آدھا انسان

آفتاب احمد خانزادہ  بدھ 9 مارچ 2016

مار چ 1925ء کا زمانہ تھا ماسکو میں ایک نوجوان نے چالیس پچاس کے قریب دانشوروں، نقادوں اور ادیبوں کو دعوت دی اس کا ارادہ ان سب کو اپنے نئے ناولٹ کے سنانے کا تھا اس نوجوان کا نام تھا میخائل بلیگاکوف اور اس کی نئی تخلیق کا نام تھا ’’کتے کا دل‘‘۔ سب کے سب نے سن کر اس کی خوب تعریفیں کیں ان سب کا خیال تھا کہ یہ تخلیق بلیگا کوف کو نئی کامیابیوں سے ہمکنار کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ یہ نشست اور ناولٹ اس کے لیے مصیبتوں کا سبب بن گئے اور نہ ہی وہ اپنی زندگی میں بڑا ادیب بن سکا اور اس کی موت بھی گمنامی کی حالت میں ہوئی کیونکہ اس نشست میں ماسکو کی خفیہ پولیس کا ایک اہلکار بھی موجود تھا .

جس نے انتظامیہ کو انتہائی خوفناک رپورٹ دی اور اس ناول کو روس کے نظام کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا نتیجہ یہ ہوا کہ اس ناولٹ کے مسودے کو حکومت نے قبضے میں لے لیا اور اس کی اشاعت پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پابندی لگا دی ’’کتے کا دل‘‘ اس کی زندگی میں تو نہ چھپ سکا لیکن سوویت یونین کے آخری حکمران گورباچوف نے جب اپنے پروگرام پر اسٹرائیکا کے تحت روسی سنسر کی پابندیاں نرم کیں تو اسے بھی چھپنے کا موقع ملا اور جس نے بھی اسے پڑھا وہ داد دیے بغیر نہ رہ سکا پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس ناولٹ کا بہت ساری زبانوں کے ساتھ ساتھ انگریزی میں بھی ترجمہ ہوا اور اسے ایک شاندار ادبی تخلیق گردانا گیا۔

’’کتے کا دل‘‘ دراصل شیرک نامی ایک کتے کی داستا ن ہے ایک انتہائی سرد رات کو جب ماسکو شہر کا ایک نامور سائنس دان اپنے گھر آ رہا ہوتا ہے تو اسے اپنے فلیٹ کے باہر سنسان سٹرک پر ایک تباہ حال کتا ملتا ہے جس کی کھال گرم پانی میں گرنے کی وجہ سے جل چکی ہوتی ہے کئی دنوں کا بھوکا پیاسا ہوتا ہے سردی سے ٹھٹھر رہا ہوتا ہے اور قریب المر گ ہوتا ہے کتا سائنس دان کے پاؤں میں گرتا ہے اور اس کی بری حالت دیکھ کر اس کا دل پسیجتا ہے اور وہ اسے اٹھا کر فلیٹ میں لے آتا ہے.

اب جہاں وہ کتے خوراک دے کر اس کی زندگی بچاتا ہے وہاں اچانک اس کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ میں کیوں نہ اس کتے پر تجربہ کر کے انسانیت کی خدمت کروں اس لیے وہ کتے کو بے ہوش کر کے اس کا آپریشن کرتا ہے اور اس کی کھوپڑی میں انسانی ذہن کو منتقل کر تا ہے اگرچہ یہ سر جری آگے چل کر اس سائنس دان کو شاندار شہرت بخشتی ہے لیکن کتے کی بدقسمتی دیکھیے کہ اس کے سر میں جس شخص کا بھیجا ڈالا جاتاہے وہ ایک خطر ناک قسم کا مجرم ہوتا ہے آپریشن کے بعد شیرک کی حالت جوں ہی بہتر ہوتی ہے وہ انسانوں کی طرح بولنا شروع کر دیتا ہے اور اس غضب کا ذہین ہوتا ہے کہ جو بھی اس سے ملتا حیران اور متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا یوں اس آدھے کتے اور آدھے انسان کے قصے جب سو ویت حکام تک پہنچتے ہیں تو وہ بھی اس سے ایسے متاثر ہوتے ہیں کہ وہ جہاں فوراً ہی اسے ایک سوویت شہری کی حیثیت دیتے ہیں.

اس کا شناختی کارڈ بناتے ہیں وہاں وہ اسے ایک بہت اہم عہدے پر تعینات بھی کرتے ہیں اور یہ ڈیوٹی سو نپتے ہیں کہ وہ ان باغی بلیوں کی اطلاع سوویت حکام کو دے جو سوویت نظام کے خلاف سو چتی ہیں اور ان کا کسی بڑی بغاوت کا ارادہ ہوں یہاں شیرک جو شیرکوف بن چکا ہو تا ہے.

اس بات کی کھلی چھٹی بھی مل جاتی ہے کہ اگر وہ چاہے تو ان آوارہ اور غدار بلیوں کو خود بھی مار سکتا ہے اب شیرکوف شہر کی بلیوں کا جینا حرام کر دیتا ہے اور بیدردی کے ساتھ انھیں ہلاک کر نے لگتا ہے جب کہ مزاحمت پر وہ ان بلیوں کے مالکان کو بھی اپنی خوانخواری کا نشانہ بناتا ہے سچ یہ ہے کہ ایک بڑے بیورو کریٹ کا عہد ہ شریکوف کو مغرور بنا دیتا ہے اور وہ اس حد تک گستاخ بن جاتا ہے کہ ایک روز اپنے مالک کی بھی انگلی پر کا ٹ لیتا ہے اور اس کا جینا اجیرن کر دیتا ہے اب سائنس دان سو چتا ہے کہ وہ اس عفریت کی مزید خرابیوں اور نقصانات سے خود کو اور دوسروں کو کیسے بچائے اسی لیے وہ ایک دن شیر کو ف کو کلو فارم سنگھا کر دوبارہ اس کا آپریشن کرتا ہے اور اس کی کھوپڑی سے انسانی ذہن نکال کر اسے ایک بار پھر سٹرک کا آوارہ کتا بنا دیتا ہے .

’’کتے کا دل‘‘ جس میں جہاں اپنے وقت کی بھرپور عکاسی کی گئی ہے وہاں اداروں اور با اختیاروں پر بھرپور طنز بھی موجود ہے شیرکوف کا کردار اصل اس ذہنی کیفیت کا نام ہے کہ جس کو جہاں کوئی اختیار مل جاتا ہے تو وہ دوسروں کا جینا حرام کر دیتا ہے جب ہم اپنے سماج پر نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہمیں ایک نہیں بلکہ لاتعداد شیر کوفوں سے پالا پڑا ہوا ہے اور ہر شیرکوف اپنے چھوٹے چھوٹے مفاد کی خاطر کمزوروں اور بے اختیاروں کو نہ صرف نوچ رہا ہے اور جب وہ اس سے اپنی جان چھڑا کر بھاگتے ہیں تو کسی اور موڑ پر کوئی اور دوسرا شیرکوف ان کا منتظر ہوتا ہے ان کے بچے کھچے گوشت کو نو چنے کے لیے اسے مزید ادھیڑ نے کے لیے۔ یہ جو آپ کو دلکش سوٹ پہنے، مسحور کن خو شبو لگائے مہذب نظر آنے والے با اختیار نظر آتے ہیں اور جنہیں دیکھ کر آپ مرعوب ہو جاتے ہیں یہ سب کے سب بس موقع کے منتظر ہوتے ہیں شکار کے منتظر ہوتے ہیں اندھیروں کے منتظر ہوتے ہیں اور جیسے ہی انھیں موقع، شکار اور اندھیرا نصیب ہو جاتا ہے۔

یہ اپنے شکار کو دبو چ لیتے ہیں اب ہم سب کمزور، لاچار، لاغر صرف ان کے شکار ہیں اور کچھ نہیں جنہیں کوئی نہ کوئی کہیں نہ کہیں تلاش کرتا پھر رہا ہے۔ اپنے آپ کو پیٹنے کا دل اس وقت کرتا ہے جب یہ با اختیار اور طاقتور معصوم اور بھولے بھالے نظر آنے کی کو شش کر رہے ہوتے ہیں کیا انھیں آئینے میں اپنا گھناؤنا چہرہ نظر نہیں آتا ہے اور اپنے آپ کو تلوار سے کاٹنے کا دل اس وقت کرتا ہے جب یہ اسی ظالم اور فرسودہ نظام کو برقرار رکھنے کی بات کرتے ہیں ارے اندھو کیا تمہیں بے لباس، ننگی، ادھڑی، زخموں سے چور بیچ چوراہے پر پڑی انسانیت نظر نہیں آتی ہے روتی چلاتی سر پہ خاک ڈالے تہذیب اور شرافت نظر نہیں آتی ہے ماتم کرتی آہ و بکا کرتی عقل نظر نہیں آتی ہے کیا لٹے پٹے، زخموں سے چور انسانوں کے غول کے غول نظر نہیں آتے ہیں کچے گھروں برباد آنگنوں سے کیا رونے چلانے کی آوازیں سنائی نہیں دیتی ہیں۔ قبرستانوں میں وقت سے پہلے قبروں میں ڈالے گئے انسانوں کے نوحے تمہیں سنائی نہیں دیتے ہیں۔

یاد رکھو دنیا بھر کے قبرستان ان لوگوں سے بھر ے پڑے ہیں جو اپنے اپنے وقت میں فرعون بنے بیٹھے تھے جو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ یہ سب کچھ ہمیشہ ہمیشہ اسی طرح ایسے ہی چلتا رہے گا لیکن آج ان کی بربادی اور اجڑی قبریں دیکھ کر وحشت ہوتی ہے دل پھٹنے لگتا ہے جہاں اب کوئی نہیں آتا کوئی ان کے لیے دعا نہیں مانگتا۔ یہ بھی یاد رکھنا جب یہ معصوم بے گنا ہ ، مظلوم، کمزور، لاچار، لاغر، زخمی خدا کے سامنے رو رو کر اپنی داستان سنائیں گے تو پھر بتاؤ خدا کے قہر سے کیسے بچ پاؤ گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔