ڈوبتی کشتی اور پتوار…!

رئیس فاطمہ  ہفتہ 3 نومبر 2012

دوسری جنگ عظیم جو 1939ء میں شروع ہوئی، 1945ء میں ختم ہوئی اور 1947ء میں پاکستان بن گیا۔ کیوں کہ ہٹلر نے برطانیہ کی معیشت تباہ کر دی تھی۔

دن رات جرمنی کی جانب سے برطانیہ پر حملے ہوتے تھے۔ اس حد تک کہ لندن کی عمارتیں سیاہ ہو گئی تھیں۔ لہٰذا برطانیہ اپنی نوآبادیات پر اپنا کنٹرول قائم نہ رکھ سکا۔ اسے اپنی گرفت جب ڈھیلی نظر آئی تو جلد یا بدیر اس نے اپنی مقبوضہ نوآبادیات کو آزاد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ یوں ہندوستان آزاد ہوا، اور پاکستان وجود میں آ گیا۔ گویا انگریز اگر برصغیر میں حکمران نہ ہوتا تو شاید پاکستان نام کی کوئی ریاست وجود ہی میں نہ آتی۔ مفاد پرست ٹولے نے جلدی جلدی مذہب کا نقلی لبادہ اوڑھا، مسلمان قوم کی سب سے بڑی کمزوری مذہب کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور ریاست کا رشتہ اپنے اپنے مفادات کی خاطر، اپنی چوہدراہٹ اور جاگیریں بچانے کے لیے مذہب سے جوڑ دیا۔

کیوں کہ جہاں جہالت اور کم علمی کا دور دورہ ہو، وہاں روایتی ملائیت زور پکڑ لیتی ہے۔ مسجد و منبر کو اپنے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے والوں نے لوگوں کو عذاب قبر اور دوزخ سے ڈرا کر اور خوف زدہ کر کے اپنے اپنے مقاصد حاصل کیے۔ ان نیم مُلّاؤں کے پیچھے اس وقت بھی جاگیردار، سرمایہ دار اور نوابین تھے، جو مسلم لیگ سے وابستہ تھے۔ جب کہ عام آدمی کو انگریز حکومت سے کوئی شکایت نہ تھی۔ کم از کم مسجدوں میں پولیس اور فوج کے پہرے میں نماز نہیں پڑھی جاتی تھی۔ اور آج بھی وہاں یہ صورت حال نہیں ہے کہ سنگینوں کے سائے میں نمازیں ادا کی جائیں۔

جو لوگ گھومنے پھرنے یا عزیزوں سے ملنے انڈیا جاتے ہیں وہاں کے مسلمان ایک خندۂ استہزاء سے کہتے ہیں ’’دیکھ لیجیے ہمیں یہاں نماز پڑھنے کے لیے فوج یا پولیس کے پہرے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ چلتے پھرتے لوگ سوال کر دیتے ہیں۔ ’’سنا ہے پاکستان کی مسجدیں دہشت گردوں کے قبضے میں ہیں۔‘‘

’’آپ نے تو ہندو ازم اور ہندو اکثریت کی غلامی سے آزادی کے لیے پاکستان بنایا تھا، لیکن آپ تو خود ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے ہیں، آپ سب تو کلمہ گو ہیں، ایک خدا اور ایک رسول ﷺ پہ ایمان رکھتے ہیں۔‘‘ ایسے ہی بے شمار سوالوں کا جواب کسی سمجھدار اور حساس پاکستانی کے پاس نہیں ہوتا۔

دراصل پاکستان کا وجود ایک معاشی مسئلہ تھا، جسے اپنے اپنے مفاد کے تحفظ کی خاطر دینی جماعتون کے اتحاد سے جاگیرداروں نے مذہب سے جوڑ کر پاکستان کو ایک اسلامی مملکت کا درجہ دے دیا اور اسی مفاد کی خاطر محمد علی جناح کی اولین تقریر بھی ریکارڈ سے غائب کر دی گئی۔ کیوں کہ خود جناح صاحب بھی ان مذہبی طاقتوں کے آٓگے خود کو کمزور پانے لگے تھے۔ ایک طرف ان کی جان لیوا بیماری دوسری طرف مذہبی جماعتوں اور جاگیرداروں کا گٹھ جوڑ…!! وہ بھی آہستہ آہستہ تھری پیس سوٹ اور ٹائی سے شیروانی اور جناح کیپ تک آ گئے۔ اور ہمارے چند خود ساختہ دانش وروں نے انھیں ’’اسلام کا سپاہی‘‘ بنا ڈالا۔

غیر منقسم ہندوستان میں مسلمان آبادی میں مذہبی انتہا پسندوں کا تسلط ہمیشہ سے رہا ہے۔ ایک طرف سرسید احمد خان تھے۔ جو جان گئے تھے کہ چونکہ مسلمان تعلیم میں بہت پیچھے ہیں، اسی لیے سرکاری ملازمتوں میں ان کا وجود برائے نام ہے۔ اگر ہیں تو زیادہ تر چپراسی اور کلرک ہیں۔ جب کہ ہندو آبادی تعلیمی میدان میں چونکہ آگے تھی اسی لیے اہم عہدوں پر وہی فائز تھے۔ دوسری طرف اکبر الہ آبادی تھے جو سرسید احمد خان کے مخالفین میں سے تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر سرسید نہ ہوتے تو مسلمان آج بھی تعلیمی میدان میں بہت پیچھے ہوتے۔ میری مراد ہندوستان کے مسلمانوں سے ہے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جن علاقوں کے مسلمانوں میں سرسید نے تعلیمی شعور بیدار کیا بعد میں انھی کے دم سے سول سوسائٹی وجود میں آئی اور وہی اعلیٰ عدالتیں اور سرکاری عہدوں پر فائز ہوئے۔ باقی کا منظر نامہ تو آج بھی وہی ہے جو سرسید سے پہلے تھا۔ سرحد، بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں آج بھی وہی جہالت، تشدد اور انتہا پسندی کا دور دورہ ہے۔

کیا پاکستان محض اس لیے بنایا گیا تھا کہ یہاں دہشت گردی اور مذہبی منافرت کے پودوں کی آبیاری کی جائے؟ کیا پاکستان اس لیے حاصل کیا گیا تھا کہ یہاں دل کھول کر اور جی بھر کے اپنے ہی جیسے انسانوں کا خون مذہبی، لسانی اور گروہی بنیادوں پہ بہایا جائے۔۔؟ خودکش بمبار بے گناہ اور معصوم لوگوں کو ستّر حوریں حاصل کرنے کے لیے بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیں۔ مختلف روپ بہروپ کے ٹارگٹ کلرز شہر کراچی کو خون میں ڈبو دیں۔

11 اگست 1947ء کو قائداعظم ؒ نے فرمایا تھا ’’آپ آزاد ہیں، چاہے مسجد میں جائیں، مندروں میں جائیں، ریاست کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔‘‘ بانی پاکستان ایک ایسا ملک چاہتے تھے جو نظریاتی طور پر سیکولر ہو، افسوس کہ سیکولر کا ترجمہ کم فہم، کم علم اور متعصب لوگ ’’لادین‘‘ کرتے ہیں، جب کہ ایسا نہیں ہے۔ سیکولر کا مطلب ایک ایسی ریاست ہے جس میں ہر مذہب کے رہنے والوں کو ان کے اپنے اپنے عقائد اور مسلکوں کے ساتھ آزادی اور سکون سے زندہ رہنے کا حق حاصل ہو، کیونکہ ریاست کوئی انسانی وجود نہیں ہے جس کا کوئی عقیدہ یا مذہب ہو۔

اسرائیل اور ایران واحد مذہبی ریاستیں ہیں لیکن ان کی تشکیل کے پیچھے کچھ دوسرے عوامل اور عناصر کار فرما تھے جو ایک الگ مستند تاریخ رکھتے ہیں۔ دنیا کے تمام مہذب ممالک سیکولرازم ہی کے حامی ہیں۔ مغربی ممالک میں وہاں کے رہنے والے مختلف مذاہب کے لوگ آزادی سے اپنی عبادات کرتے ہیں ریاست کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ بدقسمتی سے پاکستان وہ بدنصیب ملک ہے جو آج ہر طرف سے مذہبی منافرت، مجرمانہ سیاست گری اور انتہا پسندی کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے اور اس کو بڑھاوا دیتی ہیں ہماری ایجنسیاں، خفیہ ادارے اور کافی حد تک فوج میں موجود انتہا پسند عناصر۔ مَرے پر سو درّے کے مصداق طالبان بھی کرّوفر کے ساتھ جلوہ افروز ہیں کہ اپنے اپنے دور اقتدار میں پی پی اور ن لیگ نے بھی انھیںطاقت بخشی تا کہ ان کی حکومت قائم رہے اور آج بھی کچھ خفیہ طاقتیں پاکستان پر طالبان کو قابض دیکھنا چاہتی ہیں۔ پاکستان کا آیندہ منظر نامہ بڑا بھیانک اور سیاہ نظر آتا ہے ایسے میں کسی کو کسی روشنی کی امید ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہ رہا ہے۔

ہم ایٹمی قوت ہیں لیکن بجلی سے محروم ہیں، اندھیروں میں جی رہے ہیں۔ مہنگائی نے متوسط طبقے خصوصاً تنخواہ دار طبقے کی کمر توڑ رکھی ہے۔ چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے والا محاورہ اپنی اہمیت کھو چکا ہے کہ چادر روز بروز سکڑتی جا رہی ہے۔ حکومت بھتہ خوروں، منافع خوروں اور چوروں کے آگے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے، تمام منافع خور خصوصاً پیٹرولیم اور سی این جی والے گزشتہ چار سال کے دوران لکھ پتی سے ارب پتی بن چکے ہیں۔ کیونکہ انھیں ’’بڑوں‘‘ کی مکمل سرپرستی اور تحفظ حاصل ہے۔

لیکن پھر بھی پاکستان اسلام کا قلعہ ہے۔ اگر اسلام نام کی کوئی شے ہے اور اسے کسی قلعے میں بند کر رکھا ہے تو خدارا اسے رہائی دلوائی جائے تا کہ ’’اسلام‘‘ نامی قوت قید سے رہائی پا کر انسانوں کی بھلائی کے لیے کچھ کر سکے۔ جاہلوں کو تعلیم دلا سکے، بھوکوں کو کھانا کھلا سکے اور بے روزگاروں کو روزگار مہیا کر سکے…!! افسوس کہ ’’اسلام‘‘ کو جن لوگوں نے قلعے میں بند کر رکھا ہے وہ اسے کبھی بھی رہائی نہیں پانے دیں گے۔!!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔