ہماری جامعات کو ابنِ بیطار کی ضرورت ہے

سہیل یوسف  ہفتہ 6 فروری 2016
یہ وہی امتِ مسلمہ ہے جس کی سائنسی کتابیں یورپ کی زینت بنی رہیں، لیکن اب ہمارا احساسِ زیاں بھی ختم ہوچکا ہے۔ فوٹو:فائل

یہ وہی امتِ مسلمہ ہے جس کی سائنسی کتابیں یورپ کی زینت بنی رہیں، لیکن اب ہمارا احساسِ زیاں بھی ختم ہوچکا ہے۔ فوٹو:فائل

ابھی شب بہت باقی تھی اور اس کے چراغوں کا تیل کب کا ختم ہوچکا تھا۔ دکانیں بند اور اگر کھلی بھی ہوتیں تو علم کے اس شیدائی بچے کے پاس تیل خریدنے کے پیسے کہاں سے آتے؟ قریباً 1210 عیسوی میں اسپین میں ایک یتیم لڑکا رہا کرتا تھا اور یہ اسی کی سچی کہانی ہے۔

اندھیری رات اور سخت سردی میں وہ بچہ بوسیدہ کتاب تھامے محلے کے چوکیدار کے پاس آیا اور اس سے لالٹین کی روشنی میں کچھ دیر بیٹھنے کی اجازت مانگی، جو دیدی گئی، بچہ اس روشنی میں کچھ دیر کتاب تیزی سے پڑھتا گیا یہاں تک کہ چوکیدار نے کہا۔

بیٹا اب میں چلوں گا، تم جاؤ گھر جا کر سو رہو، بچہ اٹھ کھڑا ہوا۔ لیکن چوکیدار جیسے ہی کچھ قدم آگے بڑھا اسے محسوس ہوا کہ کوئی پیچھے آرہا ہے، کیا دیکھتا ہے کہ بچہ زرد چہرے اور کپکپاتے ہونٹوں کے ساتھ لالٹین کی روشنی کے تعاقب میں کتاب پڑھتا آگے بڑھ رہا ہے۔ اب جہاں چوکیدار گیا، بچہ ساتھ ہولیا۔ یہاں تک کہ کتاب کا ایک حصہ ختم ہوا اور وہ گھر لوٹ گیا۔

اگلی شب دوبارہ وہ بچہ لالٹین کے گرد پروانے کی طرح موجود تھا، اور جہاں جہاں چوکیدار جاتا وہ روشنی کے پیچھے چل پڑتا۔ لیکن تیسرے روز چوکیدار نے بچے کو ایک لالٹین کا تحفہ دیا جو اس کے لئے خزانہ ثابت ہوا۔ یہ بچہ بڑا ہو کر دنیا کا ممتاز ماہرِ نباتات، ادویہ ساز ماہر اور حکیم بنا جسے آج ہم ابنِ بیطار کے نام سے جانتے ہیں۔ ابنِ بیطار نے دنیا بھر کے جنگلوں، بیابانوں اور باغات کا سفر کرکے 1400 پودوں، جڑی بوٹیوں، درختوں، پھلوں اور سبزیوں کا مطالعہ کرکے 300 سے400 ادویات اخذ کیں۔ اس کے استاد حیاتیات کے اتنے بڑے ماہر تھے کہ ’’النباتی‘‘ اس کے نام کا حصہ بنا، جی ہاں! ابوالعباس النباتی۔ ابنِ بیطار نے دواؤں اور نباتیات کا جو انسائیکلوپیڈیا مرتب کیا وہ کئی صدیوں تک جامعات کا حصہ بنا رہا اور اس کا ترجمہ کئی زبانوں میں شائع ہوا۔

اب اس کہانی کو چھوڑ کر ہم آگے بڑھتے ہیں۔ نومبر 2015 کو ملائیشیا کی وزارتِ سائنس، امریکی ماہرین، ماریشیئس کی خاتون سائنسداں صدر امینہ غریب اور اسلامی دنیا کے درجنوں ماہرین کی مرتب کردہ ایک پریشان کن رپورٹ شائع ہوئی، جس پر 2 سال تک محنت کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مرکزی مصنفین میں امریکن یونیورسٹی آف شارجہ کے پروفیسر ندال گوسم اور پاکستانی ڈاکٹر اطہر اسامہ بھی شامل ہیں۔

ٹاسک فورس فار سائنس ان دی مسلم ورلڈ، نامی اس رپورٹ میں دنیائے عرب و عجم کی جامعات میں سائنسی تحقیق اور تدریس کا احوال پیش کیا گیا ہے جس کے اہم نکات ذرا توجہ سے ملاحظہ کیجئے۔

  • 57 مسلم ممالک میں اب تک صرف 3 نوبیل انعام یافتہ سائنسداں پیدا ہوئے ہیں۔ جن میں ڈاکٹرعبدالسلام کو 1979 میں، مصر کے پروفیسر احمد زویل کو 1999 میں اور ترکی کے ڈاکٹر عزیز سنکر کو 2015 میں نوبیل انعام ملا۔ لیکن ان تینوں ماہرین نے اپنا معرکتہ الآرا تحقیقی کام اپنے ملک سے باہر ترقی یافتہ ممالک میں کیا، جو ثابت کرتا ہے کہ اسلامی ممالک میں اعلیٰ تحقیق کا انفراسٹرکچر موجود نہیں۔
  • اسلامی ممالک آبادی کے لحاظ سے دنیا کا 25 فیصد حصہ بناتے ہیں لیکن عالمی سطح پر سائنسی تحقیقی مقالات میں ان کا حصہ صرف 6 فیصد، ایجادات اور پیٹنٹ (حقوقِ ملکیت) میں ان کا حصہ 1.6 فیصد اورسائنسی تحقیق میں دنیا کے مقابلے میں وہ 2.4 فیصد رقم خرچ کرتے ہیں۔
  • دنیا کی 100 بہترین جامعات میں کوئی ایک یونیورسٹی شامل نہیں جو اس وقت کسی بھی اسلامی ملک میں موجود ہو۔ ہاں دنیا کی 400 بہترین جامعات میں سے چند مسلم ممالک میں ہیں، لیکن ان کی تعداد ایک درجن سے بھی کم ہے۔
  • ترقی پذیر ممالک سائنسی تحقیق پر اپنی مجموعی قومی پیداوار کا 2 سے 3 فیصد حصہ خرچ کرتے ہیں، لیکن اسلامی ممالک اوسطاً 0.5 فیصد رقم سائنس اور تحقیق پر خرچ کرتے ہیں۔ البتہ ملائیشیا سب سے آگے ہے جو ایک فیصد رقم خرچ کر رہا ہے۔
  • اسلامی ممالک میں فی 10 لاکھ آبادی پر 600 تحقیقی مقالے تحریر کئے گئے، جو دنیا میں سب سے کم ہے۔ جبکہ برازیل میں فی 10 لاکھ آبادی پر 1000، اسپین میں 4000 اور اسرائیل میں 9000 تحقیقی مقالے تحریر کئے جارہے ہیں۔ لیکن تیونس اور ملائیشیا تمام اسلامی ممالک میں بہتر ہیں جہاں یہ شرح 2000 کے قریب ہے۔
  • عجیب بات یہ ہے کہ اسلامی ملکوں کی جانب سے لکھے جانے والے تحقیقی اور سائنسی مقالوں کا حوالہ بھی بہت کم دیا جاتا ہے۔ جسے سائٹیشن کہتے ہیں۔ یہ شرح صرف 5.7 ہے جبکہ جنوبی افریقہ کے تحقیقی مقالوں میں 9.7 اور اسرائیل میں 13.8 فیصد ہیں۔ یہ رحجان اسلامی ممالک کے تحقیقی مقالوں کا پست معیار ظاہر کرتا ہے۔
  • اب ذرا دل تھام کر پڑھئے کہ دنیا کے ممتاز بین الاقوامی سائنسی ہفت روزہ ’’نیچر‘‘ میں 1900 سے لے کر اب تک یعنی 115 سال میں لکھے جانے والے 100 مشہور ترین تذکرہ کئے جانے والے تحقیقی مقالوں میں سے ایک بھی کسی مسلمان سائنسداں کا تحریر کردہ نہیں۔ یہ وہی امتِ مسلمہ ہے جس کی سائنسی کتابیں یورپ کی زینت بنی رہیں، لیکن اب ہمارا احساسِ زیاں بھی ختم ہوچکا ہے۔
  • پاکستان 2010 اور 2012 تک سائنسی تحقیق پر اپنی مجموعی قومی آمدنی کا صرف اعشاریہ 4 فیصد حصہ خرچ کررہا تھا۔ جبکہ 1996 سے 2005 کے 10 سال میں پاکستان میں سائنسی مقالہ جات کی تعداد میں 5 فیصد کا اضافہ ہوا تھا جو خوش آئند ہے۔ اسی عرصے میں پاکستان سے تحریر کئے جانے والے تحقیقی مقالوں کی تعداد 3,933 تھی، اور 2006 سے 2015 کے درمیان پاکستان سے 25 ہزار سے زائد تحقیقی مقالے لکھے گئے۔
  • رپورٹ میں جنرل پرویز مشرف کے عہد میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے قیام اور ڈاکٹر عطاء الرحمان کی خدمات کو سراہا گیا ہے۔ جس میں 2000 کے بعد اعلیٰ تعلیم کا بجٹ 2400 سے 6000 فیصد تک بڑھایا گیا، نئی جامعات بنیں اور اعلیٰ تعلیم میں نوجوانوں کی شمولیت بڑھی ہے۔

اس کا نتیجہ سامنے ہے کہ اگر اسلامی ممالک کو اپنے ملک کے اندر معدنیات تلاش کرنا ہوں، جدید صنعتیں چلانی ہوں یا پھر اسپتال چلانے ہوں وہ مغربی اور ترقی یافتہ ممالک کی جانب دیکھتے ہیں۔ اگر جان بچانے والی دواؤں کی ضرورت ہو تب بھی ہم ترقی یافتہ ممالک کے محتاج ہوتے ہیں۔

اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں سے نچلی یعنی اسکول اور کالج سطح پر سائنس اور تحقیق کی صورتحال بہت ابتر ہے اور کئی ممالک میں دسیوں سال گزرنے جانے کے بعد بھی کوئی بہتری دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسلامی ممالک کی جامعات میں ان کی اپنی زبان میں تدریسی مواد اور کتابیں موجود نہیں، جس سے وہ اپنی تہذیب و معاشرے سے کٹ کر رہ گئے ہیں اور سائنس کو ایک انجان علم تصور کرتے ہیں اور علم و معاشرے کا باہمی ربط پیدا نہیں ہو پا رہا۔

پس چہ باید کرد

لیکن اس مسئلے کا حل موجود ہے۔ اسی ٹاسک فورس نے اسلامی ممالک کی تمام جامعات سے درخواست کی ہے کہ وہ ’’نیٹ ورک اور ایکسلینس آف سائنس‘‘ یا نیکسس سے اشتراک کریں۔ یہ نیٹ ورک اپنی تجاویز، آراء اور رہنمائی فراہم کرے گا جس کے تحت تمام ممالک اپنی جامعات میں سائنس کی تدریس، تحقیق اور معیار کو بہتر بناسکیں گے۔ اس کے علاوہ تمام اسلامی ممالک کو یہ تجاویز دی گئی ہیں۔

نصاب میں بنیادی تبدیلیاں کی جائیں اور پہلے اس پر ضرور سوچا جائے کہ طالبعلموں کو کیا کچھ پڑھانا چاہئے۔ اس امر پر زور دیا گیا کہ ایک متوازن شخصیت کے لئے فنون اور علوم یعنی سائنس اور آرٹس دونوں کو مجموعی پڑھایا جائے۔ اس کے علاوہ فلسفہ سائنس، کچھ سائنسی تاریخ، تحقیقی اخلاقیات بھی پڑھائے جائیں۔ طالبعلموں میں اظہار اور ابلاغ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے زبان، بیان اور تحریر و تالیف پر زور دیا جائے۔ ان سب کا محور طالب علم کو بھی بنایا جائے کہ آخر اس طالبعلم کو کیا بننا چاہیے۔ طالبعلموں پر زور دیا جائے کہ وہ اخبارات اور جرائد کے لئے اپنی تحریریں پیش کریں۔

غریب لیکن باصلاحیت طالبعلموں کی راہ میں حائل مالیاتی مسائل دور کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر اسکالر شپس پلیٹ فارم کا قیام لازمی ہے، جو قومی مفادات اور ضروریات کے لحاظ سے بھی ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ اگر ڈاکٹرعبدالسلام کو کیمبرج کے لئے ایک مقامی سیاستدان سے رقم نہیں ملتی تو، ان کا اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان جانا محال تھا۔

اسی طرح بچوں کو مضامین کے انتخاب کا وسیع اختیار دیا جائے اور ان پر چند مضامین ٹھونسے نہ جائیں بلکہ سائنس اور انجینیئرنگ علوم کے ساتھ ساتھ ادب، شاعری، زبان، تاریخ اور دیگر علوم بھی پڑھائے جائیں۔ ایک اور اہم بات یہ کہ جامعات اور صنعتوں کا تعلق مضبوط بنا کر ان کے درمیان روابط بڑھائیں جائیں۔ انڈر گریجویٹ طالبعلموں کو بتایا جائے کہ سائنسی تحقیق کیا ہوتی ہے؟ اور سائنسی فکر کسے کہتے ہیں۔

اساتذہ اور فیکلٹی ماہرین کو مسلسل نئے علوم اور ٹیکنالوجی سے آگاہ رکھنے کے مواقع پیش کئے جائیں اور اس سلسلے میں سرخ فیتوں اور سرکاری مداخلت کو ختم کرکے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح اظہار، سوچ اور فکر کی آزادی بہت ضروری ہے جس کے بغیر سائنسی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح سائنسی تحقیق اور تدریس کو قومی ایجنڈے سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں قومی سائنس پالیسی نا گزیر ہو۔ پاکستانی سائنسداں اب بھی کانفرنسوں میں شرکت کے لئے یا کسی علمی دورے کے لئے وزیر، مشیر اور افسروں کی اجازت کے محتاج ہیں، جسے ختم ہونا چاہیئے۔ ذیادہ دور نہ جائیے صرف صوبہ سندھ میں ہی کئی اساتذہ ڈاکٹریٹ کے بعد پی ایچ ڈی الاؤنس کے لیے جوتیاں گِھس رہے ہیں، وجہ سرکاری مداخلت اور رشوت۔

بہتر کارکردگی دکھانے والے سائنسدانوں کو ایوارڈ، اعزازات اور ترغیبات فراہم کی جائیں تاکہ حوصلہ افزائی سے ان کی کارکردگی بہتر ہو۔ جامعات میں احتساب، درجہ بندی اور بہترین کارکردگی کا رواج ہونا چاہیئے تاکہ چربہ سازی اور علمی دھوکے اور فراڈ کو ختم کیا جاسکے۔

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ سادہ اور عام فہم زبان میں عوام تک سائنسی ابلاغ کے ذریعے سائنس اور ٹیکنالوجی کی تازہ معلومات فراہم کی جائیں۔ اس ضمن میں میڈیا نہایت اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

اب دوبارہ ابنِ بیطار کی جانب آتے ہیں۔ آج 57 اسلامی ممالک کی اکثریت علم سے بچھڑ چکی ہے۔ یہ وہی سائنس ہے جس کا ہمارے یہاں رواج تھا۔ کیا ابو ریحان البیرونی اپنی عمر کے آخری لمحات میں اپنے ساتھی سے فقہ اور ترکے کے مسائل نہیں سیکھ رہا تھا۔ کیا مراکش کی مشہور جامعہ فیض کی بنیادیں فاطمہ الفہری نے نہیں رکھی جو القراویہ کے نام سے آج بھی قائم ہے۔ کیا حلب کے شہر میں ایک خاتون مریم اجلیا الاصطر لابی کے نام سے موجود نہیں تھی، جو اعلیٰ معیار کے اصطرلاب بناتی تھیں۔ اگر تھیں تو آج کا ابنِ بیطار کہاں ہے۔ اسلامی دنیا میں دولت کی ریل پیل ہے، بلند فواروں اور عمارتوں کی دوڑ لگی ہے، شاپنگ سینٹر ہیں اور روشنیوں کی مینار اونچی عمارتیں ہیں، اگر نہیں تو ابن بیطار کی روح نہیں جو اندھیرے میں روشنی کی پیچھے بھاگتا رہا، جو علم کے لئے تڑپتا رہا۔ آج روشنی باہر ہے اور ہمارے اندر اندھیرا۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مسلمان ایک بار پھر تعلیم کے میدان میں ماضی کی طرح کامیابیاں سمیٹ سکتے ہیں؟

Loading ... Loading ...

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500  الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس۔

سہیل یوسف

سہیل یوسف

سہیل یوسف ایکسپرس اردو ویب سائٹ پر فیچر ایڈیٹر ہیں۔ وہ ویڈیو، سلائیڈ شو میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں ۔ سائنس، ماحولیات اور ٹیکنالوجی ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔