عدلیہ، مسلح افواج اوردیگراداروں کی باہمی نفرتوں کوسامنے لانا ملکی مفاد میں نہیں، الطاف حسین

ویب ڈیسک  جمعرات 8 نومبر 2012
 الطا ف حسین نے کہا کہ انہوں نےاداروں کے درمیان چپقلش کو محسوس کرتے ہوئےکہاتھا کہ ملک کو استحکام اوریکجہتی کی بہت ضرورت ہے۔ فوٹو: فائل

الطا ف حسین نے کہا کہ انہوں نےاداروں کے درمیان چپقلش کو محسوس کرتے ہوئےکہاتھا کہ ملک کو استحکام اوریکجہتی کی بہت ضرورت ہے۔ فوٹو: فائل

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطا ف حسین نے کہاہے کہ عدلیہ اورپاک افواج کےبیانات کے بعد ملک جس بحرانی کیفیت سے دوچارہوااس کااندازہ بھی نہیں لگایاجاسکتا۔

لندن سے جاری اپنے بیان میں الطا ف حسین نے کہا کہ انہوں نےاداروں کے درمیان چپقلش کو محسوس کرتے ہوئےکہاتھا کہ ملک کو استحکام اوریکجہتی کی بہت ضرورت ہے۔ ان حالات میں عدلیہ، مسلح افواج اوردیگراداروں کی باہمی نفرتوں کوسامنے لانا اوراختلافات کی شکل دینا ملک کے مستقبل کیلئے کسی بھی طرح بہترنہیں ہوسکتا لہٰذاتمام ادارے اپنے مسائل واختلافات مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کریں۔

 الطاف حسین نے کہا کہ پاکستان کے امیج کو کسی فردکی ذاتی خواہش اورچندافرادکی خواہشات کی بھینٹ نہ چڑھایاجائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔