راہ داری کی پردہ داری ؛ پاک چین کاریڈور کا حتمی روڈمیپ کب سامنے آئے گا؟

انوار فطرت / غلام محی الدین  اتوار 24 جنوری 2016
اس منصوبے کی بدولت ان علاقوں میں پایا جانے والا احساس محرومی ختم ہو گا:فوٹو : فائل

اس منصوبے کی بدولت ان علاقوں میں پایا جانے والا احساس محرومی ختم ہو گا:فوٹو : فائل

 اسلام آباد: One Belt, One Road
’’ایک پٹی… ایک شاہ راہ‘‘
مخفف اس کا اوبور (OBOR)
چین کا عظیم الشان منصوبہ… چھے راہ داریوں کے مجموعے کا مختصر نام۔ پاک چین اقتصادی راہداری (PCEC) جس کا ایک حصہ ہے۔ پی سی ای سی کے علاوہ جو پانچ راہ داریاں بعد میں وجود میں لائی جائیں گی، درجِ ذیل ہیں:
1- China-Mongolia-Russia Economic Corridor.(CMREC)
2- New Eurasian Land Bridge (NELB)
3- China-Central and West-Asia Economic Corridor (CCWAEC)
4- China-Indo-China Penensula Economic Corridor (CICPEC)
5- Bangladesh-China-India- Myanmar Economic Corridor (BCIMC)

مختصر نام اوبور کے اس بے مثال حد تک بڑے منصوبے پر چین 900 ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس کا مقصد مہان انفراسٹرکچر پراجیکٹس کی وساطت سے یورپ اور ایشیا (Eurasia) کے درمیان میں مربوط اقتصادی بڑھوتری کی مزید افزائش کرنا ہے۔ یہ تمام کاریڈور، دو شاہ راہوں؛ نیو سلک روڈ اکنامک بیلٹ اور اکیسویں صدی لبِ بحر روڈ (21-Century Maritime Road) پر مشتمل ہے۔

نیو سلک روڈ اکنامک بیلٹ یا نئی شاہ راہِ ریشم اقتصادی پٹی، مغرب کی طرف سے روس اور وسطی ایشیا سے ہوتی ہوئی یورپ تک جائے گی جب کہ میری ٹائم روڈ کا ارتکاز جنوبی ایشیا اور جنوب مغربی افریقا کے راستے سمندروں کے کنارے کنارے یورپ تک رسائی پر مرکوز ہوگا۔ اوبور منصوبے کے ذریعے چین، ساٹھ ملکوں سے جڑ جائے گا اور اس کے تجارتی دائرے میں لگ بھگ ساڑھے چار ارب مزید افراد داخل ہو جائیں گے۔ اس سے چین کی حاصلات کا اندازہ 21 کھرب ڈالر لگایا جا رہا ہے، جس سے چین کی خالص قومی پیداوار (GDP) 25 فی صد بڑھ جائے گی۔

حال ہی میں چین کی معیشت کچھ لڑکھڑا گئی تھی، اوبور اسے اس صورت حال سے نہ صرف محفوظ کر لے گا بل کہ اس کی توسیع کرے گا اور اسے اپنے طے شدہ 6.8 فی صد اضافے کا ہدف حاصل کرنے میں سہولت دے گا، علاوہ ازاں، جہاں اس کی برآمدات بڑھیں گی، وہاں اسے اپنے بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط کرنے اور امورِ عالم میں اپنا مقام مزید مستحکم کرنے کے سمواقع ملیں گے۔ واضح رہے کہ Pakistan China Economic Corridor اس زنجیر کا اولیں حلقہ ہے۔

اس کے لیے 46 ارب ڈالر کا تخمینہ ہے جب کہ گزشتہ اگست میں اس کے لیے انجکشن کے طور پر 1.6 ارب ڈالر مزید بھی رکھے گئے ہیں۔ پاک چین راہ داری کے لیے مختص رقم پاکستان کی خالص قومی پیداوار کا کم و بیش 20 فی صد بنتا ہے۔ اس کی 502 کلومیٹر سڑکیں پہلے سے تعمیر کی جا چکی ہیں۔ توقع کے مطابق اسے 2017 میں مکمل ہوجانا چاہیے۔

اس راہ داری کو شمسی توانائی کے دنیا کے سب سے بڑے پاور پلان سے تقویت ملے گی۔ توانائی کے اس منصوبے پر ڈیڑھ ارب ڈالر کی لاگت آئے گی، اس کے علاوہ ایک آبی توانائی کا پلانٹ الگ سے بھی ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کے خرچے سے بنایا جائے گا۔ منصوبہ مکمل ہونے کے نتیجے میں پاکستان کی جی ڈی پی میں 4.5 فی صد کا خطیر اضافہ ہوگا۔

پاک چائنا اکنامک کاریڈورکاشغر سے گوادر تک ایک ایسا پراجیکٹ ہے،جس سے دنیا کے تین ارب لوگوں مستفید ہوں گے۔ اس کاریڈور میں ریلوے لائن، تیل اور گیس کی پائپ لائنیں اور فائبر آپٹکس کیبلز بچھائے جانے کی تجاویز منظور ہو چکی ہیں۔

یہ شاہراہ چین کی’’گرینڈ ویسٹرین ڈیویلپمنٹ اسٹریٹجی‘‘ کے نام سے شروع کیے جانے والے اْن منصوبوں میں سے ایک ہے، جن کا آغاز1978 میں چینی رہ نما ڈنگ ژیاوپنگ نے کیا تھا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں اس کاریڈور کو تعمیر کرنے سے متعلق بات چیت کا آغاز ہوا تھا اور اس شاہراہ کے لیے دوہزار کلو میٹر کا روٹ طے کیا گیا تھا اور اسلام آباد میں پاک چین اکنامک کاریڈور سیکریٹیریٹ 27 اگست 2013 سے فعال ہوا۔

منصوبے کے مطابق اس روٹ نے ایبٹ آباد‘ حسن ابدال‘ میاں والی‘ ڈی آئی خان ‘ ژوب اورکوئٹہ سے گزرتے ہوئے گوادر تک جانا تھا اور طے تھا کہ اس شاہ راہ کو موٹر وے کی بجائے ٹریڈ کاریڈور طرز پر تعمیر کیا جائے گا، جس پر مخصوص فاصلوں پر صنعتی زون بھی قائم ہوں گے۔ سال2013 میںماہرین نے کہا تھا کہ اگر یہ منصوبہ اسی طرح تیار ہو، جیسے ڈیزائن کیاگیا ہے، تو اس سے پورے پاکستان اور بالخصوص فاٹا‘ خیبرپختون خوا اور بلوچستان، تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز بن جائیں گے اور ان علاقوں سے انتہاپسندی اور دہشت گردی کے رجحانات کا خاتمہ ہو گا۔

اس کاریڈور کے روٹ میں جب سے تبدیلی کی باتیں سامنے آنے لگیں ، اْس وقت سے اس منصوبے کے متنازع بننے کے خدشات مسلسل بڑھ رہے تھے۔ خیبرپختون خوا اور بلوچستان کے زعماء برملا کہنے لگے تھے کہ میاں نواز شریف تخت لاہور کو اس کاریڈور سے مستفید کرانے کے لیے اس کا رخ اصل سمت سے ہٹانے کی منصوبہ بندی کرچکے ہیں۔جب بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے سینیٹروں کے علاوہ اپوزیشن نے بھی حکومت کو سخت احتجاج کی دھمکی دی تھی۔

تبھی وزیر اعظم کو یہ مسئلہ افہام تفہیم سے حل کر لینا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا، اس کے بعد یوں محسوس ہورہاتھا کہ وزیر اعظم نے28 مئی2015 کو بلائی جانے والی اے پی سی میں جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں ہوں گے اور یہ بھی کہا جا رہاتھا کہ وفاق کو شاید اس معاملے کے بھڑکیلے پن کا ادراک نہیںہے۔ وفاق یقیناً جانتا ہے کہ یہ چنگاری بروقت مسلی نہ گئی تو بہت کچھ راکھ ہوسکتا ہے لیکن اس کے باوجود معاملات جوں کے توں تھے ۔

یہ سوال تو بہت ہی اہم ہو گیا تھا کہ کیا مولانافضل الرحمان، محمودخان اچکزئی، اسفندیارولی، سردار اخترجان مینگل، عمران خان، سراج الحق، پرویزخٹک، ڈاکٹرعبدالمالک، الطاف حسین، رضاربانی اور سید خورشید شاہ کی اجتماعی دانش سے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی اور اصلاحات محترم احسن اقبال کی انفرادی عقل ودانش زیادہ بلیغ ہے؟ جو ہر فورم پرمشکوک ہورہی تھی۔ جب منصوبے پر اسلام آباد میں چینی سفارتی ترجمان نے نرم الفاظ میں پاکستانی سیاسی جماعتوں کو اختلافات ختم کرنے کی تلقین کی اور میڈیا میں اس بات کا خوب شور مچا تو تب15جنوری 2016 کو اس معاملے کی نزاکت کا احساس شاید پہلی مرتبہ وفاق کو ہوا اور وزیر اعظم کو دیگر مصروفیات چھوڑ کے ایک بار پھر تمام شراکت داروں کا اعتما د حاصل کرنا پڑا۔

وزیر اعظم کی سربراہی میں ہونے والے اس اجلاس میں طے پانے والے ایجنڈے اور باہمی اعتماد کی یہ بیل اب منڈھے چڑھتی ہے یا نہیں،یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن چین کو یہ بات کس تناظر میں کہنا پڑی؟ اُس کا ایک جواب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پاکستان جنوری 2016 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا مکمل ممبر بن رہا ہے، اس کی بدولت تنظیم کے ممبر ممالک کے ساتھ سیاسی ، معاشی اور تجارتی تعلقات میں تیزی سے بہتری آئے گی۔

دوسری طرف پاکستان ، چین، کرغستان اور قازقستان کے مابین ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ پر جاری مذاکرات کی بدولت ان ممالک کا تجارتی سامان پاکستان کے گرم پانیوں کے ذریعے سفر کرنے والا ہے اور حال ہی میں پاکستان نے عالمی ٹی آئی آر کنونشن میں شمولیت اختیار کی ہے، اس کا نفاذ بھی جنوری 2016 سے شروع ہونے کو ہے۔ یاد رہے کہ اس کنونشن کے ذریعے پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کے ممبر ممالک سے تجارت میں مزید سہولت ملے گی۔

روٹ بدلنے سے متعلق حکومت نے گذشتہ سال یہ دلیل دی تھی کہ وسائل کم ہونے کے باعث نئی سڑک تعمیر نہیں کی جاسکتی، اس لیے حسن ابدال سے گوادر تک نئی سڑک بنانے کی جائے اس ٹریڈ کاریڈور کے لیے موجودہ موٹروے (ایم ٹو) کو ہی استعمال کیا جائے، بعد ازاں اس کو ملتان سے گوادر کے ساتھ ملا دیا جائے گا لیکن جب لوگوں نے سوال کیا کہ اس بہانے کی آڑ میں بلوچستان اور خیبرپختون خوا کو اس نعمت سے محروم کیوں رکھا جارہا ہے؟ اس کا اچھا سا جواب وفاق کے پاس نہ تب بھی نہیں تھا نہ ہی فی الحال ہے اور سوچنے والے مخمصے میں گھرے ہوئے ہیں۔

تحفظات کا برملا اظہار اپنی جگہ لیکن سچ یہ ہی ہے کہ اس کاریڈور کی آٹھ کے قریب صنعتی بستیوں کی ضرورت بلوچستان اور خیبر پختون خوا ہی کو ہے۔ یادر ہے کہ چین نے بھی اس منصوبے میں مشرقی روٹ کی تبدیلی کو پسند نہیں کیا تھا، وہ بھی برہان سے براستہ میانوالی اور ڈی آئی خان، ژوب اور کوئٹہ سے ہوتے ہوئے گوادر تک رسائی چاہتا ہے کیوں کہ لاہور سے ملتان اور پھر کوئٹہ سے گوادر روٹ کے باعث چین کے لیے یہ فاصلہ کئی سوکلومیٹر بڑھ جائے گا۔

اُن دنوںیہ خبر سامنے آئی تھی کہ وزیراعظم نے روٹ میں تبدیلی کے ارادے کو ملتوی کردیا ہے لیکن خدا معلوم! کاریڈور کا بلیو پرنٹ کیوں جاری نہیں ہواتھا اور یہ سطور لکھے جانے تک ،اب بھی بلیو پرنٹ طے نہیں ہوا ۔ حکومت کا یہ موقف بھی ہے کہ پہلے مغربی روٹ کی سٹرک مکمل ہو لینے دی جائے ، راہداری کے دیگر لوازمات بعد میں تعمیر ہوجائیں گے۔

قریباً سال پہلے جب میاں نوازشریف نے ایبٹ آباد، حسن ابدل سیکشن کا افتتاح کیا تھا توامید بندھ چلی تھی کہ ایک متفقہ نقشہ سب کے سامنے آجائے گا لیکن حسن ابدال تا گوادر، شاہ راہ کی تعمیر کے لیے کوئی روڈ میپ سامنے نہیں لایا جا سکا۔ دھوئیں کی یہ دیوار کیسے زائل ہوگی؟ اب بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے۔
دوسری طرف پلاننگ کمیشن کی ایک بریفنگ کی کاپیاں میڈیا کے پاس اب بھی موجود ہیں۔ اس بریفنگ میں ایک اکنامک زون کے لیے لاہور اسلام آباد موٹر وے پر واقع ایک جگہ تجویز کی گئی تھی ۔ تب پوچھنے والوں نے بجا سوال کیا تھا کہ اگر کاریڈور نے مستقبل میں واقعی ڈی آئی خان ‘ ژوب سے گزرنا ہے تو پھر یہ اکنامک زون ایم ٹو پرکیوں تجویز ہوا؟ یاد رہے کہ این ایچ اے اور پلاننگ کمیشن نے ابتدائی دنوں میں اپنی بریفنگز میں اس کاریڈور کے لیے چار روٹ تجویز کیے تھے۔

1:۔حسن ابدال‘ کوہاٹ ‘ ڈی آئی خان‘ سراب ‘ پنجگور‘ گوادر۔۔۔
2:۔ ایم 2‘ ایم 3‘ ایم 4‘ ملتان‘ راجن پور‘ دادو‘ ورجی‘ حب اور گوادر۔۔۔
3:۔ حسن ابدال سے کراچی براستہ جی ٹی روڈ اور پھر وہاں سے گوا در۔۔۔
4:۔ حسن ابدال سے براستہ موٹروے رتو ڈیرو اور پھر وہاں سے براستہ خضدار ‘ آواران اور خوشاب گوادر تک۔

پلاننگ کمیشن کے مجوزہ روٹس میں سے نمبر (4) کے تحت منصوبوں پر کام کا آغاز بھی سوالیہ نشان اُٹھا رہا ہے جب کہ دوسری جانب اصل روٹ کا کاغذی نقشہ تک دستیاب نہیں اور نہ ہی کسی کو فیزیبیلٹی کی خبر ہے توپلاننگ کمیشن کی جانب سے تسلیوں کی بھرمار کے کیا معنی ہیں؟یہ بھی کہا جارہاہے کہ ابھی تو دستیاب روٹ سے ہی اس منصوبے کا آغاز ہوگا، بعد میں آرام سے اُس مختصر روٹ پر آہستہ آہستہ کام مکمل کر لیا جائے گا۔

چند دن پہلے ایک نجی ٹی وی پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ اگر خیبر پختونخوا میں صرف سڑک بنانے کا منصوبہ ہے تو وہ انہیں منظور نہیں، ہمیں سڑک نہیں، پاک چین کاریڈور چاہیے، کاریڈور وہ ہوتا ہے جس کے ساتھ بجلی، گیس، آپٹک فائبر کی لائنیں بھی ہوں، وہ کیوں بنائی نہیں جارہیں؟ جواب میں وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے کہا تھاکہ سڑک بننے دیں، باقی کام بھی ہو جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ جب ایک بار متبادل روٹ پر کام شروع ہوگیا تو پھر کوئی بے وقوف ہی ہوگا، جو مزید اربوں ڈالر لاگت کا دوسرا روٹ تعمیرکرے گا۔

اب پاکستان کو یہ بات بھی ذہن میں رکھنا ہوگی کہ اس وقت مشرق وسطی میں فرقہ واریت کی جس جنگ کو ہوا دی جارہی ہے وہ بھی اس منصوبے کو روکنے ایک کڑی ہوسکتی ہے۔اگرسعودی عرب امریکا کو ہاتھ پکڑانے سے انکار کے بعد روس کی راہ دیکھ سکتا ہے تو یہ ہمت ہم کب کریں گے؟ ماضی قریب میں سعودی وزیر دفاع کا دورہ ماسکو خطے میں ایک ایسا واقعہ ہے۔

جس کے بارے میں ایک برس قبل تک سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ اب یہ بھی طے ہے کہ روس، چین کے ساتھ مل کر ایشیا میں اپنا بلاک مضبوط کرنا چاہتا ہے اور ان ہی عوامل کے تحت بہت پہلے شنگھائی تعاون تنظیم کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ جس طرح امریکا نے ستر کی دہائی میں پاکستان کے ذریعے چین تک رسائی حاصل کی،آج اسی طرح چین کے ذریعے روس پاکستان تک رسائی چاہتا ہے کیوں کہ یہ ہی وقت کی ضرورت بھی ہے۔ امریکا اور اس کے صیہونی اور صلیبی اتحادی اس بات سے واقف ہیں کہ اگر کریمیا کے راستے روس بحیرہ روم میں داخل ہوگیا تو اسرائیل کے سر پر تلوار لٹک جائے گی اورمشرق وسطی کا سارا کھیل صیہونی اور صلیبی اتحادی قوتوں کے ہاتھوں سے نکل جائے گا۔

دوسری جانب پاکستان کو اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوگا کہ آنے والے وقت میں پاکستان کو مشرق وسطی کے معاملات سے دور رکھنے کے لئے عالمی صیہونی قوتوں نے پاکستان کے خلاف آخر کار بھارت کو ششکارنا ہے۔

ایسی صورت حال کا مقابلہ پاکستان چین اور روس کی مدد سے باآسانی کر سکتا ہے کیوںکہ یہ اقتصادی راہ داری اور گوادر پورٹ ہی پاکستان میں چین کے براہ راست مفادات بنیںگے، جب کہ روس کو بھی چین کا ہی مفاد عزیز ہوگا۔روس کا جغرافیائی پچھواڑا افغانستان ہے جسے پاکستان کی مدد کے بغیر مستحکم نہیں کیا جاسکتا ،یہ بات بھی اب روس کے لیے اہم ہوچکی ہے۔

اس لیے پاکستان کی وفاقی حکومت کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے اور وہ اس امتحان سے صوبوں کے بڑے بھائی’’ پنجاب ‘‘کو اس طرح نکالے کہ پاک چین اکنامک کاریڈور کا مستقبل مخدوش نہ ہو۔

اس منصوبے سے، تیل کے، دنیا کے سب سے بڑے درآمدکار چین کے لیے یہ بات خوش کن بتائی گئی ہے کہ گوادر کا روٹ کھلنے سے اْسے 12 ہزار کلو میٹر طویل سمندری مسافت کے دوران امریکا کی ممکنہ بلیک میلنگ اورسمندری مسافت کے اخراجات سے چھٹکارا ملے گا اور تیل کو آف لوڈ کرنے کے بعد پائپ لائنوں سے گزارنے کی مشقت سے بھی نجات مل جائے گی۔ یہ حقیقت امریکا بھی جانتا ہے اور شاید اسی لیے یہ منصوبہ چین سے زیادہ پاکستانی قیادت کا امتحان بن چکا ہے۔

پاک چین اکنامک کاریڈور کا یہ ہی وہ پہلو ہے، جس سے فریقین فی الوقت جان بوجھ کر اغماض برت رہے ہیں جب کہ صورت حال سے نمٹنے کی حکمت عملی کے برعکس بھی کچھ ہو سکتا ہے، جس سے چین کو کم اور پاکستان کو بہت بڑا نقصان ہو گا، وجہ یہ کہ چین کے پاس ایک سے زیادہ ’’اوپشن‘‘ موجود ہیں مثلاً، چین کی وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت میں ترقی کے لیے طویل شاہ راہوں کا سلسلہ پایۂ تکمیل تک پہنچ چکا ہے اور بڑے دہانوں والی پائپ لائنیںبچھ چکی ہیں۔

برما سے لے کر چین تک پائپ لائین پراجیکٹ پر کام ختم ہوچکاہے۔ خدانخواستہ گوادر پورٹ آپریشنل نہیں ہوپاتی تو بھی چین اپنے آئل ٹینکروں کو برما کے ساحل پر خالی پائپ لائین میں ڈال سکتا ہے، اس سے بارہ ہزار نہیں تو چین کو کم از کم چھے ہزار کلومیٹر کی بچت تو ہو جائے گی۔

ہمارے مزاج ہی کو دیکھتے ہوئے دو سال قبل ایک امریکی تھنک ٹینک نے کہ دیا تھا ’’پاک چین اکنامک کاریڈور بے معنی شور شرابے کے سوا کچھ نہیں ہوگا، سنکیانگ میں جاری اسلامی تحریکوں اور علیحدگی پسندی کے ڈانڈے پاکستان کے اندر تک ہیں، جنہیں کچلا نہ گیا، تو یہ منصوبہ دھرے کا دھرا رہ جائے گا، چین کی خواہش کے باوجود کچھ بھی نہیں ہو پائے گا اور قرائن بتاتے ہیں کہ مستقبل میں بھی کچھ نہیں ہوگا‘‘۔

انسٹی ٹیوٹ برائے عالمی معیشت و بین الاقوامی تعلقات کے ایک ماہر اور روس کی وزارت امور خارجہ کی سفارتی اکادمی برائے ایسٹرن ریسرچ سنٹر کے سربراہ آندرے وولودین نے کہا تھا کہ چین ہر ممکن کوشش کرے گا کہ افغانستان سے اتحادی دستوں کے انخلا کے بعد پاکستان مستحکم ہو کیوں کہ پاکستان کے حالات اب بھی ناقابل قیاس ہیں۔

ممکن ہے کہ امریکا کے جانے کے بعد افغانستان ٹوٹ جائے اور ہو سکتا ہے کہ حالات اچھے ہوجائیں۔ شی جن پنگ اور ان کے رفقا غالباً اس دوسرے امکان پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ امکانات کچھ زیادہ منور نہیں ہیں چنانچہ وہ چین کی مدد سے کبھی انکاری نہیں ہوں گے۔ خیال یہ بھی کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں زیادہ اثر و رسوخ امریکا کا ہے سو اس تاثر کو کسی ٹھکانے لگانے کی ضرورت ہے ۔

اقتصادی راہ داری منصوبہ: پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ
پشاور سے روخان یوسف زئی،نویدجان

بالاخر پاک چین اقتصادی راہ داری کے حوالے سے کئی ہفتوں سے جاری کش مکش اور شکوک و شبہات کا ازالہ یقیناً ایک خوش کن امر ہے کیوں کہ مذکورہ منصوبہ نہ صرف پاکستان بل کہ پورے خطے کے لیے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ بین حقیقت ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومتوں کے مابین پائے جانے والے کش مکش سے یہ خدشات زور پکڑ گئے تھے کہ چین اپنی عدم مداخلت کی پالیسی کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر کے اس منصوبے کے حوالے سے اتفاق رائے پیدا کرنے یا پھر اس منصوبہ کو ملتوی کرنے کا کوئی فیصلہ کر سکتا تھا، اگر ایسا ہو جاتا تو یہ پاکستان کی بڑی بدقسمتی ہوتی تاہم اب یہ امر یقیناً باعث اطمینان ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مفاہمت ہو گئی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت پاک چین اقتصادی راہ داری منصوبے کے حوالے سے ہونے والے اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں منصوبے کے مغربی روٹ کی تیز ترین بنیادوں پر تکمیل کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس اجلاس میں پارلیمانی جماعتوں کے راہ نماؤں اور قائدین نے شرکت کی۔

اس موقع پر اقتصادی راہ داری منصوبے کے تحت تعمیراتی کاموں کا جائزہ لینے کے لیے چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ سمیت گیارہ رکنی سٹیئرنگ کمیٹی قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا، جس کا اجلاس ہر تین ماہ بعد منعقد کیا جائے گا۔ تازہ اعلامیہ کے مطابق مغربی روٹ کو 15 جولائی 2018 تک مکمل کیا جانا ہے۔ اس حوالے سے خیبرپختون خوا حکومت اور دوسرے صوبوں کے اہم رہ نماؤں نے اظہارِخیال کیا:

وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا و رہ نما پاکستان تحریکِ انصاف پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ راہ داری منصوبے کی افادیت پر کسی صوبے کو اعتراض نہیں لیکن ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ اس منصوبے کے تمام روٹس پر ضروری اور بنیادی سہولیات خیبر پختون خوا سمیت تمام صوبوں کو مساوی طور پر ملنی چاہییں جب کہ ہم مغربی روٹ پر صرف ایک سڑک قبول نہیں کریں گے۔ ہم نے کل جماعتی کانفرنس کے اعلامیہ کو تسلیم کیا ہے لیکن اس میں کرائی گئی یقین دہانی پر مکمل یقین تب ہی ہو گا، جب اس منصوبے سے متعلق تمام شواہد سامنے لائے جائیں گے اور تمام صوبوں کو یکساں ترقی کے مواقع عملی طور پر مل جائیں گے۔

امیرِ جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کا موقف ہے کہ منصوبے پر تمام پاکستانیوں کاحق ہے، کل جماعتی کانفرس کے فیصلوں پر عمل درآمد کیاجانا ازحد ضروری ہے۔ مرکزی جنرل سیکرٹری عوامی نیشنل پارٹی میاں افتخارحسین نے خواہش ہے کہ گیند ایک بار پھر وفاقی حکومت کے کورٹ میں ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ وزیراعظم نے حالیہ اجلاس میں ہم سے جو وعدہ کیاہے، اس پر فوری عمل کیاجائے۔ صوبائی امیرجمعیت علماء اسلام مولانا گل نصیب خان نے کہا کہ راہ داری کے فوائد کسی ایک صوبے تک محدود نہ کیے جائیں اور 28 مئی کی آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں پر فوری عمل کیاجائے۔

چیئرمین کے پی کے قومی وطن پارٹی، سینیئر صوبائی وزیر سکندرحیات شیرپاؤ نے توقع ظاہر کی کہ منصوبے کے حوالے سے قومی اتفاق رائے نیک شگون ہے۔ خانزادہ خان صدر خیبر پختون خوا پیپلزپارٹی نے یاد دلایا کہ یہ منصوبہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں پیش کیا گیا تھا اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کے دورحکومت میں کاریڈور کے لیے مغربی روٹ کے نقشے پر اصولاً اتفاق ہوگیا تھا۔ مغربی روٹ پر کاریڈور کو لے جانے سے سارے گلے شکوے ختم ہوجائیں گے۔

کوئٹہ سے عارف محمود
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی، سردار اخترجان مینگل نے خبردار کیاکہ جب تک گوادر کے عوام کو گوادر کا حق ملکیت نہیں ملتا، اس وقت تک کوئی بھی ترقی بے معنی ہوگی۔

اس وقت گوادر کی صورت حال یہ ہے کہ وہاں پینے کے پانی کا ایک ٹینکر 12ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے، بڑے شہروں میں تو ڈکیتیاں بینکوں پر ہوتی ہیں لیکن گوادر میں لوگوں کے گھروں سے پینے کا پانی چوری ہوتا ہے۔

سربراہ صوبائی صدر پشتونخوا میپ بلوچستانسینیٹر محمد عثمان کاکڑ نے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ پہلے کوریڈور ایک تھا، بعد میں مرکزی حکومت نے اس روٹ کو تبدیل کرکے مشرقی روٹ، سینٹرل روٹ اور غربی روٹ کے نام دے دیے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ غربی روٹ پر تیل اور گیس کی لائنیں، ٹیکنیکل ادارے اور صنعتی زون بنا کر ریلوے لائینیں بچھائی جائیں اور فنڈز مختص کرکے اس کے لیے ٹینڈر جاری کیے جائیں۔

کراچی سے بابر علی
سربراہ عوامی تحریک ایاز لطیف پلیجو نے موقف اختیار کیا کہ راہداری کو تھر کول پروجیکٹ کے ساتھ ساتھ حیدرآباد، دادو، قمبر، شہداد کوٹ اور سکھر کی مرکزی شاہ راہوں سے بھی منسلک ہونا چاہیے تاکہ سندھ کے عوام کو روزگار ملے۔

پی ٹی آئی کے رہ نما عمران اسماعیل ہماری جماعت کو سندھ میں اس منصوبے پر خیبر پختون خوا کے حوالے سے ہمارے کچھ خدشات ہیں، جنہیں دور کیا جانا بہت ضروری تھا۔ ہم اس منصوبے کے لیے متبادل راستے بنانے کے حق میں بھی ہیں۔ دیگر صوبے بھی اس منصوبے سے فیض یاب ہونے چاہییں۔ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی امیر جماعت اسلامی، سندھ نے بھی نے بھی اس بات پر زور دیا کہ مشرقی اور مغربی دونوں روٹس پر یکساں کام کیا جائے تاہم اہل بلوچستان کو اس منصوبے میں ترجیح دی جانی چاہیے۔

لاہور سے رانا نسیم
وزیر خزانہ پنجاب ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے رہداری منصوبے کو گیم چینجر قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ حکومت کے لیے نہیں، حکومت تو اس میں صرف ایک رہ نما کا کردار ادا کر رہی ہے اور حکومت اپنی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر آگاہ اور بہترین حکمت عملی سے کام کر رہی ہے، ہمیں ہر چیز کو سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے۔ مرکزی جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ ماضی میں جو منصوبے بھی متنازع ہوئے، پھر وہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی لیکن پاک چین اقتصادی راہ داری کے معاملے میں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اے پی سی کے اعلامیہ پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے مغربی روٹ کو ترجیح دیں۔ راہداری کے روٹس کی تعمیر پر ملک کے اندر اختلافات کا چین اور اس کے سرمایہ کاروں پر بھی اثر پڑے گا کیوں کہ چین یا کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک میں اسی وقت اتنی بڑی سرمایہ کاری کرے گا، جب یہاں قومی سطح پر اتفاق رائے ہو۔ صدر پیپلزپارٹی پنجاب منظور وٹو پاکستان پیپلزپارٹی نے اقتصادی راہ داری کو ملک کے لیے نہایت مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس موقع کو گنوانا نہیں چاہیے، ن لیگی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ اسے پایۂ تکمیل تک پہنچائے۔ سینیئر رہ نما نے کہا کہ میں سمجھتا اور چاہتا ہوں کہ اس منصوبے کو چند افراد کی سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھایا جانا چاہیے۔

وفاق کے لیے تمام صوبے برابر ہیں اور ترقی پاکستان کے ہر گوشے میں بسنے والے عوام کا حق ہے۔ معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر قیس اسلم نے اس امر پر توجہ مبذول کرائی کہ اکنامک کوری ڈور کے لیے اردو کی اصطلاح ’’راہداری‘‘ غلط ہے کیوں کہ یہ توانائی، انفراسٹرکچر، ٹرانسمیشن سمیت متعدد پراجیکٹس پر محیط ہے اور اس میں مغربی روٹ ہمارے لیے اہم ترین ہے کیوں کہ یہ ایسے علاقوں سے گزرے گا، جن پر ہم نے پہلے کبھی توجہ نہیں دی۔

اس منصوبے کی بدولت ان علاقوں میں پایا جانے والا احساس محرومی ختم ہو گا۔انہوں نے متنبہ کیاکہ ہمیں ایڈہاک ازم کو چھوڑ کر آج ہی یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ کون سی انڈسٹری ہمارے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے کیوںکہ آپ کی ایکسپورٹ انڈسٹری امریکا، جاپان اور یورپ سے جڑی ہے اور چین کے سستے پراجیکٹ سے یہ بیٹھ جائے گی۔ آپ کو فائدہ سمال انڈسٹری انٹرپرائزز دے گی، پھر آپ کی مینوفیکچرنگ سکل کم ہے، جسے بڑھانے کے لیے فوری کام کرنے کی ضرورت ہے اور تیسری بات یہ ہے کہ چین سے ٹیکنالوجی بھی ٹرانسفر ہو رہی ہے، تو اس کو چلانے کے لیے ہمیں اپنے لوگوں کو تیار کرنا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔