یوں نہ تھا ...

ایس نئیر  پير 5 نومبر 2012
s_nayyar55@yahoo.com

[email protected]

ایک انتہائی بخیل شخص نہایت افسردگی کے عالم میں دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑے بیٹھا تھا۔

ایک قریبی دوست نے پوچھا ’’کیا ہوا؟‘‘ بخیل آدمی نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کے سر اوپر اٹھایا، تاسّف اور پریشانی چہرے پر عیاں تھی، بھرائی ہوئی آواز میں بولا ’’یار کیا بتاؤں، بہت بڑا نقصان ہوگیا۔ اپنے بیٹے کو پندرہ سو کے نئے جوتے دلوائے تھے اور ہدایت کی تھی کہ لمبے لمبے قدم اٹھا کر چلنا تاکہ فاصلہ زیادہ طے ہو اور جوتے کم گھسیں، اِس کے علاوہ سیڑھیاں چڑھتے اترتے وقت بجائے ایک زینے کے دو دو زینے پھلانگ کر چڑھنا اترنا لیکن اس کم بخت نے میری ہدایت پر عمل نہیں کیا۔ کٹورے پہ کٹورا بیٹا باپ سے بھی گورا۔ نامعقول بیک وقت بجائے دو زینوں کے تین تین زینے پھلانگنے لگا۔

میں بڑا خوش ہوا کہ یہ میرا نام ضرور روشن کرے گا لیکن ہائے میری قسمت، پھر وہ ہوا جس کے بارے میں، میں نے سوچا بھی نہ تھا۔‘‘ دوست نے پھر پوچھا ’’آخر ہوا کیا؟‘‘ کنجوس آدمی تقریباً روتے ہوئے بولا ’’ہونا کیا تھا پندرہ سو کے جوتے بچانے کے چکر میں اس ناہنجار نے جب تین تین زینے پھلانگے تو جوتوں کو تو کچھ نہ ہوا، لیکن اِس چکر میں دو ہزار کی پتلون پھٹ گئی۔ اور میں تباہ ہوگیا۔‘‘

اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ نے جو تاریخی فیصلہ سنایا ہے، اِس فیصلے کو سن کر پیپلز پارٹی کے قائدین نے جس طرح بغلیں بجائیں اور بھنگڑے ڈالے ہیں، یہ بالکل ایسی ہی خوشی ہے، جیسی اس کنجوس آدمی کو اس وقت ہوئی تھی جب اس کا بیٹا بجائے دو زینوں کے تین تین زینے پھلانگ کر اپنے جوتوں کی درازی عمر کے فارمولے پر عمل کررہا تھا اور یہ بھول بیٹھا تھا کہ اِس فارمولے پر عمل درآمد کا نتیجہ اس کی پتلون کی مضبوطی اور پائیداری پر کس قدر مہلک اثرات مرتب کرے گا؟ اِس فیصلے کے بارے میں تمام مبصرین متفقہ طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ فیصلہ ملکی سیاست اور ریاست پر نہایت ’’دور رس‘‘ نتائج کا حامل ثابت ہوگا۔

دور رس نتائج تو فی الحال دور کی ہی بات ہے۔ اِس فیصلے کے ’’نزدیک رس‘‘ نتائج کیا نکلیں گے؟ بلکہ آج کل میں نکلنا شروع ہوجائیں گے، ذرا ان کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس فیصلے کا فوری نتیجہ صدر صاحب کی پارٹی چیئرمین شپ لے بیٹھے گا۔ گو یہ چیئرمین شپ شراکت داری پر مبنی ہے لیکن یہ شراکت لگ بھگ وہی نسبت رکھتی ہے، جس کا دعویٰ ایک حلیم فروش کیا کرتا تھا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے، جب گائے کا گوشت سستا اور مرغی کا مہنگا ہوا کرتا تھا۔ حلیم فروش اپنے حلیم میں بیف اور چکن برابر ڈالنے کا دعویدار تھا۔

ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ ’’کتنی مرغی اور کتنا گائے کا گوشت ڈال کر تم اپنا حلیم گھوٹتے ہو؟‘‘ بولا ’’بالکل برابر کا، ایک عدد مرغی اور ایک عدد گائے۔ یقین نہ ہو تو قسم اٹھانے کو تیار ہوں۔‘‘ جناب بلاول بھٹو زرداری اور جناب آصف زرداری کی پارٹی چیئرمین شپ ایسی ہی ’’برابری‘‘ کی شراکت پر قائم ہے۔ دوسرا فوری نتیجہ یہ نکلے گا کہ دو ریٹائرڈ جرنیلوں کے خلاف، آئین کی خلاف ورزی کے الزام میں کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کرنے کا حکم، وزیر اعظم صاحب دیں گے یا کوئی اور؟ یہ تو کوئی آئینی ماہر ہی بتاسکتا ہے۔ لیکن عوام اتنا ضرور جانتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم گیلانی صاحب، پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر ببانگ دہل یہ اعلان کرچکے ہیں کہ ریٹائرڈ جنرل مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کرنا ہمارے لیے ’’ڈو ایبل‘‘ Do Able نہیں ہے۔ گیلانی صاحب ہوں یا راجہ صاحب، وزیراعظم تو وزیراعظم ہی ہوتا ہے۔

اسی طرح جنرل مرزا اسلم بیگ صاحب ہوں یا جنرل پرویز مشرف، جنرل تو جنرل ہی ہوتا ہے، خواہ ریٹائرڈ ہی کیوں نہ ہو۔ دونوں سابق آرمی چیف ہیں۔ الزام بھی یکساں ہے۔ اگر ایک جنرل کے خلاف کوئی کارروائی ڈو ایبل نہیں ہے تو دوسرے کے خلاف کیونکر ڈو ایبل ہوسکتی ہے؟ اگر اسلم بیگ صاحب پی پی پی کی حکومت سے یہ مطالبہ کر بیٹھے کہ مجھے بھی آئین کی خلاف ورزی کے الزام میں بطور سزا گارڈ آف آنر دے کر ملک سے رخصت ہونے کی اجازت دی جائے تو کیا ان کا یہ مطالبہ تسلیم کرلیا جائے گا؟ اور اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ یہ دونوں جنرلز قانون کے دہرے معیار یا اپنے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کو عدالتِ عظمیٰ میں چیلنج نہیں کریں گے؟ یہی وہ مقام ہوگا جب این آر او کی پیداوار حکومت کے گلے میں این آر او کی ہڈی آکر پھنس سکتی ہے، وہی این آر او جسے عدالتِ عظمیٰ اپنے فیصلے میں قرار دے چکی ہے کہ یہ سرے سے ہوا ہی نہیں تھا۔

اور سب سے اہم سوال یہ کہ سابق جرنیلوں کے خلاف کارروائی ہوگی بھی یا نہیں؟ پچھلا ریکارڈ تو یہ بتاتا ہے کہ جنرل یحییٰ خان کو اسی ملک کے پرچم میں لپیٹ کر پورے اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا تھا، جس ملک کو دولخت کرنے کا ذمے دار انھیں ٹھہرایا جاتا ہے۔ دوسری جانب یونس حبیب صاحب جو اِس کیس کے سب سے اہم اور کلیدی کردار ہیں، پی پی پی ان سے کس طرح نمٹے گی؟ جب وہ اپنا حاضری رجسٹر کھول کر سیاستدانوں کی حاضری لینا شروع کریں گے تو ’’حاضر جناب‘‘ کی آوازیں مسلم لیگ ن کے مقابلے میں حکمران جماعت کی جانب سے زیادہ آئیں گی۔

اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ یونس حبیب کی گواہی پر میاں برادران کو تو ٹانگ دیا جائے اور پی پی پی کے ’’فیض یافتگان‘‘ کو بری الذمہ قرار دے دیا جائے۔ اگر ایسا ہوا تو میاں برادران کو امتیازی سلوک کی دہائی دینے سے کیسے روکا جاسکتا ہے؟ اِن تمام مسائل سے نمٹنے کی ذمے داری اب حکومت کے ناتواں کاندھوں پر آپڑی ہے۔ ناتواں اِس لیے کہ بیچاری پہلے ہی اپنے اتحادیوں کا بوجھ اپنے کاندھوں پر لیے گزشتہ ساڑھے چار سال سے کھڑی ہے، قدم لرز رہے ہیں لیکن سامنے اقتدار کا جام جو رکھا ہوا ہے، وہ حکومت کو نہ بیٹھنے دیتا ہے اور نہ ہی لیٹنے دیتا ہے۔ اقتدار کا نشہ چیز ہی ایسی ہے۔

گو ہاتھ میں جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا میرے آگے

بہرحال پی پی پی حکومت کا یہ شکوہ کہ تمام فیصلے ہمارے ہی خلاف آرہے ہیں اور ہمارے حریفوں کے کیس سپریم کورٹ میں زیرِ التوا پڑے ہیں، عدلیہ نے دور کردیا ہے۔ یہ الگ بات کہ لُڈّیوں اور بھنگڑوں سے فارغ ہو کر پی پی پی جلد ہی یہ سوچنے پر مجبور ہوجائے کہ کاش! اِس کیس کا فیصلہ ابھی نہ آیا ہوتا۔ کیونکہ پیسے لینے والوں نے رسید نہیں دی اور یہ ثابت کرنا حکومت کا دردِ سر ہے۔ آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت جنرل مشرف کے خلاف کارروائی کیوں ڈو ایبل نہیں تھی؟ اس کا جواب ہے این آر او، جس کے ضمانتی اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک موجود ہیں اور این آر او قانونی طور پرسرے سے ہوا ہی نہیں۔

امتیازی سلوک ہو نہیں سکتا لیکن جو کچھ فوری طور پر ہونے جارہا ہے، وہ یہ ہے کہ صدر زرداری صاحب سیاست نہیں کرسکتے۔ یہ ہونا بالکل اَٹل ہے۔ آئین کہتا ہے کہ سرکاری عہدہ چھوڑنے کے دو سال بعد سرکاری ملازم سیاست میں حصہ لے سکتا ہے۔ یعنی زرداری صاحب کے پاس یہ آپشن بھی نہیں ہے کہ وہ صدارت سے دستبردار ہو کر پارٹی کی سربراہی سنبھال لیں۔ اس کے لیے انھیں جنرل مشرف کی طرح دو سال انتظار کرنا ہوگا اور الیکشن سر پر کھڑے ہیں۔ یہ ہے وہ ’’نقد منافع‘‘ جو اِس کیس کے فیصلے کے بعد پی پی پی کے حصے میں آیا ہے۔ آج نہیں تو کل پی پی پی کی قیادت ضرور سوچے گی کہ بقول فیض ؎

یوں نہ تھا، میں نے فقط چاہا تھا، یوں ہوجائے

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔