محکمہ ایکسائز کے پٹواری لوگ

سعد اللہ جان برق  منگل 6 نومبر 2012
barq@email.com

[email protected]

بے چارے اصلی پٹواری تو وہ باپ ہیں جو صرف کفن چرا کر گزارہ کرتا تھا لیکن اس کے بیٹے بلکہ بیٹوں نے

اگر پدر نہ تواند پسر تمام کند

کا وہ سلسلہ چلایا کہ بے چارا باپ اپنی قبر میں لوٹ پوٹ ہو رہا ہے۔ ویسے جن کفن کشوں کا ذکر ہم آج کرنا چاہتے ہیں، ان کا صرف نام ’’پٹواری‘‘ نہیں ہے باقی کام، دام اور گام سب کچھ پٹواریوں کا ہے، فرق صرف اس قدر ہے کہ پٹواری ’’غیر منقولہ جائیداد‘‘ سے تعلق رکھتے تھے اور ان نئے وارداتیوں کا تعلق ’’جائیداد منقولہ‘‘ یعنی گاڑیوں سے ہے۔ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ ہمارا اشارہ کس طرف ہے بلکہ شاخ کہیے کیوں کہ اوپر ان دونوں کا جد اعلیٰ ایک یعنی ’’ریونیو‘‘ ہے یا یوں کہیے کہ دونوں ہی ماں جائے ہیں اور یہ تو ہم آپ کو کئی بار بتا چکے ہیں کہ کسی میں ہزار گن اور ہوں مگر ایک دو گن ماں کے ضرور ہوتے ہیں، جن لوگوں کو کبھی ان ہر دو میں کسی سے بھی پالا پڑا ہو اور وہ ان سے زندہ بچ کر بھی آیا ہو، ایسے ہوتا نہیں کیونکہ ان کے بچ کر آنے والے اگر زندہ بھی نظر آتے ہوں تو وہ زندہ کم اور شرمندہ زیادہ ہوتے ہیں۔

ان سے واسطے پڑنے والوں کی کیفیت وہی ہوتی ہے جو ایک شخص کی نائی کی دکان میں ہو گئی۔ وہ نائی کی دکان میں گیا تھا۔ نائی کا استرا ٹھیک ویسا ہی تھا جیسا کہ پٹواری اور ایکسائز والوں کا ’’قلم‘‘ ہوتا ہے۔ وہ لطیفہ تو آپ نے سنا ہی ہو گا کہ راہ چلتے ہوئے پٹواری کا قلم گر گیا، دوسرے شخص نے آواز دی مرزا صاحب آپ کا ’’چھرا‘‘ گر گیا۔ پٹواری نے اٹھاتے ہوئے کہا، اندھے ہو گئے ہو ۔۔۔ یہ قلم ہے یا چھرا ؟ اس شخص نے کہا، ہاں دوسروں کے ہاتھ میں تو یہ بے شک ’’قلم‘‘ ہوتا ہے لیکن آپ کے ہاتھ میں جا کر ’’چھرا‘‘ بن جاتا ہے۔ تیرے رخسار میں پہنچی تو حسن کہلائی۔

جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آ گیا
سب لکیریں ہاتھ کی گویا رگ جاں ہو گئیں

ہاں وہ نائی والی بات تو رہ گئی۔ نائی نے حسب معمول اس کے گلے پر استرا بازی شروع کی تو پوچھ تاچھ کا چرخہ بھی چل پڑا۔ پوچھا، آپ کتنے بھائی ہیں، ’’زیر مشق‘‘ نے اپنی زخمی اور خوں آلود کھوپڑی پر نظر ڈالی تو بولا، اگر میں تیرے ہاتھ سے بچ گیا تو پانچ ہیں ورنہ چار ہی سمجھ لو۔ یہ تو سنا ہے کہ گیدڑ کی موت آتی ہے تو شہر کی طرف جاتا ہے اور ہماری موت آئی تو ہم نے ایک پرانی پھٹیچر سی گاڑی خرید لی، اگر ہمیں علم ہوتا کہ یہ مرد ار گاڑی ہمیں کشاں کشاں ایکسائز کے پٹواریوں تک پہنچائے گی اور پھر وہاں ہمارا جو ’’حلالہ در حلالہ‘‘ ہو گا تو کوئی مفت میں بھی گاڑی دیتا تو انکار کر دیتے، لیکن ہمیں معلوم ہی نہ تھا کہ پانی کا راستہ ’’پن چکی‘‘ سے ہو کر گزرتا ہے اور پن چکی بھی وہ جو بہت دور ’’کوٹلی آزاد کشمیر‘‘ میں لگی ہے اور یہ انتظار کر رہی ہے کہ کوئی ’’دانہ‘‘ آئے تو میں اس کا ایچک دانہ بیچک دانہ کر دوں۔

پہلی مرتبہ گئے تو کچھ زیادہ نہیں ہوا، دو چار ہزار روپے زیادہ چلے گئے تھے لیکن ہم نے صبر کر لیا کیوں کہ بتایا گیا تھا کہ اس گاڑی پر کسی پچھلے مالک کا قرضہ واجب الادا ہے۔ ہم نے بھی سوچا کہ قرضوں کی ادائیگی سے یا قسطیں وصول کر کے لوگوں کو دینے سے ایکسائز کا کیا تعلق ہے، گاڑیوں کے لین دین میں تو قرضوں اور قسطوں کے چکر چلتے رہتے ہیں لیکن اس سے ایکسائز کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا اور یہی ہماری بھول تھی، اگر ہم اس وقت سمجھ جاتے اور محکمہ مال کے طریقہ واردات کا تجربہ یہاں بھی لاگو کرتے تو بات سمجھ میں آ جاتی۔

ہمیں کیا معلوم تھا کہ ریونیو اور ایکسائز دونوں ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔ محکمہ مال میں یوں ہوتا ہے کہ جب بھی آپ کوئی ’’فرد نمبر‘‘ وغیرہ لینے جائیں گے تو پٹواری صاحب ’’پڑتال‘‘ کر کے آپ کو اطلاع دے گا کہ اس میں تو ’’فرد بدل‘‘ کرنا پڑے گا، فرد بدل جسے لوگ عام طور پر ’’فرد بدر‘‘ کہتے ہیں، محکمہ مال کی دودھیل گائے ہے ،کاغذات میں کسی غلطی کو درست کرنے کے لیے ’’فرد بدل‘‘ بنانا پڑتا ہے اور شاید محکمہ مال میں ایسا کوئی کھاتہ آج تک پیدا نہیں ہوا ہے جس میں کوئی غلطی نہیں ہوئی ہو اور اس کی درستگی کے لیے ’’فرد بدل‘‘ نہ بنانا پڑا ہو، اور کاغذات میں یہ غلطیاں ہوتی نہیں بلکہ ’’کی‘‘ جاتی ہیں بلکہ ہمارا تو اندازہ ہے کہ ایسی ’’غلطیاں‘‘ ڈالنے کے لیے پٹواریوں کو باقاعدہ پرانے گھاگ پٹواریوں سے سیکھنا پڑتا ہے کہ کہاں کہاں کیسی کیسی غلطی کتنی نفع آور ہو گی۔

چنانچہ جب آپ کو ’’فرد بدل‘‘ کی خوش خبری دی جاتی ہے تو آپ وہ جو بھی مانگیں دے کر وہ غلطی ’’درست‘‘ کروا کر ’’فرد بدل‘‘ حاصل کر لیتے ہیں لیکن یہ آپ کو ہر گز معلوم نہیں ہوتا کہ اس ’‘فرد بدل‘‘ میں وہ غلطی تو درست ہو جاتی ہے لیکن ساتھ ہی ایک نئی غلطی ڈال دی جاتی ہے تا کہ آنے والے ’’پٹواریوں‘‘ کے فرد بدل کا کاروبار بھی چلتا رہے۔ ٹھیک ایسے ہی ان کے یہ چچا زاد ایکسائز والے بھی کرتے ہیں۔ ایسا کبھی ہوا ہی نہیں کہ آپ نے کسی گاڑی کے کاغذات چیک کیے ہوں اور ان میں کوئی غلطی یا یوں کہیے کہ دودھ دینے والی گائے نہ نکلی ہو۔

پشتو میں اسے ’’بلی کا بچہ‘‘ کہتے ہیں جو کہیں سے کبھی بھی خلاف توقع نکل کر میاؤں کر سکتا ہے۔ انگریزوں میں بھی بلی کو تھیلے سے نکالنے کا محاورہ یہی مفہوم ادا کرتا ہے، بلکہ ہمیں تو لگتا ہے کہ پشتو محاورہ کسی نے پٹواری کے فرد بدر کو دیکھ کر کہا ہے اور انگریزی محاورے کا تعلق ایکسائز سے ہے، یعنی پٹواری لوگ جیب سے بلی کا بچہ نکال کر میاؤں کراتے ہیں اور ایکسائز والے پوری بلی نکال کر آدمی پر چھوڑتے ہیں لیکن اس آدمی کو پہلے چوہا بنانا نہیں بھولتے۔ واسطہ پڑا تو معلوم ہوا کہ محکمہ ایکسائز میں اسی غلطیوں سے دودھ دوہنے والے صرف کوٹلی ہی میں نہیں بلکہ پورے ملک کے ہر ایکسائز دفاتر میں پائے جاتے ہیں، ان کے ہاں سب سے مشہور اور بڑی بلکہ جنگلی بلی کا نام ’’این او سی‘‘ ہے، جب گاڑی کسی دوسرے شہر کا باشندہ خریدتا ہے تو پہلے شہر جہاں گاڑی رجسٹر ہوئی ہوتی ہے۔

وہاں کے ایکسائز والے این او سی دیتے ہیں لیکن دیتے کہاں ہیں بیچتے ہیں اور بار بار بیچتے ہیں یہاں بھی ریونیو جیسا بھائی چارہ ہے مثلاً آپ کراچی سے این او سی پشاور لاتے ہیں، اپنا کام کرواتے ہیں لیکن گاڑی کو بیچتے ہی خریدنے والے کو پتہ چلتا ہے کہ کاغذات میں تو این او سی نہیں ہے چنانچہ نئے مالک کو پھر این او سی لانا پڑتا ہے۔ اصولی طور پر تو ’’این او سی‘‘ کا معاملہ محکمے کا ہے کہ وہاں سے منگوائے لیکن بھلا کسی نے کبھی دودھیل گائے کو بھی ذبح کیا، اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ این او سی ایک کاغذ ہی تو ہوتا ہے تو آپ کچھ نہیں جانتے، ایک این او سی لانے کے لیے اگر وہ شخص خود جائے تو زرکثیر صرف کرنے کے بعد بھی نہیں ملے گا اس کے لیے آپ کو مخصوص‘‘ لوگوں سے رجوع کرنا پڑے گا جو اپنی مرضی کے رنگین کاغذ لے کر این او سی لاتے ہیں جو اکثر اسی دفتر ہی میں ہوتا ہے لیکن آپ کو بتایا جائے گا کہ وہ بندہ جا کر لے آیا ہے لیکن ہمارا معاملہ اس سے بھی زیادہ گھمبیر ہے کیوں کہ ہمارا واسطہ آزاد کشمیر کے آزاد ایکسائز والوں سے پڑا ہے، معاملے کو آہستہ آہستہ اس مقام تک لایا جا رہا ہے، جب ہم خود ہی چلا اٹھیں کہ گاڑی بھی تمہاری کاغذات بھی تمہارے ۔۔۔ رقم بھی رکھ لیجیے صرف ہماری جان چھوڑ دیجیے اگر اس پر بھی مان گئے تو ہم سمجھیں گے کہ سستے چھوٹ گئے!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔