حکومت اور آفات

انیس باقر  جمعرات 1 نومبر 2012
anisbaqar@hotmail.com

[email protected]

امریکا کا موجودہ سمندری طوفان ہری کین سینڈی جو پیر کی رات 29 اکتوبر کو شروع ہوا۔

وہ موجودہ دور کی سخت ترین آفت تھی، تند و تیز ہوائیں، بارش اور برف باری کے ساتھ امریکا کے شہر نیو جرسی، نیویارک سے بوسٹن تک کے علاقے پر محیط تھا۔ اس کا مقابلہ جس تدبیر سے کیا گیا وہ یقیناً قابلِ تعریف ہے، ایک ہزار میل پر پھیلا دل دہلانے والا یہ طوفان اپنے ساتھ ہزاروں جانوں کو نگل سکتا تھا مگر تدبیر کے ذریعے اس کا مقابلہ جس طرح کیا گیا وہ یقیناً امریکی انتظامیہ کی صلاحیت کا امتحان تھا۔ اس سے قطع نظر کہ امریکی خارجہ پالیسی نے دیگر خصوصاً ایشیائی ممالک کے ایک بڑے حصّے میں عوام میں بے چینی کی لہر پیدا کر رکھی ہے، مگر اس ملک کی انتظامیہ نے اپنے عوام کو جس طرح پرسکون رکھا اور حفاظت کی اس پر کوئی دو رائے ممکن نہیں۔ اس سے قبل بش کے دور میں بھی ایک طوفان آیا تھا جسے ہری کین کترینہ کہا جاتا ہے۔

اس نے بھی تباہی پھیلائی تھی مگر اس وقت نیو آرلین میں افراتفری کی صورتِ حال تھی اور طوفان کے بعد بحالی میں تقریباً چھ ماہ کا عرصہ لگ گیا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ اس طوفان کی شدّت اس سے زیادہ تھی، مگر رقبے کے اعتبار سے یہ طوفان کہیں وسیع تھا، جانی اور مالی نقصان کہیں زیادہ متوقع تھا، لیکن اس طوفان میں 50 سے بھی کم اموات ہوئیں، رہ گیا مالی نقصان تو وہ ایک اندازے کے مطابق 25 بلین ڈالر کا نقصان ہوگا، کیوں کہ امریکا کی اسٹاک مارکیٹ بھی کئی روز اور بند رہنے کا امکان ہے۔ گزشتہ 100 برسوں میں امریکا میں ایسا طوفان نہیں آیا۔ بجلی سے تقریباً 65 لاکھ صارفین محروم ہیں اور وہ کتنے روز محروم رہتے ہیں، اس کے علاوہ شارٹ سرکٹ سے بڑی بلند اور کثیر المنزلہ عمارتوں میں سے لوگوں کو جس خوش اسلوبی سے باہر نکالا گیا ہے وہ بھی قابلِ دید مناظر تھے۔

ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا، ہمارے ملک میں محض ایک فیکٹری میں 300 افراد جل کر ہلاک ہوگئے جب کہ نہ آندھی تھی، نہ طوفان اور نہ سمندری آفت، نہ تیز ہوائیں، نہ ژالہ باری۔ ان سب معاملات پر غور کرنے اور سیکھنے کی ضرورت ہے کہ انتظامیہ کسے کہتے ہیں اور حکومت کس چیز کا نام ہے۔ حکومت کے اوّلین فرائض میں عوام کی جان و مال، عزت و آبرو کی حفاظت ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں حکمران طبقہ علم سے عاری ہے اور مشیروں کی بڑی تعداد کے باوجود بدستور کوئی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں ہے جب کہ ہمارے نبیؐ نے جو مثالیں چھوڑی ہیں، ہم ان کو فراموش کربیٹھے ہیں۔ آنحضرتؐ خدا کے آخری نبی اور انسانوں میں فضیلت کے اعتبار سے بلند ترین مقام کے حامل ہونے کے باوجود دوررس نگاہوں کے مالک لوگوں سے مشورہ کرتے تھے، پھر کوئی لائحہ عمل تیار کرتے تھے، مگر مشورہ ان سے لیا جاتا تھا جو صاحبِ الرائے تھے۔

جن لوگوں کو کردار اور عقل کی کسوٹی پر بغیر پرکھے مشیر بنایا جاتا ہے تو پھر ملک کا کیا حشر ہوگا، جس ملک میں بہو، بیٹے، داماد، عزیز و اقارب اور دوستوں کی حکومت ہوگی، اس کا مستقبل کیا ہوگا۔ آپ اور ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ یہاں موبائل فون بند کرکے اور موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی لگا کر نظم و نسق چلایا جاتا ہے۔ حکومتیں صبر و تحمل، ماضی کے تجربات، تاریخ کا مطالعہ، عوام کی نفسیات اور میڈیا کے ذریعے چلتی ہیں۔ اخلاق کی تعمیر اپنے اسلاف کے کارنامے، علم و ادب کی ترویج کے ذریعے ہوتی ہے، جس ملک میں مفکرین، فلسفی، صاحبِ حکمت حکومت سے دور ہوں گے، وہاں بھلا کس طرح ترقی ممکن ہے۔ حکومت ہے کہ احباب کی محفل؟ ملک کے ہر شعبہ میں یہی کلچر پروان چڑھ رہا ہے جو آنے والے اور مشکل وقت کا پتہ دے رہا ہے۔ بڑی چھوٹی سی بات ہے مگر بہت بڑی بات بانی پاکستان نے صرف تین الفاظ میں پیش کی ہے۔

اتحاد، تنظیم، یقینِ محکم، اتحاد کس کے درمیان ملک کے مختلف الخیال لوگوں کے مابین ریاستی ڈھانچے کی صحت مندی پر، اس کی مضبوطی پر، فوج کے ذریعے نہیں، خیال کی روشنی اور فکر کی دولت کے ذریعے۔ تنظیم کے معنی یہ نہیں کہ سیاسی پارٹیوں کی تنظیم ان کے نظری اور فکری معاملات اور اپنے کتابچے یا منشور پر بلکہ ہر پارٹی کی تنظیم ملک کے فلاحی راستے کی تعمیر یعنی دورِ حاضر میں Road Map روڈ میپ پر کہ یہ کارواں کہاں جائے گا، اس کی آخری منزل اور کامرانی کے اہداف کیا ہوں گے اور آخری لفظ یقینِ محکم قوم میں یقینِ محکم پیدا اس وقت ہوگا جب اس ملک کے قائدین یہ ثابت کریں کہ وہ قوم کے ہر درد و دکھ میں قوم کے ہر فرد کے ساتھ ہیں۔ یہ نہیں کہ دنیا کی باتیں ہوتی ہیں اور قوم کی معاشی فلاح کی باتیں نہیں ہوتیں۔ جب قوم کا اعتماد لیڈر شپ سے اٹھ جاتا ہے تو پھر گروہ بندی اور طوائف الملوکی پیدا ہوتی ہے۔

ہر شخص اپنی خودساختہ نائو بناتا ہے اور ناخدا ہوجاتا ہے۔ یقینِ محکم عوام میں پیدا کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں میں کردار کے غازی پیدا کرنے ہوتے ہیں۔ یہ یقینِ محکم عوام میں جب پیدا ہوتا ہے تو محض منشور کی تحریر سے نہیں بلکہ باعمل طریقے سے عوام پر ثابت کرنا ہوتا ہے، ورنہ خدا پر تو ہر انسان کا اعتقاد ہے اور یقینِ محکم ہے مگر جس راستے پر عوام کو گامزن کیا جاتا ہے تو کیا وہ راستہ خدا اور اس کے رسول کا بتایا ہوا ہے۔ کیا اس میں عوام کی فلاح موجود ہے یا ذاتی مفادات پوشیدہ ہیں، پاکستانی عوام کا یقینِ محکم حکمراں جماعتوں نے بری طرح مجروح کیا ہے۔

یہ آواز کہیں سے نہیں آتی کہ نیل کے ساحل پر ایک کتا بھی بھوکا مرتا ہے تو یہ ذمے داری عمرؓ کی ہے۔ حضرت ابوذرغفاریؓ کی آواز کہیں سے سنائی نہیں دیتی کہ سونا چاندی، زر و جواہر کو جمع کرنے اور راہِ خدا میں نہ خرچ کرنے والوں کو جہنم کی خبر دے دو۔ صد افسوس ہماری روایات آج غیر مسلموں کے پاس ہیں اس لیے وہ دنیا کی قیادت کررہے ہیں اور طوفان کو اپنے عزم، حوصلے سے جھیل لیا۔ اگر اوباما انتظامیہ شہروں میں کرفیو لگا کر کام نہ کرتی تو اس بدترین بلیک آئوٹ (Black out) میں وہ بدنظمی پھیلتی اور لوٹ مار کی وارداتیں ہوتیں کہ امریکا کا چہرہ آلودہ ہوجاتا اور دنیا کی سیاست کا میرِ کارواں بننا بھول جاتا مگر اس نے اس قدرتی آفت کا مقابلہ اس قدر حوصلے سے یوں کرلیا کہ انھوں نے یہ سبق اپنے ماضی کے حکمرانوں سے سیکھا ہے، وہ سبق جو ان کو ابراہام لنکن اور جارج واشنگٹن نے دیا تھا اور اس سبق کا نچوڑ کیا تھا؟ اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم یہ تین الفاظ دو طرفہ عمل ہے، حکمرانوں کا باعمل ہونا پھر رعایا کا ردّعمل یقیناً امریکا کی داخلہ پالیسی پر کون اعتراض کرسکتا ہے۔ ہر طرف بے یقینی کا بازار گرم ہے اور کوئی نہیں جو عوام میں یقینِ محکم پیدا کرے۔ کاش کہ ہم قائد کے راستے کو نہ بھولتے ورنہ ہم ایسی کمزور معیشت کے حامل نہ ہوتے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔