عربی زبان کے شناور خورشید رضوی

انتظار حسین  پير 25 جنوری 2016
rmvsyndlcate@gmail.com

[email protected]

اپنے علما و فضلا یا جو بھی جوہر قابل ہے اس کی قدردانی کا ایک اسلوب یہ بھی ہے کہ خود اس کے کاموں پر مشتمل یا ان مضامین پر مشتمل جن میں اس فاضل اجل کی دلچسپی رہی ہے ایک شایان شان مجموعہ مرتب کیا اور بصد عزت و احترام اسے نذر کیا۔ لیجیے ایسا ایک مجموعہ جو ہماری کتابوں کی الماری سے برآمد ہو گیا۔ اسٹڈیز ان آنر آف رالف رسل۔ مرتبہ کرسٹوفل شیفل جسے شایع کیا آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے۔

پنجاب یونیورسٹی نے بھی اپنے اکا دکا اہل علم کو اس رنگ میں خراج تحسین پیش کر رکھا ہے۔ ایک لمبے عرصے بعد پھر ہمارے عہد کا عالم اس قسم کے خراج کا مستحق ٹھہرا ہے۔ اورینٹل کالج کے فاضل پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر کو یہ خیال آیا اور انھوں نے پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی کے شایان شان ایسا مجموعہ مرتب کیا۔ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران نے اس کام کو سراہا اور پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے اسے ’ارمغان خورشید‘ کے نام سے اسے شایع کرنے کا اہتمام کیا۔ اس تقریب سے یونیورسٹی میں کوئی ایسی تقریب منعقد ہوئی ہو جس میں انھیں یہ مجموعہ پیش کیا گیا ہو۔ بہر حال ہمیں یہ مجموعہ موصول ہو گیا ہے۔ اسے دیکھا‘ الٹا پلٹا اور دل باغ باغ ہو گیا۔

ڈاکٹر زاہد عامر نے بتایا ہے کہ اس علم و فن کے متوالے نے کس کس بحر میں شناوری کی۔ سب سے بڑھ کر تو عربی زبان و ادب کا شناور ہے۔ شناوری کا عالم دیکھو کہ عربی زبان و ادب کی تاریخ لکھنی شروع کی تو عہد جاہلیت ہی میں غوطہ خوری کیے چلے جا رہے ہیں۔ ایک مبسوط جلد شایع ہو چکی مگر سلسلہ ہنوز جاری ہے اور طول پکڑتا چلا جا رہا ہے۔ ہم نے پوچھا کہ اس بحر ناپیدا کنار سے کب باہر آؤ گے۔ ارے ہمارے عربی داں تو قرآن و حدیث سے آگے نکل کر بتاتے ہی نہیں کہ عربی شریف میں کیا کیا ہیرے موتی بھرے پڑے ہیں۔ ہمیں تو بس اتنا پتہ تھا کہ اس عہد جاہلیت میں ایک تو لیلیٰ مجنوں تھے۔ پھر حاتم طائی تھا۔ پھر امراء القیس۔ اور ہاں الف لیلہ اور ان سب سے ان عربی دانوں کے کتنا اجتناب برتا۔ نہ خود ان کے بارے میں کرید ہوئی نہ ہمیں بتایا۔ پتہ نہیں کس راستے سے لیلیٰ مجنوں آئے اور ہمیں بتا گئے کہ عشق اسے کہتے ہیں۔

اب خورشید رضوی شروع ہوئے ہیں تو پتہ چل رہا ہے کہ عہد جاہلیت وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں ہم نے پوچھا کہ ہمت کی شناوری مبارک۔ ساحل پر کب آ رہے ہو۔ یہ جو اسلام کی دور زریں ہے۔ اس میں غوطہ کب لگاؤ گے۔ کہا کہ بہت تھک گیا ہوں۔ یہ مرحلہ ہی طے نہیں ہو رہا ہے۔

خیر یہ غوطہ خوری تو ہمارے سامنے ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے جو کارنامے انجام دے چکے ہیں اس کی جھلکیاں ’ارمغان‘ میں ملاحظہ فرمائیے۔ ایک مضمون محمد کاظم کا پڑھا تو حق دق رہ گئے کہ یہ آدمی ہے یا جن ہے۔ کتاب تھی قلائد الجمان۔ اس کا مصنف تھا ابن اشعار۔ اس پر سودا سوار تھا کہ اپنے عہد کے شاعروں کے اشعار جمع کیے جائیں معہ حالات زندگی کے۔ اس میں ایسی ایسی شخصیتوں کے اشعار جمع ہوئے ہیں جو بظاہر شاعری سے کوئی واسطہ نہیں رکھتے تھے۔

ابن الوری کے بارے میں تحقیق کی کہ پہلے سپاہی پیشہ تھے۔ اس پیشہ کو چھوڑ کر تصوف کی طرف آئے۔ یا امام فخر الدین رازی۔ ان کے اشعار۔ ساری زندگی اس کام میں صرف کر دی۔ اپنی شاعری کو اس میں درج نہیں کیا۔ تیرھویں صدی کی عرب شاعری کا پورا احوال۔ اس کتاب کی آٹھ جلدیں تھیں۔ چھ جلدیں مختلف محققین کے سپرد کی جا چکی تھی۔ دو جلدیں چوتھی اور چھٹی ایسی کہ الفاظ مٹے ہوئے تھے۔ پڑھنے میں نہ آتے تھے۔ وہ خورشید رضوی کے سپرد ہوئے۔ سات آٹھ سال دن رات اس میں غرق رہے اور اس طرح اسے مکمل کیا کہ ماہرین اسے دیکھ کر نقش حیرت بن گئے۔

یہ ایک لمبی داستان کا خلاصہ تھا۔ موصوف کو استاد بھی عجب عجب ملے۔ ایک استاد عربی کو پنجابی میں پڑھاتے تھے۔ انھوں نے بے تکلف پنجابی میں عربی کی تعلیم حاصل کی۔ دوسرے استاد ایسے کہ اپنی طرف سے عربی کا کوئی لفظ بتاتے تھے نہ اس کے معنی۔ کہتے تھے کہ خود معلوم کرو۔ انھوں نے تعلیم کا یہ مرحلہ بھی بخیر و خوبی طے کیا اور استاد کے منظور نظر بن گئے۔ اصل میں عربی کا مضمون اپنی والدہ کی ہدایت پر اپنایا تھا۔ پھر   ع

وہی آخر کو ٹھہرا فن ہمارا

خورشید رضوی کے علم و فضل کی داستانیں اس ’ارمغان‘ میں بکھری پڑی ہیں۔ سب خوب اور مرغوب ہیں مگر میں ان کی ’خود نوشت‘ پر ایسا ٹھٹکا۔ پھر اسے ہی پڑھتا چلا گیا بچپن ہی میں پاکستان آ گئے تھے۔ ساٹھ سال بعد امروہہ جانے کا موقعہ میسر آیا۔ جب گھر کے  صحن میں داخل ہوا تو میری نگاہوں کو گولا بیری کی تلاش تھی۔

مگر گولا بیری ہی کیوں۔ اس صحن میں تین بیریاں تھیں جن کے بیروں کی شکل و صورت اور ہر ایک کا الگ الگ ذائقہ اب تک یاد تھا۔ دو کے بیچ جو تیسری بیری تھی وہ گولا بیری تھی۔ ’’اس کی جڑ میں سیڑھیوں سے لگی ہوئی ایک کیاری تھی جس میں چھ برس کی عمر میں میں نے گندم کے کچھ دانے بوئے تھے اور ان کے انکھوئے پھوٹنے کا مجھے انتظار تھا۔ … مگر اب صحن میں نہ گولا بیری تھی نہ کھٹی بیری نہ بریا‘ نہ اس کے برابر دیوار سے لگی ہوئی مہکار بکھیرتی جُوہی… لیکن مٹی کے انبار کے نیچے وہ کیاری بھی وہیں تھی اور وہ انکھوئے بھی جو ساٹھ برس میں مرجھائے نہیں تھے‘‘۔ سبحان تیری قدرت۔ مگر ابھی قدرت کا ایک اور کرشمہ نظر آنے کو ہے بتاتے ہیں ’’چبوترہ جو اب صحن سے ہموار ہو چکا تھا کس قدر مانوس لگ رہا تھا۔ یہ بالکل وہی تھا۔ اس نے میرا بہت انتظار کیا۔ اسی پر وہاں سامنے وہ چار پائی بچھی تھی جس پر میں پاکستان جانے کی خوشی میں کود رہا تھا‘‘۔ واہ واہ شاباش لڑکے واہ واہ۔

پاکستان کی یاترا تمام ہوئی۔ واپس پاکستان میں ’’1955ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول منٹگمری۔ اب ساہیوال۔ …گورنمنٹ کالج ساہیوال۔ تیرے در و بام کو میرا سلام پہنچے ع

ہیں تجھ میں دفن میری جوانی کے چار سال

بیانات جہاں تہاں سے!

’’دیوار صرف خشت اول کی کجی سے کج نہیں ہوتی آنکھوں کی کجی سے بھی کج ہو جاتی ہے۔ ظلم‘ استحصال اور خود مزاحمت کا تنوع قابل غور ہے۔ زرہ صرف لوہے کی نہیں‘ ریشم کی بھی ہو سکتی ہے۔ غالبؔ نے کہا تھا کہ دیدہ ور وہ ہے جو دل سنگ میں آذری کا رقص دیکھ سکے۔ مزاحمت کاری میں دیدہ وری کا تقاضا یہ ہے کہ ظلم و استحصال کو اس کے بیج میں دیکھ لیا جائے اور وہیں حسب حال اس کی مزاحمت کا آغاز کیا جائے‘‘۔

………………

’’آج گزشتہ کی راکھ میں انگلیاں پھیرتے ہوئے جس چنگاری کی تیش سے میری پوریں جل اٹھی ہیں وہ ان زبانوں‘ روایتوں‘ تلمیحوں اور علامتوں کا افسوس ناک زوال ہے جو ہمارے ادب کو ماضی سے مربوط رکھتے ہوئے اسے آیندہ کے سفر پر روانہ ہونے کا حوصلہ بخشتی تھیں۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ تازہ واردان بساط ہوائے ادب فارسی ادب کی روایت سے کٹ جانے کے نتیجہ میں اپنے عظیم ترین شعرا غالبؔ اور اقبال کے نصف سے زائد کلام سے کٹ کر رہ گئے ہیں‘‘۔

’’ہمیں اس بات کا جلد از جلد احساس کرنا چاہیے کہ مشرقی روایت کے سوتے اگر اسی طرح گرد و غبار سے اٹھتے رہے تو ہمارا اصل سرچشمہ اندھا ہو جائے گا۔ ہمیں مغربی دریچے بند کیے بغیر مشرق کی طرف کے پرانے جھروکے بھی پھر سے کھولنے چاہئیں اس سے پہلے کہ وہ لاتعلقی کے زنگ سے ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں۔ اس جانب سے آنے والی ہوا کی ضرورت ہے۔ اور دھوپ تو آتی ہی ادھر سے ہے‘‘۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔