بُک شیلف

مقصودشیخ کی تحریر کی خوبی یہ ہے کہ وہ سلیس اور سادہ زبان استعمال کرتے ہیں: فوٹو:فائل

مقصودشیخ کی تحریر کی خوبی یہ ہے کہ وہ سلیس اور سادہ زبان استعمال کرتے ہیں: فوٹو:فائل

حصن المسلم
مولف: سعید بن علی بن وھف القحطانی
قیمت: درج نہیں،ناشر: مکتبہ اسلامیہ ، ہادیہ حلیمہ سنٹر
غزنی سٹریٹ اردوبازار لاہور

اللہ کے آخری رسول ﷺ نے فرمایا:’’ کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں جو تمہارے اعمال میں سب سے بہتر، تمہارے مالک(اللہ تعالیٰ) کے ہاں پاکیزہ ترین ، تمہارے درجات میں سب سے زیادہ بلند، تمہارے لئے( اللہ کی راہ میں) سونا اور چاندی خرچ کرنے سے بہتر اور اس بات سے بھی بہتر ہے کہ تم اپنے دشمن سے مقابلہ کرو، تم ان کی گردنیں کاٹو اور وہ تمہاری گردنیں کاٹیں؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: کیوں نہیں، آپﷺ نے فرمایا:’’ اللہ کا ذکر۔‘‘

ایک انسان کی زندگی میں دعا کی اہمیت مسلمہ ہے، چاہے وہ انسان کسی بھی مذہب سے متعلق ہو۔ جو لوگ خدا کو نہیں مانتے، ان کی زندگی میں بھی ایسا لمحہ آتاہے جب وہ بھی آسمانوں سے اوپر کی طرف دیکھنا شروع کردیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں کی دعائیں سنتا ہے لیکن مسلمانوں کی دعاؤں میں برکت شامل ہوجاتی ہے کیونکہ وہ اللہ کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کی امت سے ہیں ، وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی سکھائی ہوئی دعاؤں کو پڑھ کر اپنی زندگی میں خیروبرکت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی سکھائی گئی دعاؤں کے متعدد مجموعے عام ہوئے اور آج بھی ہورہے ہیں۔ عصر حاضر میں فضیلۃ الشیخ سعید بن علی وھف قحطانی کی ’حصن المسلم‘ کو زیادہ قبولیت عامہ حاصل ہوئی۔ ’مکتبہ اسلامیہ‘ نے اس کتاب کی اردوترجمہ کے ساتھ دیدہ زیب طباعت کا اہتمام کیاہے، کتاب میں سب اذکار، دعائیں مستند اور محقق ہیں۔آپ بھی اپنی زندگی میں خیروبرکت کا کمال پانا چاہتے ہیں تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بتائی ہوئی دعاؤں کا اہتمام کریں۔

سیرت محمدﷺ اور عصرحاضر
مصنف:میربابرمشتاق،قیمت:360 روپے
ناشر:عثمان پبلی کیشنز،B-17، فیض آباد، ماڈل کالونی، کراچی

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لئے انسانوں ہی میں سے ایک لاکھ چوبیس ہزار اپنے برگزیدہ بندوں کا انتخاب کیا۔رسول اکرم ﷺ اس سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا۔آپ ﷺ پوری انسانیت کے لئے ایک رول ماڈل ہیں۔

محسن انسانیت ﷺ کا ظہور ایسے دور میں ہوا جب کہ پوری نوع انسانیت تاریکیوں اور وحشتوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔حضور اکرم ﷺ نے اپنی دعوت وکردار سے اس پورے ماحول کو یکسرتبدیل کردیا۔ مسجد سے بازار اور مدرسہ سے عدالت تک اللہ کا رنگ غالب آگیا۔ ذہن بدل گئے، خیالات کی روبدل گئی، نگاہ کا زاویہ بدل گیا، حلال وحرام کے پیمانے بدل گئے، اخلاقی قدریں بدل گئیں، رسوم ورواج بدل گئے ، دستور اور قانون بدل گئے، خون کے پیاسے باہم شیروشکر ہوگئے۔

دورحاضر میں امت مسلمہ جس زبوں حالی کا شکار ہے اس کی بنیادی وجہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات سے روگردانی ہے۔ زیرنظر کتاب حضوراکرم ﷺ کی مبارک زندگی اور آپ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے ان الفاظ پر مشتمل ہے جو آج بھی کسی بھی بگڑے ہوئے معاشرے کو بنانے سنوارنے میں کلیدی کردار اداکرتے ہیں۔

سیرت کی روشنی میں والدین، اولاد، شوہر اور بیوی کے فرائض کا مفصل ذکر کیاگیاہے، عورت کے کردار، بچوں سے برتاؤ، قرابت داروں، ہمسائیوں، بیواؤں، مقروضوں، مزدوروں ، غلاموں، قیدیوں اور جانوروں سے سلوک کے ابواب باندھے گئے ہیں، بیماروں کی عیادت، یتیموں کی سرپرستی، غربت کا حل، رشوت کا قلع وقمع، گداگری سے نجات، احساس کمتری کا تدارک کا ذکر کیا گیا ہے۔ آئیے! ہم سب اس سے روشنی حاصل کریں۔

تسبیح نور
شاعرہ: سیدہ پروین زینب سروری
قیمت : 700روپے
ملنے کاپتہ : چیف جسٹس عبدالکریم خان کنڈی(مرحوم) مکان نمبر32، گلی نمبر63، ایف ٹین3، اسلام آباد

سیدہ پروین زینب سروری پشاور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس عبدالکریم کنڈی کی رفیقہ حیات اور معروف روحانی شخصیت فقیر عبدالحمید کامل سروری کی دختر نیک اختر ہیں ۔ایسے علمی و دینی خانوادے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ان کی تعلیم و تربیت جس پاکیزہ ماحول میں ہوئی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ۔

اسی ماحول کے زیر اثر انہوںنے نے ذہن ِ رسا پایا اورطبع ِ موزوں پائی اور پھر شوق ِ فراواں نے جذبات و احساسات کے اظہار کے وسیلے کے طورپر شاعری کو اپنا یا ۔انہوںنے حمد ونعت، منقبت اور مناجات میںاپنا مافی الضمیر جس حسن ، خوبی اور سلیقہ مندی کے ساتھ بیان کیاہے وہ لائق ستائش بھی ہے اورقابل ِ رشک بھی ۔’’تسبیح ِ نور‘‘ کے زیر عنوان شائع ہونے والے اس مجموعہ شاعری میں غزلیں بھی شامل ہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ غزلوں پر بھی وہی رنگ نمایاں اور غالب ہے ۔

عشق ِ رسولﷺ میں ڈوبی، پاکیزہ جذبات میں دھلی ہوئی اور روح کی گہرائیوں میں اترتی ہوئی ان نعتوں کو پڑھ کر قاری کوعجیب کیف و سرور ملتا ہے۔

اچھی شاعری کے لیے جن اوصاف ومحاسن کو لازمی قراردیا جاتا ہے وہ اس مجموعے میں بدرجہ اتم موجود ہیں ۔جانشین آستانہ عالیہ کلاچی ڈیرہ اسماعیل خان فقیر ڈاکٹر جاوید احمد سروری قادری کے الفاظ میں ’’آپ کا کلام بلند خیالی ، باریک بینی ، جذبات نگاری ،نکتہ ریزی اور جذب و محبت کی کیفیات کا خوبصورت امتزاج ہے ‘‘۔بلاشبہ اتنی خوبصورت شاعری ہے کہ جسے بار بار پڑھنے کو دل چاہتا ہے ۔بڑے دیدہ زیب انداز میں شائع ہونے والے اس مجموعہ کلام کو ظاہری طورپر بھی خوبصورت ، پرکشش اور جاذب ِ نظر بنادیا گیاہے ۔

صدف پارے
مصنفہ: رشیدہ صدف،قیمت:160 روپے
ناشر: مکتبہ خواتین میگزین منصورہ ملتان روڈ لاہور

انسانی زندگی بجائے خود ایک افسانہ ہے، ہمارے گرد و پیش روزانہ عملی زندگی کے بیسیوں واقعات ایسے رونما ہوتے ہیں جنھیں ایک عام انسان سرسری نظر سے دیکھتاہے اور کسی ردعمل کا اظہارکئے بغیر آگے بڑھ جاتاہے۔ ایک حساس دل معمولی واقعہ کو بھی نظرانداز نہیں کرتا اور اپنے مثبت یا منفی ردعمل کا اظہارکرتاہے۔ زیرنظرمجموعہ بھی مصنفہ کے ایسے ہی الفاظ وخیالات پر مشتمل ہے۔

آس پاس ہونے والے حادثات وواقعات کی صورت میں ان کی نگاہ عبرت نے محسوس کیا، ان پر دل تڑپ اٹھا اور پھر انھوں نے انھیں سطح قرطاس پر منتقل کردیا۔ ان کا بنیادی موضوع ہمارے گھریلو مسائل، ساس بہو کے جھگڑے، نرینہ اولاد کے حصول کے لئے کی جانے والی کوششوں کا ردعمل اور دوسروں سے منفرد نظر آنے کی کوششوں کے نتیجے میں ملنے والی پریشانیاں ہیں۔

ان تحریروں میں مرکزی خیال بندہ کو اپنے رب کی پہچان اور رسول اکرم ﷺ کی اتباع پر آمادہ کرناہے، معاشرہ میں بے پردگی اور بے حیائی کے زہر سے نئی نسل کو بچانے کی کوشش، خانگی حالات میں ساس بہو، میاں بیوی اور نند بھاوج کے جھگڑے کیا بربادی لارہے ہیں اور ان کی اصلاح کیسے ممکن ہے؟ معاشی ناہمواری، امرا کا اللہ کا شکر بجالاتے ہوئے غربا کی مدد کے لئے آگے بڑھنا اور اخلاق وحیا کی اقدار کو زندہ کرنا ان افسانوں اور انشائیوں کا مرکز ومحور ہے۔

طلوع ِشام
شاعر:احمد رضوان
قیمت :300روپے
ناشر:برصغیر پبلی کیشنز،شاہین مارکیٹ ،ملتان

’’میں نے محسوس کیا ہے کہ احمد رضوان فطرت سے بہت اخذ و استفادہ کرتا ہے۔فطرت کے کلیشے میں جہاں جہاں اسے سیال دکھائی دیتا ہے وہ اس کو گرفت میں لے لیتا ہے،اس سے مکالمہ کرتا ہے یا مکالمے کا حصہ بناتا ہے۔

اسی سیال اسرار کے کانچ کے پار وہ کائنات کو بھی دیکھتا ہے اور اسی سیال عینک سے وہ سماج کے اندر انسانی رشتوں اور ان کی معاملہ بندی کو بھی پرکھتا ہے۔اِسے پڑھتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے وہ زمین سے ایک فاصلے پر رہ کر اپنے جوانب وجوارح پر نظر ڈالتا ہے۔‘‘

کتاب میں شامل انوار فطرت کے یہ الفاظ احمد رضوان کی شعری ریاضت کا پس منظر جاننے کے لیے کافی ہیں۔غزلیات کے اس مجموعے کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ احمد رضوان نے صنفِ غزل میں موجود امکانات کو کمال مہارت سے بروئے کرلایا ہے۔ وہ اپنی شاعری میں ہجرکے کرب ،شام کی سایے،لمحاتِ مسرت کی سُرعت کو خوبی سے بیان کرتا ہے۔ وہ اپنی شاعری میں محدودات سے آگے کی بات بھی کرتا ہے۔کہیں کہیں تلخ سوالات بھی اٹھاتا ہے۔

اس کی شاعری میں اس کی مٹی کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ اس کے نزدیک نامعلوم کی سرحدیں دُور دُور تک پھیلی ہوئی ہیں اور زندگی جاننے کا ایک مسلسل سفر ہے۔ آگاہی کی تکمیل کا دعویٰ اسے ہر گز نہیں اور نہ وہ کسی اور کو اس دعوے کا سزاوار سمجھتا ہے۔ خود بیتی کو اس انداز سے شعروں کی مالا میں پروتا ہے کہ پڑھنے والے کو وہ جگ بیتی محسوس ہوتی ہے۔نمونے کے طور پر چند اشعار دیکھیے:

جہاں میں تھا وہاں سورج اُبھرتا تھا برابر
کسی نے روشنی کا راستہ روکا ہوا تھا
۔۔۔۔
ہر ایک شے چلی آتی ہے ساتھ ساتھ مرے
میں ایک راہِ ابد گیر سے گزرتا ہوں
۔۔۔۔
جہاں میں تھا وہاں تہذیب بھی اپنی نہیں تھی
سو مجھ کو شہر نے بے خانماں سمجھا ہوا تھا
۔۔۔۔
دِیا جلا کے کوئی راستہ دِکھاؤ اسے
کہیں بھٹکتی ہوئی دربدر نہ جائے شام
۔۔۔۔
زندگی کو ثبات کچھ بھی نہیں
بات یہ ہے کہ بات کچھ بھی نہیں
۔۔۔۔
مرے خیال میں تعمیر ہو رہا ہے کہیں
وہ شہر جو دَرودیوار سے گریزاں ہے
یہ محض چند اشعار ہیں۔ سخن شناسوں کے لیے اس کتاب میں دلچسپی کا کافی سامان موجود ہے۔کتاب کے شروع میں ممتاز اطہر اور رفعت عباس جبکہ آخر میں انوار فطرت اور رمزی آثم کی تقاریظ ہیں جو احمد رضوان کی شعری کائنات کی تفہیم میں قاری کی مدد کرتی ہیں ۔کتاب کا سرورق سادہ مگر دلکش ہے اور کاغذ بھی مناسب ہے۔

نابرکہانی
مصنف: سعیدبھٹا،
قیمت:200 روپے
ناشر:سانجھ پبلیکیشنز، بک سٹریٹ مزنگ روڈ لاہور

پنجاب کے دیہات میں صدیوں سے کہانیاں سنائی اور سنی جا رہی ہیں۔ یہ کہانیاں، جن میں بعض شاید بہت پرانی ہوں، جس انداز میں لوک مت اور لوک حافظے کی ترجمانی کرتی ہیں اس طرح کوئی تاریخ یا علمی و ادبی تحقیق نہیں کر سکتی۔ ان کہانیوں کو محفوظ کرنے کا خیال کسی کو نہ آیا۔ خوش قسمتی سے پنجابی علم و ادب کی معروف شخصیت، سعید بھٹا، نے یہ بھانپ لیا کہ اگر اس وقت بھی ان کہانیوں کو قلم بند نہ کیا گیا تو وہ ہمیشہ کے لیے ناپید ہو جائیں گی۔ وجہ یہ ہے کہ کہانیاں کہنے والوں کی نئی نسل کو اپنے اجداد کی میراث سے کوئی دل چسپی نہیں۔

ان کہانیوں میں ایک تو بہت پرانی ہے یعنی سکندر اور پورس کی جنگ۔ اس کہانی میں سکندر اور دارا اور پورس بالکل مختلف روپ میں نظر آتے ہیں۔ باقی کہانیاں احمد خان کھرل، مراد فتیانا اور جگدے خان کھرل کے بارے میں ہیں۔ ان تینوں نے بڑی دلیری سے انگریزوں کے غاصبانہ قبضے کے خلاف ہتھیار اٹھائے یا انگریزوں کا حکم ماننے سے انکار کیا۔ انگریزوں کے خلاف ان کی مہمات کا بیان تاریخی کتب میں نہ ملے گا لیکن لوک حافظے میں بچا رہ گیا۔

سعید بھٹا کی اس اہم کتاب کا ترجمہ سلیم سہیل نے بڑی توجہ سے کیا ہے۔ ان کہانیوں کی معنویت کا مفصل جائزہ بھی لیا گیا ہے۔

مسدس حالی (تشریح و تجزیہ)
تحقیق: ڈاکٹر سید تقی عابدی
قیمت: 600روپے
ناشر: بک کارنر‘ جہلم‘ فون نمبر: 0544-614977

’’جس وقت کتاب ہاتھ میں آئی ‘ جب تک ختم نہ ہوئی‘ ہاتھ سے نہ چھوٹی اور جب ختم ہوئی ہو تو افسوس ہوا کہ کیوں ختم ہو گئی ۔ اگر اس مدس کو فن شاعری کی جدید تاریخ کہا جائے‘ تو بالکل بجا ہے۔ کس صفائی‘ خوبی اور روانی سے یہ نظم تحریر ہوئی ہے‘ بیان سے باہر ہے۔ تعجب ہے کہ ایسا مضمون جو مبالغہ‘ جھوٹ‘ تشبیہات سے بالکل مبرا ہے ‘ کیونکر ایسی خوبی و خوشی بیانی اور موثر طریقے پر ادا ہوا ہے۔‘‘

جب جون 1879ء میں سرسید احمد خاں نے پہلی بار اپنے ساتھی‘ الطاف حسین حالی کی تخلیق کردہ ’’مسدس حالی‘‘ پڑھی‘ تو درج بالا تبصرہ فرمایا: یہ تبصرہ مسدس کی خوبیاں بہ احسن اجاگر کرتا ہے۔ اس کتاب میں وہ متاثر کن نظمیں شامل ہیں جو مولانا حالی نے زوال کا شکار مسلمانان ہند کی حالت سنوارنے کے لئے لکھی تھیں۔ ان میں بنیادی حیثیت مسدس (طویل نظم) کو حاصل ہے۔

زیر تبصرہ کتاب میں اسی مسدس کی تشریح و توضیح عمدہ انداز میںکی گئی ہے۔ تصنیف کے مصنف مشہور بھارتی محقق ہیں اور مولانا حالی کی شخصیت و کارناموں پر درجن سے زائد کتب تحریر کر چکے ۔ اس کتاب میں بھی مولانا حالی کی سوانح اور مسدس پر اکابرین کی آرا شامل ہیں۔

مولانا حالی کی حیات و خدمات پر اپنی تحقیق مضامین میں مصنف نے سیر حاصل معلومات فراہم کی ہیں۔ یہ مضامین ایک ایسے حساس اور ہمدرد قومی رہنما کو خوبصورتی سے نمایاں کرتے ہیں جو تادم مرگ اپنی (مسلم) قوم کو زوال سے نکالنے کی کوششیںکرتے رہے۔

نئی نسل کو خصوصاً اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے، جو مولانا حالی کے مقام و مرتبے سے کما حقہ واقف نہیں۔ یہ کتاب خوبصورت انداز میں شائع ہوئی ہے۔ کاغذ بھی عمدہ ہے ناشر ایک چھوٹے شہر میں ہونے کے باوجود رنگارنگ علمی و ادبی کتب چھاپ کر علم وادب کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ادرے کی کتب خرید کر جہالت کے خلاف ان کے جہاد میں شریک ہوجایئے۔

دوناولٹ
مقصود الٰہی شیخ برطانیہ میں رہ کر اردو زبان کی ترقی و ترویج کے لیے کوشاں اور بریڈ فورڈ سے برسوں ’’راوی ‘‘ کے نام سے خوبصورت اور معیاری جریدہ شائع کرتے رہے ہیں ۔

ان کا بنیادی حوالہ افسانہ نگار کے طورپر ہے کہ انہوںنے خوبصورت افسانے لکھے ہیں ۔ شاعری بھی کی اور اب ناول کی دنیا میں قد م رکھ دیاہے ۔’’دل اک بند کلی ‘‘ان کا پہلا ناولٹ ہے ۔اس میں برطانیہ میں مقیم ان خاندانوں کے سماجی مسائل کو بیان کیا گیا ہے جو پاکستان سے جا کر وہاں آباد ہوتے اور پھر وہاں کے حالات سے سمجھوتہ نہیں کر پاتے اور مسائل میں گھر جاتے ہیں ۔

’’شیشہ ٹوٹ جائے گا‘‘ دوسرا ناولٹ ہے ۔ اس کاموضوع بھی تارکین وطن کی سماجی زندگی سے جڑے وہ مسائل ہیں جن سے انہیں اپنی دھرتی ،اپنے لوگوں اور احباب سے بچھڑ کر نئے دیار، نئے ماحول اور نئے لوگوں کے درمیان زندگی بسر کرنے کے دوران سابقہ پڑتا ہے۔

انہیں اپنے سابقہ اور موجودہ ماحول میں ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے جن ذہنی الجھنوں ،پریشانیوں اور ذہنی کشمکش سے دوچار ہونا پڑتا ہے ناولٹ میں انہیں مختلف واقعات اور کرداروں کے ذریعے بڑے موثر انداز میں بیان کیاگیا ہے ۔

مقصودشیخ کی تحریر کی خوبی یہ ہے کہ وہ سلیس اور سادہ زبان استعمال کرتے ہیں۔ڈاکٹر محمد علی صدیقی لکھتے ہیں کہ مقصود الٰہی شیخ نے ہر قسم کے فن اور تصنع سے ماورا ہوکر ایک ایسے تہذیبی المیے کو بیان کیا ہے جو شائد دوسرے لکھنے والوں کے یہاں گھن گرج کے ساتھ رقم ہوتا،شائد اس المیے میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ڈائریکٹروں سے لے کر لارڈ ماونٹ بیٹن تک اہم کردار بنادیے جاتے ۔ شوکت صدیقی، ڈاکٹر انور سدید ، حسن عابدی او ر محمد احمد سبزواری جبکہ انڈیا سے ف س اعجاز اور ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر نے مقصود الٰہی شیخ کے اس ناولٹ کے اسلوب اور انداز بیاں کی تعریف کی ہے۔ ہرناولٹ کی قیمت150روپے ہے اور زرتاب پبلی کیشنز، اردو بازار ، لاہور پر دستیاب ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔