نکاحِ مسنونہ، ولیمہ اور ہماری فضول رسومات

حاجی محمد حنیف طیّب  جمعـء 19 فروری 2016
’’بدترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہوتا ہے، جس میں مال داروں کو مدعو اور غریبوں کو نظرانداز کردیا جائے‘‘، حدیث مبارکہ۔ فوٹو : فائل

’’بدترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہوتا ہے، جس میں مال داروں کو مدعو اور غریبوں کو نظرانداز کردیا جائے‘‘، حدیث مبارکہ۔ فوٹو : فائل

نکاح عربی زبان کا لفظ ہے، اس کے معنی ملانا یا جوڑنا ہے۔ جیسے دو چیزوں کو جوڑ کر ملادیا جائے۔ اسی سے اس کا اصطلاحی مطلب بھی اخد ہوتا ہے کہ ایک مرد اور عورت جو باہم زوجین بن کر زندگی گزارنے کے لیے تیار ہیں، انہیں اس طرح جوڑ دیا جائے کہ وہ ایک مضبوط بندھن میں بندھ جائیں۔

اﷲ تعالیٰ نے یہ ایک ایسا تعلق بنایا ہے کہ دو علیحدہ رہنے والے اور بعض اوقات ایک دوسرے سے بالکل ناواقف مرد و عورت جنہوں نے شاید ایک دوسرے کو دیکھا بھی نہیں ہوتا، وہ نکا ح کے بعد پوری زندگی کے لیے ایک دوسرے کے شریک بن جاتے ہیں۔ شریعت انہیں ایک دوسرے کا وارث بنا دیتی ہے۔ پھر اولاد کا تو ایسا تعلق ہے، جو بابا آدمؑ اور اماں حواؑ سے لے کر آج تک قائم ہے اور آخرت کے دن بھی خدائی عدالت اسی نسبت سے ہی انسان کو پکارے گی۔ نکا ح کرنے والے کے لیے یہ مستحب ہے کہ وہ نکاح کرتے وقت سنت پر عمل اور اپنے دین و ایمان کی حفاظت کی نیّت کرے۔

حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ اے نوجوانوں! تم میں جو نکاح کی قدرت رکھے، وہ نکاح کرلے کیوں کہ نکاح نگاہ کو پست رکھتا ہے اور شرم گاہ کی حفاظت کرتا ہے، اور جو نکاح کی استطاعت نہ رکھے وہ روزہ رکھا کرے، کیوں کہ روزہ اس کی شہوت کو توڑ دے گا۔‘‘

اسلام نے ہر نکا ح کرنے والے شخص کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ نکاح سے قبل اپنی منگیتر کو دیکھ سکتا ہے۔ رسول اﷲ ﷺ نے بھی نکاح کرنے والے مختلف صحابہ کرامؓ کو اجازت دی کہ وہ شادی سے قبل اپنی ہونے والی بیوی کوایک نظر دیکھ لیں۔ جیسا کہ امام احمد بن حنبلؒ نقل کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا، تم میں سے جو کوئی کسی عورت کو شادی کا پیغام بھیجنا چاہتا ہو، تو اگر وہ اس عورت کو دیکھ لے تو کوئی حرج والی بات نہیں، اگرچہ اس عورت کو علم نہ ہوسکے۔

یاد رہے کہ دیکھنے کی صورت یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو منگیتر کو ایک نظر اس طرح دیکھ لے کہ اس کو علم نہ ہوسکے یا پھر اس کے گھر والوں کی موجودی میں ایک نظر دیکھ لیا جائے۔

رہا آج کل کا طریقہ کا ر کہ منگنی کا بہانہ بناکر لڑکے کے عزیز و اقارب کی موجودی میں لڑکی کو لایا جاتا ہے اور لڑکے کے ساتھ بیٹھنے کا حکم دیا جاتا ہے، یا پھر غیر محرم افراد کی موجودی میں لڑکی کو پیش کیا جاتا ہے، یا پھر نکاح سے قبل اور منگنی کے بعد لڑکا لڑکی گھومنے چلے جاتے ہیں۔ یہ تمام کام خلافِ شریعت ہیں۔ کوئی بھی غیرت مند آدمی اس کی اجازت نہیں دے سکتا، نہ ہی یہ طریقہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہے اور نہ ہی قابلِ تحسین عمل ہے۔

رسول اکرمؐ نے فرمایا، سب سے اچّھا نکاح وہ ہے، جو کم خرچ اور سادہ ہو۔ حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ پر زرد رنگ کا اثر دیکھا تو فرمایا ’’ یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا، میں نے نکاح کیا ہے۔ تو آپؐ نے فرمایا! اﷲ تمہیں برکت دے، اب ولیمہ کرو، اگرچہ ایک بکری ہی کے ذریعے کیوں نہ ہو۔ (بخاری )

مذکورہ روایت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کے شادی اور نکاح کرلینے کے بعد نہ تو حضورؐ نے شادی پر مدعو نہ کرنے کی شکایت کی اور نہ ہی مدعو نہ کرنے پر عبدالرحمن بن عوفؓ نے معذرت کی۔ چوں کہ نکا ح اور ولیمے کی تقاریب حضراتِ صحابہ کرامؓ میں نہایت سادگی کے ساتھ انجام دی جاتی تھی۔

دعوت کا نہ دینا یا شرکت نہ کرنا، یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی کہ اس پر ناراضی کا اظہار کیا جائے یا رشتے ناتے کی دہائی دے کر ہنگامے کیے جائیں۔ آج کے دور میں جتنا اہتمام نکا ح کے موقع پر سنّتوں کے قائم کرنے کا نہیں کیا جاتا ہے، اس سے کہیں زیادہ فکر بڑی دنیا دار شخصیتوں کو مدعو کرنے کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ حالاں کہ برکت اعمال کے ساتھ ہے، اگر ہوسکے تو غریبوں اور مسکینوں کو بھی ولیمے کی دعوت میں مدعو کیا جائے۔

حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا بدترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہوتا ہے، جس میں مال داروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے۔ (بخاری)

موجودہ زمانے کی شادیوں میں بے شمار، بے جا رسومات اور گناہ شامل ہوچکے ہیں۔ یہ گناہ نہ صرف اخروی تباہی و بربادی کا سبب ہیں، بل کہ ان فضولیات کی وجہ سے دنیاوی زندگی بھی اجیرن ہوگئی ہے۔ ان بے جا رسومات اور فضول کاموں کے لیے آدمی کو زندگی بھر کی پونجی کو اس کے لیے لگادینا پڑجاتا ہے۔ بل کہ قرض وغیرہ لے کر اپنے آپ کو اور زیادہ مشکلات میں ڈالنا پڑتا ہے۔ بے جا اخراجات میں سرمایہ اُڑانے سے بہتر ہے کہ وہی پیسے بچاکر اپنی بیٹی یا داماد کو دے دو، مسجد میں دری بچھوا دو، کسی طالب علم کا خرچہ برداشت کرلو یا کسی مریض کا علاج کرادو۔

جب سے ہمارا معاشرہ شادی بیاہ کے موقع پر خرافات اور تکلفات میں مبتلا ہوا ہے، اس وقت سے مقروض ہونے، سودی قرضے اور رشوت لینے جیسی برائیوں میں مبتلا ہوگیا اور ان برائیوں کی جڑ یہی فضول خرچی اور اسراف ہے۔ حالاںکہ شریعت نے اسراف و فضول خرچی کو ناپسند فرمایا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ ’’اسراف مت کرو‘ بے شک اﷲتعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الاعراف )

شادیوں میں ایک خرابی اور گناہ یہ بھی ہے کہ اس میں حقوق العباد کی رعایت نہیں ہوپاتی۔ ناچ گانا اور آتش بازی کی اس قدر گھن گرج ہوتی ہے کہ دوسروں کا جینا دُوبھر ہوجاتا ہے، رات میں نیند حرام ہوجاتی ہے۔

بوڑھے، بیمار، بچے اور مجبوروں کا چین و سکون غار ت ہوجاتا ہے۔ آتش بازی میں نہ صرف مال بل کہ بعض اوقات اس کی وجہ سے گھر یا دکا ن کو آگ لگ جاتی ہے، جس سے جانی و مالی دونوں نقصانات ہوتے ہیں۔ اسی طرح شادی کے موقع پر فائرنگ کا ایک نیا سلسلہ چل نکلا ہے۔ آئے دن سننے کو ملتا ہے کہ شادی کے موقع پر فائرنگ کرنے سے براتیوں میں سے کسی کو گولی لگ گئی، اور وہ ہلاک یا زخمی ہوگیا۔

جس کے نتیجے میں اچھی خاصی خوشی، غم میں بدل جاتی ہے۔ شادی میں آتش بازی چلاکر اپنے سرمایے کو برباد نہ کیا جائے۔ جب نکاح کی برکت کم خرچ اور سادگی میں ہے تو امت برکت کیوں نہیں لیتی، کیوں زیادہ خرچ کرکے نام و نمود کرکے برکت سے محروم ہوتی ہے۔ ہمیں شادی بیاہ میں اسلامی اصولوں کی پاسداری کرنی چاہیے اور سادگی اور کفایت شعاری اختیار کرنے کے ساتھ فضول رسومات سے بھی احتراز کرنا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔