پاک بھارت سیریز: ظہیرعباس ٹیسٹ نہ ہونے پرمایوس

اسپورٹس ڈیسک  ہفتہ 3 نومبر 2012
قومی ٹیم کا بیٹنگ کوچ کسی مقامی شخص کو ہی مقرر کیا جائے، سابق کرکٹر کا پاکستانی بورڈ کو مشورہ  فوٹو : فائل

قومی ٹیم کا بیٹنگ کوچ کسی مقامی شخص کو ہی مقرر کیا جائے، سابق کرکٹر کا پاکستانی بورڈ کو مشورہ فوٹو : فائل

کراچی: سابق کپتان ظہیر عباس پاک بھارت کرکٹ سیریز میں ٹیسٹ میچز نہ ہونے پر مایوس دکھائی دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ میں مختصر دورانیے سے مطمئن نہیں اور مکمل سیریز کی آس لگائے بیٹھا تھا، سابق اسٹار نے اسی کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے بعد کرکٹ تعلقات کی بحالی کو خوش آئند بھی قرار دیا ہے۔ غیرملکی نیوز ایجنسی کو انٹرویو میں انھوںنے کہا کہ5 برس بعد روایتی حریفوں کے درمیان باہمی کرکٹ تعلقات بحال ہونا خوشگوار مگر مقابلوں کی اہمیت کے پیش نظر سیریز کا مختصر دورانیہ مناسب نہیں، اتنے طویل عرصے بعد مدمقابل ہونے پر دونوں ٹیموں کو ٹیسٹ سیریز کھیلنی اور اس کے لیے مصروف شیڈول میں سے جگہ تلاش کرنی چاہیے تھی۔

ظہیر عباس نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ بورڈز جلد کسی مکمل ٹیسٹ سیریز کا انعقاد کریں گے کیونکہ دونوں ٹیموں کا اس طرز میں مقابلہ ہوئے کافی وقت گذر چکا، ٹیسٹ میچ ہی کرکٹ کا اصل چیلنج ہے۔ دریں اثنا ظہیر عباس نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مشورہ دیا کہ وہ قومی ٹیم کا بیٹنگ کوچ کسی مقامی شخص کو ہی مقرر کرے،انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک نے کئی عظیم بیٹسمین پیدا کیے اور ان میں سے کوئی ایک باآسانی بطور کوچ خدمات انجام دے سکتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ خود کوچ ہنٹ کمیٹی کے ممبر ہیں، ماضی میں وہ کئی بار اس پوسٹ کیلیے خدمات پیش کر چکے اور اب بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ بیٹنگ کوچ کیلیے اتوار تک درخواستیں ارسال کی جا سکتی ہیں، امیدوار کا لیول تھری کوالیفائیڈ اور انٹرنیشنل تجربے کا حامل ہونا ضروری ہے، گوکہ ظہیر کوئی کوچنگ ڈگری تو نہیں رکھتے تاہم اس کے باوجود ان کے نام پر غور ممکن ہے، ہنٹ کمیٹی کے دیگر ارکان انتخاب عالم اور کرنل (ر) نوشاد علی ہیں، انہی افراد نے مارچ میں بطور چیف کوچ ڈیوواٹمور کا نام تجویز کیا تھا، ظہیر عباس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ واٹمور کو اہلیت منوانے کیلیے کچھ وقت دینا چاہیے، ان کے عہدہ سنبھالتے ہی ٹیم نے ایشیا کپ جیتا تھا، چند شکستوں کے بعد ہمیں واٹمور کی ٹیم کیلیے افادیت پر سوال نہیں اٹھانے چاہئیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔