صحت مند بچے ہی ملک کی ترقی کے ضامن ہیں،ادیب رضوی

اسٹاف رپورٹر  اتوار 4 نومبر 2012
پروفیسرادیب الحسن رضوی اکیسویںبائنیل پیڈیاٹرک انٹر نیشنل کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

پروفیسرادیب الحسن رضوی اکیسویںبائنیل پیڈیاٹرک انٹر نیشنل کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

کراچی: ماہرین اطفال نے کہا ہے کہ بچوںکی مختلف بیماریوں اور خرابی صحت کے نہ صرف معیشت پر ہی نہیں بلکہ قومی ترقی پر شدید منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

غذائی کمی، فاسٹ فوڈ،کا ربونائیڈ مشروبات ،غربت اور غیر فطری طرز زندگی ہے ، ان خیالا ت کا اظہار پاکستان پیڈ یا ٹرک ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام 21ویں سالانہ بچوںکی صحت سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس سے پروفیسر ادیب الحسن رضوی ،پروفیسر ڈاکٹر ذوالکفلی اسماعیل، پروفیسر ڈاکٹر اقبال میمن پروفیسر ڈی ایس اکرم، ڈاکٹر سلمیٰ شیخ، ڈاکٹر سمیع احمد، ڈاکٹر جان میری اوکوبیلی ،ڈاکٹر احمد نقوی،ڈاکٹر عارف حسین و دیگر نے خطاب کیا۔

ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ تین ہزار بچوںکے گردے فیل ہونے کی وجہ سے انھیں تبدیلی گردہ کی ضرورت ہو تی ہے اگر ان مریض بچوںکی ابتدا میں تشخیص اور بروقت علاج ہوجائے توگردے فیل ہونے اورگردے میں پتھری کے مریض بچوںکی شرح پر قابو پایا جاسکتا ہے انھوں نے کہا کہ بچوں کے گردے کے ٹرانسپلانٹ کے پہلے سال میں نتائج کا تناسب 96 فیصداور پانچویں سال میں 84 فیصد ہے، پاکستان میں بچوں کے گردے کی تبدیلی کا آغاز ایس آئی یو ٹی میں 1986سے ہوا ہے۔

اگر ملک میں بعد از مرگ اعضا عطیہ کرنے کا رجحان فروغ پا جائے تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ بچوںکو ہوگا ،پروفیسر ڈی ایس اکرم نے کہا کہ ہماری حکومتوں نے بچوں کی صحت کیلیے بلندو بانگ دعوے ضرور کیے لیکن ان پر عمل درآمد نہیں کیا، قومی بجٹ میں بچوں کی صحت کے لیے خاطرخواہ فنڈز مختص نہیں کیے گئے،بچوں اور ماں کے صحت مند ہوئے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیںکرسکتا ،پروفیسر اقبال میمن نے کہا کہ غذائی کمی اور بعض بیماریوںکے باعث بچوںکی قوت مدافعت میں کمی کے علاوہ پستہ قد اور دبلے پن کی بیماریاں فروغ پارہی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔