پاکستان کا اصل چہرہ

تنویر قیصر شاہد  جمعرات 11 فروری 2016
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

ڈاکومنٹری یعنی کسی بھی دستاویزی فلم کے بارے میں امریکا کے ممتاز ترین فلم ڈائریکٹر، سپائیک جونزی، کا ایک قول یوں ہے: Doing  a  documentary  is  about  discovering,  being  open,  learning  and  following  Curiosity پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کے شعبۂ DEMP (ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلی کیشنز) کی نگرانی میں تیار کردہ یہ تین دستاویزی فلمیں دیکھ کر سپائیک جونزی کے الفاظ کی گرہیں کُھل گئی ہیں۔

یہ مطلب بھی خوب سمجھ میں آگیا ہے کہ کسی دستاویزی فلم کی کشش اور اثرپذیری کہاں تک اور کتنی ہوسکتی ہے۔ مبارکباد کے مستحق ہیں ’’ڈیمپ‘‘ کے ڈی جی جناب محمد سلیم بیگ جنہوں نے ذاتی دلچسپی لے کر یہ شاندار دستاویزی فلمیں بنوائی ہیں اور دنیا بھر میں پاکستان کا چہرہ نکھارنے اور نتھارنے کی قابلِ قدر کوشش کی ہے۔

پہلی ڈاکومنٹری فلم ’’گُردوارہ دربار صاحب کرتارپور‘‘ کے عنوان سے بنائی گئی ہے اور کوئی گوشہ مخفی نہیں چھوڑا۔ دنیا بھر کی سکھ برادری کے غالباً دوسرے مقدس ترین مقام، دربار صاحب کرتارپور، کو مَیں بذاتِ خود کئی بار دیکھ چکا ہوں۔ مگر ’’ڈیمپ‘‘ کی زیرِ نگرانی بنائی جانے والی دربار صاحب کی آٹھ منٹ کو محیط یہ دستاویزی فلم دیکھ کر ششدر رہ گیا ہوں اور حیران ہوں کہ اس کے بہت سے پہلو تو اس سے قبل آنکھوں سے اوجھل ہی رہے تھے۔

دربار کرتارپور صاحب وہ تاریخی جگہ ہے جہاں سکھ مَت کے بانی، گرونانک جی، نے زندگی کی آخری سانسیں لیں۔ تشکیلِ پاکستان سے قبل دربار صاحب کرتارپور کی یہ خوبصورت عمارت، جسے برسہا برس قبل ریاست پٹیالہ کے مہاراجہ بھوپندر سنگھ نے محبت و عشق سے تعمیر کروایا تھا، ضلع گورداسپور کا حصہ تھی۔ پاکستان بنا تو یہ ضلع سیالکوٹ اور تحصیل شکر گڑھ کا حصہ بنی۔ تحصیل نارووال کو جناب نواز شریف نے سیالکوٹ سے الگ کرکے ضلع کا درجہ دیا تو یہ جاذبِ نظر عمارت ضلع نارووال کا فخر بن گئی۔ دریائے راوی میں کئی سیلاب آئے اور گزر گئے۔

اس کے پانیوں نے ناقابلِ فراموش کئی بار تباہیاں پھیلائیں لیکن اس کی سرکش لہریں دریا کے دائیں کنارے کھڑے ’’دربار صاحب کرتارپور‘‘ (جو لاہور سے تقریباً ایک سو بیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے) کا بال بھی بیکا نہ کرسکیں۔ لہلہاتے کھیتوں کے بیچ، تحصیل شکرگڑھ کے ایک گاؤں ’’کوٹھاپِنڈ‘‘ سے متصل اور اب ویران ہونے والے چھوٹے سے ریلوے اسٹیشن، دربار کرتارپور، کے بالمقابل، صرف تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ عظیم المرتبت عمارت خوب دعوتِ نظارہ دیتی ہے۔

اسے جنوبی ایشیا کا Corridor  to  Peace بھی کہا جاتا ہے اور بعض سیانے اسے Gateway  to  Sikhism کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں۔ بھارت، کینیڈا، برطانیہ اور امریکا سے آنے والے سکھ یاتریوں نے یہاں متھا ٹیکنے کے ساتھ ساتھ اسے خوب سے خوب تر بنانے کے لیے بھی بہت سیوا کی ہے۔ حکومتِ پاکستان نے بھی اس کے تحفظ اور اسے موسموں کی دست برد سے بچانے کے لیے بہت روپیہ صَرف کیاہے۔ ’’ڈیمپ‘‘ نے اس پر خوبصورت دستاویزی فلم بنا کر اسے گویا ہمیشہ کے لیے محفوظ بنا دیا ہے۔

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و قومی ورثہ اور اس کے شعبۂ ’’ڈیمپ‘‘ نے ’’کٹاس راج‘‘ کے نام سے دوسری انتہائی دلچسپ اور معلومات افزا دستاویزی فلم بنائی ہے۔ اسے Katas  Raj  of  Complex  of  Temples کا نام دیا گیا ہے۔ یہ بھی آٹھ منٹ کی ہے۔ ضلع چکوال میں، چواسیدن شاہ سے متصل، تقریباً ایک ہزار برس قدیم سات مندروں پر مشتمل یہ مضبوط اور خوبصورت عمارت ہندو ازم کے ماننے والوں کے لیے مقدس ترین خیال کی جاتی ہے۔

قدرتی طور پر بننے والا یہاں سبز پانی  کا تالاب ہندوؤں کے لیے ’’آبِ شفا‘‘ کا درجہ رکھتا ہے کہ ان کا عقیدہ ہے کہ یہ تالاب ان کے ایک قدیمی مذہبی رہنما، شِیوا، کی آنکھ سے بہنے والے آنسوؤں سے بنا تھا جو شیوا نے اپنی بیوی کے مرنے پر بہائے تھے۔ حکومتِ پاکستان نے اس کی بحالی اور تحفظ کے لیے بہت سرمایہ خرچ کیا ہے۔ اب یہ عالمی ورثے کا حصہ اور دلکش ٹورسٹ اسپاٹ بھی بن چکا ہے۔ اس کے بارے میں بنائی گئی تازہ ترین دستاویزی فلم چشم کشا بھی ہے اور دلکشا بھی۔ تیسری شاندار دستاویزی فلم The  Biggest  Banyan  Tree  of  Pakistan کے عنوان سے بنائی گئی ہے جو چھ منٹ پر مشتمل ہے۔

یہ دراصل صدیوں پرانے ایک برگد کے درخت کی فلمی منظر نگاری ہے جو مڈھ رانجھا (ضلع سرگودھا) میں موجود ہے اور اپنی قدامت و کہانت کی بنیاد پر دیکھنے والوں کو حیرتوں میں مبتلا کرتا ہے۔ تین ایکڑ پر پھیلے اس تحیر خیز درخت پر ’’ڈیمپ‘‘ نے منفرد ڈاکو منٹری بنا کر انھی حیرتوں کی راز کشائی کی ہے۔ برگد کا یہ درخت بدھ مت کے ماننے والوں اور جاپانی سیاحوں کے لیے مقناطیس کی سی کشش رکھتا ہے۔

ہمارا خیال ہے کہ DEMP اور اس کے سربراہ جناب محمد سلیم بیگ کی زیرِ نگرانی بنائی جانے والی یہ دستاویزی فلمیں دنیا بھر میں پاکستان کا اصل اور مثبت چہرہ اجاگر کرنے کی ایک مستحسن کاوش ہے۔ اور پاکستان کا اصل چہرہ یہ ہے کہ اس سرزمین پر تمام اقلیتیں، ان کے حقوق، ان کے اثاثے اور ان کی اقدار پوری طرح محفوظ ہیں۔

کسی جگہ اگر بدقسمتی سے اقلیتوں کے خلاف کوئی سانحہ ظہور پذیر ہوتا بھی ہے تو اسے وطنِ عزیز کے ساکنان کا مجموعی رویہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ’’ڈیمپ‘‘ کی تیار کردہ  یہ دستاویزی فلمیں اس امر کا اعتراف ہیں کہ اقلیتوں نے بھی ہماری گیسوئے تہذیب سنوارنے میں اپنا قابلِ فخر کردار ادا کیا ہے؛ چنانچہ لازم ہے کہ اس کردار کو قومی سطح پر تسلیم بھی کیا جائے۔ یہ دستاویزی فلمیں تیار کروا کر دراصل دیکھنے والوں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ہمارا کلچر کس قدر Rich ہے اور یہ کہ ثقافتی سطح پر بھی اقلیتوں کو ان کا Due  Share دیا جانا چاہیے۔

یہ دستاویزی فلمیں یوں بھی پاکستان کا چہرہ قرار دی جاسکتی ہیں کہ اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے یہ فی الحقیقت پاکستان کو بدنام کرنے اور وطنِ عزیز کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے والوں کو مسکت جواب بھی ہیں۔ مثال کے طور پر حال ہی میں پاکستان کی ایک خاتون نے امریکا میں ایک کتاب بعنوان Purifying  the  Land  of  Pure لکھی ہے۔ یہ مصنفہ پاکستان کے ایک سابق سفیر صاحب کی اہلیہ ہیں اور خود سابق رکن قومی اسمبلی بھی رہ چکی ہیں۔

اس محترمہ نے اپنی اس کتاب میں تحریر ’’فرمایا‘‘ ہے کہ پاکستان میں اقلیتیں جبریہ ماحول میں نہایت کم رہ گئی ہیں۔ لکھتی ہیں: ’’پاکستان بنتے وقت ان کی آبادی 23فیصد تھی جو اب صرف تین فیصد رہ گئی ہے۔‘‘ وجہ یہ بتاتی ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں پر بہت ’’ظلم‘‘ ہوا ہے۔ وہ یا تو دباؤ میں آکر اپنا مذہب چھوڑ گئی ہیں یا پاکستان سے بھاگ گئی ہیں۔ یہ بیانیہ سراسر غلط بھی ہے، حقائق کے منافی بھی اور بے بنیاد تو ہے ہی۔ ’’ڈیمپ‘‘ نے پاکستان بھر میں اقلیتوں کے تہذیبی اور ثقافتی نشانات کو سنجیدگی اور تندہی سے ڈاکومنٹری کی شکل میں پیش کرکے دراصل مذکورہ کتاب لکھنے والوں کو دندان شکن جواب بھی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ دستاویزی فلمیں زیادہ سے زیادہ تعداد میں اسلام آباد میں بروئے کار سفارت خانوں اور سفارت کاروں کو پیش کی جائیں تاکہ اقلیتوں کے حوالے سے پاکستان کا روشن چہرہ مزید روشن کیا جاسکے۔ اس سے ہماری سیاحتی صنعت کو بھی فروغ ملے گا۔ آجکل انٹرسٹی سفر کرنے والی تقریباً تمام بسوں میں ڈی وی ڈی پلیئرز اور ٹی وی موجود ہیں۔ ان پر زیادہ تر بھارتی فلمیں دکھا کر مسافروں کو بور کیا جاتا ہے۔ اگر DEMP کی انتظامیہ کوشش کرے تو یہ دستاویزی فلمیں ان بسوں کو فراہم کی جاسکتی ہیں۔ یقینا یہ مسافروں کے لیے نئی کشش کا سامان بنیں گی اور ان سے ٹورازم میں بھی اضافہ ہوگا۔

کئی مسافر ایسے ہوں گے جو یہ فلمیں دیکھنے کے بعد خود ان تاریخی مقامات کی سیر کرنا چاہیں گے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں گے۔ ہر سال بھارت سمیت دنیا بھر سے کٹاس راج اور گردوارہ دربار صاحب کو دیکھنے کے لیے ہزاروں ہندو اور سکھ یاتری پاکستان تشریف لاتے ہیں۔ اگر ’’ڈیمپ‘‘ کے منتظمین ’’متروکہ وقف املاک بورڈ‘‘ کے سربراہ جناب صدیق الفاروق سے مل کر تاریخی مقامات پر بنائی جانے والی ان دستاویزی فلموں کو سِکھ اور ہندو یاتریوں اور ٹورسٹوں کو تحفتاً پیش کر سکیں تو یہ پاکستان کی ایک بڑی خدمت ہوگی۔ ’’ڈیمپ‘‘ کے ڈائریکٹر جنرل جناب محمد سلیم بیگ اور ان کے رفقاء کو پاکستان کا اصل اور دلنواز چہرہ دکھانے پر ایک بار پھر مبارکباد!!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔