69 برس بیت گئے، ظلم کی سیاہ رات اور کتنی طویل ہو گی؟

فرحان فانی  جمعـء 5 فروری 2016
خونی لکیر کے آر پار بسنے والے منقسم خاندانوں کی کئی نسلیں ملاقات کی تمنا دل میں لیے دنیا سے گزر گئیں ۔  فوٹو : فائل

خونی لکیر کے آر پار بسنے والے منقسم خاندانوں کی کئی نسلیں ملاقات کی تمنا دل میں لیے دنیا سے گزر گئیں ۔ فوٹو : فائل

موجودہ صدی کو تہذیبوں کی ترقی کی صدی کہا جاتا ہے ۔انسانی حقوق کی بات بھی اس عہد میںقدرے بلند آہنگ کے ساتھ کی جاتی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اب اقوام اور ممالک کے رشتے معاشی بنیادوں پر قائم ہو ں گے۔ اب بہت سے ملکوں میں سفر کرنے کے لیے سرحدوں کی غیر ضروری بندشوں کو ختم کیا جاچکا ہے لیکن 69ء برس سے ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے خطۂ کشمیر کے باسی جبر واستبداد کی طویل سیاہ رات میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔

گزشتہ سات دہائیوں میں ریاست جموں وکشمیر کے باشندوں نے آزادی کی صبح دیکھنے کے لیے کیا کیا جتن نہیں کیے۔ سیاسی جد وجہد سے ابتداء ہوئی۔ سلسلہ دو چار آوازوں سے شروع ہوا جو آگے چل کر قافلہ بن گیا۔ جب سیاسی جد وجہد کارگرہوتی دکھائی نہ دی تو یہاں کے باشندوں میں اپنے گھائل جسموں کی ساری بچی کھچی توانائیاں کام میں لاکر مسلح مزاحمت کی کوشش کی ۔ وہ ظلم کی قوتوں کے ساتھ ٹکراتے رہے، کٹتے رہے اور گرتے رہے مگر آج تک ان کا وہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا ۔

تقسیم ہند کے زمانے میں کشمیریوں کا پاکستان کے ساتھ جذباتی لگاؤ ایک فطری چیز تھی کیونکہ ان کا واسطہ اکثر ایسے حکمرانوںسے پڑا جو غیر مسلم تھے۔ اس وقت کشمیری خود کو پاکستان کے ساتھ زیادہ محفوظ تصور کرتے تھے۔اِدھر پاکستان کے عام باشندے بھی انہیں اپنا بھائی بند سمجھتے تھے۔ تقسیم ہند کے سال یعنی 1947ء میں پاکستان نے عالمی فورموں پر کشمیر کے وکیل کا کردار لیا اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی پرزور حمایت کی۔ دوسری جانب بھارت نے وادی کے باشندوں پر ظلم وستم کا سلسلہ جاری رکھا مگر یہ سب کشمیریوں کے عزم و ہمت اور جذبۂ حریت کو مات نہ د سکا۔

یہ 1989ء کی بات ہے کہ جماعت اسلامی کے اس وقت کے امیر قاضی حسین احمد نے ایک پریس کانفرنس میں یہ تجویز دی کہ کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے کوئی قومی دن مقرر ہونا چاہیے، چنانچہ اس تجویز کو سامنے رکھتے ہوئے 1990ء سے 5فروری کا دن یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پھر نواز شریف کے دوسرے دور میں اس دن باقاعدہ سرکاری چھٹی کا اعلان کیا گیا ۔

آج کے دن پورے ملک میں کشمیر کی آزادی سے متعلق تقریبات، ریلیاں اور سیمینارز کا انعقاد ہوتا ہے۔ یہ ایک اچھی روایت ہے مگر محض اسی پر اکتفا مایوس کشمیریوں کے زخموں کی مسیحائی کے لیے کافی نہیں۔ کشمیری باشندے کئی دہائیوں تک حالات کے تھپیڑے کھانے کے بعدکافی باشعور ہو چکے ہیں۔ کشمیر اور پاکستان کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم کشمیری ایک بار پھر اپنی مکمل آزادی کے لیے منظم ہو رہے ہیں۔ اب کی بار وہ اسلحے کی بجائے سیاسی عمل سے ذریعے اپنے حق کے حصول کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کشمیریوںنے گزشتہ سات دہائیوں میں تاریخ کی کن کن سنگ ہائے میل کو دیکھا اور اس دوران کیاکچھ سیکھا؟ اس کے لیے ذرا ماضی کے جھرکوں میں جھانکتے ہیں۔

ساڑھے چار ہزارسالہ طویل تاریخ کے حامل اس خوبصورت خطے نے تاریخ کے ان گنت اتار چڑھاؤ دیکھے۔ مقامی افراد و اقوام نے احسن طریقے سے اس کا انتظام و انصرام سنبھالا۔کئی بیرونی چیرہ دست بھی آئے اور برسوں تک یہاں کے مقامی باشندوں کا استحصال کرتے رہے۔کشمیر کی ساڑھے چار ہزار سالہ معلوم تاریخ میں سے محض 6 سو 66 سال ایسے ہیں جن میں یہاں بیرونی حکمرانوں کا تسلط قائم رہا۔

اس سب کے باوجود تاریخ، عمرانیات اور سماجیات کے ماہرین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کشمیر ہر دور میں اپنی ایک مخصوص تہذیب اور ثقافت کے ساتھ تاریخ کے صفحات میں زندہ رہا۔ یہاں کے حسین لوگوں نے پے در پے مظالم ،ناختم ہونے والے المیوں اور مسلسل جبر کے ماحول میں بھی اپنے حواس نہیں کھوئے ۔ وہ بنیادی انسانی اقدار کی پرورش برابر کرتے رہے۔ ادب ،موسیقی اور آرٹ کشمیریوں کے زندگی کے لازمی جزو ہیں۔

1846ء میں ڈوگرہ حکمران مہاراجہ گلاب سنگھ (والی ٔ جموں)نے انگریزوں کو تاوان ادا کر کہ انگریز سرکارسے معاہدہ امرتسر کے تحت یہ ریاست حاصل کی اور یہاں پر شخصی حکومت کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد یہاں کے باشندوں پرانسانیت سوز مظالم ڈھانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مہاراجہ نے ہوا کے علاوہ ہر چیز پر ٹیکس عائد کر دیا تھا۔

اس کے ہرکارے یہاں کے باشندوں خصوصاً مسلمانوں سے بیگار لیا کرتے تھے۔مہاراجہ کے مظالم کا اندازہ اس مثال سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے ایک مرتبہ کچھ قیدیوں کی کھالیں ادھیڑ کر ان میں بھوسہ بھروا کر سڑک پر رکھوا دیا اور اپنے بیٹے کو بلا کر کہنے لگا دیکھو ! حکومت ایسے کی جاتی ہے۔

بیسویں صدی شروع ہوئی تو کشمیر میں ڈوگرہ سامراج کے خلاف اکا دکا مزاحمت کے واقعات سامنے آنے لگے لیکن کوئی منظم صورت ابھی سامنے نہیں آئی تھی۔ انفرادی طور پر جو بھی آوازیں اٹھتیں ان کا گلا گھونٹ دیا جاتا ۔ 1931ء میں کشمیر کے مسلمانوں نے اپنے حقوق کے لیے ایک نمائندہ سیاسی جماعت مسلم کانفرنس بنائی جو لال پرچم لے کر میدان میں آئی ۔ اس سیاسی جماعت کا اولین مقصد کشمیر میں شخصی حکمرانی کو ختم کرنا تھا۔

پھر 39ء میں نیشنل کانفرنس میں بدلی۔ مسلم کانفرنس جو کہانی بن چکی تھی اس کا ایک بار پھر 1942ء میں احیاء ہوا۔ سیاسی محاذ پرڈوگرہ سرکار کے خلاف تحریک کسی نہ کسی شکل میں چلتی رہی ، کئی لوگ قربان بھی ہوئے۔ اسی ہنگام تقسیم ہند کا ڈول ڈالا گیا۔یہ تبدیلی کی ایک بڑی لہر تھی جو بعد میں پاکستان اور بھارت کی صورت میں سامنے آئی ۔ اس ہنگامہ خیز دور میں کشمیریوں کے لیے یہ امید پیدا ہوئی کہ شاید اب تاریخ رحم کھائے اور انہیں بھی آزادی کا حق مل سکے۔ چنانچہ وہ پنجرے میں قید پرندے کی طرح پھڑپھڑائے مگر پنجرے کی آہنی سلاخیں کیا ٹوٹتیں ، اس کے اپنے نرم و نازک پر لہو لہو ہو گئے اور پھر لہو کی یہ داستان رکی نہیں۔ ابھی تک جاری ہے۔

1947ء میں پاکستان کے معرض وجود میں آ جانے کے بعد کشمیر کے معاملے پر بھارت اور پاکستان میں تناؤ کی کیفیت میں مزید اضافہ ہوا ۔ کشمیر کا حکمران مہاراجہ ریاست کی الگ حیثیت برقرار رکھنا چاہتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے12اگست 1947ء کو پاکستانی قیادت کو ایک پیغام بھیجا جس میں حالات واضح ہو جانے تک معاہدہ قائمہ کی تجویز دی گئی تھی جسے پاکستان نے قبول کر لیا تھا۔ دوسری جانب بھارت کی یہ کوشش تھی کہ مہاراجہ کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ کر دے۔

ابھی صورتحال واضح نہیں ہوئی تھی کہ اسی دوران قبائلی علاقوں کے جنگجو کشمیر میں داخل ہو گئے اور فسادات کا ایک بدترین سلسلہ شروع ہو گیا۔کچھ مقامی لوگوں نے بھی ڈوگرہ افواج کے خلاف مزاحمت شروع کر دی۔یہاں تاریخ کے طالب علم کے ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ جب مہاراجہ پاکستان کے ساتھ معاہدے کی بات کر چکا تھا تو اس کے خلاف اچانک مسلح مزاحمت شروع کرنے کا کیا مقصد تھا؟ کیا یہ وہ بنیادی غلطی نہیں تھی جو بعد میں منقسم کشمیر کی صورت میں سامنے آئی۔ قبائلی لشکر (موجودہ آزادکشمیر کے علاقوں سے)آگے بڑھتا ہوا بارہ مولا تک پہنچ گیا ۔

جب حالات بہت خراب ہو گئے مہاراجہ نے بھارت کو مدد کے لیے پکارا لیکن خیال رہے کہ اس نے بھارت کے ساتھ جو معائدہ کیا تھا اس کے تحت کشمیر کا عبوری انتظام بھارت کو دیا گیا تھا جس میں سب سے اہم چیز سکیورٹی کا معاملہ تھا۔ اس طرح 27اکتوبرکی صبح پہلی بار سری نگر کی ہوائی اڈے پرجہازوں میں بھارتی فوجی اتارے گئے اور اس کے بعد سے آج تک وادی کشمیر کے باسی ظلم کی چکی کے پاٹوں میں سسک رہے ہیں۔

1947ء میں جنگ بندی ہوئی۔ بھارت یکم جنوری 1948ء میں مسئلہ اقوام متحدہ کے فورم پر لے گیا۔ یکے بعد دیگرے قراردادیں منظور ہوئیں جن میں بنیادی بات یہی تھی کہ کشمیریوں کو حق خود اردایت حاصل ہے اور جلد سے جلد اقوام متحدہ کی نگرانی میں کشمیر میں استصواب رائے کا عمل شروع کرایا جائے تاکہ یہاں کے باشندے اپنی شناخت متعین کر کے اس کے ساتھ جی سکیں ۔

بھارت نے اقوام متحدہ میں تو ان قراردادوں کو تسلیم کیا لیکن عملی طور پر ہمیشہ بد نیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اٹوٹ انگ کا راگ الاپتا رہا۔ پاکستان کے عوام نے ہمیشہ اپنے کشمیری بھائیوں کے لیے نیک جذبات کا اظہار کیا اور ان کی آزادی کے لیے مقدور بھر کوششیں کیں تاہم ہماری قیادت نے ماضی میں کئی ایسی غلطیاں کیں جس کی وجہ سے کشمیریوں میں ایک درجے میں بددلی پیدا ہوئی۔

مثال کے طور پر 1949ء میں پاس ہونے والی قرار داد میں کشمیریوں کے لیے صرف دو اختیارات رکھے گئے کہ انہیں یہ حق دیا جائے کہ وہ بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کر لیں جبکہ بعض حلقوں کا موقف ہے کہ حق رائے دہی کے معاملے میں یہ شق بھی ہونی چاہیے تھی کہ اگر کشمیری الحاق کی بجائے اپنی روایتی تاریخی حیثیت کے مطابق آزاد رہنا چاہیں تو یہ بھی ان کا جمہوری حق ہے۔ اس کے بعد دونوں ملکوں میں اس مسئلے کو لے کر تناؤ کی کیفیت جاری رہی ۔ اس دوران آپریشن جبرالٹر ہوا جو کمزور منصوبہ بندی کی وجہ سے ناکام ہوا اور پھر دونوں ملکوں کے درمیان 1965ء کی جنگ چھڑ گئی۔

اس وقت بھارت نے دنیا بھر میں ڈھنڈورا پیٹا کی پاکستان کشمیر میں دراندازی کروا رہا ہے۔ اس سے قبل پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے تنازعے پرطے پانے والا سندھ طاس معاہدہ بھی ہماری خارجہ پالیسی کی کوئی اچھی مثال نہیں ہے ۔ اس معاہدے کے تحت کشمیر کے تین اہم ترین دریا بھارت کو سونپ دیئے گئے جس کے نتیجے میں بھارت کی گرفت توانائی کے ذرائع پر مزید مضبوط بن گئی اور کشمیریوں میں مایوسی پیدا ہو ئی۔

پہلے تاشقند معاہدہ ہوا ۔ اس کے بعد تاشقند معاہدے سے اختلاف کرنے والے ذوالفقارعلی بھٹو نے اسی سے ملتا جلتا ایک معائدہ ’’شملہ معائدہ‘‘ کیا۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان تمام اہم ترین موقعوں پر پاکستان اور بھارت کی قیادت نے بنیادی فریق یعنی کشمیری قیادت کو اعتماد میں لینا ضروری نہیں سمجھا حالانکہ یہ کشمیریوں کی ’’اخلاقی و سفارتی مدد‘‘ کا بنیادی تقاضا ہے۔ شملہ معائدے میں سیز فائر لائن کو لائن آف کنٹرول بنا دیا گیا جس سے ریاست کے دونوں حصوں کے درمیان آمد ورفت رک گئی۔

1989ء میں ایک بار پھر کشمیر کی وادی میں مزاحمت کی تحریک شروع ہوئی ۔ مظلوم کشمیریوں نے بھارتی قابض افواج کے خلاف زبردست کارروائیاں کیں جو نوے کی دہائی کے اخیر تک جاری رہیں۔ اس دوران ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے اور سینکڑوں اپنے عظیم مقصد یعنی آزادی کے لیے قربان ہو گئے۔

اس دوران نواز شریف اور اٹل بھاری واجپائی کے درمیان ملاقات بھی ہوئی ۔کہا جاتا ہے کہ وہ مسئلے کے حل کے قریب تر پہنچ چکے تھے کہ اسی دوران پاکستان میں فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ۔ مشرف نے کشمیر کے حل کے لیے جو فارمولا پیش کیا وہ کافی حد تک قابل عمل تھا۔ اس فارمولے کے تحت منقسم کشمیر کے دونوں حصوں سے فوجی انخلاء ،وادی اور موجودہ پورے جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں کو سیلف گورننس کا حق دینے کی بات کی گئی تھی ۔

لائن آف کنٹرول کو سیز فائر لائن بھی قراردیا گیا تھا۔ اس دور یعنی 2005ء میں بھارتی مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے درمیان بس سروس چلائی گئی اور آر پار تجارت کا آغاز بھی ہوا۔ مشرف کے دور میں پاکستان کی کشمیرپالیسی میں واضح فرق دیکھا گیا کیونکہ ماضی کے برعکس اب کشمیر میں مسلح مزاحمت کی حوصلہ افزائی کی بجائے اس کے سیاسی حل پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔

کشمیر کے مسئلے پر بھارت اور پاکستان کے مابین متعدد فورموں پر مذاکرات ہوتے رہے مگر کشمیری قیادت کو مسلسل نظر انداز کرنے کا نقصان یہ ہوا کہ کشمیریوں میں ایک طرح کی بددلی اور مایوسی پیدا ہوئی اور انہوں نے یہ سمجھنا شروع کر دیا کہ دونوں پڑوسی ملک اس ریاست کی ایسی بندر بانٹ کرنا چاہتے ہیں جس میں کشمیریوں کے مفادات کی کوئی خاص رعایت نہیں رکھی جا ئے گی۔

اس لیے انہوں نے پوری دنیا میں اپنے تئیں آواز بلند کرنا شروع کی۔ لاکھوں کی تعداد میں بیرون ملک مقیم کشمیریوں نے امریکا، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں ریلیوں ،ملین مارچوں اور احتجاج کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور وہ آج ایک لاکھ سے زائد جانوں کی قربانیاں دینے کے بعد بھی اپنے وطن کی آزادی کے لیے جد وجہد کے جذبات سے سرشار ہیں۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان منقسم ریاست کے دونوں اطراف کی کشمیری قیادت کے بارے میں بھی آراء کا ہمیشہ سے تصادم رہا ہے۔ غیر جانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک نے اپنے اپنے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں کو بہت ہی محدود اختیارات دیے ہیں۔اس کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ منقسم کشمیر کے دونوں جانب کے عوام کشمیر کے مستقبل کے بارے میں عمومی اتفاق رائے رکھتے ہیں۔ یہاں یہ حقیقت بھی سامنے رہنی چاہیے کہ بھارت میںاس وقت 40کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جن میں سے 2کروڑ فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں۔

پاکستان میں انتہائی غریب افراد کی تعداد بھی کچھ کم نہیں ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کشمیر کی کل آبادی سوا کروڑ کے قریب ہے ۔یہ دونوں پڑوسی ملک اپنے دفاعی اخراجات پر سالانہ 600سو ارب روپے لگاتے ہیں جبکہ اس خطے کی ترقی پر 200ارب بھی خرچ نہیں ہوتے۔ آزادکشمیر کی سیاسی قیادت کی ذمہ داری بہرحال زیادہ بنتی ہے۔ آزادکشمیر کے حکمرانوں کے بارے میں ایک عام شکایت یہ پائی جاتی ہے کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو اپنے بیرون ملک دوروں کے لیے ایک جواز بنا یا ہوا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر وہ 69 سالوں سے ریاستی عوام کے کڑوروں روپے ’’یورپ میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے‘‘ پر لگا چکے ہیں تو ابھی تک کوئی نتائج سامنے کیوں نہیں آ سکے ۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیری قیادت وہاں کے عوام کے جذبات کی دیانت داری کے ساتھ ترجمانی نہیں کر رہی۔ محض دوسروں پر الزام تراشی اور حقوق کے لیے نمائشی نعرے بلند کرنے سے کشمیر کی وحدت اور آزادی کا خواب کبھی بھی شرمندہ ٔ تعبیر نہیں ہو سکتا۔یہ درست ہے کہ یوم یکجہتی کشمیر ہر سال اپنے وطن کی آزادی کے جدو جہد کرنے والے ان سر فروشوں کے جذبات کو مزید توانا بناتا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کی پاکستان اور بھارت کشمیر کے دونوں اطراف کی قیادت کو اعتماد میں لے کر کسی ایسے حل پر اتفاق کریں جس میں کشمیر کے مظلوم و مقہور باشندوںکے حقوق کی ضمانت فراہم کی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ اس مسئلے کا پائیدار حل بھی ممکن ہو سکے۔

اقتصادی راہداری،گلگت بلتستان اور مسئلہ کشمیر
چین دنیا کی دوسری بڑی اور ابھرتی ہوئی معیشت ہے اور اس کے پاکستان کے ساتھ ہمیشہ مثالی تعلقات قائم رہے ہیں۔پاکستان پر جب بھی کڑا وقت آیا چین نے آگے بڑھ کر دست تعاون بڑھایا۔دوسری جانب چین کی امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ رقابت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اورظاہر ہے ان سب حالات میں کشمیر کی جغرافیائی صورت حال مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے ۔چین کے تعاون سے پاکستان میں اس وقت کئی ایک منصوبوں پر کام جاری ہے۔

پیپلز پارٹی کے دور حکومت سے چین کے تعاون سے پاکستان نے آزادکشمیر میں نیلم جہلم ہائیڈرل پروجیکٹ شروع کر رکھا ہے جس کے بارے میں امیدظاہر کی جاتی ہے کہ وہ 2018ء تک مکمل ہو جائے گااور اب پاکستان اور چین طویل اقتصادی راہداری کی تعمیر کر رہے ہیں جو گوادر سے شروع ہو کر کاشغر تک جائے گی ۔اس منصوبے میں فی الحال سب سے بڑی پیچیدگی یہ ہے کی چین گلگت بلتستان کی واضح آئینی حیثیت کا تقاضا کر رہا ہے ۔اس طویل المدتی میگا پروجیکٹ کے لیے گلگت بلتستان کی متنازع حیثیت چین کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

گلگت بلتستان تاریخی طور پر کشمیر کا حصہ ہے اور 28 اپریل 1949ء میں ایک معائدے (معائدہ کراچی)کے تحت اس کا انتظام پاکستان کے سپرد کیا گیا تھا تاہم پاکستان کے آئین میں کہیں بھی اسے پاکستان کا باقاعدہ حصہ قرار نہیں کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اسے نیم صوبے کا درجہ دیا گیا جس پر دونوں جانب کی کشمیری قیادت نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا ۔ اب ایک بار پھر اس خطے کی آئینی حیثیت زیر بحث ہے۔پاکستانی قیادت کا امتحان ہے کہ وہ اس مشکل لمحے میں ایسی فیصلہ سازی کرے، جس کے نتیجے میں ایک طرف تو ہمارے معاشی مفادات محفوظ ہو سکیں تو دوسری طرف مسئلہ کشمیر کی عالمی سطح پر اہمیت بھی متاثر نہ ہو۔

آر پار کی کشمیری قیادت کا موقف ہے کہ اگر گلگت بلتستان کو جلد بازی میں صوبہ بنایا گیا تو یہ اقدام بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے اپنے ساتھ انضمام کا جواز فراہم کرنے کے مترادف ہو گا جس کے نتیجے میں منقسم کشمیر کی وحدت کا خواب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گا۔ ایک رائے یہ بھی دی جارہی ہے کہ گلگت بلتستان کو آزادکشمیر کی طرز کا سٹیٹس دیا جائے یا پھر اسے آزاد کشمیر سے ملا کر ون یونٹ بنا دیا جائے جس کی خصوصی حیثیت ہو۔غرض یہ کہ کوئی بھی ایسا حل نہ نکالا جائے جس کی قیمت کشمیر کی تقسیم کی صورت میں ادا کرنی پڑے۔

پاکستان و آزاد کشمیر میں مقیم مہاجرین جموں وکشمیر مایوسی کا شکار
بھارتی افواج کے انسانیت سوز مظالم سے تنگ آ کر ہزاروں کی تعداد میں کشمیری ہجرت پر مجبور ہوئے اور انہوں نے تحریک آزادی کے بیس کیمپ مظفرآباد کی نواح میں اورپاکستان کے مختلف شہروں میں مہاجر کیمپوں میں پناہ حاصل کی ۔ اپنا گھر بار چھورتے ہوئے ان کی آنکھوںمیںپاکستان اور آزاد کشمیر کے بارے میں حسین خواب تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ خونی لکیر کے اس پار بسنے والے ان کے بھائی بند انہیں ہاتھوں ہاتھ لیں گے اور وہ یہاں رہ کر مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے مؤثر طریقے سے جدو جہد کریں گے لیکن یہاں آ کر ان کی امیدیں ٹوٹ گئیں۔ آ ج دو دہائیاں گزرنے کے باوجود وہ مہاجر کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور انہیں گزارا الاؤنس کے نام پر ماہانہ بنیادوں پر معمولی سی رقم ادا کی جاتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم مہاجرین جموں کشمیر بھی گنے چنے افراد کے استثنیٰ کے ساتھ انتہائی ناگفتہ بہ حالات کا شکار ہیں۔ مہاجرین جموں کشمیر کو آزادکشمیر اور پاکستان کی قیادت کی طرف سے اس انداز میں خوش آمدید نہیں کہا گیا جیسا کہ ان کی توقع تھی۔انہیں بعض اوقات امتیازی سلوک کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی کچھ عرصے سے ان مہاجرین جموں وکشمیر کی بڑی تعداد نے نیپال کے راستے واپس بھارت اور پھر کشمیر جانا شروع کر دیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ہم مکمل طور پر مایوس ہو چکے ہیں اور ہمارا خیال یہ ہے کہ ہم واپس اپنے وطن جا کر بہتر انداز میں اس کی آزادی کی لیے کام کر سکیں گے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ جموں و کشمیر سے مہاجر ہو کر آنے والے ان باشندوں کی سرپرستی کی جائے اور انہیں کھل کر اپنے وطن کی آزادی کے لیے جد و جہد کرنے دی جائے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔