بیٹنگ کوچ: اُمیدواروں کو رواں ہفتے شارٹ لسٹ کرلیا جائیگا

اسپورٹس رپورٹر  منگل 6 نومبر 2012
شرائط میں نرمی اختیار کرتے ہوئے کسی ملکی سابق کرکٹر کو موقع دیے جانے کا امکان۔  فوٹو فائل

شرائط میں نرمی اختیار کرتے ہوئے کسی ملکی سابق کرکٹر کو موقع دیے جانے کا امکان۔ فوٹو فائل

لاہور: بیٹنگ کوچ کے اُمیدواروں کو رواں ہفتے شارٹ لسٹ کر لیا جائے گا‘ شرائط میں نرمی اختیار کرتے ہوئے کسی ملکی سابق کرکٹر کو موقع دیے جانے کا امکان ہے۔

کوچ ہنٹ کمیٹی سے استعفیٰ دے کر خدمات پیش کرنے والے ظہیر عباس کو مضبوط اُمیدوار قرار دیا جا رہا ہے، قومی ٹیم کے دورئہ بھارت سے قبل حتمی فیصلہ کرنے کیلیے بہت کم وقت رہ گیا۔ تفصیلات کے مطابق ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ میں بیٹنگ لائن کے بار بار دھوکا دینے کے بعد چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف نے بیٹنگ کوچ کے تقرر کا فیصلہ کیا،اسامی مشتہر کرکے اُمیدواروں سے درخواستیں طلب کرتے ہوئے لیول تھری کوالیفائیڈ ہونے اور انٹرنیشنل کرکٹرز کے ساتھ 5 سال تک کام کرنے کے تجربے سمیت متعدد سخت شرائط رکھی گئیں‘ اب زیادہ امکانات یہی نظر آ رہے ہیں کہ بولنگ کوچ محمد اکرم کی طرح اس معاملے میں بھی مصلحت سے کام لیتے ہوئے کسی نامور ملکی سابق کرکٹر کا ہی انتخاب کر لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق آسٹریلیا‘ جنوبی افریقہ اور انگلینڈ سمیت ملکی اور غیر ملکی اُمیدواروں نے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔

انتخاب عالم اور کرنل (ر) نوشاد علی رواں ہفتے میٹنگ میں رمیز راجہ کی معاونت سے اُمیدواروں کو شارٹ لسٹ کر لیں گے۔ یاد رہے کہ ظہیر عباس بھی کوچ ہنٹ کمیٹی کے رکن تھے‘ انھوں نے دیگر ارکان کے ساتھ مل کر ڈیو واٹمور کا انتخاب کیا‘ مگر اب اس ذمہ داری سے استعفیٰ دینے کے بعد وہ خود ہی اُمیدواروں کی صف میں شامل ہو چکے‘ یوں تقرر کی صورت میں وہ ڈیو واٹمور کے انڈرکام کرینگے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی کڑی شرائط سے صرف نظر کرتے ہوئے کسی نامور پاکستانی سابق کرکٹر کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔

موجودہ صورتحال میں ظہیر عباس ہی سب سے موزوں اُمیدوار نظر آتے ہیں۔ بیٹنگ کوچ کیلئے سابق ٹیسٹ کرکٹرز سلیم ملک اور آصف مجتبیٰ بھی اُمیدوار ہیں لیکن ان کی دال گلتی دکھائی نہیں دیتی، سابق آسٹریلوی کرکٹر ڈین جونز نے دلچسپی کا اظہار ضرور کیا تاہم ان کی مصروفیات کُل وقتی کوچ بننے کی راہ میںحائل ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔