’’لیڈرزپیدائشی نہیں ہوتے بلکہ بنائے جاتے ہیں‘‘

فرحان فانی  اتوار 21 فروری 2016
بچوں میں قائدانہ صلاحیتیں پیدا کرنے میں بنیادی کردار والدین کا ہے ۔  فوٹو : فائل

بچوں میں قائدانہ صلاحیتیں پیدا کرنے میں بنیادی کردار والدین کا ہے ۔ فوٹو : فائل

اس دنیا میں آنکھ کھولنے والا ہر بچہ بے شمار صلاحیتوں کا حامل ہوتا ہے۔ وہ مستقبل میں خود کو دنیا کے لیے ایک مفید کردار کی حیثیت سے منوا سکتا ہے لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ بچے کو کس قسم کا ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔

اگر ماحول سازگار ہو تو بچہ بہتر طریقے سے اپنی صلاحیتیوں کو بروئے کار لاتا ہے اورشروع ہی سے کامیابیوں کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے لیکن اس کے برعکس اگر اسے اچھا اور مددگار ماحول نہ ملے تو وہ ابتداء ہی سے عدم اعتماد اور شکست خوردگی کے احساس سے مغلوب ہوجاتا ہے اور اس کی اچھی صلاحیتیں بھی دب کر رہ جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں والدین کی ذمہ داری سب سے بڑھ کر ہے کیونکہ اپنے بچوں کو مستقبل میں کامیابیاں سمیٹتے دیکھنے کی خواہش انہی کی ہوتی ہے۔

بہت سے لوگوں کا خیال یہ ہے کہ بیشتر کامیاب لوگوں کی شخصیت میں موجود جواہرپیدائشی ہیں جبکہ لیڈر شپ اسٹڈیز کے مشہور امریکی اسکالر وارن بینس کا موقف ذرا ہٹ کر ہے۔ ان کے بقول’’ یہ ایک فرسودہ خیال ہے کہ قائدانہ اہلیت پیدائشی شئے ہے۔ لیڈرز پیدا نہیں ہوتے بلکہ لیڈرز بنائے جاتے ہیں‘‘ ہاں بچوں میں صلاحیتوں کے اعتبار سے تفاوت ضرورپایا جاتا ہے ۔

اگر ان کی صلاحیتوں کو شعوری کوشش سے چمکانے اور پالش کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کے بہت بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ چیزوں کو سمجھنے کی صلاحیت،دوسروں سے معاملہ کرنے کا ہنر،اہداف کے حصول کی جستجو اوراچھی قوت فیصلہ کا بچپن کے تجربات سے بہت گہرا تعلق ہے۔بچوں کی نفسیات سے متعلق تحقیقی مطالعے اس بات کی تائید کرتے ہیںکہ والدین کا بچوں کے ساتھ مثبت تعلق بچوں کو زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے کافی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

بچوں کو مستقبل میں کامیاب انسان بنانے کے لیے سب سے اہم چیز ان میں موجود قائدانہ صلاحیتوں کی تربیت کرناہے۔ قائدانہ صلاحیت کے ساتھ کئی اہم چیزیں مربوط ہیں جیسے ابلاغی مہارتیں ،مسائل کو حل کرنا، نظم و ضبط،لچک دار رویہ،اور تخلیقی انداز فکر وغیرہ۔ والدین ،اساتذہ اور بچوں کی تربیت سے متعلق دیگر افراداگر شروع ہی سے ان مذکورہ پہلوؤں پر کام کریں تو عجب نہیں کہ ان کے بچے ایک دن کامیاب انسان بن جائیںاور اپنی ذات کے ساتھ ساتھ سماج کے لیے بھی ایک مفید فرد کے طور پر جانے جائیں۔

بچوں میں قائدانہ صلاحتیں پیدا کرنے لیے چند اہم امور کی جانب توجہ دینا بہت ضروری ہے جن کا خلاصہ ان سطور میں دیا جارہا ہے۔

بچے دیکھ کر سیکھتے ہیں:
سابق امریکی نیوی کمانڈر رچرڈ مارکنکو نے کا جملہ ہے ’’ بچے نقال ہوتے ہیں سو انہیں نقالی کے لیے کوئی بہتر چیز دیں‘‘۔اس لیے ضرروی ہے بچوں کے سامنے آپ کا کردار ایک لیڈر جیسا ہو۔آپ جو کرتے ہیں اس کے بارے میں بچوں کو بتائیں اور یہ بھی بتائیں کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ وہ کون سے مخصوص اہداف ہیں جو اس طرح کے طرزعمل کے نتیجے میں حاصل کیے جا سکتے ہیں۔اس مقصد کے لیے خود والدین کو اپنا لائف اسٹائل ایسا بنانا ہوتا ہے جس کا خواب وہ بچوں کے لیے دیکھ رہے ہیں۔ اگر والدین بچوں کی موجودگی میں آپس میں بات چیت کر رہے ہوں تو انہیں یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اس وقت بھی وہ اپنے بچوںکوکچھ سکھا رہے ہیں۔

مختلف زاویہ نگاہ سے سوچنا:
بچوں کو یہ سکھائیے کہ چیزوںاور معاملات کو دوسروں کے زوایہ نگاہ سے کیسے دیکھا اور پرکھا جا سکتا ہے۔ ایک مؤثر شخصیت کی تعمیر میں اچھے طریقہ ابلاغ کا بہت دخل ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کو سکھایا جائے کہ دوسروں کی بات کس طرح پوری توجہ سے سنی جاتی ہے اور کس طرح پرسکون اور باوقار لب لہجے میں دوسروں کی بات کا جواب دینا ہے۔ہمارے ہاں سننے کے عمل کی تربیت پر کم توجہ دی جاتی ہے حالانکہ بولنے کے ساتھ ساتھ سننا بھی ایک مستقل اہمیت رکھتا ہے۔

فیصلہ سازی کی تربیت:
برئین ٹریسی کی یہ بات ہمیں نہیں بھولنی چاہیے کہ ’’لیڈز ر مسائل کے حل کے بارے میں سوچتے ہیں جبکہ پیچھے چلنے والے مسائل کے بارے میں سوچتے اور بولتے ہیں۔‘‘بچوں کی قوت فیصلہ کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ایسے کام ان کے حوالے کیے جائیں جن کا تعلق پیچیدگیوں کا سلجھانا ہو اور اس دوران انہیں کئی آپشنز کے درمیان فیصلہ کرنے کی ضرورت پیش آئے۔ اس حوالے سے بچوں کو یہ اختیار دیا جا سکتا ہے کہ وہ کیا کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح جب بچوں کو فیصلہ کرنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع ملیں گے تو انہیں ادراک ہو سکے گا کہ فیصلہ سازی کتنی اہم ذمہ داری ہے اور اس کا نتائج پر کس قدر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔

ٹیم ورک سکھائیے:
بچوں کی قائدانہ صلاحیتوں کے تربیت کے لیے انہیں ایسے کاموں میں ڈالنا ہو گا جن کی انجام دہی ایک گروپ کی صورت میں کی جائے۔ اس ایکٹیویٹی کا فائدہ یہ ہو گا کہ آپ کا بچہ اس کام کے دوران دوسرے لوگوں کے ساتھ بات چیت اور ان سب کی آراء کو بروئے کار لائے گا ۔ اس طرح وہ چیزوں کو صرف اپنے زاویہ فکر سے جانچنے اور سمجھنے کی بجائے نسبتاً وسیع تناظر میں دیکھنے کے قابل ہو سکے گا۔ اسے یہ بھی سکھائیے کہ جب آپ کو اپنے ساتھ کام کرنے والے ساتھیوں کو ان کی کارکردگی پر مثبت یا منفی ردعمل دیناہو تو کس طرح اس کا اظہار کرنا ہے۔

اس کے لیے ایک ترکیب ٹیبل لیڈر بنانے کی ہے ۔ آپ بچوں میں سے ہر ایک کی باری باری یہ ذمہ داری لگائیںکہ وہ ٹیبل پر کسی خاص موضوع پر میٹنگ کی صدارت کرے گا۔ وہ سب کی رائے سنے گا اور ایک آؤٹ لائن بنائے گا اورپھر اپنے تجزیے کا اظہار کرے گا۔ یہ ترکیب بچوں کو پر اعتماد اور وسیع الفکر بنانے میں کافی کامیاب سمجھی جاتی ہے۔ بچوں کی تربیت سے متعلق افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس ترکیب کے ذریعے ان بچوںمیں بہت مثبت تبدیلیاں لائی ہیں جو دوستوں کے سامنے اظہار خیال سے ہچکچاتے یا شرم محسوس کرتے ہیں۔

ان کی تعریف کیجیے :
گروپ ورک کے نیتجے میں چھوٹے چھوٹے اہداف کے حصول پر بچوں کی تعریف اور حوصلہ افزائی کی جائے۔ مثال کے طور پر آپ بچے کا کام دیکھنے کے بعد یوں کہہ سکتے ہیں کہ ’’بیٹا ! مجھے تم پر فخر ہے کہ تم نے رضاکارانہ طور پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر یہ کام کر دکھایا۔ گروپ میںموجود ہر شخص کو اس کے حصے کاکام کرنے کے لیے منظم کرنا یقیناً بڑا کام ہے۔‘‘ اس سے بچے کو حوصلہ اور اعتماد ملے گا اور زندگی کے چیلنجوں سے لڑنا سیکھ لے گا۔

جھجک دور کیجیے:
بہت سے بچے اور نوجوان ایسے کاموں سے جھجھک محسوس کرتے ہیں جن میں قائدانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ خود کو اس کے قابل نہیں سمجھتے اس لیے ایسے موقعوں پر دباؤ کا شکار نظر آتے ہیں۔اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے انہیں سکھایا جائے کہ کیسے اہداف کو قابل عمل طریقوں کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے اور کس طرح کسی مخصوص صورتحال کا سامنا کیا جاسکتا ہے۔والدین انہیں اپنی زندگی سے ایسے واقعات سنا سکتے ہیں جب وہ اس قسم کی صورت حال کا شکار ہوئے تو انہوں نے کس انداز میں اپنی جھجھک سے چھٹکارہ پایا۔

بچوں کی دلچسپیوں کا لحاظ کیجیے:
’’لیڈرز اپنی چوائس کے ساتھ جیتے ہیں اتفاقات کے ساتھ نہیں۔‘‘مارک گورمین کا یہ جملہ قابل غور ہے۔ بچوں کی دلچپسپی کے کاموں میں ان کی پھرپور حوصلہ افزائی کریں۔ اس طرح وہ پوری لگن کے ساتھ اپنا کام کریں گے اور عین ممکن ہے ایک دن وہ اس خاص شعبے میں قائدانہ کرادر نبھانے کے قابل ہو جائیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست کہ ہرایک بچہ مستقبل میں قیادت کی اعلیٰ سطح پر نہیں پہنچتا لیکن زندگی میں کسی نہ کسی صورت میں اسے قائد کا کردار نبھانا ہوتا ہے اس لیے بچوں کو ایسی سرگرمیوں کاحصہ لازمی بنایا جانا چاہیے جس میں ان کی دلچسپی ہو ۔

خطرہ مول لینے دیں:
ہمارے ہاں بہت سے والدین بچوںکو ایک مضبوط حفاظتی حصار میں رکھتے ہیں۔ انہیں گلی میں کھلینے کودنے نہیں دیتے اور وہ ٹی وی کارٹونز کے پروگراموں کواس سب کا بدل سمجھتے ہیں۔ اگر بچہ گلی میں نہیں کھیلے گا یا دو چار مرتبہ اسے پھسلنے اور گھٹنوں پر خراشیں آنے کا تجربہ حاصل نہیں ہو گا تو اس کے دل میں ساری عمر تک اس گرنے کا خوف رہے گا۔ ماہرین نفسیات کا خیال ہے کہ بچوں کا کھیلتے کودتے ہوئے کچھ مرتبہ گرنا انہیں اس حادثے کو معمولی سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر ہم بچوں کو یہ چھوٹے موٹے خطرات مول لینے سے بچانے کی کوشش کریں گے تو وہ ساری زندگی خود اعتمادی اور خود انحصاری کی کمی کا شکار رہیں گے۔

فوراً مدد کے لیے نہ لپکیں:
یہ بھی ایک عام مشاہدہ ہے کہ بچے جب بھی کوئی مسئلہ حل کرنے میں ناکام ہوتے ہیں یا کسی مشکل میں پڑھ جاتے ہیں تو فوراً کوئی بڑا ان کا ہاتھ تھام لیتا ہے۔بچے کو دیوار پھلانگنے یا درخت پر چڑھنے میں اگر مشکل پیش آ رہی ہے تواسے سہارادینے کے لیے جلدی نہ کریں۔ انہیں اپنے طور پر مشکل حل کرنے کی کوشش کرنے دیں ۔ اس طرح انہیں کی ’پرابلم سولونگ ابیلیٹی‘ کی ریاضت ہو جائے گی ۔ اس برعکس ہر چھوٹے بڑے کام میں ان کی پشت پر کمک لے کر کھڑے رہنا انہیں اس کا عادی بنا دے گا جس کے نتیجے میں وہ خودانحصادی جیسی اہم خوبی سے محروم رہ جائیں گے۔ قائدانہ کردار کے لیے خودانحصاری کی تربیت ضروری ہے۔

پیسوں کا استعمال سکھائیے:
بچوں کو پیسے درست انداز میں خرچ کرنے کا طریقہ سکھانا بھی ضروری ہے ۔ دنیا میں قائدانہ کردار ادا کرنے والے لوگ اپنے اخراجات اور بچت کے درمیان توازن پر بہت توجہ دیتے ہیں۔ بچوں میں اس مہارت کو پیدا کرنے کے لیے انہیں آزادی دیں کہ وہ اپنے پیسوں کو جمع کر سکیں اور ان کے خرچ کے بارے میںخود فیصلے کر سکیں۔ اس طرح انہیں پیسوں کی اہمیت کا اندازہ ہوگا اور وہ اس کے مفید استعمال کے بارے میں جان سکیں گے۔

مختصر یہ کہ والدین اور اساتذہ کو خود اپنے بچپن کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے بچوں کی تربیت کرنی چاہیے۔ تربیت اور شخصیت سازی کے اس عمل میں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آپ کے بچے جس زمانے میں عملی زندگی میں داخل ہوں گے اس کے تقاضے اور چینلجزکیا ہوں گے؟



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔