اصغرخان کیس میں ایف آئی اے تحقیقات کیلیے بھی تیار ہیں،مشاہداللہ

مانیٹرنگ ڈیسک  جمعـء 9 نومبر 2012
فیصلے پرعملدرآمدمیں تمام سیاسی قوتوں کوتعاون کرنا چاہیے،جسٹس طارق محمود’’کل تک‘‘میں گفتگو فوٹو : فائل

فیصلے پرعملدرآمدمیں تمام سیاسی قوتوں کوتعاون کرنا چاہیے،جسٹس طارق محمود’’کل تک‘‘میں گفتگو فوٹو : فائل

اسلام آ باد: مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری اطلاعات مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ہمیں من و عن قبول ہے اور ہم ایف آئی اے کی تحقیقات کے لیے بھی تیار ہیں۔

سپریم کورٹ کیس کے حوالے سے لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے، ابھی الزام ثابت نہیں ہوا اور ابھی تحقیقاتہونی ہیں، لیکن کہا جا رہا ہے کہ جن لوگوں پر پیسے لینے کا الزام ہے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام ’’کل تک‘‘ کے میزبان جاوید چوہدری سے گفتگو کرتے ہوئے انھوںکہا پیسے لینے کے الزامات ایک جرائم پیشہ فرد یونس حبیب نے لگائے۔ پیپلز پارٹی کی رہنما عاصمہ ارباب عالمگیر کا کہنا تھا کہ اصغر خان کیس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے اور اس سے جمہوریت کو فروغ ملے گا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ ماننا حکومت پر فرض ہے۔جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی نے ذاتی حیثیت میں پیسے تقسیم کیے ان کے ٹرائل کا فوج سے کوئی تعلق نہیں۔ ماہر قانون جسٹس (ر) طارق محمود نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تین حصے ہیں اور ان تینوں پر عملدرآمد کرانا حکومت کی ذمے داری ہے،تاہم تمام سیاسی قوتوں کو اس میں تعاون کرنا چاہیے۔ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا گیا تو اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔