اچھے ڈرامے بن رہے ہیں، مگروہ برے ڈراموں کے ڈھیر میں گم ہوجاتے ہیں

محمود الحسن  منگل 6 نومبر 2012
 چھٹی جماعت میں پہلا شعر کہا ،بچپن میں پڑھائی کے ساتھ مزدوری بھی کرنا پڑی، ایوب خاور ۔ فوٹو : فائل

چھٹی جماعت میں پہلا شعر کہا ،بچپن میں پڑھائی کے ساتھ مزدوری بھی کرنا پڑی، ایوب خاور ۔ فوٹو : فائل

 وہ عسرت اور دکھ کی بھٹی میں پک کر کندن بنے۔کسمپرسی میں گزرے ایام کا احوال بیان کرنے میں وہ تامل نہیں برتتے۔گردشِ ایام تخلیقی اورشخصی ہر دو اعتبار سے ان کے واسطے بڑی ثمر آور رہی۔

بیتاہواکڑا وقت انھیں شاید اس لیے بھی عزیز ترہے ،کہ نظم و نثر میں اولین تجربہ اسی کی دین ہے۔وہ بچپن میںپڑھائی کے ساتھ تعمیراتی کاموں میں مزدور کی حیثیت سے شریک رہے، ایک دفعہ دوران مزدوری انھوں نے قطعہ کہہ ڈالا، جس کا ایک مصرع ذہن کی لوح پرآج بھی نقش ہے۔

؎یہاں جس کا بھی بس چلتا ہے، اسی کی حکمرانی ہے
یہ تورہا شعرکی صورت میں ٹوٹے پھوٹے لفظوں میںاظہار کا قصہ اور اب نثر میں خود پر گزری رقم کرنے کا ذکر بھی سنتے چلیں۔ایک بار یوں ہوا کہ دو ماہ اسکول فیس جمع نہ کراسکے اور نام خارج ہونے کی نوبت آن پہنچی ، اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے مشفق استاد محمد حنیف کو عجب ترکیب سوجھی،پیریڈختم ہونے پرسرخ رنگ کا رومال نکالا اور بچوں سے کہا کہ وہ تفریح کے لیے اپنے پاس موجود پیسے رومال میں ڈال دیں، حسب الارشاد طالب علموں نے پیسے ،جوزیادہ تر سکوں کی صورت میں تھے، رومال پر ڈھیر کردیے۔اس پر کمسن ایوب نے سوچا : یاالہیٰ یہ ماجرا کیاہے ۔تھوڑی دیر میں استاد نے انھیں بھلا بھیجا۔اور تمام جمع شدہ رقم ان کے سپرد کرتے ہوئے کہا کہ بس اب جلدی سے فیس ادا کرنے کا چارہ کرو۔

یہ مرحلہ تو خیر طے ہوگیامگر رومال پر گرتے سکوں کی چھن چھن اس حساس بچے کے دماغ پر چوٹ کرتی رہی اور اسے قرار اسی وقت آیا، جب اس نے تمام واقعہ کو لالٹین کی روشنی میں بیٹھ کر افسانے کا روپ دے دیا۔بچپن میں زندگی سے تعارف کا قصہ یوں بیان کرتے ہیں ’’’زندگی سے میرا تعارف بڑے عجیب انداز میں ہوا۔وہ اس طرح کہ میرے پائوں گارے مٹی میں لتھڑے ہوئے اور ہاتھوں کی پوریں ریت سیمنٹ سے بھری ہوئی تھیں۔بغل میں اردو کی پہلی کتاب اور دانتوں میں کھلا ہوا قلم تھا۔بچپن کی دہلیز پر زندگی سے یہ میرا پہلا تعارف تھا۔پھر یونیورسٹی تک پہنچتے پہنتے محنت کے کئی رنگ اور مشقت کے کئی روپ میرے ہاتھ کا زیور اور پیروں کا چکر بنے۔‘‘
ان سب حالات کا سامنا ٹی وی کے اس نام ور ہدایت کار اور منفرد شاعر ایوب خاور کو اس لیے کرنا پڑ رہا تھا کہ جب وہ دوڈھائی برس کے تھے، تو ان کے والد نے دوسری شادی کی، اور چکوال سے کراچی سدھار گئے۔

ان کی والدہ نے بڑی محنت سے بچوں کی پرورش کا بار اٹھایا۔ ماں سے ان کی جذباتی وابستگی کی جھلک ، ان کی نظم ’’ماں‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے ، جو1992ء میں شائع ہونے والی ان کی شاعری کی پہلی کتاب’’گل موسم خزاں‘‘میں شامل ہے۔ ایک بہن اور چار بھائیوں میں سب سے بڑے محمدایوب خان، نے 10 اکتوبر1948ء کو چکوال (پنجاب) میں آنکھ کھولی۔ان کے والد ، محمد یعقوب خان فوج میں تھے۔دوسری جنگ عظیم میںبرما کے محاذ پر وہ گرفتار ہوئے اور چار سال جاپانیوں کی قید میں رہے۔

ایوب خان چھٹی جماعت تک گورنمنٹ ہائی اسکول چکوال میں پڑھے۔1964ء میں کراچی چلے آئے۔ 1968ء میں مقبول عام ہائی اسکول شرف آباد سے میٹرک کیا۔ وہ اس تعلیمی معرکے میں فتح یابی پر بہت خوش تھے ،لیکن والد اور سوتیلی ماں نے اس کامیابی کو درخور اعتنا نہ جانا، جس سے وہ خاصے بددل ہوئے۔ سوتیلی ماں انھیں کسی پل چین نہ لینے دیتی ۔ انھیں گھر میں برتن دھونے کا ’’فریضہ ‘‘بھی انجام دینا پڑتا۔ نامساعد حالات نے انھیں باغی بنا دیا، اور ان کا زیادہ تروقت گھر سے باہر دوستوں میں گزرنے لگا۔ دسویں جماعت پاس کرلی تو اب انھیں نیشنل کالج کی کھلی فضامیسر آئی ، جو ان کے تخلیقی مزاج سے لگا کھاتی تھی۔ یہاں انھوں نے ادبی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کا حصہ لینا شروع کیا۔گزر بسر کے لیے پرائیویٹ اسکول میں ساٹھ روپے ماہانہ پر نوکری بھی کی۔

اسی دور میں ان کا ریڈیو آنا جانا شروع ہوا توانھیں یوں لگا جیسے جہان دیگر کا در ان پر وا ہو گیا ہو۔ کالج میں شفقت رضوی اور عبدالسلام جیسے مہربان استاد اس ہونہار کا حوصلہ بلند کررہے تھے ، تو ریڈیو میں وہ سلیم احمد اور قمر جمیل سے کسب فیض کررہے تھے۔ بزم طلباء اس زمانے میں ریڈیو پاکستان کراچی کا مقبول پروگرام تھا۔بزم طلبہ کے زیراہتمام جشن تمثیل میں1970 اور1971 میں بہترین آوازکے پہلے انعام کے وہ حقدار ٹھہرے۔ 71 ء میں بطور طالب علم اپنا لکھا ڈراما ’’سمندر جاگ رہا ہے‘‘ پروڈیوس کیا ۔ان کی صلاحیت اور ذوق و شوق کو دیکھتے ہوئے انھیں تین برس کے لیے بزم طلبہ کا اعزازی پروڈیوسر مقرر کردیا گیا۔ اسی زمانے میں سقوط ڈھاکہ کے سانحہ پر نظم لکھی اور’’فنون‘‘ میں اشاعت کے واسطے بجھوا دیا۔

’’فنون ‘‘میں نظم چھپنے سے قاسمی صاحب سے خط کتابت کا سلسلہ شروع ہوا، جو اس تعلق کا نقیب بنا جو ان کی وفات تک قائم رہا۔ فنون میں اب وہ تواتر سے چھپنے لگے،اور دوسری ادبی جرائد میں بھی انھیں برابر جگہ ملنے لگی۔آئندہ برسوں میںوہ ’’سات سروں کا بہتا دریا تیرے نام‘‘ جیسے محبت نامے بھی لکھتے رہے اور ساتھ میں انتباہ(پاکستان میں 1977ء کا ایک تاریک دن )اور کچی نیند کی دہشت (بھٹو صاحب اور بے نظیر کی جیل میں آخری ملاقات کے حوالے سے )جیسی سیاسی نظمیں بھی لکھی جارہی تھیں، اور یہ سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا ، جیسا کہ کچھ عرصہ قبل وطن عزیزکے پرآشوب حالات کو ’’پاکستان کی کہانی ، اس کی اپنی زبانی ‘‘کے عنوان سے نظم کیا تو ادھر اب ’’محبت کی کتاب ‘‘ سامنے آگئی۔ وہ شاعری میں اور عملی زندگی میں دوسرے میدانوں میں گئے مگر محبت وہ خیال ہے ، جس کے خیال سے وہ کبھی بھی غافل نہ رہے۔

اپنی شاعری میں انھوں نے رفتگاں کو بھی بڑی شدت سے یاد کیا ہے۔ ایوب خاور نے1975ء میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔اسی برس پی ٹی وی میں پروگرام پروڈیوسر بن گئے۔ایوب خاور کے بقول ’’ٹی وی کارخ محض نوکری کے لیے نہیں کیا، بڑے شوق سے اس فیلڈ میں آئے، ٹی وی میں خرابی اس وقت پیدا ہونا شروع ہوئی ، جب غیر موزوں افراد کو سیاسی دبائو پر بھرتی کیا گیا۔ ریڈیو ڈراما اپنی طرف بہت کھینچتا،خاص طور پر سلیم احمد کا لکھا ہوا، دوسرے ڈراموں میں محمود خان مودی صدا کار تھے، انھیںبھی شوق سے سنتا، تو یہ باتیں میرے لیے انسپریشن بنیں۔ٹی وی ڈراما سے شغف کا حال یہ ہے کہ ’’اکھاڑہ‘‘ جس زمانے میں لگتاتھا تو میں پی آئی بی کالونی میںواقع ایک مکان کی کھڑکی سے لگ کر اسے دیکھا کرتا۔‘‘تین سالہ تربیت کے بعدپروڈیوسر کی حیثیت سے ان کا تقرر کراچی ٹی وی سینٹر میں ہوتا ہے۔

یہاں انھیں پروڈکشن سے متعلق رموز سکھانے کے لیے قاسم جلالی جیسا زیرک استاد موجود تھا۔ قاسم جلالی کے انداز تعلم کے بارے میں جو واقعہ انھوں نے ہمیں سنایاوہ یوں ہے۔’’قاسم جلالی صاحب ’’آگہی ‘‘ڈراما پروڈیوس کررہے تھے اور میں ان کے ساتھ اسسٹنٹ پروڈیوسرکے طور پر کام کررہا تھا۔ایک دن ڈرامے کی ریکارڈنگ کے دوران کہنے لگے کہ انھیں کسی ضروری کام سے جانا ہے اور باقی کا کام میرے سپرد ہے۔میں نے تمام کام مقررہ وقت میں کرلیا۔اگلے دن آئے اور کہنے لگے کہ چلو تمھارا کل کا کام دیکھتے ہیں۔

وی ٹی آر میں جاکرمیرے ریکارڈ کردہ سین دیکھ کر وہ خوش ہوئے اور میرے کام کو سراہا۔میں نے جب ان سے پوچھا کہ کل خیریت تو تھی جو انھیں اچانک کہیں جانا پڑ گیا، اس پر وہ کہنے لگے کہ کام وام کچھ نہیں تھا، میں تو جی ایم کے کمرے میں بیٹھا تھا، تو ہمیں ایسے سینئر ملے، جو اس انداز میں تربیت کا اہتمام کرتے۔‘‘کراچی میں ایوب خاور تین سال رہے تو ان کا تبادلہ پشاور کردیا گیا، چھ ماہ وہاں گزارنے کے بعدوہ 1982 میں لاہور ٹی وی سینٹر سے جڑ گئے اور پھر 2005ء میں اپنی ریٹائرمنٹ تک یہیں رہے۔پی ٹی وی میںمتفرق موضوعات پر ان کا معیاری کام سامنے آیا ، جس میں پی ٹی وی کی تاریخ کا مہنگا ترین کوئز شو’’ جو جانے وہ جیتے ‘‘بھی شامل ہے۔ کئی نئے اداکاروں،گلوکاروں کو انھوں نے پہلی بار متعارف کرایا۔ انھیںسات بار پی ٹی وی نیشنل ایوارڈ ملا۔

دوسری اصناف میں ان کی کامیابیوں کا اپنا ایک مقام ہے مگر ان کی پہچان کا بنیادی حوالہ ڈراما بنا۔خواجہ اینڈ سن، فشار، حصار،دن،دلدل ،،ریڈ کارڈ، غریب شہر، گرہ، کانچ کے پر،نشیب،انکار اور پاتال جیسے ڈرامے بناکر انھوں نے ہدایت کار کے طور پراپنا لوہا منوایا۔ ادبی کہانیوں کو ’’قاسمی کہانی‘‘ اور ’’کہانی گھر‘‘ کے نام سے بڑی کامیابی سے پیش کیا۔ ان کے بقول ’’جب میں نے محسوس کیا کہ ڈرامے کی کہانی فارمولا ہوگئی ہے تو میں نے سوچا افسانوں کو ڈرامائی صورت میں پیش کیا جائے۔افسانہ ڈرامے کے لیے تو لکھا نہیں جاتا۔اس لیے ایسی کہانی کی تلاش کے لیے پڑھنا بہت پڑھتا ہے تاکہ کہانی ایسی ہو، جس میں ڈرامے کے لوازمات موجود ہوں۔

عبداللہ حسین کے ’’نشیب ‘‘کے بارے میں ہمارے جی ایم کا خیال تھا کہ لوگ اسے پسند نہیں کریں گے مگر میں اسے بنانے پرمصر رہا ، میں نے کہا کہ وہ مجھے بتا دیں کہ اگر ڈراما پسند نہ کیا گیاتو مجھے استعفادینا ہوگا یا جرمانہ۔مجھے یقین تھا ڈراما کامیاب ہوگا اور میں جس نظر سے دیکھ رہا تھا دوسرے نہیں دیکھ پارہے تھے۔ گلزار صاحب کے افسانوں پر سیریز بنائی، جو گلزار کلاسکس کے نام سے پیش کی گئی۔‘‘گلزار سے ان کا تعلق ارادت کا ہے۔وہ بھی ان سے محبت کرتے ہیں۔ 1998ء میں منصہ شہود پر آنے والے ان کے دوسری شعری مجموعے ’’تمھیں جانے کی جلدی تھی‘‘کا تعارف انھوں نے لکھا اور ’’محبت کی کتاب‘‘کا بھی انھوں نے ’’محبت کا گلزار ‘‘کے عنوان سے دیباچہ تحریرکیا ۔ایوب خاور کا تیسرا شعری مجموعہ’’بہت کچھ کھوگیاہے‘‘دو سال قبل شائع ہوا۔

وہ اس بات کو نہیں مانتے کہ ٹی وی کی مصروفیات کے باعث ان کی شاعری متاثر ہوئی۔اس بابت ان کا نقطہ نظر ہے’’اور بھی بہت سے شاعر ہیں اوروہ اور کچھ نہ کچھ ضرور کرتے ہیں،ان کے ہاں تخلیقی آدمی تقسیم کیوں نہیں ہوجاتا، عبدالعزیز خالد جو ہیں وہ ہندسوں میں کیوں تقسیم نہیں کئے گئے۔ بڑے بڑے اور لوگ ہیں۔ شاعری کیوں ایسا اوڑھنا بچھوناہے،جس میں کوئی اور شریک نہیں ہوجاسکتا۔میں نے کبھی تخصیص نہیں رکھی نہ کبھی شعوری کوشش کی ہے کہ اب مجھے شاعری کرنی ہے، اب مجھے ڈرامے کے بارے میں سوچنا ہے ۔ ان لوگوں کا شعار اختیار نہیں کیا کہ جنھیں کچھ نہ کچھ ضرور روز لکھنا ہے۔ پھر لوگوں کو سنانا ہے اور داد لینی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ آپ مختلف فضائوں میں رہیں،اور وہاں آپ اپنی شہادتیں بھی چھوڑیں۔میں تو اچھے ڈرامے کی ڈائریکشن کو بھی تخلیق ہی سمجھتا ہوں۔‘‘

ایوب خاورکالج میں ایم اے شاد کے نام سے جانے جاتے۔ان کے دوست اشرف شاد بھی ادیب تھے۔ دونوں کے مشترکہ دوست نقاش کاظمی کا خیال تھا کہ ایک کوشاد ہونا چاہیے، اس پر انھیں نقاش کاظمی کے ہاں خاور کیا گیا۔ٹی وی سے متعلق شخصیات میں وہ سب سے بڑھ کر ممتاز پروڈیوسر یاور حیات سے متاثر ہوئے۔ انھیں یہ اپنا گرو قرار دیتے ہیں۔ یاورحیات کے علاوہ شہزاد خلیل اُن کے آئیڈیل رہے۔ اچھا ہدایت کار بننے کے لیے ان کا کہنا ہے کہ ’’ زندگی کا وسیع تجربہ اور مختلف شعبوں کا علم ہونا چاہیے، اگرہدایت کار کا علم کسی خاص شعبے تک محدود ہوگا تو پھر وہ اپنے کام سے انصاف نہیں کرسکے گا۔تکنیکی معاملات کی بھی اسے خوب سمجھ ہونی چاہیے۔‘‘ 1975ء میں وہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ وہ اپنی شادی کو محبت کی شادی قرار دیتے ہیں۔ ان کی بیوی یونیورسٹی میں ان سے ایک سال سینئر تھیں۔ اپنی پہلی کتاب انھوں نے اہلیہ کے نام اپنی مشہور غزل کے اس شعر کے ساتھ معنون کی ہے

تیرے بنا جو عمر بتائی بیت گئی
اب اس عمر کا باقی حصہ تیرے نام

ان کا ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں۔وہ گزشتہ سات برس سے نجی ٹی وی چینل میں سینئر ایگزیکٹو پروڈیوسر کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔ فارغ وقت جو انھیں کم کم ہی میسر آتا ہے، اس میں وہ فلم اور میوزک سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ گزری زندگی سے وہ مطمئن ہیں۔ ان کے بقول’’مجھے فخر ہے ، میری ترقی میں کسی سفارش کو دخل نہیں۔‘‘

 کچھ باتیں ٹی وی ڈرامے کے بارے میں

پی ٹی وی کا ڈرامامقبول ہونے کی کئی وجوہات تھیں۔اس زمانے میں متوازی تفریح کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں تھا۔فلم نہیں تھی، تھیٹر نہیں تھا،پی ٹی وی کو مسابقت کا سامنا نہیں تھا اور لوگوں کے پاس اسے دیکھنے کے سواکوئی چوائس نہیں تھی، اس لیے پی ٹی وی نے حقیقی زندگی کو ڈرامے میں پیش کیا تو لوگوں نے اسے پسند کیا۔ پی ٹی وی پرلاہور ، کراچی،کوئٹہ، اور پشاور سے ڈرامے پیش کئے جاتے، جس سے دیکھنے والے کو چار مختلف ذائقوں سے لطف اندوز ہونے کاموقع ملتا۔مختلف رنگ نظرآتے۔چار مختلف کلچرز سے آپ آشنا ہوتے۔ اب تو ایک ہی طرح کا ڈراما پیش کیا جارہا ہے۔ڈراما بنانے والے محنت بہت کرتے تھے۔

پرانا ڈراما غور سے دیکھاجاتا، جیسے کتاب کو پیش لفظ سے لے کراختتام تک پورا پڑھا جائے، اب تو ڈراما ایسے دیکھا جاتا ہے جیسے کتاب کی ورق گردانی ہورہی ہو۔ایک وقت میں ہم طے کرتے تھے، کیا دکھانا ہے اب کوئی اور لوگ فیصلہ کرتے ہیں۔کمرشل ازم پہلے بھی تھا مگر اس کی نوعیت اور تھی۔مثلاً ’’فشار‘‘میں ہمیں لگاکہ فلاں کردار کوپسند نہیں کیا جارہا تو ہم نے اس کو کم کردیا۔لوگوں کی پسند کا اس وقت بھی خیال رکھا جاتا، اور مختلف ذرائع سے ملنے والے فیڈ بیک سے حکمت عملی بنائی جاتی اور اسے بدلا بھی جاتا، اس معاملے میں صرف اشفاق صاحب کے ڈرامے استثنائی حیثیت رکھتے ہیں،ان کے ڈراموں میں تبدیلی نہیں ہوتی تھی۔

اس لیے ’’اور ڈرامے‘‘ جیسی تجرباتی چیزیں بھی بن گئیں۔ مداخلت پہلے بھی تھی مگر ہم اپنے کام سے، اس پر مخصوص چھاپ لگادیتے۔ عورتوں کے بہترین ناولوں پر کراچی نے بہت پہلے ڈرامے بنادیے تھے ،اب یہ جو ہورہا ہے بہت پہلے ہوچکا ہے۔ بہت سی چیزیں جنھیں نیا کہہ کر پیش کیا جارہا ہے ، وہ پہلے ہوچکی ہیں۔ضیاء دور میں پابندیوں کے باوجودڈراما اس لیے آگے بڑھا کہ اس زمانے میں ٹی وی سے بڑے تخلیقی لوگ وابستہ تھے ۔اب زیادہ سوچ بچار والے ڈرامے پسند نہیں کئے جاتے۔ٹی وی دیکھنے والے نوجوانوں کی انگلیاں ریموٹ پر ان کی زبان سے زیادہ تیز چلتی ہیں۔

ریموٹ کو فیل کرنے کے لیے چینلوں نے بریک کا خاص وقت بھی متعین کرلیا ہے کیونکہ ایک ڈراما میں بریک آگیا تودیکھنے والا کسی دوسرے چینل پر چلا گیا اور پھر واپس نہیں آتا۔اس کے باوجود دیکھنے والا کہاں رکتا ہے، وہ چینل بدلتا چلا جاتا ہے ۔پہلے ٹی وی ہر ایک کے لیے ڈراما بناتاتھا۔اب وہ تقسیم ہوگیا ہے۔ اب نیوز اور کرنٹ افیئرز کے پروگرام، مرد جن میں نوجوان بھی شامل ہیں، وہ دیکھتے ہیں اور ڈراما خواتین کے لیے بن رہا ہے۔ انٹرٹینمنٹ کے پروگرام عورتوں کے قبضے میں ہیں، اور انھیں کے لیے پروگرام بن رہے ہیں۔ ریٹنگ والے جو ہیں، ان کی مداخلت بڑھ گئی ہے۔اسٹار پلس کا اثر ختم ہوگیا ، اس لیے ہمارے ڈرامے میں بھی آہستہ آہستہ بہتری آتی جائے گی۔ اچھے ڈرامے بن رہے ہیں، مگر وہ برے ڈراموں کے ڈھیر میں گم ہوجاتے ہیں۔

محبت کی کتاب
پرویزمشرف کے دور میں ویلنٹائن ڈے بڑے اہتمام سے منایا جانے لگا۔مجھے یہ سب عجیب سا لگا۔تیز رفتار قسم کے شاعروں کے کتابیں خوبصورت لبادے میں شائع ہونا شروع ہو گئیں۔ اس پر میں نے سوچا کہ اس حوالے سے اظہار ذرا تخلیقی انداز سے ہونا چاہیے ، جس کا ناتا موجودہ صورت حال سے بھی ہو۔یہ 2007 ء کی بات ہے ۔اس زمانے میں خود کش حملوںمیں بے گناہ افراد مررہے تھے۔ مجھے خیال آیا کہ ویلنٹائن ڈے کو حالات حاضرہ کے ساتھ جوڑ کر ڈراما بنایا جائے۔

جس میں کہانی ایک ویلنٹائن ڈے سے شروع ہوکر دوسرے ویلنٹائن ڈے پر انجام کو پہنچے۔میرے ذہن میں ڈرامے کا اختتام یہ تھا کہ لڑکی سفید پھول لے کر اپنے ناراض محبوب کومنانے جاتی ہے اور وہ ویگن جس میں وہ سفر کررہی ہے، وہ خود کش حملے کی زد میں آجاتی ہے، اور وہ سفید پھول لڑکی کے خون سے رنگ جاتا ہے۔اس خیال پر ڈرامانہ بن سکا تو میں نے سوچا کہ محبت کی کہانی کو سیدھے سادھے بیانیے میں ڈرامے یا فلم اسکرپٹ کی صورت نظم کیا جائے۔میں نے لکھنا شروع کیا اور محبت کی کتاب وجود میں آگئی۔ آپ اسے منظوم ناول کہہ سکتے ہیں۔ منظوم ڈراما بھی ہے۔

’’محبت کی کتاب‘‘ سنبل اور ظفرکی محبت کی گرد گھومتی ہے، جس کا آغاز ایس ایم ایس پر غزل سے ہوتا ہے، جس سے سنبل برافروختہ ہوتی ہے ، اس وقت اس کے گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ یہ ایس ایم ایس محبت کی بنیاد بن جائے گا۔ایک ویلنٹائن ڈے سے شروع ہونے والا محبت کا یہ قصہ دوسرے ویلنٹائن ڈے پر تمام ہوجاتا ہے ، جب سنبل اور ظفر دونوں خود کش حملے کا شکار ہوجاتے ہیں۔یہ کہانی محبت کے ان دونوں استعاروں کے گرد گھومتی ہے صرف چند ثانوی کردار اور ہیں۔ میں نے موبائل فون،آئینہ ،دھوپ،ہوا، شام،چاند، سمندراور اس طرح کی دوسری چیزوںکے ذریعے سے دونوں کی اندرونی کیفیات بتانے کی کوشش کی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔