ کے سرپرست اعلیٰ ہونگے۔ڈاکٹر اے کیو خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میںسیاست میں نہیں آنا چاہتا تھا جب ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے توخاموش تماشائی کے طورپرنہیں بیٹھ سکتا۔نااہل حکمرانوں نے ملک کوتباہ کردیا وہ کسی خونی انقلاب کاحامی نہیں ہوں،

ملک کوکوئی بیرونی خطرہ نہیں ۔ صرف اندرونی خطرات ہیں۔انھوں نے کہاکہ سابق وزیراعظم گیلانی کا پورا خاندان چور ہے، کل تک ان کے پاس گاڑی تک نہیں تھی، سر سے پائوں تک یہ کرپشن میں ملوث ہیں۔انھوں نے کہا کہ نوجوان اُٹھ کھڑے ہوں اور آئندہ انتخابات میںاچھی شہرت کے حامل افرادکومنتخب کریں۔انھوں نے انکشاف کیا کہ مشہودنامی کپتان نے سابق صدرجنرل ضیا الحق کاطیارہ دانستہ خودگرایاتھا۔ڈاکٹر اے کیو خان نے کہا کہ میں نے یہ واقعہ اعجازالحق کو سنایاتھااور اعجازالحق رو پڑے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ڈرون طیارے گرانے کی ٹیکنالوجی ہمارے پاس موجود ہے۔ اگر ہم امریکہ کے 10 سے 12 ڈرون طیارے گراچکے ہوتے تو آج امریکہ کو بے گناہ افراد مارنے کی جرأت نہ ہوتی۔سابق آرمی چیف جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ نے کہا کہ امریکا ایک جنرل مشرف کیساتھ ملکر 2008ء کے الیکشن میں دھاندلی کی منصوبہ بندی کرچکا تھا مگر جنرل اشفاق پرویزکیانی نے امریکی ڈیل ناکام بنادی اور 2008ء کے الیکشن میں مداخلت نہیں کی۔انھوںنے کہاکہ جنرل کیانی نے سیاست کارخ تبدیل کردیا۔انھوں نے فوج کو سیاست سے دور رکھ کر بہترین فیصلہ کیا۔پہلے سیاست دائرے کے گرد گھومتی تھی مگراب دائرے ٹوٹ گئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ آئندہ الیکشن شفاف ہوںگے عدلیہ آزاد ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔