ٹیکسٹائل سیکٹر کو یوٹیلٹیز ترجیحاً دی جائیں، ٹی ایم اے

بزنس رپورٹر  جمعـء 2 نومبر 2012
حکومت امن قائم، انفرا اسٹرکچر مسائل حل، صنعتوں کو نئے خطروں سے بچائے، مہتاب چائولہ  فوٹو : فائل

حکومت امن قائم، انفرا اسٹرکچر مسائل حل، صنعتوں کو نئے خطروں سے بچائے، مہتاب چائولہ فوٹو : فائل

کراچی: وفاقی وزارت تجارت سے شعبہ ٹیکسٹائل کے برآمدکنندگان نے پانی بجلی اور گیس ترجیحاً فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا ہے تاکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں جدید مشینری وپلانٹس کی تنصیب سمیت توسیعی منصوبوں کو عملی شکل دی جاسکے۔

ٹیکسٹائل انڈسٹری کویہ ترجیح ملتے ہی یہ شعبہ پوری استعداد کے ساتھ متحرک ہوجائے گا جس کے نتیجے میں نہ صرف تجارتی خسارے میں کمی ہوگی بلکہ روزگارکے مواقع بڑھیں گے، برآمدی سرگرمیاں بلارکاوٹ جاری رہ سکیں گی۔ اس ضمن میں ٹاولز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین مہتاب الدین چائولہ نے ’’ایکسپریس‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ایم اے کی جانب سے مذکورہ مطالبہ حال ہی میں وفاقی سیکریٹری تجارت منیرقریشی کو پیش کردیا گیا ہے جس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک میں صنعت کاری کے فروغ کیلیے صنعتی شعبے کو ترجیحی بنیادوں پرتمام یوٹیلٹیز فراہم کی جائیں۔

اولین ترجیح شعبہ ٹیکسٹائل اور دوسری ترجیح دیگرشعبوں کی صنعتوں کی دی جائے تو ملکی معیشت پر اسکے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جاری بدامنی ولاقانونیت، پانی بجلی گیس کنکشنز کی عدم دستیابی وبحران صنعتی ترقی کی رفتار میں رکاوٹ ہے، نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر نہیں،صنعتی شعبہ آبادی بڑھنے کی رفتار کے تناسب سے ترقی نہیں کررہا، انفرااسٹرکچرل مسائل، کئی قسم کے بحرانوں نے مقامی وغیرملکی سرمایہ کاروں کے حوصلے پست کر دیے ہیں جوصنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں نہ ہی پہلے سے قائم صنعتوں کے مجوزہ توسیعی منصوبوں کو عملی جامہ پہنارہے ہیں۔ مہتاب چائولہ نے بتایا کہ صنعتوں میں آتشزدگی جیسے نئے خطرات بھی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔

قیام امن کیلیے عملی اقدامات اور انفرااسٹرکچرل ودیگر مسائل پر سنجیدگی کے ساتھ قابو نہ پایا گیا تو بیروزگاری کی شرح میں مزید اضافہ ہوگا اور بدامنی پھیلے گی جس سے معیشت کو بڑے پیمانے پرنقصان سے دوچار ہونا پڑے گا۔ انھوں نے کہاکہ حکومت پہلے مرحلے میں مستقل بنیادوں پرامن قائم کرے، صنعتوں کو لاحق آتشزدگی کے نئے خطرات سے نمٹنے کی ٹھوس حکمت عملی اختیار کرے اور صنعت کاری کے فروغ میں جمود توڑنے کیلیے انفرااسٹرکچرل مسائل پر توجہ دے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔