عوام اصل مجرم ہیں (پانچواں حصہ)

جاوید چوہدری  جمعرات 1 نومبر 2012
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

آپ عوام کا یہ دعویٰ درست ہے ملک میں مہنگائی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہے۔

ملک میں کھانے پینے کی اشیاء امریکا اور یورپ سے زیادہ مہنگی ہیں‘ ذخیرہ اندوز‘ ملاوٹ باز اور سرمایہ دار چیزوں کی مصنوعی قلت پیدا کرتے دیتے ہیں اور عوام کے لیے تنخواہوں میں گزارا ممکن نہیں‘ یہ اعتراض سو فیصد درست ہے لیکن آپ نے کبھی غور کیا، مہنگائی میں حکومت کا ہاتھ تیس فیصد جب کہ عوام کا ستر فیصد ہوتا ہے‘ ہم صرف گندم ہی کیوں کھاتے ہیں‘ دنیا بھر کے ڈاکٹر شوگر‘ بلڈپریشر‘ کولیسٹرول اور ٹینشن کے مریضوں کو گندم ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور مریض جوں ہی آٹا چھوڑتے ہیں ان کا مرض آدھا رہ جاتا ہے‘ ہم لوگ گندم یا آٹے کی مہنگائی کے دنوں میں متبادل خوراک پر کیوں نہیں جاتے ‘ ہم آٹے میں جو‘ باجرے یا مکئی کا آٹا مکس کر کے کیوں نہیں کھاتے‘ ہم عوام مہنگائی کے دنوں میں پیاز یا ٹماٹر کا استعمال کم کیوں نہیں کر دیتے‘ ہم مہنگائی کے ساتھ ساتھ گھی اور چینی کا استعمال کم اور زیادہ کیوں نہیں کرتے۔

یہ درست ہے بجلی‘ گیس اور پٹرول کی قیمتیں ناقابل برداشت ہیں لیکن ہم ذاتی زندگی میں پٹرول‘ گیس اور بجلی کی لوڈ مینجمنٹ کیوں نہیں کرتے‘ ہم گیس صرف ضرورت کے وقت استعمال کیوں نہیں کرتے‘ ہم گھر روشنی کے رخ پر کیوں نہیں بناتے‘ ہم گھروں میں روشن دان اور کھڑکیاں کیوں نہیں بناتے اور ہم گھروں میں دن کے وقت روشنی کیوں جلاتے ہیں‘ ہم سگنل پر اپنی گاڑی اور موٹر سائیکل کیوں اسٹارٹ رکھتے ہیں‘ مارکیٹ سے دودھ کا ڈبہ لینے کے لیے بھی گاڑی پر کیوں جاتے ہیں‘ ہم روزانہ کے بجائے مہینے میں ایک بار گھر کا سودا کیوں نہیں خریدتے‘ ہم دکانوں کے بجائے ہول سیل مارکیٹ سے چیزیں کیوں نہیں خریدتے اور ہم گھر کا سارا بوجھ ایک شخص کی جیب پر کیوں ڈال دیتے ہیں‘ گھر کا ہر شخص گھر کی معیشت میں کم یا زیادہ حصہ کیوں نہیں ڈالتا۔

ہم اپنے بچوں کو شروع سے خود انحصاری کی تربیت کیوں نہیں دیتے‘ ہم انھیں دن میں ایک آدھ گھنٹہ کام کرنے‘ ٹیوشن پڑھانے یا پھر دکانوں پر اشیاء سپلائی کرنے کی ترغیب کیوں نہیں دیتے‘ اگر دنیا کا دوسرا امیر ترین شخص وارن بفٹ آج بھی روزانہ دکانوں پر کوکا کولا کے کریٹ رکھتا ہے یا بل گیٹس کے بچے پڑھائی کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کے ذریعے پیسے کما رہے ہیں تو ہم اور ہمارے بچے ایسا کیوں نہیں کر سکتے‘ یہ بھی درست ہے غریب کو بیماریاں زیادہ چمٹتی ہیں‘ تھیلیسیمیا اور ہیپاٹائٹس کے زیادہ تر مریضوں کا تعلق لوئر طبقے سے ہوتا ہے لیکن ہم لوگ شادی سے پہلے اپنا اور اپنی بیوی کا خون ٹیسٹ کیوں نہیں کرا لیتے‘ ہم صرف چھ سو روپے خرچ کر کے آنے والے مسائل سے بچ سکتے ہیں‘ ہمارا مزدور‘ ہمارا غریب فیکٹری میں کام کرتے ہوئے منہ پر ماسک کیوں نہیں چڑھاتا‘ سر پر ہیلمٹ اور ہاتھوں پر دستانے کیوں نہیں پہنتا۔

یہ پانی ابال کر کیوں نہیں پیتا اور یہ گھر میں گوبر جلا کر مچھر کیوں نہیں بھگا لیتا‘ یہ چوبیس گھنٹے میں ایک گھنٹہ واک یا ڈنڈ بیٹھک کیوں نہیں نکال لیتا اور اگر یہ ایفورڈ نہیں کر سکتا تو یہ کم بچوں کی پالیسی پر کیوں نہیں جاتا ‘ ہمارے ملک میں غربت‘ مہنگائی اور بے روزگاری کی ستر فیصد جڑیں عوام کی ضداور ہٹ دھرمی میں گڑھی ہیں۔ اگر چودہ لوگوں کے خاندان کا صرف ایک فرد کام کرے گا یا ہم پیاز کے بغیر ہانڈی نہیں پکائیں گے اور ہمیں ہر سالن میں ٹماٹر اور ہر دوسرے دن گوشت چاہیے ہو گا‘ ہم بے ہنر ہوں گے اور ہم خاندان کو گندا پانی پلائیں گے تو ہم خواہ سونے کی کان کے مالک کیوں نہ ہو جائیں ہم غربت اور مہنگائی سے جان نہیں چھڑا سکیں گے چنانچہ ہم اپنی غربت‘ اپنی بے روزگاری اور اپنی مہنگائی کے خود مجرم ہیں‘ ہم ہی اس کے قصور وار ہیں۔

میں دل سے سمجھتا ہوں ریاست کو باپ کا کردار ادا کرنا چاہیے اور اگر ریاست یہ فنکشن ادا نہیں کر رہی تو پھر ہر شخص کو گریبان پکڑنے کا حق حاصل ہے لیکن سوال یہ ہے کیاہم گریبان پکڑنے سے پہلے اپنے آپ سے یہ پوچھتے ہیں ’’ہم ریاست کو دے کیارہے ہیں؟‘‘ ہم اٹھارہ کروڑ لوگوں میں سے صرف 18 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں‘ باقی 17کروڑ 78لاکھ لوگ صرف گریبان پکڑ رہے ہیں‘ ان سب کو سڑک بھی چاہیے‘ اسپتال بھی‘ اسکول بھی‘ کھانے پینے کی اشیاء بھی‘ بجلی‘ گیس‘ پٹرول اور کھاد میں سبسڈی بھی‘ لاء اینڈ آرڈر بھی‘ فوج بھی‘ نیوکلیئر بم بھی اور امریکا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے قدموں پر کھڑے حکمران بھی لیکن کیا یہ صرف اٹھارہ لاکھ لوگوں کے ٹیکس میں ممکن ہے؟

امریکا کے امریکا ہونے کی دس وجوہات ہیں اور ان وجوہات میں سے ایک وجہ ٹیکس کولیکشن بھی ہے‘ امریکا کے 31کروڑ 46لاکھ 86ہزار لوگوں میں سے 13کروڑ 80لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں جب کہ ہمارے ملک کے ننانوے فیصد لوگ ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ مجھے حکومت سے کوئی دلچسپی اور ہمدری نہیں‘ میں پاکستان کی حکومتوں کو سفاک اور خون آشام سمجھتا ہوں مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے مطالبہ‘ احتجاج اور دعویٰ صرف اس شخص کو کرنا چاہیے جو جیب سے کچھ دے رہا ہو‘ آپ ٹیکس ایک روپیہ نہ دیتے ہوں اور ساتھ ہی مطالبہ بھی کرتے ہوں اور بے غیرتی کا طعنہ بھی دیتے ہوں تو کیا یہ رویہ درست ہو گا؟ہم یقین کریں یا نہ کریں مگر ہم ملک کی بربادی میں برابر کے شریک ہیں‘ ہم قصور وار بھی ہیں اور مجرم بھی۔

آپ عوام اپنے رویوں پر بھی توجہ دیجیے‘ ہم نے سگنل فری سڑکوں سے سگنلز تک کا سفر ساٹھ برسوں میں طے کیا‘ پاکستان کے نوے فیصد عوام میں سے آپ اور میں گاڑی خریدنے والی پہلی نسل ہیں‘ یہ معاشرہ طویل ذاتی اور اجتماعی جدوجہد کے بعد شیشوں والے دفاتر اور عمارتوں تک پہنچا‘ پولیس کو ایک گاڑی خریدنے کے لیے دودو سال خط و کتابت کرنا پڑتی ہے‘ ہم لوگ نسلوں کی غربت‘ جدوجہد اور محنت کے بعد یونیورسٹیوں تک پہنچتے ہیں اور ہم میں سے چند خاندان ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر اس لیول تک آتے ہیں کہ یہ پٹرول پمپ لگا سکیں یا پھر چھوٹی موٹی دکان کھول سکیں لیکن آپ عوام امریکا میں بننے والی توہین آمیز فلم کا انتقام ان لوگوں سے لیتے ہیں‘ آپ پٹرول پمپ جلا دیتے ہیں‘ نوجوانوں کو قتل کر دیتے ہیں‘ دکانوں‘ گاڑیوں اور دفتروں کو آگ لگا دیتے ہیں‘ پولیس وینز اور گاڑیاں توڑ دیتے ہیں اور سڑکوں کے سگنلز کرچی کرچی کر دیتے ہیں۔

آپ بتائیے گستاخانہ فلم میں ان لوگوں اور ان املاک کا کیا قصور تھا اور کیا یہ ہم عوام کا فرض نہیں تھا‘ ہم ان عناصر کو روکتے‘ ہم اگر احتجاج بھی پر امن نہیں کر سکتے تو کیا پھر ہمیں قوم کہلانے یا مطالبہ کرنے کا حق ہے اور کیا ہم اس ملک میں یہ قانون نہیں بنا سکتے اگر آیندہ کسی مظاہرے کے دوران توڑ پھوڑ ہوئی تو مظاہرین اور احتجاج کرنے والی تنظیم نقصان پورا کرے گی؟ یہ درست ہے اس ملک میں ’’لاء لیس نیس‘‘ ہے‘ ہم رات تو دور دن کو بھی گھر سے نہیںنکل سکتے اور قتل‘ ڈاکے‘ چوریاں اور لڑائی مار کٹائی ہمارے روز مرہ کا حصہ بن چکی ہے لیکن ہم عوام نے آج تک انھیں روکنے کے لیے کیا کیا؟ کیا ہم ملزموں سے واقف نہیں ہیں؟ کیا یہ چور‘یہ ڈاکو‘ یہ قاتل‘ یہ قبضہ گروپ‘ یہ منشیات فروش‘ یہ رشوت خور اور یہ جواء باز ہماری گلیوں اور ہمارے محلوں میں نہیں رہتے‘ کیاہم ان اور ان کے حامیوں سے واقف نہیں ہیں؟

ہم واقف ہیں توپھر ہم نے آج تک ان کی گرفتاری اور ان کی بیخ کنی کے لیے کیا کیا؟ کیاہم نے آج تک پولیس‘ عدالت اور میڈیا سے رابطہ کیا‘ کیاہم نے محلے اور قصبے کی سطح پر کوئی پریشر گروپ بنایا؟ ہم اگر سیم باسیل کی فلم پر پورے ملک میں مظاہرہ کر سکتے ہیں‘ ہم اگر چیف جسٹس کی بحالی کے لیے جلوس نکال سکتے ہیں اور ہم اگر نیٹو سپلائی اور ڈرون حملوں کے خلاف لانگ مارچ کر سکتے ہیں توکیاہم معاشرے کو ان برائیوں سے پاک کرنے کے لیے مظاہرے نہیں کر سکتے اور کیاہم مظلوموں کی لاشیں اٹھا کر سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کا گھیرائو نہیں کر سکتے؟

آپ اگر ظلم سہہ کر خاموش رہیں گے یا بلیوں کو کبوتر کھاتے دیکھ کر آنکھیں بند کر لیں گے یا پھر دوسروں کے گھروں کو سیلاب میں بہتے دیکھ کر ٹیلوں پر بیٹھ کر ہنسیں گے تو یہ سیلاب‘ یہ بلی اور ظالم کے یہ ہاتھ ایک نہ ایک دن آپ کی گردن تک بھی پہنچیں گے اور آج اگر یہ ہاتھ آپ کی گردن تک پہنچ رہے ہیں تو پھر آپ چیختے کیوں ہیں؟ آپ اعتراض کیوں کرتے ہیں؟ آپ کی خاموشی‘ آپ کی بے حسی‘ آپ کی لاتعلقی اور آپ کی تماش بین فطرت اس ظلم‘ اس زیادتی اور اس خرابی کی ذمے دار ہے۔ آپ نے کبھی بھیڑیوں کو روکا ہی نہیں چنانچہ آج آپ کی خواہشوں کی بھیڑیں ادھڑی ہوئی آنتوں کے ساتھ آپ کے صحن میں پڑی ہیں‘ آپ اب ان کا تماشا دیکھئے‘ آپ بین کیوں کرتے ہیں‘ آپ مجرم ہیں اور مجرموں کو بین نہیں کرنا چاہیے۔ (جاری ہے)

نوٹ: آپ مجھ سے ٹوئٹر پر رابطہ کر سکتے ہیں (twitter.com/javedchoudhry) ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔