عوام کی نظریں آج مضبوط عدلیہ پرہیں،جسٹس دوست محمد

نمائندہ ایکسپریس  جمعـء 9 نومبر 2012
عدلیہ بھی مضبوط جمہوریت کی خواہاں ہے،بعض لوگوںکا یہ تاثرغلط ہے کہ جج سیاسی ہوگئے فوٹو: فائل

عدلیہ بھی مضبوط جمہوریت کی خواہاں ہے،بعض لوگوںکا یہ تاثرغلط ہے کہ جج سیاسی ہوگئے فوٹو: فائل

پشاور: پشاورہائیکورٹ کے چیف جسٹس دوست محمدخان نے کہاکہ وکلا تحریک کے نتیجے میں قائم ہونیوالی عدلیہ مکمل آزاد اوربااعتمادہے۔

کیونکہ پہلے جب ملک کے حالات خراب ہوتے تھے تو عوام کی نظریں فوج پرہوتی تھیںلیکن اب عوام کی توقعات عدلیہ سے ہیںاورعدلیہ بھی ملک میںمضبوط جمہوریت کی خواہاں ہے،عدلیہ عوام کی توقعات کے مطابق کام کررہی ہے بعض لوگوں کا یہ تاثر غلط ہے کہ جج سیاسی ہوگئے ہیںبلکہعدلیہ ملک میں چیک اینڈ بیلنس رکھناچاہتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار ا نہوں نے جمعرات کے روزخیبر پختونخواجوڈیشل اکیڈمی میںماتحت عدلیہ کے 25 ججوں کی سات روزہ ٹریننگ کے اختتامی سیشن سے خطاب اوربعدازاںصحافیوں سے بات چیت کے دوران کیا۔چیف جسٹس دوست محمد خان نے کہاکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ذرائع ابلاغ،سول سوسائٹی اور عدلیہ معاشرے میں اپنا موثرکردار اداکررہے ہیں جسکے باعث جولوگ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے تھے ان پر بھی ہاتھ ڈالے جارہے ہیں،انھوں نے کہاکہ آج ہمیں متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے آج معاشرے میں بدانتظامی،کرپشن،اقربا پروری اور عوام کا استحصال عروج پر ہے لیکن ایک بہتر چیز عوام کی جانب سے سامنے آئی ہے کہ پہلے ایسے حالات میںعوام فوج کی منتظر ہوتی لیکن آج انکی نظریں مضبوط عدلیہ پرہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔